گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 17)۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مسلم ایڈ: حکایت وصل وفصل

یہ 30 نومبر 1985ء کی ایک سرد دو پہر تھی، جب پکاڈلی روڈ اور دی مال کے مابین سنٹرل لندن کے ایک ہال میں متعد و تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اکیس(21) افراد اور اس تنظیم نوکے مقاصد سے ہمدردی رکھنے والے بہت سے دوسرے افراد جمع ہوئے کہ جن کے سرخیل برادرم یوسف اسلام تھے اور انہوں نے مسلم ایڈ کی بنیاد ڈالی۔

معاشرے کے بیکس، نادار اور مصیبت زدہ لوگوں کی دیکھ بھال دین اسلام کی گٹھی میں پڑا ہوا ہے اور اس لیے ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم کا لندن میں سر اُٹھانا کوئی عجوبہ نہ تھا۔

ان سطور میں ، میں پہلے ان 21 مؤسسین مسلم ایڈ کا مختصر تعارف کراتا چلوں، جنہوں اس کار خیر کے السابقون الاولون کا درجہ پایا تھا ۔ اس موقع پر جو تأسیسی بیان جاری کیا گیا، اس میں جس ترتیب کے ساتھ ان افراد کے نام معہ پتہ جات آئے ہیں ، میں اسی ترتیب سے ان کا تعارف اور ان کے ساتھ اپنی چند یادوں کا تذکرہ کرتا چلا جاتا ہوں۔

یہ حکایت وصل وفصل اکتیس(31) سال کے عرصہ پر محیط ہے یعنی 2016 کی آخری سہ ماہی تک جب کہ ایک تنظیمی بحران کے نتیجے میں چیرٹی کمیشن (CC) کی ہدایت کے بمو جب اس وقت موجود تمام ٹرسٹیز استغفی دینے کے پابند بنائے گئے تھے، جبکہ CC اپنی مرضی کی عمارت بنانے کی خواہاں تھی ۔

اب تعارف ملاحظہ ہو

1۔ڈاکٹر عبدالمجید قطمہ- لبنان سے تعلق ہے، ماہر نفسیات ( سائیکالوجی) کے سند یافتہ معالج ہیں۔ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے روح رواں رہے ہیں، داعیانہ جذبات سے سرشار ہونے کی بنا پر طبی حوالے سے اسلام کی تعلیمات پر تعلیمی اداروں، اسلامی مراکز ، ریڈیو اور ٹی وی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ان کے برادر نسبتی عمر بکری حزب التحریر اور پھر المہاجرون کے تعلق سے ایک معروف شخصیت رہے ہیں لیکن ڈاکٹر عبدالمجید ان سے اشتراک فکر نہیں رکھتے تھے ۔

2۔ چوهدری معین الدین ۔ بنگلادیش (سابق مشرقی پاکستان ) کی جمعیت طلبہ کے ساتھ گہرا تعلق رکھنے کی بنا پر 1971ء کی پاک و ہند جنگ اور پھر بنگلا دیش کے قیام کے دوران مشرقی پاکستان کی بقا کی جد و جہد کا حصہ بننے کی بنا پر معتوب ہوئے اور پھر برطانیہ میں پناہ لی اور یہاں کی دعوتی زندگی میں بھر پور حصہ لیا ۔ ٹوٹنہام (شمالی لندن) میں ایک مسجد کی بنیاد بھی ڈالی ۔

3۔ڈاکٹر ہانی البناء: مصر سے تعلق ہے ۔ الاخوان کے ان فعال کارکنوں میں سے ہیں، جنہوں نے مسلم ایڈ سے قبل برمنگھم میں ’اسلامک ریلیف‘کے نام سے ایک رفاہی تنظیم کا آغاز کر دیا تھا ۔ انتہائی متحرک اور قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔ اپنی تنظیم کو بین الاقوامی سطح پر چار چاند لگوادیے ۔ مسلم ایڈ کی بالمقابل تنظیم کی حیثیت سے دونوں تنظیموں میں تعاون بھی رہا لیکن مسابقت کا جذبہ بھی قائم رہے ۔

4۔بشير الأصبعی- لیبیا سے تعلق ہے ۔ نہ جانے کس مرحلہ پر مسلم ایڈ سے لا تعلق ہوئے کہ ان سے زیادہ تعارف حاصل نہ ہو سکا ۔

5۔ رشید احمد صدیقی ۔ ہمارا باہمی تعارف پاکستان میں ہو چکا تھا ۔ لائل پور (حال فصیل آباد) کےصابرہ سراجیہ اسکول میں وہ ڈپٹی ہیڈ ماسٹر تھے جہاں میرے برادر خورد خبیب حسن نے درجہ ثانوی تک تعلیم حاصل کی تھی۔ جماعت اسلامی کے فعال کارکن تھے۔

والد محترم 1957ء میں جماعت سے علیحدگی اختیار کر کے لائل پور منتقل ہو چکے تھے لیکن صدیقی صاحب سے صاحب سلامت رہی ۔ میں جب 1976 ء میں لندن وارد ہوا تو ان ہی کی رہنمائی میں وُڈگرین (شمالی لندن) سے اپنی رہائش کا آغاز کیا کہ وہ خود اس علاقے میں پہلے سے آباد تھے ۔

جناب سلیم کیانی کے بعد وہ یوکے اسلامک مشن کے صدر منتخب ہوے اور میں نے ان کی خواہش پر مشن کے ساتھ یوں تعارف کا ہا تھ بڑھایا کہ میں مشن کے صدر دفترلِورپول روڈ لندن میں آمدہ فقہی سوالات پر مشتمل رسائل کا جواب بھی دیا کرتا اور اگر کہیں سے دعوت خطاب آتی تو اس پر لبیک کہتا۔

مسلم ایڈ میں شمولیت کی بنا پر اس تعلق میں مزید گہرائی آئی، دونوں گھرانوں میں ہمیشہ دوستانہ تعلقات قائم رہے ۔ اللہ ان کی مغفرت کرے ، میں گرین فورڈ کے قبرستان میں ان کی اور پھر پچھلے سال ان کے جواں مرگ صاحبزادے شاہد کی تدفین میں حاضر رہا تھا ۔ 6۔ ڈاکٹر علی غامدی ۔مملکت سعودیہ کی طرف سے اسلامک کلچرل سنٹر، ریجنٹ پارک لندن کے کئی سال تک ڈاٹریکٹر رہے ، ان سے قبل یہ ذمہ داری مصر کے ڈاکٹر ز کی بداوی کو حاصل تھی ،ڈاکٹر غامدی ایک بہترین منتظم، صلح جُو اور خیر خواہ خلق کی حیثییت سے جانے پہچانے جاتے تھے ۔ 1997 ء میں جب ہماری مسجد (مسجد توحید) کی تکمیل ہوئی اور میرے علم میں آیا کہ مرکز کا منبر اور محراب، مسجد کی قبلہ والی دیوار میں ایک محراب اور اس کے پہلو میں ایک جھروکے کی شکل میں موجود منبر کی تعمیر کے بعد اب اپنی جگہ سے ہٹا دیا گیا ہے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ وہ یہ منبر اور محراب ہماری نئی مسجد کی نذر کر دیں کہ وہ اس کے شایان شان رہے گا۔ ڈاکٹر غامدی نے میری تجویز پر صاد کیا اور یوں یہ عالیشان کاریگری اور صناعی کا خوبصورت شاہکار مسجد توحید کی زینت بن گیا۔

7۔ شیخ جمال مناع : الازہر کے فارغ اور اسلامک کلچرل سنٹر کی امامت کا اعزاز رکھتے تھے۔ محراب و منبر کے تعلق سے ان سے ہمیشہ برادرانہ روابط رہے۔ غالباً مسلم ایڈ سے زیادہ دیر وابستہ نہیں رہے ۔ مرکز سے ریٹائر منٹ کے بعد بھی سعودی سفارت خانے میں ہرجمعہ خطبہ دیا کرتے تھے ۔

8۔ آٹھویں نمبر پر کا تب سطور کا نام دیا گیا ہے ، میرا پتہ وہی شمالی لندن کا ہے کہ میں وہاں 1997 ء تک مقیم رہا اور پھر مسجد توحید کی تکمیل عمارت کے ساتھ ساتھ لٹین ( مشرقی لندن نمبر 10) منتقل ہو گیا۔

9۔ یوسف اسلام : اسلام لانے سے قبل CAT STEVEN کے نام سے عالم سازو آواز میں اپنی دھاک بٹھا چکے تھے۔ مسلمان ہوئے تو موسیقی اور آلات موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔

بچوں کی تعلیم کے لئے پہلے ایک پرا ئمری اور پھر ثانوی اسکول کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لئے KIL BURN ، مغربی لندن میں ایک قدیم اسکول کی عمارت خرید کر پائے ۔ مسلم ایڈ کی خشت اول انہوں نے ہی رکھی اور مسلم ایڈ کا اولین آفس بھی ISLINGTON کی اس وسیع عمارت کی دوسری منزل میں قائم ہوا جہاں وہ اپنی بزنس کے تعلق سے دفاتر قائم کئے ہوئے تھے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم ایڈ کا تعارف انہی کے نام کا مرہون منت ہے، کچھ عرصہ انہوں نے مجھے اور برادر غلام سرور کو بھی اپنے اسکول کے ٹرسٹیوں میں جگہ دی اور پھر انہی کی درخواست پر ہم نے یہ امانت انہیں لوٹا دی ، مسلم ایڈ کی گورننس کے سلسلہ میں وہ ’امارت‘ کا اسلامی تصور اپنانا چاہتے تھے جو کہ CC کے منظور کرد`ہ دستور سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، اس لیے انہیں اپنی بات کو منوانے میں مزاحمت کا سابقہ کرنا پڑا اور یوں وہ جلد ہی مسلم ایڈ سے مستعفی ہو گئے اور پھر ان کی جگہ سید متولی الدرش نے لی کہ جن کا ذکر بعد میں آرہا ہے۔

یوسف اسلام ابھی تک اپنے تعلیمی ادارے کو بخوبی چلا رہے ہیں ، گو وہ لندن میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ غالباً دُبّی (امارات) میں اپنے دفاتر منتقل کر چکے ہیں اور مرور زمانہ کے ساتھ ساز و آواز کا شغل اسلامی ترانوں اور گیتوں کی حد تک دوبارہ اختیار کر چکے ہیں ۔

10۔ ڈاکٹر مناظر احسن : لیسٹر میں اسلامک فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر خورشید احمد کے دست راست کی حیثیت سے معروف رہے، مشرقی پاکستان سے تعلق تھا ، پروفیسر صاحب کے ہم زلف بھی تھے ، فاؤنڈیشن کی تحریری، دعوتی اور پھر تنظیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ مسلم ایڈ کی طویل تاریخ میں وہ صدر اور نائب صدر کی ذمہ داریوں کو بھی نبھاتے رہے ۔ رابطہ عالم اسلامی کی مکہ مکرمہ میں منعقد کا نفرنسوں میں ان کے ساتھ کئی مرتبہ شر کت کی۔

11۔ شیخ سید متولی الدرش: اسلامک کلچرل سنٹر کے سب سے پرانے ازہری امام جو مرکز کے ڈائریکٹر ز کی بدوی سے اختلافات کے بعد سعودی عرب کے دار الافتاء سے وابستہ ہو گئے تھے۔ جب اسلامی شریعہ کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تو وہ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے ، میرا ان سے قریبی تعلق رہا۔ بارہا ان کے ساتھ ’ التوعیۃ الاسلامیہ فی الحج‘ کی سرگرمیوں میں شرکت کے لئے مکہ مکرمہ آنا جانا رہا۔ بلکہ ہم دونوں شیخ ابن باز کی دعوت پر تین ماہ ریاض میں بھی ساتھ رہے، جہاں ہم عبد الله یوسف علی کے ترجمہ اور حواشی بر قرآن کی مراجعت کے لئے بلائے گئے تھے۔

جیساکہ پہلے ذکر ہوا وہ یوسف اسلام کے بعد مسلم ایڈ کے صدر چنے گئے تھے لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ مسلم ایڈ پر ایک مخصوص تحریکی فکر کے حامی لوگوں کا اثر غالب ہے اس لئے وہ مستعفی ہو کر یکسو ہو گئے ۔

12۔ محمد عبد السلام : مشرقی پاکستان کی جماعت اسلامی سے تعلق تھا ، جب لندن میں سابق مشرقی پاکستانیوں کی طرف سے ’دعوت اسلام‘ کا قیام عمل میں لایا گیا تو وہ اس کے روح رواں رہے اور مسجد شرق لندن سے بھی وابستگی رہی ۔

13۔ ڈاکٹر محمود الخانی : غالباً شام (سوریا) سے تعلق تھا۔ لندن کے دار الرعایة الاسلامیہ (مسلم ویلفیئر سنٹر) کے ڈائریکٹر تھے ، انتہائی خوش خلق اور اپنے کام میں مخلص۔ یہ مرکز میری پہلی رہا ئش گاہ سے قریب تھا۔ اس لیے اکثر ان سے ملاقات کا موقع حاصل رہتا ۔ ایک مرحلے پر لندن چھوڑ کر ریاض منتقل ہو گئے تھے۔

13۔ سید محمد تنظيم واسطی : جمعیت طلبہ پاکستان سے تعلق رکھنے کی بنابر یو کے اسلامک مشن کی سرپرستی انہیں حاصل رہی۔ عرصہ دراز تک وہی اس کے سیکرٹری جنرل کا فرضی منصبی ادا کرتے رہے۔ افغان جہاد کے دوران ’ افغان ایجنسی‘ کے توسط سے جہادی سرگرمیوں کی اطلاعات کو مغربی پریس میں اجاگر کرتے رہے ۔ بوسنیا کی جنگ کے دوران کرو ایشیاء کے دارالسلطنت ’زاگریب‘ کی ایک کا نفرنس میں ہم دونوں نے اکٹھے شرکت کی ۔ پچھلے ماہ (مئی 2023ء) میں وہ بھی دارالخلد کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔

15۔ پروفیسر غلام سرور : برادر معین الدین کی طرح ان کا تعلق بھی جمعیت طلبہ مشرقی پاکستان سے رہا تھا۔ لندن میں انہیں بحیثیت ڈائریکٹر مسلم ایجو کیشن ٹرسٹ دیکھا ۔ وہ مقامی پرائمری اور اسکینڈری اسکولوں میں جہاں کہیں اسلامی نصاب درس کی اجازت ہوتی، اساتذہ کو مامور کیا کرتے تھے اور اس کار خیر کو بہتر بنانے کے لئے انہوں نے اسلام کی بنیادی تعلیمات پر مشتمل ایک گلدستہ تعلیمات اسلام بھی ترتیب دے دیا تھا جسے قبول عام حاصل ہوا اور انگریزی میں اسی کے متعدد ایڈ یشن شائع ہوئے۔

مسلم ایڈ کےنظیمی امور کو سنبھالنے اور انہیں قاعدے قانون کے دائرہ میں رکھنے کا فن خوب جانتے تھے اور بحیثیت خازن انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دیا۔

16۔ حاشر فاروقی : کراچی سے تعلق تھا ۔ جماعت کے دماغ کا درجہ رکھتے تھے ۔ لندن اعلیٰ تعلیم کے لئے آئے لیکن پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ستر کی دھائی میں 15 روزہ IMPACT جاری کیا ، جو اپنے سیاسی تجزیوں ، مقامی مسلم آبادی کے مسائل کی ترجمانی، بین الاقوامی سطح پر اسلام کی نمائندگی، عالم اسلام کے مسائل کی نشاندہی اور قائدین اور مفکرین اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے حوالے سے مختصر عرصے میں اپنا لوہا منوا گیا۔ میں نے اپنے نیروبی کے قیام کے دوران ہی اپنے دوست عبد الرحمن بزمی کے ہاں وہ پرچے دیکھے تھے جو آغاز ہی سے ان کی دلچسپی کا باعث بنے تھے ۔

میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا کہ انہوں نے مسلم ایڈ کی ترقی و ترویج کے لئے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو وقف کر دیا تھا۔ سالہا سال مسلم ویلفیئر ہاؤس کے بالائی وسیع ہال میں ان کا دفتر قائم رہا جہاں وہ اور ان کے اسسٹنٹ محمد سلیم گھنٹوں اپنے کام میں مصروف نظر آتے ۔ وہاں کئی ایسے اجتماعات میں شرکت کی کہ کتابوں اور رسالوں کے جھرمٹ میں بمشکل جگہ بنا کر شرکاء مجلس شریک ہوتے رہے ۔ اب وہ بھی اللہ کے حضور جاچکے ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔

17۔ عارف زبادنہ : شام سے تعلق ہے، شعبہ تعمیرات کے حوالے سے میدان تجارت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اپنی مخیرانہ حیثیت کی بنا پر مسلم ایڈ کے ٹرسٹ میں شامل ہوئے اور پھر کچھ قانونی پیچیدگیوں کی بناکر علیحدہ بھی ہو گئے لیکن مسلم ایڈ اور دوسری رفاہی تنظیموں سے اپنا تعاون جاری رکھا۔ مسجد شرق لندن کی نئی عمارت کی تعمیر میں ان کا بڑا حصہ ہے۔

18۔ محبوب کنتھار یہ: لیسٹر کی تاجر برادری سے تعلق ہے۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ در اصل وہ خود اور بشیر الأصبعی دونوں نے مل کر مقامی طور پر مسلم ایڈ کو قائم کیا تھا اور پھرا سے ایک قومی تنظیم کا سرا پا دینے کے لئے یوسف اسلام کے ساتھ مل کر ایک بھر پور نمائندہ تنظیم کی حیثیت سے اٹھایا گیا ہے۔

19۔ برادر سعیدی محمد: مجھے ان سے زیادہ تعارف حاصل نہ ہو سکا۔ یہ غالباً ان برادران میں سے ہیں جو آغاز میں ایک مختصر وقفے تک مسلم ایڈ کے ساتھ شامل ہے۔

20۔ حسن الأهدل: مملکت سعودیہ سے تعلق ہے اور ان کا خاندانی نام ( الاهدل) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ یمن کے خاندان مشائخ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ لندن میں رابطہ عالم اسلامی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے تشریف لائے اور ایک عرصہ تک منصب کو نبھاتے رہے ۔ یہاں اپنا دور نظامت پورا کرنے کے بعد ہیڈ آفس مکہ مکرمہ میں ڈائریکٹر عبد اللہ عبد المحسن التركی (سیکرٹری جنرل رابطہ) کے دست راست کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

21۔ ڈاکٹر محمد عثمان : سوڈان سے تعلق تھا۔ گو میڈیکل فیلڈ سے یارانہ تھا لیکن بحیثیت اخوانی ، دعوتی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے ۔ یہاں سے واپس جانے کے بعد بھی کبھی کبھار ان کی لندن یاترا کے موقع پر ملاقات کا موقع ملتا رہا اور پھر جب مجھے مسلم ایڈ کی جانب سے خرطوم جانے کا موقع ملا تو ایک مجلس میں ان سے بھر نور ملاقات رہی۔

یہ تو مؤسسین کا تعارف ہو گیا ۔ اس تنظیم نے 2 لاکھ پاؤنڈ کے بجٹ سے آغاز سفر کیا تھا۔ اور 20 برس بعد اس کا بجٹ 60 لاکھ کی مد کو چھو رہا تھا جس میں 10، 12 لاکھ نقد رقوم کی شکل میں اور باقی اشیاء ( اور خاص طور پر دواؤں) کی شکل میں موجود رہا۔

میں نے تقسیم زكاة و صدقات کمیٹی ( DC) کے نگران کی حیثیت سے ایک طویل مدت تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا ، جس میں ولایت کھوکھر صاحب کا مخلصانہ تعاون حاصل رہا۔

پھر نائب صدر اور ایک مر تبہ صدارت کی ذمہ داری کو بھی نبھایا ۔ دوران صدارت ڈھاکہ ،بوسنیا، کینیا ، یو گنڈا ، ملاوی ، موزمبیق ، سوڈان اور کمبوڈیا میں مسلم ایڈ کے رفاہی کاموں کی دیکھ بھال کرنے کے لئے وہاں کا دورہ کرنے کا اعزاز حاصل ہے اور پھر نائب صدر کی حیثیت سے ملیشیا ، بندہ آچے (انڈونیشیا ) اور پاکستان میں میانوالی کالا باغ ، مانسہرہ اور وادی کاغان میں اس تنظیم کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ مسلم ایڈ کا بیشتر بجٹ دنیا کے کئی ممالک میں بلا واسطہ یا بین الاقوامی اداروں کے توسط سے غرباء، فقراء، سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریوں کے شکار لوگوں کی حالت سدھارنے پر خرچ ہوتا ہے۔ میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کہ میرے متعدد سفر ناموں میں ان تمام سر گر میوں پر خوب روشنی ڈالی جا چکی ہے۔

یوسف اسلام کے استغفی کے بعد میرے علاوہ ڈاکٹر سید الدرش، اقبال سکرانی، ڈاکٹر عبد الباری ، فاروق مراد اور ڈاکٹر مناظر احسن اس کی صدارت کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے ہیں ۔ مسلم ایڈز کے فنڈز (صدقہ و خیرات) کی تقسیم کی کمیٹی ( DC) میں جناب ڈاکٹر طارق رحبی، ڈاکٹر عبدالمجید اور ڈاکٹر جعفر قریشی میرے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں ۔ مؤسسین کے علاوہ جو نئے حضرات اس قافلے میں شریک ہوتے رہے ان کا مختصر تعارف بھی کراتا چلوں :

1۔احمد وان ڈنفر : جرمن نَو مسلم ہیں۔ مسلم ایڈ کی شاخ واقع جرمنی سے کی دیکھ بھال کرتے رہے ، اجتماعات میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر تشریف لایا کرتے تھے ۔ تعارف اسلام بزبان جرمن کے سلسلہ میں ان کی کاوشیں بشمول ان کی تالیفات ان کا عظیم تعارف ہیں۔

2۔ کاظم الراوی: عراق سے تعلق تھا، وہ اور ان کے برادر احمد الراوی حلقہ اخوان کے سرکرده افراد میں سے تھے ۔ کاظم الراوی نے ویلز کے ایک دور افتادہ مقام پر عربی اور علوم اسلامیہ کا ایک ادارہ قائم کر رکھا تھا اور ایک موقع پر مجھے اس کی زیارت کا موقع بھی ملا تھا۔ ہماری ملاقات مسلم ایڈ کے اجتماعات تک محدودہیں : لف برا ( نزد لیسٹر) میں ان کی وفات

ہوئی، میں ان کے جنازے میں شمولیت کے لئے وہاں پہنچا تھا ۔ ان کے احباب کی خواہش

پر مجھے ان کی نماز جنازہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائیں۔

3۔ اقبال سکرانی: ملاوی ٰ(افریقہ) میں گجرات (ہندوستان) کے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت قیام پذیر ہے۔ اقبال کا تعلق بھی وہیں سے ہے۔ مجھے مسلم ایڈ کی طرف سے مشرقی افریقہ کے سفر دورن ملاوی کے دارالحکومت، بیلنٹائر میں ان کے برادر خورد یونس سکرانی کے گھر ٹھہرنے اور ان کی ضیافت سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا ہے ۔ اقبال نہ صرف ادویہ کی تجارت بلکہ مسلم کمیونٹی کی فلاح و بہود کے کاموں میں ہمہ وقت مصروف رھنے کی بنا پر اچھی شہرت رکھتے ہیں۔ مسلم ایڈ کے لئے انہوں نے اپنی صلاحیتیں وقف کر دیں ۔ صدر بھی رہے اور نائب صدر بھی۔ حکومت کی طرف سے اعلیٰ خطاب پانے کے بعد سر اقبال سکرانی کی حیثیت سے معروف ہیں ۔

4۔ ڈاکٹر طارق رجبی : میرا ان سے پرانا تعارف ہے ۔ برطانیہ آمد کے بعد جنوبی لندن میں سٹریتھم کی ایک مسجد میں درس قرآن دینے کے لئے مجھے مدعو کیا گیا تھا، جہاں ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ برطانیہ کے بالکل جنوب میں ایک ساحلی شہر ہسیٹنگ سے تشریف لائے تھے جو برطانیہ میں 1066ء کے حوالے سے ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے ، اس سال جرمنی کے شاہ ولیم کا ہیسٹنگ کی جنگ کے بعد برطانیہ میں فاتحانہ داخلہ ہواتها۔

ڈاکٹر طارق بنارس` (هندوستان) میں پلے بڑھے ، اس شہر کو میں یوں بھی یادر کھتا ھوں کہ والد محترم نے جامعہ رحمانیہ (دھلی) سے فراغت کے بعد بنارس کے مدرسہ سلفیہ سے اپنی تدریسی کاوشوں کا آغاز کیا تھا ۔ ڈاکٹر صاحب نےبعد ازاں قرآن سے خوب شغف پیدا کیا پھر اپنی سرجری کو دعوت دین کا مرکز بنا دیا ۔ شہر کی واحد مسجد ( مسجد الحق) کے ٹرسٹی کی حیثیت سے دینی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور پھر اپنی کوٹھی کا ایک کمرہ دعوت دین کا سنٹر قرار دے دیا جس میں اسلامی موضوعات پر مغرب میں مقیم متعدد علماء اور مقررین کی تقاریر، بی بی سی اور دوسرے نشریاتی اداروں کی پُر مغز معلومات سے بھر پور پروگراموں کی ریکارڈنگ، سی ڈیز کی شکل میں محفوظ کر دی گئی تھیں، جو وہ مقامی طور پر غیر مسلموں کو اور ملکی سطح پر سینکڑوں کی تعداد میں اپنے احباب کو ارسال کرتے رہے اور جب مسلم ایڈ تنظیم کے ٹرسٹی بنے تو پھر اس تنظیم کو بھی اپنے تجربات سے نوازا ۔

5۔ ڈاکٹر جعفر قریشی: برمنگھم میں مقیم ہیں ۔ اصلاً هندوستان سے ہیں ۔ ڈاکٹر طارق کی طرح دینی رجحان رکھتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ھندوستانی سیاست اور وہاں کے مسلمانوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ امام قاسم احمد کی الخیر فاؤنڈیشن اور ان کے ٹی وی چنیل ’’اقرا‘‘ سے بھی بڑھ چڑھ کر تعاون کرتے ہیں ۔ مسلم ایڈ کے مختلف منصوبوں کی عمل درآمد میں اپنی قیمتی آراء سے نوازتے رہے ۔

6۔ ڈاکٹر عبد الباری : بنگلا دیش کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ تعلیم و تعلم کے میدان میں ان کے تجزیے اور تحریر میں ان کے فکر کی گہرائی کی غماز ہیں ۔ اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کر رہے ہیں ۔

7۔ فاروق مراد: اپنے فاضل مصنف و مقرر، داعی دین والد جنا ب خرم مراد کے لائق وفائق فرزند ہیں ۔ اسلامک فاؤنڈیشن (لیسٹر) اور اس کے ذیلی اعلیٰ تعلیم کے ادارے کے روح رواں ہیں اور اس سے قبل یو کے اسلامک مشن اور مسلم کو نسل برطانیہ ( MCB) کے پلیٹ فارم سے برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کی بھر پور خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔

8۔ ڈاکٹر زاہد پرویز : انہیں پہلے یو کے اسلامک مشن کے صدر کی حیثیت سے اور پھر مسلم ایڈ کی حیثیت سے جانا پہچانا ۔ اپنے صلاحتیوں کو نوجوانوں کی تربیت اور اصلاح کے لیے وقف کئے ہوئے ہیں۔

9۔ یوسف بھائی لوک : پریسٹن کی تاجر برادری کے سرخیل ہیں ۔ رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ پہلے MCB اور پھر مسلم ایڈ کی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا ۔

برطانیہ میں شیخ عبد الرحمن السديس (امام کعبہ ) کی آمد کےموقع پر ان کی ضیافت کا شرف بھی حاصل کیا۔ اس وفد میں شامل تھے کہ جنہیں شیخ سدیس نے ایک موقع پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سرکارتی وزٹ پر مدعو کیا تھا ۔ اس دوران انہیں قریب سے جاننے کا موقع ملا ۔

10۔ عنیزہ ملک : اعلیٰ تعلیم کی حامل خواتین زیادہ تر صحافت، وکالت یا تجارت کو اپنا کیرئر بناتی ہیں لیکن عنیزہ رفاہی کاموں میں اپنی دلچسپی کی بناپر مسلم ایڈ میں شامل ہوئیں اور اپنی قیمتی آراء کے اظہار سے ہمیشہ ایک اچھا تاثر قائم رکھا ۔

11۔ محمد ضمیر: ان کا تعلق بھی یو کے اسلامک مشن سے تھا ۔ میرے ان سے پرانے روابط رہے ہیں۔ مسلم ایڈ سے ان کی وابستگی کا دورانیہ بہت مختصر رہا، لیکن جتنا بھی تھا مفید رہا۔

1985ء میں اکیس تنظیموں کے اتفاق و اتحاد سے قائم کردہ اس بین الاقوامی تنظیم نے کئی ممالک جن میں افغانستان، پاکستان، سوڈان، کینیا، بنگلادیش ، ملیشیا ، آسٹریلیا ، عراق، بوسنیا، انڈونیشیا ، کمبوڈیا ، صومالیہ ، لبنان میں اپنے ذیلی دفاتر کے توسط سے رفاہی کاموں کا ایک جال پھیلا دیا ۔ ستر سے زائد ممالک میں اپنے رفاہی کام کو روشناس کرا کے مسلم ورلڈ کی سب سے بڑی NGO کی حثیت برقرار رکھی۔

مسلم ایڈ کی کامیابی میں اس تنظیم کے ڈائریکٹر (CEO) کا بھی بہت دخل ہے ابراہیم، محمود الحسن، شعيب یوسف، جن میں سید شرف الدین، حمید آزاد جیسے قابل افراد شامل رہے۔ کارکنوں میں ایک نمایاں نام ولایت کھو کھر کا ہے جوان تمام درخواستوں کی تحقیق کیا کرتے تھے جو مقامی طور پر نادار افراد یا ضرورت مند اداروں سے موصول ہوتی تھیں اور جنہیں ایک محدود رقم (زیادہ سے زیادہ پانچ سو پاؤنڈ) ڈی سی (DC) کے صدر کی صوابدید پر دی جاسکتی تھی۔ اور اس حیثیت سے میرا ان کے ساتھ اشتراک عمل کا دائرہ پھیلتا گیا ۔ وہ نہ صرف مسلم ایڈ کے ایک قابل ورکر رہے بلکہ مسلم ایڈ کے لئے چندے کی فراہمی کے لئے مختلف مراکز اور مساجد کے ساتھ دوستانہ روابط کے نتیجے میں ان سے تعاون حاصل کرتے رہتے تھے ، ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت برطانیہ نے انہیں بھی اعزازی خطاب سے نوازا۔

خواتین کارکنوں میں مسز زیب کا سمانی کے کام کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے مسلم ایڈ کے کئی صدور کے ساتھ بحیثیت اسٹنٹ کام کیا۔ تنفیذی کمیٹی ( EC ) کی روئداد کو قلمبند کرنا ، مجوزہ منصوبوں پرگہری نظر رکھنا، مسلم ایڈ کی سرگرمیوں کو قاعدہ وقانون کی نگرانی میں لانا اور پھر ان تمام امور کے لئے مقررہ آفس اوقات سے کہیں زیادہ وقت دینا، ان کے لئے ہدیہ تبریک چاہتا ہے ۔

یہ وہ عالمی تنظیم تھی جو اتحاد و اتفاق کی برکت سے وجود میں آئی اور پھر اکتیس(31) سال بعد، جیسا کہ آغاز میں ذکر کیا گیا، کچھ اپنی داخلی کمزوریوں ، بیرون ملک چند برانچوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور تنظیمی تساہل کی بناپر حکومت کے نگران ادارے (CC)کی مہربانیوں کا شکار ہو کر 2016ء کے اواخر میں اپنے تمام موجود ٹرسٹیوں سے محروم کر دی گئی اور پھر اسی ادارے کے توسط سے چند نئے چہروں کے ساتھ دوبارہ جلوہ گر ہو چکی ہے لیکن ہم سب پرانے ٹرسٹیز کے لئے مسلم ایڈ ایک قصہ پارینہ بن چکی ہے ۔ اب ہم صرف یہ دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹوٹی پھوٹی کاوشوں کو قبولیت سے نوازیں، اس کار خیر کو جاری و ساری رکھیں اور اس کے موجودہ ٹرسٹیز کو توفیق دیں کہ وہ اس کا قبلہ سیدھا رکھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں سر خرو ہوں ۔

٭٭٭

ہر حال میں صبر و رضا کا دامن تھامے رکھو

بعض سلف نے کہا:

’’اللہ تعالیٰ جو بھی معاملہ آپ سے فرما رہا ہے اس پہ ہر پل راضی رہیں؛ کیونکہ اگر اس نے تمہیں کسی چیز سے روکا ہے تو کچھ دینے کے لئے، اور اگر بیمار کیا ہے تو شفایاب کرنے کے لئے، مبتلا کیا ہے تو عافیت دینے کے لئے، اگر فوت کریگا تو (ایک نئی) زندگی دینے کے لئے۔

خبردار! ایک لمحے کے لئے بھی صبر و رضا کا دامن چھوڑا تو، ورنہ اپنے خالق کی نظر سے گر جاؤ گے۔

(مدارج السالكين : 2/216)

٭٭٭

علامہ ابن القیم ﷫ فرماتے ہیں:

’’غیر اللہ سے جُڑا ہوا شخص، اس آدمی کی مانند ہے جو سردی یاگرمی سے بچنے کیلئے مکڑی کےجالے سے بنے گھرکا سہارا لیتاہے۔‘‘

مدارج السالکین: 1/458)

٭٭٭

تبصرہ کریں