گلستان ثاقب (تعارف وتجزیہ)- ظہیر دانش عمری

جامعہ دار السلام عمر آباد کے فارغین ہر میدان میں اپنی علمی کامیابیوں اور فنی مہارتوں کا لوہا منوا چکے ہیں اور منوا رہے ہیں۔ تحریر یا تقریر کا میدان ہو، عمری بھائیوں نے ان دونوں میدانوں میں اپنے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ شاعری کی طرف بہت کم عمری احباب جاتے ہیں۔ فی الوقت میرے پیش نظر ڈاکٹر محمد عبد الرب ثاقب عمری کا شعری مجموعہ ہے، جسے سید اسماعیل علی اورسید ایوب عمری نے مرتب کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب مرنجان مرنج شخصیت کے حامل ہیں، آپ کا نام نامی میں نے سب سے پہلی برادر عزیز شیخ اسماعیل افضل کی زبانی سنا اور انہی کے ذریعے مجھے آپ کے شعر ی مجموعے فیضان ربانی پر سرسری نظر ڈالنے کا موقع ملا۔ فیضان ربانی کے مطالعے سے ناچیز کو بہت مسرت حاصل ہوئی ، خاص کر اس کی غزلوں نے دیر پا اثر چھوڑا۔ ڈاکٹر صاحب کی غزلیں اتنی عمدہ، دلکش اور لاجواب ہیں، ہمارے دل میں مخصوص جگہ بنا لیتی ہیں۔ شعراء کی اس بھیڑ میں اپنا مخصوص مقام بنا لینا آسان کام نہیں ہے اور کیوں نہ ہو آپ کو حضرت ابو البیان حماد عمری کی سرپرستی حاصل رہی ہے، جو استاذ الاساتذہ ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی ایک خصوصیت مجھے بہت پسند ہے وہ یہ کہ آپ ڈگر سے ہٹ کر چلتے ہیں، بقول سہیل اختر مرحوم

نقوش پاسے بھی آگے ہے منزل مقصود

جانا ہے مجھے وہاں جہاں راستہ نہیں جاتا

عموماً کتابوں کا انتساب صرف ایک شخصیت یا ادارے کے نام ہوتا ہے، آپ نے اس کتاب میں تین تین انتساب شامل فرمائے ہیں۔ ایک انتساب تو کاکا سعید احمد صاحب عمری کے نام جس میں آپ کے علاوہ کاکا انیس احمد عمری اور دیگر منتظمین جامعہ کے اسماء گرامی تحریر کیے گئے ہیں، دوسرا حضرت ابو البیان حماد عمری کے نام اور تیسرا انتساب اپنے تایا زاد برادران کے نام ہے، جن کے اسماء گرامی ہیں:مولانا عبد الرحمٰن ندوی، مولانا عبد اللہ عمری مدنی اور مولانا محمد عبد الہادی عمری مدنی۔ گویا انہوں نے ایک ساتھ مادر علمی کا حق، اپنے رہنمائے روحانی کا حق اور شتہ دا ری کا حق ادا کرنے کوشش کی ہے۔

اس کے بعد ان کی لحدوں پر الٰہی کے عنوان سے ڈڈلی اور حیدر آباد دکن کے مرحومین کو یاد فرمایا ہے، یہ بھی ڈاکٹر صاحب کی ایسی انفرادیت ہے کہ

جس پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر تابش مہدی، ملک فضل برمنگھم، برادر عزیز شیخ اسماعیل افضل حیدر آبادی اور عادل فاروقی لندن کے تاثرات شامل کتاب ہیں۔ ان میں سوائے شیخ اسماعیل کے کسی اور صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی شعری خصوصیات پر گفتگو نہیں کی ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ آپ کی غزل، نظم اور قصیدہ گوئی پر تفصیلاً گفتگو کی جاتی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر تابش مہدی کی تحریر بھی کچھ خاص تاثر نہیں چھوڑتی۔

اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب کی دو حمدیں، ایک نعت، تیرہ نظمیں، 7 غزلیں، 9 قصیدے، 23 مرثیے، 2 ترانے، چند قطعات، 45 خراج تحسین وخراج عقیدت اور ایک گلدستہ تہنیت شامل ہیں۔

ربی اللہ ربی اللہ کے عنوان سے جو حمد ہے اس میں بڑی سادگی اورپرکاری کے ساتھ انہوں نے حمد خداوندی بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ بار بار ان کا یہ سوال کہ کس نے بھیجا نبی کو، کس نے زبان و دھن دئیے ہیں، کس نے سیدھی راہ دکھائی وغیرہ کس نے، کس نے تکرار سے بے اختیار سورۂ رحمٰن یاد آ جاتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ جن وانس کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

نعت رسول کہنا بہت مشکل کام ہے۔ نبی کا مرتبہ بہت ہی نازک ہے، اسے نہ بڑھایا جا سکتا ہے نہ گھٹایا جا سکتا ہے۔ شریعت کی حدود کی پابندیوں کے ساتھ نعت کہنا ناکوں چنے چبانے کے مترادف ہے۔ کتنے عمدہ شعر آپ نے کہے ہیں:

تھے جہالت میں جوان کو علم والا کر دیا

آپ کی تعلیم نے پتھر کو ہیرا کر دیا

کر دیا توحید نے دنیا میں برپا انقلاب

نورایماں سے زمانے میں اجالا کر دیا

آپ کی نظموں میں مشاہدات، ماں تیری کمی ہے، انحطاط نہایت عمدہ ہیں۔ مشاہدات میں دور حاضر کی دین بیزاری، بے ادبی، شرک کی تاریکی، اللہ سے دوری، بے سکونی و بے اطمینانی کا اظہار انہوں نے دردمندی کے ساتھ کیا ہے۔ نصیحت اس پیرائے میں کی ہے کہ آپ کی نصیحت دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ چند شعر دیکھیں:

میں دین سے ہٹ کر جو ڈگر دیکھ رہا ہوں

سانپوں سے بھری راہ گزر دیکھ رہا ہوں

ہر شخص کے جذبات میں اک آگ لگی ہے

جلتے ہوئے دل اور جگر دیکھ رہا ہوں

اب مر بھی چکا آنکھوں کا پانی بھی تو ثاقب

دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں

ماں تیری کمی ہے میں ماں کی کمی کا اظہار یوں کرتے ہیں کہ قاری اگر دل گداز کا مالک ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو نہ جھلکیں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ مال و دولت اور اللہ کی نعمتوں کی فراوانی اورماں کی کمی کی وجہ سے دل میں کسک اٹھتی ہے، وہ بس اسی دل کو محسوس ہوتی ہے، جس نے یہ حادثہ دیکھا۔ ماں پر لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے اور لکھ رہے ہیں۔ لیکن آپ کی یہ نظم اس معنیٰ میں سب سے منفرد ہے کہ اس میں ایک سچے بیٹے کی دل کی پکار ہے، سینے میں ابلتے ہوئے جذبات ہیں جو قلم کے راستے بہہ نکلتے ہیں۔ ماں کی نعمت جب تک ہمارے پاس ہوتی ہے ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ نعمت کا احساس تو زوال کے بعد ہوتا ہے۔ جن کے پاس ماں ہے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ

ماؤں والے جھوم رہے ہیں

ان کا ماتھا چوم رہے ہیں

نظم کی ابتداء سے ایک مایوسی، رنج وغم کی کیفیت، درد دل کی کسک محسوس ہوتی ہے۔ نظم پڑھنے والا جب اسے ختم کرتا ہے تو قاری پر ایک خاص تاثر چھوڑ جاتی ہے۔ چند اشعار دیکھیں:

پھولوں کے ہیں اشجار، مگر تیری کمی ہے

میوؤں کے ہیں انبار، مگر تیری کمی ہے

ماں تیری کمی ہے،ماں تیری کمی ہے

احباب ہیں زردار، مگر تیری کمی ہے

سب بن گئے سردار، مگر تیری کمی ہے

ماں تیری کمی ہے، ماں تیری کمی ہے

ہیں دودھ کے انہار، مگر تیری کمی ہے

ہیں خیر کے انوار، مگر تیری کمی ہے

ماں تیری کمی ہے، ماں تیری کمی ہے

شادی کی ہیں باراتیں، مگر تیری کمی ہے

ہیں نور کی برساتیں، مگر تیری کمی ہے

ماں تیری کمی ہے، ماں تیری کمی ہے

غزلیات کے حصے میں سات غزلیں جن میں روایتی مضامین کے ساتھ ساتھ دینی موضوعات کو بھی برتا گیا ہے۔ کہیں کہیں ان کی نصیحت ان کی غزل پر غلبہ حاصل کر لیتی ہے۔کیوں نہ ہو آپ بنیادی طور پر عالم دین ہیں، شاعری کرتے ہوئے بھی وہ اس منصب اور اس کی ذمہ داریوں کو نہیں بھولتے، کہیں توحید کی دعوت دیتے ہیں تو کہیں عبادت میں ریاکاری اور دکھاوے سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں، مسلمانوں میں جو فرقہ پرستی سرایت کر گئی ہے، وہ درمندی کے ساتھ کرتے ہیں، نفرت کا مقابلہ کرنے کا طریقہ یہ بتاتے ہیں کہ نفرت کو نفرت سے نہیں کاٹا جا سکتا بلکہ الفت ومحبت سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

چند شعر یوں ہیں:

زندگی بے بندگی تو گمراہی ہے گمراہی

بندگی رب کی کرو اور سرمدی بن جائیے

ہو تلاوت اور دعائیں بے ریا وبے نمود

بندگی کر کے مجسم چاشنی بن جائیے

دنیا کے کاروبار میں ہیں غرق اس طرح

ڈر ہے نہ موت وقبر کا اور حساب کا

رب سے تم جوڑ لو تعلق کو

اس کی رحمت تو بیکرانہ ہے

کتنے فرقوں میں بٹ گئے مسلم

کیا یہ انداز مؤمنانہ ہے

کیسے جنت میں لوگ جائیں گے

جب عقیدہ ہی مشرکانہ ہے

عجیب لوگ ہیں شاید انہیں نہیں معلوم

کہ دل کشی تو غریبوں میں پائی جاتی ہے

قصائد میں علامہ اقبال کے علاوہ لندن کی چند اہم شخصیات شامل ہیں۔ جیسے ڈاکٹر حافظ عبد الکریم صاحب، مولانا عبد الکریم ثاقب مدنی، مولانا شفیق الرحمٰن صابر صاحب وغیرہ۔

انہوں نے اپنے اہل خانہ، اساتذۂ جامعہ اور دیگر معروف شخصیات کی وفات پر مراثی کہے ہیں، مولانا حافظ سید عبد الکبیر صاحب عمری، علامہ حافظ حفیظ الرحمٰن اعظمی عمری مدنی، حافظ عبید الرحمٰن اعظمی عمری مدنی، مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی، ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی عمری مدنی، مولانا ظہیر الدین صاحب، مولانا خلیل الرحمٰن اعظمی عمری، مولانا سید جلال الدین انصر عمری ﷭ کی وفات پر کہے گئے مراثی میں بہت سوز وگداز ہے، مختصر الفاظ میں انہوں نے صاحب مرثیہ کے امتیازات وکمالات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ چند لفظوں میں ایک شخصیت کی خوبیوں کو بیان کرنا اور اس انداز میں بیان کرنا کہ پڑھنے اور سننے والا ایک خاص تاثر لے کر اٹھے بہت مشکل کام ہے۔

مولانا زاہد اعظمی﷫ پر لکھے گئے چند شعر دیکھیں:

بچپن سے مشقت کی، گھر والوں کی خدمت کی

اخواں سے محبت کی، ماں کی بھی اطاعت کی

مسجد میں خطابت کی، مکتب کی نظامت کی

تھے معتمد عالی، اس طرح ادارت کی

تھے صدق وصفا والے، بندے تھے خدا والے

داعی رہے سنت کے، دشمن رہے بدعت کے

بعد ازاں مختلف شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ دوترانے حفظ قرآن کا مقابلہ اور جامعہ سمیہ حیدر آباد دکن کے عنوان سے شامل ہیں۔ قند مکرر کے بعنوان چار نظمیں ہیں۔

متفرقات میں برمنگھم کے مشاعروں کو رونق بخشنے والے بعض علماء کرام و قائدین ، حیدر آباد دکن کے مشاعروں کو رونق بخشنے والے بعض علماء، قائدین واحباب، ماہنامہ پرواز لندن کا ایک شمارہ ، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب کے متعلق مشاہیر کی آراء و تبصرے اور عکس شاعر شامل ہیں۔

متفرقات کے تحت جو ابتدائی دو عناوین شامل نہ ہوتے تب بھی کتاب کی اہمیت میں کوئی کمی نہ ہوتی۔

اخیر میں ایک مشورہ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ شاعری کے انتخاب میں اور سختی برتیں منتخب شعر ہی شامل کتاب کریں تو اس کی اہمیت میں اور زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔ اسی طرح غیر متعلق چیزیں حتی الامکان شامل کرنے سے گریز کریں گے تو اس کے حسن میں مزید نکھار آ جائے گا۔

مجموعی طور پر یہ کتاب بہت عمدہ ہے اور عبد الرب ثاقب کی شاعری دلوں میں اتر جانے والی، احساس کو جگانے والی شاعری ہے۔ یقیناً یہ اردو ادب میں بیش بہا اضافہ ہے۔ مرتبین کا بھی بے حد شکریہ کہ آپ حضرات نے اس کتاب کی ترتیب سے اپنے حسن سلیقہ کا ثبوت پیش کیا ہے۔ دعا ہے کہ آپ حضرات اس نوعیت کے مزید علمی کام سر انجام دیں۔ آمین

تبصرہ کریں