حدیث کے نگہبان؛ ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ۔ محمد عبد الہادی العمری

ممتاز  عالم دین اور ماہر علوم حدیث ڈاکٹر شیخ ضیاء الرحمٰن اعظمی جو علمی مرکز مدینہ یونیورسٹی  کلیۃ الحدیث کے پرنسپل مسجد نبوی میں مدرس حدیث اور تمام صحیح احادیث کو تحقیق کر کےایک جگہ جمع کرنے کا تاریخ میں پہلی مرتبہ  شرف حاصل کرنے والے ہیں، ان کی شخصیت کے متعلق بہت کم قارئین واقف ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت اور خدمت کا موقع کن کن کو عطا فرماتا ہے۔ یہ در اصل  ایک ہندو گھرانہ کے چشم وچراغ تھے، والدین شمالی ہند یویی کے قصبہ بلیریا گنج، اعظم گڑھ میں مقیم تھے، اسی اعتبار سے وہ اعظمی  کہلاتے تھے، ہندو روایات کے مطابق ان کا تعلق ایسے طبقہ سے تھا جو کم تر سمجھے جاتے ہیں اور انہیں تعلیم و ترقی کے باعزت مواقع اونچی ذات والوں کے مقابلہ  میں کم حاصل ہیں، اگرچہ  دستور ہند اور قانون سب کے لیے یکساں حیثیت دیتا ہے لیکن مقامی روایات اور عادات ان حکومتی قوانین سے بالا تر ہوتی ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اس پس منظر  سے تعلق رکھتا ہو وہ علم وعزت کی بلندیوں تک کیسے پہنچا، پیدا ایک ہندو گھرانہ میں ہوئے لیکن عالم اسلام کی اہم یونیوسٹی مدینہ منورہ کے کلیۃ الحدیث کے ڈین اور علوم الحدیث کے پروفیسر بنے، مسجد نبوی میں درس حدیث کے  لیے کرسی دی گئی اور وفات کے بعد تدفین ہزاروں صحابہ کرام﷢ کے ساتھ جنۃ البقیع میں ہوئی۔ یہ دراصل  اسلام کے دامن وسعت کا کمال ہے کہ یہاں شرف اور اعزاز نسل، رنگ اور جغرافیائی تعلق کی بنیاد پر  نہیں بلکہ ذاتی  اوصاف کے باعث حاصل ہوتا ہے۔ ابو لہب کو زبان، خاندان اور وطن کی اونچی نسبتیں ایمان وعمل کے بغیر کام نہ آ سکیں، وہ راندہ دربار نبوی ہوا، لیکن بلال حبشی رنگ ونسل اور  جغرافیائی پس ماندگی  کے باوجود ایمان وعمل صالح کی بنیاد پر دربار نبوی کے خاص الخاص بلکہ پہلے مؤذن مسجد نبوی اور سید المرسلین  ﷺ  کے پرنسل سیکرٹری  کی حیثیت سے صحابہ کرام میں بھی مقام بلند پر فائز ہو سکے کیونکہ «إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ» اس کا مشاہدہ کسی نہ کسی لحاظ سے آج بھی ہو سکتا ہے، اس کی مثال خود ڈاکٹر اعظمی﷫  ہیں:

موصوف کی تلاش حق کی داستان بڑی طویل اور نہایت کھٹن ہے ، بچپن سے مطالعہ کا شوق تھا، میٹرک تک علاقہ کے اسکول میں تعلیم حاصل کی اور ساتھ ہی مذہبی کتب بھی پڑھتے رہتے، پھر انٹر کے لیے گاؤں سے باہر اعظم گڑھ کے شبلی کالج میں داخلہ لیا، یہاں انہیں مختلف طلبہ اور لوگوں سے  میل جول کےزیادہ مواقع میسر آئے۔ وہ وقتاً فوقتاً مذہی حوالہ سے بات چیت کرتے، یہاں تفصیلات  کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کے تلاش حق کی جستجو دیکھ کر ان کے ہی محلہ کے ایک صاحب خیر حکیم صاحب نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی﷫ کا ایک مختصر کتابچہ ’’دین حق‘‘ مترجم ہندی ان کے ہاتھ میں تھما دیا، ڈاکٹر اعظمی نے اس کتابچہ کا مطالعہ شروع کیا تو ابتداء ہی میں سورۃ آل عمران کی آیت ﴿إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّـهِ الْإِسْلَامُ﴾ (آل عمران: 19) ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ  ثابت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس آیت کا ترجمہ پڑھتے ہی میرے اندر ایک ہلچل سی پیدا ہو گئی کہ یہ کیا بات ہے کہ اللہ کے ہاں  قابل قبول دین صرف اسلام ہے۔ ہندو مذہب کیوں نہیں! ہندو مذہب کے ساتھ  وابستگی کی وجہ سے انہوں نے ہندو پنڈتوں اور رہنماؤں سے رجوع کیا اور اپنے اندر پیدا ہونے والی بے چینی اور شبہات کی تشفی چاہی لیکن

مرض بڑھتا  گیا ، جوں جوں دوا کی

ہندو رہنما انہیں مطئمن نہ کر سکے اس کے برعکس اس نوجوان کو نصیحت کرتے کہ کیا اور کیوں کی بحث میں گئے بغیر جو کچھ ہم کہیں اور بتائیں تم اپنے خاندانی طور طریقے کے مطابق عمل کرتے رہو، لیکن ان رہنماؤں کی بے بسی اور اندھی عقیدت وتقلید پر زور انہیں ہندو دھرم سے متنفر کر رہا تھا کہ یہ عجیب مذہب ہے کوئی ایک خدا کو مانے، دس کو مانے یا سو کی پوجا کرے یا سرے سے کسی کو بھی نہ مانے وہ سب کے سب ہندو کہلا سکتے ہیں۔ دوسری طرف  ان کے مسائل کا حل اسلام میں دکھائی دے رہا تھا، یوں رفتہ رفتہ اسلام کی صداقت ان کے دل میں گھر کر گئی  مگر اس کا اظہار بہت بڑی  قیمت چاہتا تھا، اس  کے لیے غیر معمولی جرأت اور حوصلہ کی ضرورت تھی، قبول اسلام کے بعد پہلے تو چھپ چھپا کر نمازیں پڑھتے رہے لیکن بالآخر تعاقب کرنے والوں کی نظروں میں آ ہی گئے، والدین کے لیے یہ ناقابل برداشت صدمہ تھا، پہلے تو باپ نے سمجھا کسی جن یا  آسیب کا سایہ ہے، لہٰذا ہندو عاملوں اور جھاڑ پھونک  کرنے والوں کی مدد حاصل کی گئی لیکن جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ جنات کا نہیں اندر سے  اٹھنے والا طوفان ہے بلکہ صورتحال نہایت نازک ہو گئی، شدید خطرہ تھا کہ ان پر جان لیوا  حملہ ہو جائے، بھلا ہومقامی ہمدرد مسلمانوں کا انہوں نے اس نزاکت  کا بروقت اندازہ لگا کر ان کے لیے ایک دوسرے شہر میں رہائش کا بندوبست کر کے بھیج دیا وہاں وہ امام الدین کہلاتے تھے، لیکن جلد ہی  وہاں بھی خطرہ کے بادل منڈلانے لگے،  وہاں خیر خواہوں  نے طے کیا کہ کسی دور دراز علاقہ میں یہی ان کی سلامتی اور عافیت ممکن ہے، لہٰذا جنوبی ہند کی مشہور  درسگاہ جامعہ دار السلام عمر آباد جو ان کے آبائی وطن سے تقریباً چودہ سو کلو میٹر دور ٹملنا ڈو میں واقع ہے وہاں بھیج دیا جائے، یہ معیاری درسگاہ 1924ء میں قائم ہوئی، شروع میں برصغیر کی نامی گرامی شخصیات یہاں مسند تدریس  پر جلوہ افروز تھیں، مشہور عالم دین مولانا محمد گوندلوی﷫ شیخ الحدیث تھے، عمر آباد کا یہ سفر ڈاکٹر اعظمی کے لیے راحت اور ترقی کا ذریعہ ثابت ہوا، وہ تلخ یادیں اور کٹھن دن پیچھے چھوڑ کر نئے عزم وحوصلہ کے ساتھ یہاں پہنچے تھے، انہیں یہاں دوسرا نام ضیاء الرحمٰن  دیا گیا : اس علاقہ کی بود وباش اور زبان کی مشکلات کے باوجود یہاں جان کا خطرہ نہیں تھا۔ جب وہ یہاں آئے عربی اور اردو زبان سے ناواقف تھے جبکہ جامعہ میں داخلہ  کے لیے یہ ضروری  شرط تھی لیکن منتظمین اور اساتذہ  نے خصوصی ہمدردی کرتے ہوئے جامعہ کے دامن میں پناہ دے دی اور بعض اساتذہ نے اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر پڑھانے کی ذمہ داری لی۔

 شیخ التفسیر مولانا  سید عبد الکبیر ﷫ عشاء کے بعد الگ سے پڑھایا کرتے اور  مولانا ابو البیان حماد عمری﷾ نے تہجد کا وقت ان کے لیے مخصوص کر دیا، اندھیری راتوں میں چراغ جلا کر اپنے آرام کے وقت کسی نو وارد ، غریب الدیار  طالب علم کو پڑھانا، اسے اخلاص کے کس درجہ پر رکھا جائے گا! یاد رہے کہ عمر آباد میں اس وقت بجلی کا انتظام نہیں تھا۔ شیخ اعظمی نے بھی پورے شوق اور یکسوئی سے محنت کی اور آٹھ سالہ درس نظامی کا نصاب چھ سال میں مکمل کر کے نیک نامی کے ساتھ فضیلت کی سند حاصل کی۔

یہاں سے فراغت کے بعد منتظمین جامعہ کے مشورہ سے استاذ الاساتذہ مولانا حفیظ الرحمٰن اعظمی جن کا شمار مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والی پہلی بیچ میں ہوتا ہے ان کی خصوصی کوشش سے ڈاکٹر اعظمی کا داخلہ  مدینہ منورہ میں ہو گیا اس وقت ہندو پاک کے طلبہ کے داخلے  محدود ہوا کرتے، یہاں  ڈاکٹر اعظمی نے 4 سال میں گریجویشن مکمل کر لی، پھر مکہ مکرمہ سے  حدیث میں ایم اے کیا، آپ کا تحقیقی مقالہ مشہور راوی حدیث صحابی جلیل  حضرت ابو ہریرہ﷜ اور ان کی مرویات پر تحقیق تھا ، ڈاکٹر صاحب نے اس وقت اس موضوع پر قلم اٹھایا جب اس راہ کی دشواریاں سخت اور موادکم تھا،  مستشرقین اور منکرین حدیث کا  بڑا نشانہ اسی صحابی جلیل کی ذات کے اطراف گھومتا  ہے کہ سب سے بڑے راوی حدیث مشرف باسلام ہونے والے متاخرین  صحابہ میں  شمار ہوتے ہیں، انہیں صحبت نبوی ﷺ میں رہنے کا صرف ساڑھے تین برس کا قلیل عرصہ ملا اور یہ  کیسے ممکن ہے کہ اس مختصر عرصہ کی صحبت کے باوجود متقدمین  اور  کبار صحابہ  کے مقالبہ میں زیادہ احادیث نقل کریں۔ ڈاکٹر صاحب  نے اسی اعتراض  کا بنیادی طور پر ایسا منطقی اور اصولی جواب دیا کہ اس مقالہ کو عالم اسلام نے ہاتھوں ہاتھ لیا، اہل علم نے خوب سراہا۔ پھر بعد میں اس موضوع پر متعدد کتابیں شائع ہوئیں لیکن ’الفضل للمتقدم‘ پھر جامع ازہر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، وہاں مقالہ کا عنوان  تھا، ’عہدِ نبوی ﷺ کے فیصلے‘ جس کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوئے، پاکستان سے کئی اردو ایڈیشن شائع ہوئے پھر وہ مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوئے۔

جامعہ دار السلام میں ہماری طالب علمی کے دوران جن فارغین کے ناموں کا عام تذکرہ تھا ان میں شیخ ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی ﷫ کا اسم گرامی نمایاں تھا، مختلف وجوہات سے، ان کے قبول اسلام کا پس منظر اور اس راہ میں پیش آمدہ مشکلات پر ثابت قدمی، عمر آباد میں حصول علم کے لیے جانفشانی اور لگن ، صحابی جلیل  سیدنا ابو ہریرۃ﷜ پر ان کا تحقیقی  مقالہ اور رابطہ عالم اسلامی جیسی  باوقار تنظیم کے اعلیٰ عہدہ پر ان کی تقرری وغیرہ،اس لیے ان سے ملاقات کا شدید اشتیاق تھا۔ ہماری فراغت سے کچھ پہلے موصوف کی آمد کی اطلاع ملی، دار السلام سے فراغت کے  کئی سالوں بعد تعلیمی مراحل مکمل کر کے وہ پہلی بار تشریف لا رہے تھے، یہاں حالت یہ تھی کہ 

بام و در چمکتے ہیں راہ  میں اجالا ہے

آج میرے گھر جانے کون آنے والا ہے

ان کا شاندار استقبال ہوا، ان کے اعزاز میں ایک نشست رکھی گئی جس میں اساتذہ، منتظمین، مہمان اور طلبہ سب ہی شامل تھے، پھر طلبہ کے لیے ایک نشست علیحدہ سے مختص کی گئی، تاکہ طلبہ ان کے ساتھ اطمینان سے گفتگو کر سکیں،اس  کا طلبہ کو بہت فائدہ ہوا۔ اس میں ڈاکٹر صاحب نے رابطہ کا جامع تعارف بھی کروایا ، کچھ اہم کتابوں کے مطالعہ کی نشاندہی بھی کی، ہم طلبہ نہایت عقیدت ومحبت سے ان کی گفتگو سنتے رہے۔

ہماری ان سے دوسری ملاقات رابطہ ہی کے دفتر مکہ مکرمہ میں ہوئی، نو وارد عمری طلبہ جن کا 1978ء  میں مدینہ یونیورسٹی داخلہ ہوا تھا، داخلہ کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اولین فرصت میں عمرہ کی سعادت سے فیض یاب ہونے کے لیے  مکہ مکرمہ روانہ ہوئے، اس سفر میں عمرہ کے علاوہ ذیلی  پروگرام ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ملاقات کا بھی تھا، عمرہ سے فارغ ہو کر رابطہ کے دفتر پہنچے جو اس وقت  قدیم عمارت میں تھا، موصوف نے نہایت خندہ پیشانی سے ملاقات کی، اساتذہ کی خیریت دریافت کی، ہمیں کچھ تعلیمی  مشورے اور نصیحتیں کر کے  رخصت کرتے ہوئے رابطہ میں کتابوں کے اسٹاک روم کے نگران امین مستودع الکتب کے نام ایک پرچی دی۔ جس میں ہدایت جاری  کی گئی تھی کہ ہم طلبہ کے لیے مفید کتابیں دی جائیں، یہ ہمارے لیے کتابوں کا پہلا قیمتی تحفہ تھا، اس پرچی سے رابطہ میں شیخ کی پوزیشن کا اندازہ ہوا، اگرچہ کہ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لیے جب ہمیں ایک وسیع  ایرکنڈیشن کمرہ  میں بٹھایا گیا تھا جس میں ترتیب سے لگی  آرام کردہ کرسیاں، دبیز قالین دیواروں پر آویزاں قیمتی پردے اور ان کے لیے مرکزی کرسی اور سامنے عمدہ میز، ہم عمر آباد سے آنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لیے یہ منظر خود کافی تھا  ﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ﴾

پھر شیخ  محترم نے رابطہ عالم اسلامی کا اونچا منصب اور اعلیٰ عہدہ چھوڑ کر تعلیمی لائن کو مستقل طور پر اپنانے کا فیصلہ کیا، اس کے لیے ان کی نظر انتخاب مدینہ یونیورسٹی پر ہی پڑی، جب آپ تقرری سے متعلق ضابطہ کی کاروائی مکمل کرنے کے لیے مدینہ منورہ  تشریف لائے اور چند دن قیام کیا۔ اس وقت جامعہ کے وائس چانسلر مشہور عالم دین شیخ عبد المحسن بن حمد العباد ﷾ تھے، ڈاکٹر صاحب کا تقرر بطور استاذ مساعد اسٹنٹ پروفیسر کلیۃ الحدیث کے لیے ہوا اور بہت ہی مختصر عرصہ میں یہاں بھی ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے  آپ نے پروفیسر شپ حاصل کر لی اور پھر اسی  کلیہ کے ڈین بن گئے، یونیورسٹی کی دنیا میں یہ دونوں بہت پروقار منصب شمار ہوتے ہیں، کیونکہ بیشتر مدرسین ریٹائرمنٹ تک پروفیسر کا رتبہ نہیں پا سکتے۔

یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا

پروفیسر کو جو خصوصی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں وہ سب آپ کو حاصل تھیں لیکن ان سہولتوں کو آپ نے ریسرچ اور تحقیق کے لیے استعمال کیا۔ شیخ محترم نے جب  باقاعدہ  تدریس کا آغاز کیا، میں اس وقت اسی کلیہ کے دوسرے سال میں زیر تعلیم تھا، شیخ  کے ذمہ زیادہ تر پہلے  سال کے مضامین  تھے، یوں ہم  اسی کلیہ میں ہونے کے باوجود باقاعدہ کوئی مضمون تو ان سے نہیں پڑھ سکے البتہ مختلف اضافی گھنٹیوں میں  وہ آتے اور لیکچر دیتے رہے، جب تیسرے اور چوتھے سال کے انہیں اسباق دیے گئے  ہم فارغ ہو چکے تھے، مختلف ممالک خصوصاً افریقی طلبہ ان سے بہت مانوس تھے، ویسے یہ شیخ  کی شخصیت کا کمال تھا کہ مختلف  طلبہ کو یہ گمان ہوتا کہ شیخ کی توجہ اور ہمدردی ہمارے ساتھ زیادہ ہے۔

طلبہ اور  اساتذہ کے درمیان انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا، پی ایچ ڈی کے مناقشہ میں آپ کا نام ہوتا تو طالب علم زیادہ  چوکنا ہو جاتا کیونکہ ہائر ایجوکیشن کے طلبہ میں یہ بات مشہور تہی کہ ڈاکٹر ضیاء حوالہ جات کی بھی تحقیق کرتے ہیں کہ واقعی طالب علم نے مراجع سے استفادہ کیا ہے یا اصل کی طرف رجوع کیے بغیر  کسی اور جگہ سے نقل کیا ہے کیونکہ بعض مقالہ نگاروں کی یہ روش ہے کہ حوالہ جات بڑے اور مشہور مصادر کے دیں گے مگر براہ راست  مطالعہ کے بغیر کسی  ذیلی کتاب سے نقل کر کے اور بعض مضمون نگار کئی کئی صفحات نقل کرتے ہیں لیکن حوالہ کے بغیر جیسے یہ ان کی اپنی کاوش کا نتیجہ ہے۔

مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد میں برمنگھم پہنچا، تین سال بعد ڈاکٹر صاحب نے برطانیہ کا دورہ کیا، ان کا زیادہ وقت لندن میں گزرا، اس وقت احادیث کو کمپیوٹرائز کرنے کا ابتدائی کام یہاں چل رہا تھا، اگرچہ اس کا آغاز ڈاکٹر مصطفی اعظمی ﷫ نے  ریاض  میں کیا تھا لیکن بوجوہ پروگرام کے مطابق کام آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔

بہر حال اس دورہ  میں ڈاکٹر صاحب دو دن ہمارے ساتھ برمنگھم میں رہے، اس دوران مختلف  مقامات کی سیر اور متنوع موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی رہی، اس وقت ان کی توجہ ’’المدخل للبیہقی‘‘ کو مکمل کرنے پر  مرکوز تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت یونیورسٹی سے جو تدریسی چھٹی ملی ہے اس کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ آپ تدریسی ذمہ داریوں سے کچھ مدت کے لیے فارغ ہو کر یکسوئی کے ساتھ اپنی مرضی اور ذوق کے مطابق ریسرچ کر سکیں۔ لہٰذا میں بیہقی  کا کام جلدمکمل کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے کر لیا۔ پھر میری موصوف کے ساتھ تقریباً سالانہ ملاقات ہوتی رہی، ہر ملاقات میں تمہیدی گفتگو کے بعد علمی اور دعوتی امور پر ہی بات چیت رہتی اور مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا۔

ڈاکٹر صاحب  کے خیال کے مطابق  دعوتی کام میں تیزی اور استحکام پیدا کرنے کے لیے بنیادی  مقصد اور اہداف پر توجہ زیادہ دینی چاہیے، جماعتی تعصب اور غیر ضروری تنظیمی  پرچار کو وہ زیادہ درست نہیں سمجھتے کیونکہ اس سے اصل مقصد  کے بجائے ذیلی امور  اہمیت اختیار کر جاتے ہیں اور وسائل ضائع ہوتے ہیں، بعض جماعتوں میں اساسیات دین  کو جس انداز سے  نظر انداز  کیا جاتا ہے یا بعض میں  فقہی مسائل کو ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے اس کے برخلاف مختلف وفود کے ساتھ ملاقاتوں میں وہ کیا کرتے تھے۔ نیز اردو زبان کو اپنی دعوتی اور نشریاتی سرگرمیوں کا محور بنانے کے وہ زیادہ حق میں نہیں تھے  بلکہ داعیان دین کو علاقائی یا بین الاقوامی زبانوں میں درست لٹریچر کو عام کرنے پر زور دیتے۔

میدان دعوت وتبلیغ میں سرگرم کارکنان اور خطباء کو ہمیشہ ان کا مشورہ ہوتا کہ فتویٰ دینے سے حتی الامکان پرہیز کریں۔ معتبر علماء جو فتویٰ کی نزاکتوں اور زمانہ کے تقاضوں سے واقف ہیں، ان ہی کو فتویٰ دینا چاہیے۔

دوران حج پیش آنے والی بعض پریشانیوں کے متعلق جن سے وہ خود واقف تھے اور ان پریشانیوں کے حل کی جن تجاویز پر علمی اور فقہی  گفتگو ہوتی، اگرچہ ان کی اپنی بھی ایک رائے ہوتی لیکن  ساتھ ہی کہدیا کرتے کہ یہ میری رائے، مناسب ہے کہ یہ آراء مفتی مملکت کے سامنے رکھی جائیں اور ان کی جانب سے فتویٰ صادر ہو، اس طرح فتویٰ میں انتشار بھی نہیں  ہو گا اور اس کا ایک وقار بھی باقی رہے گا اور الحمد للہ مختلف مناسبتوں میں یہ کوششیں بھی ہوئیں، فتویٰ میں  عدم عجلت اور ذمہ داران کی طرف رجوع کرنے کی تاکید  کا ہم نے مدینہ یونیورسٹی میں بارہا مشاہدہ کیا، حالانکہ نامی گرامی علماء اور قد آور  شخصیات ہوتیں مگر احتیاط سے جواب دیتے ہوئے عموماً کہتے  الله أعلم، أسأل المفتى، آپ مفتی صاحب سے پوچھ لیجیے،  لا أفتى هذا رأي ، میں فتویٰ نہیں دے رہا ہوں یہ صرف میری رائے ہے۔ وغیرہ وغیرہ کے جملے ہم ہندو پاک کے طلبہ کے لیے عجیب سے لگتے  کیونکہ ہمارے ماحول میں تو سوال ختم ہوتے ہی جواب دینے کی عادت ہوتی ہے، بلکہ بسا اوقات سوال سمجھےبغیر بھی جواب دینے کو مہارت سمجھا جاتا ہے اور یہاں علماء کبار کی احتیاط کا یہ عالم کہ بعض اوقات عام سے مسائل میں بھی جواب دینے میں توقف کرتے ، بلاشک وشبہ اس اسلوب سے فتویٰ کا وقار اور نظم باقی رہتا ہے اور یہی مشہور ائمہ کرام کا وطیرہ رہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب  عہدہ اور منصب عالیہ سے  ریٹائرمنٹ کے بعد حالانکہ مدت ملازمت میں تمدید کا آپ ک اختیار تھا بلکہ یونیورسٹی کو ضرورت بھی تھی

ممکن نہیں کہ ان سے جامعہ  ہو بے نیاز

وہ تھے جامعہ میں گوہرنایاب کی طرح

لیکن آپ نے اپنی حدیث کی کتاب ’’الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل‘‘  کی تیاری  کا منصوبہ بنایا ہوا تھا، اسی میں جُٹ گئے،  ایک مجلس میں ان کی زبانی میں نے سنا کہ شاید اللہ تعالیٰ  نے مجھے قبول اسلام کی توفیق خدمت حدیث کے لیے  ہی دی ہو، میں زندگی کا مزید وقت  کسی دوسری مصروفیات کی نذر نہیں کرنا چاہتا ، صرف ڈاکٹریٹ کے مناقشہ وغیرہ میں انہیں یونیورسٹی کی طرف سے مدعو کیا جاتا رہا لیکن کچھ عرصہ  کے بعد  انہوں نے اس سے بھی معذرت کرلی کیونکہ مقالہ پڑھنے اور مناقشہ کی تیاری کرنے میں وقت لگتا ہے، سوائے خاص مقالہ جات جن پر مناقشہ کے لیے یونیورسٹی کی شدید مجبوری ہوتی کیونکہ بعض مضامین  میں قابل پروفیسرز کی قلت تھی، باقی تمام سے آپ نے معذرت کر لی اور یہی وجہ ہے کہ مختلف عوامی اجتماعات اور کانفرنسوں میں شرکت سے بھی بچا کرتے، صرف مسجد نبوی کا سلسلہ درس حدیث کو آپ نے آخر تک جاری رکھا، شاید موضوع اور مکان سے انسیت اور محبت کا تقاضا تھا۔

حدیث اور علوم حدیث پر متعدد وقیع کتابوں کے علاوہ قرآنی پرنٹنگ پریس مدینہ منورہ سے ہندی زبان میں طبع ہونے والے قرآن مجید کی تیاری مں ڈاکٹر اعظمی کا نمایاں حصہ ہے۔

انڈیا کی مرکزی سرکاری زبان ہندی  میں کمی محسوس کی جا  رہی تھی، ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلہ میں ذاتی دلچسپی لی اور شمالی ہند مئو کی مشہور علمی شخصیت مولانا عزیز الحق عمری کے حوالہ یہ ذمہ داری اس طرح سونپی کہ ترجمہ کی براہ راست نگرانی شیخ موصوف خود  کر رہے تھے اور اس منصوبہ کا خاکہ انہوں نے ہی ترتیب دیا۔ دراصل  شیخ کی خواہش تھی کہ قرآن مجید کے ترجمہ اور مطالب بیان کرتے ہوئے روح قرآن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ذاتی نظریات اور رجحانات کو اس میں داخل نہیں کرنا چاہیے۔ قطع نظر اس بات سے کہ وہ کتنے درست اور صحیح ہیں، کیونکہ یہ آپ کے اپنے خیالات ہیں، اسی اصول کے مطابق ہندی ترجمہ اور حواشی مکمل کیے گئے اور ہزاروں کی تعداد  میں مجمع کی جانب سے تقسیم کیے گئے۔ الحمد للہ

ڈاکٹر صاحب کی آخری کتاب سیرت ہی سے متعلق ہے جو کہ محدثین کے اسلوب پر تیار کی گئی۔ سیرت نگاری کا یہ اسلوب تقریباً 9 سو برس میں اپنی نوعیت کی پہلی کاوش ہے۔ اگرچہ سیرت پر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں لیکن مؤرخین کے طرز پر، اس کتاب میں مصنف کےبقول  دو ابواب کا اضافہ کر کے اس کی اہمیت کو دوچند کر دیا گیا۔ نبی کریمﷺ کی مختلف موقعوں پر کی گئیں پیشین گوئیاں اور واقعاتی دنیا میں ان کی صداقت اور تحلیلی جائزہ، مختلف غیر اسلامی مصادر میں رسول اللہ ﷺ کی آمد کے تذکرے۔

موصوف کے ساتھ آخری ملاقات میں خود انہوں نے اپنی آخری کتاب کا تعارف کروایا، مجلس میں موجود بعض احباب نے یہ گفتگو ریکارڈ بھی کر لی، لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہو گی۔

ایک کتاب جو مکمل نہ ہو سکی

سیرت کے ہی موضوع پر ایک کتاب اچھوتے اسلوب میں غیر مسلموں اور نو مسلموں کے لیے لکھنا چاہتے تھے۔ مذہبی ہندو اپنی مقدس کتاب کا یومیہ پارٹ کرتے ہیں جبکہ اس میں دیومالائی کہانیاں اور بے سروپا حکایات ہوتی ہیں، اس کے مقابلہ میں ان کے لیے خصوصاً سیرت کے سو ایسے واقعات جو بہت مؤثر ہو سکتے ہیں، وہ اس ترتیب سے لکھنا چاہتے تھے کہ روزانہ  ایک واقعہ کا مطالعہ کیا جا سکے، اس کاتذکرہ ڈاکٹر صاحب نے تقریباً  تین سال قبل اپنے گھر کی ایک خصوصی مجلس میں  کیا تھا، جس میں حج کے لیے آنے والے ہندوستانی نو مسلموں کے ساتھ بیٹھک تھی لیکن یہ کام الحدیث الکامل کی تکمیل کے بعد  کرنے والے تھے، اس کے ایک سال بعد میں ایک پروگرام  میں شرکت کے لیے کلکتہ گیا، وہی نو مسلم بھائی جن کے افراد خاندان ابھی تک روشنی ہدایت سے محروم ہیں ، بلکہ ان کی سگی بہن  ایک ماہر ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ  کسی ہندو دھرم شالے کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے، انہوں نے  پروگرام کے بعد ملاقات کر کے ڈاکٹر صاحب  کے ساتھ مدینہ منورہ میں ہونے والی بات یاد دلائی کہ اس کتاب کا بے چینی سے انتظار ہے، ان کی تڑپ اور انتظار کی خبر میں نے اگست  2019ء کی  ملاقات میں ڈاکٹر صاحب کو  پہنچا دی۔ انہوں نے اپنی کتاب الحدیث الصحیحہ کے دوسرے ایڈیشن کی مصروفیت کا عذر پیش کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ آپ نے توجہ دلائی ہے اس پر کام شروع کر دوں گا۔ حدیث کی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی تیاری ڈاکٹر صاحب کے لیے بہت اہم تھی کہ پہلے ایڈیشن کے بعد جو مکتبہ دار السلام ریاض سے شائع ہوا۔ مختلف اہل علم کی آراء اور تجاویز اور خود ان کی  اپنی نظرثانی کے بعد مزید تنقیح اور ضروری اضافوں کے ساتھ دوسرا ایڈیشن تیار ہو رہا تھا تب ہی تو تیرہ جلدوں سے تجاوز کر کے انیس جلدوں میں دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام صحیح  احادیث کو مکمل تحقیق کے ساتھ ایک جگہ  جمع کرنے کا شرف  انہیں حاصل ہوا۔

لیکن سال رواں میری ملاقات نہ ہو سکی، کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ہر ایک محصور ہو کر رہ گیا، بالآخر عرفہ کے دن ان سے ملاقات کے بجائے ان کے جنازہ کا دیدار ہوا، اس کے ساتھ ہی اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے اب کسی اور ضیاء الرحمٰن کی آمد کا شاید انتظار کرنا پڑے۔ وَمَاذَلِكَ عَلَى اللهِ بِعَزِيْز

اس آخری ملاقات میں انہوں نے مجھ سے گفتگ کرتے ہوئے نہایت فراخدلی کے ساتھ  اپنی تمام تصنیفات کو شائع کرنے ترجمہ کرنے اور اس کو پھیلانے کی عام اجازت اس طرح دی کہ اسے توفیق خاص کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ سفر آخرت پر روانگی سے قبل زاد سفر اور ذخیرہ آخرت انہوں نے بھیج دیا، انہوں نے کہا کہ میرا مقصد علم صحیح کو دنیا میں عام کرنا ہے جو بھی اس کارخیر میں حصہ لینا چاہتا ہو، آگے بڑھے، اسے کسی مزید  اجازت  حاصل کرنے کی ضرورت نہیں، ان کی اس گفتگو  کو شریک مجلس برادر محترم مجیب دوستے نے ریکارڈ میں بھی محفوظ کر کے عام کر دیا۔

ان کے کام کی قبولیت کی نشانی اور وفات کے حسن خاتمہ کی علامت کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم

کہ باعث شہرت حدیث کی خدمت آخری کتاب سیرت اور  آخری آرامگاہ صاحب سیرت کے جوار میں  ہزاروں جانثار صحابہ کے پہلو جنت البقیع میں موت یوم عرفہ جو جہنم سے آزدی کا دن ہے۔

اللهم اغفرله وارحمه

الحمد للہ ڈکٹر صاحب کو ایک ایسی عالمی اسلامی یونیورسٹی جس میں تقریباً ایک سو ممالک کے طلبہ زیر تعلیم ہوتے ہیں، پچیس  سال تک تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ موصوف کے متعدد ممالک میں  پھیلے ہوئے ہزاروں شاگرد اور ان کی مختلف تصانیف فرمان نبویﷺ کے بمصداق أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِهِ ان کے لیے ان شاء اللہ صداقہ جاریہ ثابت ہوں گی۔

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ﴾

٭٭٭

تبصرہ کریں