گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

5۔ Piccadilly Tavern

مشرقی لندن کی مسجد آتے جاتے یورپول روڈ سے بارہا گذرنا ہوا، جہاں یو کے اسلامک مشن کا صدر دفتر تھا۔ غالباً یہ مکان ڈاکٹر مصطفیٰ اعظمی کے توسط سے مشن کی تحویل میں دیا گیا تھا۔ جناب سلیم کیانی اس وقت مشن کےصدر تھے اور پھر ان کے آفس کے توسط سے مجھے گاہے گاہے کہیں نہ کہیں دعوت خطاب موصول ہو جاتی اور یہ بات ہے 1977ء کی جب مجھے انگریزوں کے ایک گروپ کو دعوت خطاب دی گئی۔ ان دنوں کار کا سفر لندن کی (A to Z) کا محتاج رہتا تھا۔ چنانچہ میں نے اس کتاب کی مدد سے راستے کی منزلوں کو متعین کیا اور لندن کے قلب ’بپکاڈلی‘ جا پہنچا، گاڑی ایک جگہ پارک کی اور پھر اس کتاب کو ہاتھ میں لیے اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا، جو کہ اس حکایت کا عنوان ہے، مذکورہ عنوان سے منزل کی شناخت بآسانی ہو سکتی تھی لیکن اس وقت میں (Tavern) کی اصطلاح سے ناآشنا تھا۔ البتہ اس کتاب کی رہنمائی میں اس کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر دیکھا کہ دو سڑکوں کے درمیان ایک راہداری مجھے منزل مقصود تک لیجا سکتی ہے، جس کی دونوں اطراف کوئی ایک میٹر بلند لوہے کی سلاخوں کی فصیل (Fence) چلی جا رہی تھی۔ میں اس فصیل کے ساتھ چلتا گیا لیکن دیکھا کہ آگے جا کر دونوں طرف کی فصیل ایک گولائی میں آ کر مل جاتی ہیں، گویا آگے راستہ مسدود، الّا یہ کہ پیچھے جاؤں اور سڑک پار کر کے آگے بڑھوں۔ لیکن ایک جوان رعنا ہونے کے ناطے سے میں نے ایک میٹر بلند فصیل پرسے زقند لگانے کو ترجیح دی۔ میں اس پار تو پہنچ گیا لیکن اس عالم میں کہ میری عینک آنکھ سے اور کتاب ہاتھ سے گر کر سڑک پر جا پڑیں تھیں، احساس ہو رہا تھا کہ شاید پاؤں میں موچ آ گئی ہے۔ زمین سے اپنا مال ومتاع اٹھا کر میں نے سڑک پار کی۔ فٹ پاتھ پر ایک بنچ نظر آیا جہاں ایک ’جلسہ استراحت‘ کو غنیمت جانا۔ اب جو نظر اٹھا کر دیکھا تو سڑک کے پار ایک مے خانہ نظر آیا جس پر جلی الفاظ میں ’ پکاڈلی ٹے ورن‘ کی تختی آویزاں تھی۔تو یہ تھا وہ مے خانہ (Tavern) جہاں مجھے مدعو کیا گیا تھا۔

میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا زندگی میں پہلی بار ایک مے خانہ میں داخل ہو رہا تھا، استقبالیہ ڈیسک سے معلوم ہوا کہ میرے مدعوین بالائی منزل پر میرا انتظار کر رہے ہیں، چنانچہ میں سیڑھیاں چڑھتا اس کرےمیں پہنچا جہاں کوئی دس بارہ مرد وزن ایک میز کے گرد جمع تھے، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا، وہ خود تو اپنے ہاتھوں میں ساغر وجام تھامے ہوئے تھے۔ مجھ سے بھی سوال کیا کہ کیا پسند کرو گے، میں نے ’آب زلال‘ کی فرمائش کی اور پھر موقع ومحل کی مناسبت سے نہ صرف اسلام کا تعارف پیش کیا بلکہ حرمت شراب کی حکمت پربھی روشنی ڈالی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے پیر کی حرارت درد میں تبدیل ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے شرکاء بزم کو اپنی اس واردات کی حکایت سنائی تو انہوں نے لپک کر درد کم کرنے کی چند گولیاں تلاش کر لیں جو میں نے حلق میں اتار لیں۔

اب واپسی کا مرحلہ تھا۔ مجھے اپنے اس زخم خوردہ قدم کے ساتھ سیڑھیوں سے اترنا تھا۔ ان حضرات میں سے ایک دو نے پیشکش کی کہ ہم آپ کو دائیں بائیں سے تھام لیتے ہیں تاکہ آپ آرام سے اتر سکیں۔ میں نے عالم تصور میں دیکھا کہ میرا جیسا ایک باریش شخص ایک شر اب خانے کی بالائی منزل سے اس حال میں اترر ہا ہے کہ ایک شخص دائیں جانب سے اور دوسرا بائیں جانب سے اسے تھامے ہوئے ہے تو نچلی منزل کے بادہ خوار اس کے بارے میں کیا تاثر قائم کریں گے؟

چنانچہ میں نے ان لوگوں سے معذرت کی، کہا کہ میں اپنے سہارے خود اترتا ہوں، آپ بس مجھے میری گاڑی تک پہنچنے میں مدد دیں اور یوں میں درد کی شدت کے باوجود گاڑی چلاتا گھر تک پہنچا۔ اب مجھے یہ یاد نہیں کہ گاڑی میں نے خود چلائی تھی یا انہی میں سے کسی شخص نے میری گاڑی ڈارئیو کی تھی۔

میں سوچتا رہا کہ یہ واقعہ میرے ساتھ کیوں پیش آیا۔ کوئی توجیہہ سمجھ میں نہیں آئی، سوائے اس کے کہ ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہے:

«لا تجلسوا على مائدة تدار عليها كؤوس الخمر» (طبرانی)

’’ایسے کسی دسترخوان پر نہ بیٹھو کہ جس پر شراب کے گلاسوں کا دور دورہ ہو۔‘‘

جہاں شک وشبہ کا سامان موجود ہو اور یہی مضمون ہے اس حدیث کا بھی:

«دَعْ ما يَريبُك إلى ما لا يَريبُك»

’’چھوڑ دو اس چیز کو جس کے بارے میں تمہیں شک ہو اور لے لو اس چیز کو جس میں کوئی شک نہ ہو۔‘‘

ایسی ہی صورتحال اس واقعے سے کوئی چالیس برس بعد بھی پھر پیش آئی۔ ایک عرب دوست نے جو رفاہی کاموں میں پیش پیش ہیں، اپنے ایک خیراتی پراجیکٹ کے تعارف کے سلسلہ میں ایک میٹنگ بلائی جس میں ان کے کچھ بیرونی عرب دوست عشائیے پر مدعو تھے، مقام دعوت لندن کا ایک لبنانی ریسٹوران تھا۔ کھانا میزوں پر لگا دیا گیا تھا اور ہم چند لقمے بھی تناول کر چکے تھے جب میری نظر ہماری نشستوں سے متصل مسقف دالان پر پڑی۔ دیکھا کہ چند سازندے اپنے آالات طرب وضرب کے ساتھ اور دو رقاصائیں اپنے غمزہ وعشوہ کے ساتھ راگ و رنگ کی ایک محفل برپا کرنے کے لیے پرتول رہے ہیں۔

اتنا وقت نہ تھا کہ میں اپنے اس دوست کو متوجہ کرتا جو کچھ فاصلے پر اپنے مہمانوں کے ساتھ محو گفتگو تھے، خیریت اسی میں سمجھی کہ اپنا کوٹ اٹھاؤں اور باہر کا راستہ ناپوں۔ میری دیکھا دیکھی چند دوسرے حضرات نے بھی باہر کا رخ کیا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ باعزت نکلنا نصیب ہوا۔ میں اپنے دوست کی عقل کا بھی ماتم کرتا رہا۔ وہ ایک جہاندیدہ شخص تھے، انہوں نے اس اجتماع کیلئے ایسی مشتبہ جگہ کا انتخاب کیوں کیا؟

6۔ دو انتہائی قابل احترام ہستیوں کی آمد

غالباً یہ 1978ء کی بات ہے کہ میرے والد شیخ عبد الغفار حسن اور ان سے قبل یا بعد میرے استاد شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ لندن تشریف لائے تھے۔

اباجان کا تو یہ نجی دورہ تھا۔ جب میں نیروجی (مشرقی افریقہ) میں تھا تو وہاں بھی انہوں نے اپنے قدوم میمنت سے نوازا تھا اور اب لندن میں بھی میری خواہش کو ملحوظ خاطر لاتے وئے اس طویل سفر کے لیے وقت نکال لیا تھا۔ میں اپنی ایک پرانی تحریر سے یہ اقتباس پیش کرتا ہوں:

والد مکرم کا سفر برطانیہ

31 جولائی 1976ء میں نیروبی سے لندن منتقل ہو چکا تھا۔ 2 سال بعد والد مکرم نے یہاں بھی شرف پذیرائی بخشا، لندن کے تاریخی مقامات اور ونڈسفر سفاری پارک کی سیر کروائی جہاں ہم سب نے پہلی مرتبہ ڈولفن مچھلی کے کرتب دیکھے۔

یہاں دینی سرگرمیوں کی کثرت والد صاحب کو مصروف کرنے کے لیے کافی تھی۔ بالہم مسجد میں ہمارے ساتھی اور ابا جان کے شاگرد حافظ نثار احمد نے درس کا اہتمام کیا۔ یو کے اسلامک مشن کے احباب نے اپنے مرکز میں درس کا انعقاد کروایا۔ ایک جمعہ مسجد مشرقِ لندن کی پرانی اور عارضی عمارت میں پڑھایا۔ جنوبی لندن کے ایک شناسا اپنے گھر لے گئے، پھر ہم سوئے شمال روانہ ہوئے۔ برمنگھم کی زیارت میں برادرم محمود احمد میرپوری مرحوم نے احباب کو جمع کر کے صورت ملاقات پیدا کی، برمنگھم سے تیس میل کے فاصلہ پر لیسٹر ہے جہاں پروفیسر خورشید احمد نے اسلامک فاؤنڈیشن کی شکل میں ایک علمی اور تحقیقی مجلس سجا رکھی ہے۔ چنانچہ فاؤنڈیشن کے پرانے مرکز کودیکھا اور برادرم خرم جاہ مراد سے تجدید ملاقات ہوئی۔ خیال رہے کہ دونوں حضرات ابا جان کے دور جماعت کے ساتھیوں میں سے بھی ہیں اور تربیت گاہوں کے طفیل ان کے شاگردوں میں سے بھی۔

اور آگے گئے اور مانچسٹر کے نواح سے راشڈیل پہنچے جہاں ابا جان کے ایک اور جماعتی دور کے ساتھی نقی علی مرحوم نیلی مسجد کے درودیوار کو آباد کئے ہوئے تھے، وہ عرصہ قبل لاہور سے کراچی منتقل ہو گئے تھے اور پھر ان کا دانا پانی انہیں اس دور افتادہ مقام لے آیا تھا ان کی وفات برطانیہ میں ہوئی۔ ایسٹ لندن مسجد کی پرانی عمارت میں نماز جنازہ ہوئی اور اس کے بعد نعش کو پاکستان لے جایا گیا تھا۔

بشیر دیوان جو کہ اسلامک فاؤنڈیشن نیروبی کے صدر تھے اور پھر میرے برطانیہ آنے سے پہلے یہاں آ کر آباد ہو چکے تھے، ابا جان کی موجودگی میں انتقال کر گئے۔ ان کا جنازہ اباجان نے ہی پڑھایا۔ ٹوٹنم کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ان کی وفات کے 29 سال بعد یعنی 2007ء میں ان کی اہلیہ کا انتقال ہوا اور ان کے صاحبزادگان کی خواہش پر میں نے جنازہ پڑھایا، اسی قبرستان میں ان کو بھی جگہ مل سکی۔ رب اغفر لهما وارحمهما

والد صاحب کا یہ سفر سیاحتی سے زیادہ دعوتی اورتبلیغی رہا۔ مجھے اس بات کی انتہائی خوشی ہوئی ، انہوں نے دونوں جگہ (افریقہ اور پھر برطانیہ) آ کر میری دعوت کو شرف قبولیت بخشا۔

درس وتدریس دعوت وتبلیغ میں مفید مشوروں سے نوازا اور پھر بعد کی ملاقاتوں میں برطانیہ کے حوالے سے ہمیشہ دینی وعلمی رہنمائی کرتے رہے۔

اللهم اغفرله وراحمه وأدخله فى جنتك الفردوس، آمين يا رب العالمين (بحوالہ: مولانا عبد الغفار حسن، حیات وخدمات: ص 220۔221)

ابا جان کا قرآن فہمی کے ساتھ خاص ذوق شوق رہا ہے۔ اس لیے یہ موضوع ان کی تقاریر اور خطبات میں غالب رہا۔ ابا جان اپنے اس مختصر قیام کے بعد مدینہ واپس لوٹ گئے۔ شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ دعوتی مشن پر تشریف لائے تھے۔میں لندن، برمنگھم اور ووکنگ کے دورہ میں ان کے ہمراہ تھا۔ اس وقت ان کی شخصیت اہل برطانیہ کے ہاں زیادہ معروف نہ تھی اس لیے ایک محدود تعداد ہی ان سے استفادہ کر پائی۔

ایک اجتماع میں ایک صاحب نے ان سے سوال کیا کہ یہاں دیار مغرب میں حلال وحرام کے حوالے سے ہمیں عجیب مسائل درپیش ہیں، تو ہمارا طرز عمل کیا ہونا چاہیے؟

شیخ نے کہا کہ میں تمہیں ملک شام کی ضرب المثل سناتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو شخص ڈراؤنے خواب نہ دیکھنا چاہے تو پھر قبرستان میں جا کر نہ سوئے۔ ہمارے مدنی دوست حافظ نثار الدین احمد نے انہیں کھانے پر مدعو کیا۔

میز پر کھانے کے ساتھ چھری کاٹنے کے لوازمات موجود تھے، جنہیں شیخ نے اپنے دست شفقت سے نوازا۔ دعوت میں ایک کٹّر مذہبی رجحانات رکھنے والے ہندوستان کے ایک اہلحدیث علمی خانوادے کے ہونہار نوجوان بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا: کیا یہ سنت کی خلاف روزی نہیں ہے؟ آپ بجائے ہاتھ کے ان چھری کانٹوں سے کیوں شغل فرما رہے ہیں؟ تو شیخ نے مسکرا کر انہیں اس گھڑی کی طرف توجہ دلائی جو انہوں نے اپنی کلائی میں سجا رکھی تہی، کہا: کیا یہ سنت ہے جو تم نے اپنا رکھی ہے؟

شیخ فن مناظرہ میں طاق تھے، اپنے مخاطب کو بہت نرمی اور متانت کے ساتھ سؤال درسؤال کر کے بالآخر قائل کر دیا کرتے تھے۔

میں نے نیروبی کے قیام کے دوران داڑھی کے وہ چند بال منڈوانے شروع کر دیے تھے جودونوں رخساروں پر اُگ آتے ہیں۔ عرف عام میں اسے خط بنانا کہاجاتا ہے۔ شیخ نے کہا کہ یہ بال بھی داڑھی کا حصہ ہیں اور ان کا منڈوانا درست نہیں ہے۔ الحمد للہ اس وقت سے داڑھی کی وہی ہیئت برقرار رکھی ہے جس کی ہدایت شیخ نے کی تھی۔

یہ بات واضح رہے کہ شیخ کے نزدیک مٹھی سے زائد بال کٹانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ جس کی بنیاد سیدنا عبد اللہ بن عمر کا عمل ہے اور اسی تعلق سے میں داڑھی کے وقتاً فوقتاً داڑھی کو سنوارنے کی جسارت کرتا رہتا ہوں۔

میرے ساتھ وہ برٹش میوزیم میں بھی گئے جہاں علوم شرقیہ کا شعبہ مخطوطات ان کی دلچسپی کا خصوصی مرکز رہا اور یہاں انہوں نے مخطوطات کی جان پڑتال میں اچھا وقت گزارا۔

دار الرعایہ لندن کے عرب حضرات نے ان کے خطاب کا اہتمام کیا۔

ہم ووکنگ بھی گئے جہاں شاہجاں مسجد کی زیارت مقصود تھی۔ یہ برطانیہ کی قدیم ترین مسجد جو 1889ء میں والیہ بھوپال شاہجاں بیگم کے عطیہ سے تعمیر کی گئی تھی۔

جس کا وجود ایک مستشرق ڈاکٹر گوٹلب ول ہَلَم لائٹنر کی جدوجہد کا مرہون منت ہے۔ ان کا تعلق ہنگری سے تھا، کئی زبانوں کے ماہر تھے، برطانوی ہند چلے آئے۔ لاہور میں اچھا وقت گزارا، اورنٹیل کالج اور گورنمنٹ کالج سے تعلق رہا اور وہاں 20 سال کے قیام کے بعد واپس یورپ آمد ہوئی۔ دوبارہ انگلینڈ کا رخ کیا، ووکنگ میں ایک قطعہ زمین خرید کر ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی جس میں ہندوستانی مذاہب کے معابد کی تعمیر کرنا چاہتے تھے، والیہ بھوپال ملکہ شاہجہاں بیگم کی لندن آمد نے ان کے لیے یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ان سے مسجد کی تعمیر کے لیے عطیہ کی فرمائش کریں اور پھر اس خطیر رقم سے ایک مسجد کی تعمیر کر پائیں۔

شیخ کی امامت میں ایک نماز یہاں ادا ہوئی۔ غالباً متصل لائبریری کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ شیخ کی معیت میں گزارے ہوئے یہ چند روز میری یادوں کو معطر کرتے رہیں گے۔

7۔ شیکاگو کا تدریسی سفر

یہ 1977ء کے موسم گرما کی بات ہے جب دار الافتاء (الر یاض) کی جانب سے مجھے شیکاگو (امریکہ) میں منعقد ہونے والے ایک چالیس روزہ تدریسی دورے میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ یہ دورہ جامعۃ الامام محمد بن سعود کے اشتراک کے ساتھ کیا جا رہا تھا جس میں امریکہ کے پچاس سیہ فام ائمہ مساجد کو تعلیم کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

Naperville شکاگو کا ایک مضافاتی علاقہ تھا جہاں ایک کالج کی عمارت میں درس وتدریس کی محفلیں سجائی گئی تھیں۔

دورۃ کے منتظم جو جامعۃ الامام کے ایک استاد تھے، میرے بارے میں متردّد تھے کہ مجھے کون سے اسباق دیے جائیں کیونکہ اس وقت میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا حامل نہ تھا لیکن دار الافتاء کی طرف سے میرا انتخاب ان کی خواہش کے آڑے آ گیا۔ مجھے منتخب احادیث کی تدریس سونپی گئی۔

کہنے کو ہمارے طلبہ سب کے سب ائمہ مساجد تھے لیکن عربی زبان سے معمولی شُدبُد رکھتے تھے اور ان کا کل سرمایہ دین کا واجبی علم تھا۔ اس لیے میرا انتخاب کردہ حدیث کا کورس اور پھر بزبان انگریزی اس کی تشریح طلبہ کی بے حد دلچسپی کا مرکز رہی اور وہی حضرات جو آغاز میں میرے بارے میں تردّد رکھتے تھے، اختتام کورس کے وقت میرے بارے میں خوش آئند جذبات رکھنے اور تعریفی کلمات کہنے پر شاداں وفرحاں دکھائی دیے۔

ان ائمہ میں مالکم ایکس کے برادر بزرگوار اور امام سراج وہّاج اور دیگر کئی امام شامل تھے جنہوں نے بعد کے مراحل زندگی میں کافی نیک نامی کمائی۔

یہ ماہِ جولائی تھا کہ ماہ رمضان کا آغاز ہو گیا اور ہماری سحری وافطار کے لیے کالج کے کیفے ٹیریا میں خصوصی انتظام کیا گیا۔ کھانا تیار کرنے اور ہم مہمانوں کے سامنے پیش کرنے پر چند مرد اور خواتین مامور تھے۔ ایک تو موسم گرما اور دوسرے مغربی تہذیب کے سب سے بڑے ترجمان یعنی امریکہ کے باسیوں کی میزبانی کرنا ہمارے مقدر میں لکھا ہوا تھا۔ امریکی مرد وخواتین کے لیے موسم گرما میں مختصر لباس پہنے رہنا معمولات حیات میں سے ہے گویا ذوق نظر کے امتحان اور غض بصر کا پورا پورا سامان موجود تھا، یہ وہ دن تھے جب امریکہ کی برطانوی حکمرانی سے آزادی پر 2 سو 2 سال بیت چکے تھے، خیال رہے کہ امریکہ نے 4 جولائی 1776ء میں آزادی کا اعلان کیا تھا اور پچھلے دو سالوں سے اب تک آزادی کا دو صد صالہ جشن منایا جا رہا تھا، اس لیے میدان اور پارک ان کی اچھل کود کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

ہمارے تدریسی عملہ میں مصر کے استاد علی احمد جریشہ بھی شامل تھے، انہوں نے پہلے دن افطاری میں شرکت کی اور پھر کیفے ٹیریا کی میزبان خواتین کی ہیئت کذائی دیکھ کر آئندہ وہاں آنے پر سات سلام بھیجے، ہم لوگ ان کے لیے کچھ افطاری لے آتے لیکن انہوں نے پلٹ کر وہاں قدم نہ رکھا۔ میں ان کی راست گوئی اور ثابت قدمی کو سلام پیش کرتا ہوں۔

شیکاگو کے قیام کے دوران ایک دن میں یہاں سب سے اونچی عمارت Sears Tower دیکھنے کا موقع بھی ملا اور ہمارے لیے یہ فخر کی بات تھی کہ اس کا ڈیزائن بنانے والے ایک مسلمان ماہر تعمیر تھے جن کا تعلق سابق مشرقی پاکستان سے تھا۔ یہ عمارت 110 منزلوں سے عبارت تھی، میں لندن کے اس حادثے کا ذکر کر چکا ہوں جبکہ میرے ٹخنے میں چوٹ آنے کی بنا پر شدید درد سے دوچار ہوا تھا۔ شیکاگو کی چہل خرامی کے دوران ایک پھسلن کی بنا پر یہ تکلیف دوبارہ عود کر آئی اور پھر ہسپتال کی حاضری، دائیں ٹانگ پر پلاسٹر کی لیپالوتی اور ہاتھ میں ایک بیساکھی کے تحفے کی خبر لائی۔ یہ اس دورے کے آخری ایام کی یادگار تھی۔

کورس کے اختتامی اجلاس میں طلبہ نے اپنی خوشگوار یادوں کا بھی تذکرہ کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا:

’’ہم لوگ تو اتنے شرارتی ٹھہرے کہ ہمارے ایک استاد کو بیساکھی کی ضرورت پیش آ گئی۔‘‘

اور پھر کوئی چالیس برس بعد لندن کی ایک کانفرنس کہ جس کی بانی مبانی جدہ کی زمان فیملی تھی، میں سراج وھّاج کو اسٹیج پر دیکھا۔ میں بھی اس کانفرنس میں مدعو تھا۔ سراج وھّاج نے اپنے استاد کو یاد رکھا۔ چنانچہ اپنے خطاب کے دوران عزت واحترام سے مجھے یاد کیا اور میرے درس حدیث کی یادوں کو سراہا، خوش قسمت ہیں وہ طلبہ جو اپنے اساتذہ کو یاد رکھتے ہیں۔ میں تو کہوں گا کہ ہر وہ شخص جس سے آپ نے ایک کلمہ خیر بھی سیکھا ہو وہ آپ کا استاد ہے اور اس کا احترام آپ پر واجب ہے۔

شیکاگو ہی کے ایک بک اسٹور سے مالک ایکس کی سوانح عمری ہاتھ آئی جسے ایک مشہور امریکی مصنف ایلکس ھیلی نے تحریر کیا ہے اور جو سیہ فام امریکی مسلمانوں کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں