گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

یہ ستمبر 1977ء کی بات ہے جب مجھے دار الافتاء (ریاض) کی جانب سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ میں سعودیہ کے ایک مقتدر شیخ جناب عبد العزیز المسند کے ساتھ جنوبی امریکہ کے ایک سفر میں ان کا ہمرکاب رہوں۔ مقصد تھا کہ برازیل میں چند دن قیام ہو سکے تاکہ وہاں کے دینی و دعوتی حالات اور اسلامی مراکز کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے اور وہاں پہنچنے سے قبل پورٹ آف سپین (ٹرینیڈاڈ) میں رابطہ عالم اسلامی کی ایک کانفرنس میں بھی شرکت کی جا سکے۔

وقت اتنا کم تھا کہ میں صرف ٹرینیڈاڈ کا ویزا لے سکا۔ برازیل کے لیے سوچا کہ ٹرینیڈاڈ سے حاصل کر سکوں گا۔

سفر سے قبل ایک خواب میں دیکھتا ہوں کہ فضا میں ایک رسّی کو تھامے ہوئے پروزا کر رہا ہوں اور پھر کیا دیکھتا ہوں کہ یہ رسّی نیچے کی طرف سرکتی چلی جا رہی ہے یہاں تک کہ میں نے اپنے قدموں سے زمین کو چھو لیا۔

دل سے آواز آئی: یا الٰہی اس خواب کی تعبیر اچھی کیجیو!

اور اس دعا کے ساتھ 24 ستمبر 1977ء کو شیخ عبد العزیز المسند کے ساتھ ہم پان امریکن کی ایک پرواز میں براہ نیو یارک عازم سفر ہوئے۔

ساتھ گھنٹے کی اُڑان کے بعد ہم نیویارک میں تھے، وہاں ایک مختصر وقفے کے بعد دوسری مرتبہ پان امریکن کی ایک دوسری پرواز پکڑی اور پھر ساڑھے چار گھنٹے بعد ہم پورٹ آف اسپین کے ائرپورٹ پر اتر چکے تھے۔ سفر چونکہ مشرق سے مغرب کی طرف تھا، اس لیے سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے ہم اپنے مستقر پر پہنچ چکے تھے۔

ہلٹن ہوٹل کے صدر دروازے تک پہنچنے کے لیے ٹیکسی ڈرائیور ہمیں ایک پہاڑی کی چوٹی تک لے گیا۔ یہ ہوٹل ’أپ سأٹڈ ڈاؤن‘ سے عبارت تھا اور وہ اس طرح کہ ہم استقبالیہ سے لفٹ میں سوار ہو کر نیچے کی منزلوں میں اپنی مطلوبہ منزل کو تلاش کر رہے تھے۔

کانفرنس کا آغاز صبح سے ہو چکا تھا۔ ہم آخری اجلاس میں حاضر ہو سکے۔ شیخ علی الحرکان (سیکرٹری جنرل رابطہ) اور شیخ محمد ناصر العبودی (نائب سیکرٹری جنرل) سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

اگلے دن اتوار 25 ستمبر سے کانفرنس کی کارروائی میں بھرپور حصہ لیا۔ میرا نام مسجد اور فقہ کمیٹی میں تھا جس کے صدر وینزولّا کے اسلامی مرکز کے امام عبد العزیز العنانی الازہری تھے اور مقرر (سیکرٹڑی) بھی وہیں کے ایک اور امام تھے۔ میں ان کے اور دوسرے ممبران کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دیتا رہا۔

چند دوسرے معزز اراکین سے شناسائی ہوئی۔ ان میں ساؤ پاؤ (برازیل) میں رابطہ کے مبعوث گل محمد شاہ، جمیکا کے لندن نعیم خان، برازیل میں سعودیہ کے کلچرل اتاشی محمد ابو السمح، مجلۃ الدعوۃ (الریاض) کے عبد الرحمٰن الرویشد، جامعہ مدینہ کے پرانے شامی دوست احمد المحایری (برازیل سے)، پورٹ آف اسپین کے ایک قدیم باسی زبرنجش اور کئی دوسرے حضرات شامل تھے۔

کانفرنس کی انتظامیہ کے سید فاروق علی مولود منانے کے بارے میں بڑے پُرجوش نظر آئے۔ گویا تعارف کا آغاز ہی ایک بھڑکیلے انداز میں ہو گیا۔

سوموار 26 ستمبر کو میں ابو السمح کی معیت میں برازیل کے سفارت خانہ پہنچا اور ویزے کے لیے درخواست دی۔ کہا کہ دوپہر کو جواب دیں گے اور پھر جب ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے معذرت چاہی۔ کہا کہ ہم یہاں سے تو ویزا نہیں دے سکتے البتہ وزارت خارجہ کے توسط سے برازیل تمہاری درخواست ارسال کیے دیتے ہیں اور جواب آنے تک تمہیں انتظار کرنا ہو گا۔

کانفرنس کے آخری اجلاس میں جنوبی امریکہ کے لیے ایک سیکرٹریٹ کے قیام کے بارے میں بحث ومباحثہ کیا گیا جن میں ہمارے پاکستانی نژاد ایک مبعوث شفیق الرحمٰن، احمد محایری اور ابو الفارس شامل تھے۔ برٹش گیانا۔ ڈچ گیانا (یا سور نیام) اور ارجنٹائن کی نمائندگی پر بحث میں گرما گرمی رہی لیکن بالآخر کچھ کو نیابت کے نام سے اور کچھ کو اسسٹنٹ کی حیثیت سے نمائندگی دے کر کاروائی اختتام پذیر ہوئی۔

منگل 27 ستمبر کو شیخ عبد العزیز المسند اور شیخ محمد ناصر العبودی وَرجن آئی لینڈ (مجموعہ جزائر ویسٹ انڈیز) پرواز کر گئےاور میں ویزے کے انتظار میں پورٹ آف اسپین کا چند اور دنوں کے لیے اسیر ہو کر رہ گیا۔

رابطہ کی آخری مصروفیات میں ایک پریس کانفرنس شامل تھی جس میں مجاہد صواف اور رابطہ کے سید صفوت پیش پیش رہے۔

اگلے دن (بدھ، 28 ستمبر) کو برازیل کے ممکنہ سفیر کی تفصیلات طے کرتا رہا۔ معلوم ہوا کہ ’ریوڈی جنرو‘ (برازیل) تک پہنچنے کے لیے ’کراکس‘ (وینزویلا) سے گزرنا لازم ہے لیکن وہاں ایئرپورٹ پر 2 گھنٹے سے زائد قیام ہو تو بھی ویزا کا حصول ناگزیر ہے، چنانچہ وہاں کی سفارت سے بھی رجوع کیا لیکن ان کا جواب بھی برازیل سے مختلف نہ تھا، البتہ واپسی کے سفر میں امریکہ کے مختصر قیام کے لیے پاکستانی پاسپورٹ پر ویزا حاصل کرنے میں قطعاً کوئی دشواری پیش نہ آئی۔

پورٹ آف اسپین میں میرا قیام مزید 10 دن کی طوالت اختیار کر گیا اور اس امید میں کہ شاید برازیل سے کوئی مثبت اطلاع موصول ہو جائے۔

ان 10 دنوں میں متعدد مساجد میں جانا ہوا۔ کئی اسلامی مراکز سے تعارف حاصل ہوا۔ کئی جگہ دروس اور خطابات کا موقع حاصل ہوتا رہا، تفصیل کی ضرورت ہے نہ گنجائش، چند مصروفیتوں کا اختصار کے ساتھ ذکر کیے دیتا ہوں:

زبربخش کی زیر صدارت قائم ’ تعلیمی وقف‘ کے ایک اجلاس میں گریناڈا اور جمیکا کے نمائندوں سے ملاقات رہی۔

زبربخش نے شہر کے مضافات میں اپنے ایک نئے گھر میں میری اقامت کا بندوبست کیا جسے وہ چند دنوں کے بعد کرائے پر چڑھانے والے تھے۔

برازیل پہنچنے کے لیے ایک دوسرا روٹ بھی ڈھونڈ ڈالا۔ یہ ایک ہفتہ وار پرواز تھی جو براہ سورنیام برازیل کے ایک شہر BELEM تک جاتی تھی اور پھر وہاں سے ’برازیلیا‘ یا ’ ریوڈی حنبرو‘ پہنچا جا سکتا تھا۔

سینٹ جوزف کی مسجد میں جانا ہوا۔ کریبین ممالک (ویسٹ انڈیز) میں یہ ایک خوبصورت مسجد ہے جس کی دیواریں اور گنبد مسجد ہی کے امام سید حفیظ کی خطاطی سے مزین ہیں۔

یہاں ایک نماز کی امامت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ خواتین مردوں سے کچھ فاصلے پر اپنی صف بندی کرتی ہیں۔ درمیان میں کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی گئی۔ یہ بات کچھ لوگوں کے لیے اچنبھے کی باعث ہو گی لیکن حرم مکی میں یہ منظر بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ خطبہ جمعہ (30 ستمبر) مسجد میں دینے کی توفیق ہوئی۔

ایک اور مہربان سید زاہد بشیر سے آٹھ میل دور Tacarigua نامی بستی میں اپنے وسیع وعریض مکان میں لے گئے جہاں واپسی تک قیام رہا۔ یہ گھر پھلدار درختوں سے مالا مال تھا۔ ان کے چاروں بچوں سے کافی انسیت حاصل رہی۔

مسجد نور الاسلام، وقف مرکز اسلامی اور مقامی مسجد میں خطابات کا موقع ملتا رہا۔ ایک تقریر کے بعد ایک صاحب ان مسائل میں الجھے نظر آئے کہ آیا اللہ کے رسول ﷺ کی معراج صرف روح کے ساتھ ہوئی تھی یا جسم کے ساتھ تھی؟ اور آیا مسیح زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں۔

دیکھا کہ اس علاقے میں بھی قادیانیت اپنے برگ وبار پھیلانے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور یہ سوالات اس فکر کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے تھے۔

بدھ (5 اکتوبر) جامع مسجد کے قریب ہی صدر مملکت ٹرینیڈاڈ کا دفتر تھا، یہاں اس وقت کے قائم مقام صدرڈاکٹر عبد الواحد سے مختصر سی ملاقات رہی۔ اس سے قبل بروز جمعہ بھی ان سے ایک ملاقات ہو چکی تھی۔

عجائب گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ابھی تأسیس کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ چند ایسے بم نمائش کے لیے رکھے گئے تھے جو اٹھارویں صدی کے آخر میں سمندر سے نکالے گئے تھے کہ جنہیں اسپینی حملہ آوروں نے استعمال کیا تھا۔ ایسی ہی چند چیزیں میں ممباسا کے قلعہ مسیح میں دیکھ چکا تھا جہاں ایک زمانہ میں پرتگالی حملہ آور قابض رہے تھے۔ ’جیارلی‘ نامی علاقے کی مسجد میں خطاب کے بعد جن سوالات کا سامنا کرنا پڑا ان میں جرابوں کے اوپر مسح کرنا، اذان کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا، بعض مچھلیوں کی حلت وحرمت اور بنک کے سود کا جواز یا عدم جواز شامل تھے۔

میں اپنے میزبان سید زاہد کے مکان سے قریب ترین مسجد میں نماز فجر کے بعد ایک مختصر سے درس کا اہتمام کرتا رہا۔ جمعہ کے دن نماز فجر میں سنت نبوی کی احیاء کی نیت سے سورۃ السجدہ اور سورۃ الدہر کی تلاوت بھی کی۔

چونکہ برازیل کے ویزے کی امید دم توڑ چکی تھی اس لیے میں نے براہ امریکہ واپسی کی بکنگ کروا لی تھی اور یوں جمعہ (7 اکتوبر) کو BWIA کے جہاز سے پورٹ آف اسپین کو الوداع کیا۔ میرے مہربان حضرات میں سے زاہد، زبربخش، زید حسین اور ایک دوسرے صاحب ائرپورٹ پر الوداعی ملاقات کے لیے موجود تھے۔

ایک گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہم ایک سابق برطانوی کالونی (Antigua) کے ائرپورٹ پر اترے جہاں ایک مختصر وقفے کے بعد نیویارک کا رخ کیا۔ یہاں لندن واپسی سے قبل تین دن قیام رہا۔ اگلی حکایت میں اس کا ذکر آ رہا ہے۔

لندن سے روانگی کے وقت جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر سامنے آ چکی تھی۔

فضا میں اڑنا راز داران رؤیا کے نزدیک انسان کی خواہشات کا غماز ہوتا ہے، میری خواہش تھی کہ میں برازیل پہنچوں لیکن یہ اللہ کو منظور نہ تھا اور یوں میں اپنی خواہش کی تکمیل سے قبل ہی ٹرینیڈاڈ اتر چکا تھا اور باوجود خواہش بسیار آگے جانے کی سبیل پیدا نہ ہو سکی بلکہ واپسی کا سفر اختیار کرنا پڑا۔

الحمد للہ کہ آنے جانے کا یہ سفر بخیروعافیت گزرا۔

تقدیر الٰہی اگلے سال ہی امریکہ کا ایک اور سفر مقدر تھا اس لیے امریکہ یاترا کی یادوں کو کسی دوسری صحبت پر اٹھا رکھتا ہوں۔ یار زندہ صحبت باقی۔

4۔ نیویارک کا پہلا سفر

7 اکتوبر 1977ء کی دوپہر میں ٹرینیڈاڈ سے نیویارک پہنچا۔ اہلیہ کی عمّ زاد بہن ڈاکٹر عطیہ خان اور ان کے شوہر جاوید ایک سال قبل پاکستان سے یہاں منتقل ہو چکے تھے وہی تین دن کے لیے میرے میزبان ٹھہرے۔

ڈاکٹر عطیہ خان اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کو نبھاتی رہیں اور جاوید نے اس شہر کی بھرپور سیر کرا دی۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر (مرکز عالمی تجارت) پہنچے جو امریکہ کی بلند ترین عمارت شمار ہوتی ہے، (یعنی ستمبر 2001ء) کے حادثہ سے قبل)۔ 110 منزلوں پر مشتمل اس عمارت کی 107 ویں منزل پر ایک تیز ترین لفٹ ایک منٹ سے کم وقفے میں پہنچا دتی ہے۔ اترے چڑھتے وقت کانوں میں ویسی ہی سنساہٹ محسوس ہوتی ہے جو جہاز کی اڑان یا اتران کے وقت تجربے میں آتی رہی ہے۔ یہاں سے شہر کا حدود اربعہ نظر کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ سمندر میں وہ جزیرہ بھی جس میں ’مجسمہ آزادی ‘ نصب ہے۔ سامنے ایمپائز اسٹیٹ بلڈنگ کی عمارت بھی جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تعمیر سے قبل اپنی اونچائی پر ناز کرتی تھی لیکن اب اپنا سرخم کرنے پر مجبور تھی۔

نیویارک شہر کا علاقہ ’مین ھٹن‘ کہلاتا ہے اور یہاں داخل ہونے کے لیے دریائے ھڈسن کا پل پار کرنا پڑتا ہے جو جارج واشنگٹن کے نام سے موسوم ہے۔

شہر کی بیشتر سٹرکیں فراخ ہیں۔ مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ناک کی سیدھ چلی آتی ہیں۔ وسط شہر میں بلندوبالا بلڈنگوں پر مشتمل بارونق علاقے ہیں تو انہی سڑکوں کے آخر کناروں پر ’ھارلم‘ جیسی بے رونق بستی بھی آباد ہے، جہاں کے مکین اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب مغربی افریقہ سے غلاموں کی ٹولیاں در ٹولیاں بحری جہازوں میں پابند سلاسل صورت میں امریکہ لائی جاتی تھیں اور پھر ان سے نہایت بےدردی کے ساتھ جبری مشقت کروائی جاتی تھی۔ اب انہی لوگوں کی نسل ان علاقوں کو آباد کیے ہوئے ہے۔ ان میں کالے مسلمان بھی شامل ہیں جن کی اپنی مساجد ہیں اور جو اپنی بے بضاعتی اور تنگدستی کے باوجود اسلام کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔ یہاں اکثر شاہراہیں نام سے نہیں بلکہ نمبر سے پہچانی جاتی ہیں۔

اگلے دن فسٹ ایونیو یعنی شارع نمبر ایک میں ہم نے اقوام متحدہ (UNO)کے بلندوبالا صدر فتر کی ایک سرکاری گائیڈ کے ہمراہ زیارت کی۔ پھر شارع نمبر 44 میں رابطہ عالم اسلامی کے صدر دفتر کو بھی تلاش کر پائے جہاں اتفاقاً امریکہ میں دعوت وتربیت سے متعلق چند اساطین اساتذہ سے ملاقات ہو گئی جن میں میرے ایام جامعہ مدنیہ کے ایک پرانے ہندوستانی ساتھی ڈاکٹر مزمل صدیقی اور پھر مصر کے ڈاکٹر احمد صقر اور چند دوسرے پاکستانی وہندی حضرات شامل تھے۔

اپنی آمد کے تیسرے دن جائے قیام کے قریب ہی ایک مقامی اسٹیشن سے نیویارک کے گرینڈ سنٹرل اسٹیشن کا ٹکٹ لے کر 30 میل کی مسافت آدھے گھنٹے میں طے کرتے ہوئے دوبارہ شہر پہنچا۔ مقصد تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی سماعت کا جو میرے لیے نہ صرف قابل دید بلکہ قابل شنید بھی تھی۔

یو این او کے اس عظیم ہال میں دنیا بھر کے 149 ممالک کے نمائندوں کی نشستیں ترتیب دی گئی تھیں جن میں دو نئے ممالک کے مندوبین بھی شامل تھے جنہیں اقوام متحدہ کی تازہ تازہ رکنیت عطا کی گئی تھی اور وہ تھے جیبوٹی اور ویٹ نام۔

چھ مندوبین کی کرسیاں ایک ایک ڈیسک کے ساتھ بچھائی گئی تھیں جن میں ہر تین کرسیاں ایک ایک ملک کے لیے مختص تھیں اور تین مزید کرسیاں ان کے عقب میں۔

ہر اجلاس میں مندوبین کی نشستوں کی ترتیب کے لیے سیکرٹری جنرل قرعہ اندازی کرتے تھے، جس ملک کا نام نکل آتا اسے صف اول کے آغاز میں جگہ دی جاتی اور پھر اس سے متصل وہ ملک جس کا نام باعتبار حروف تہجی اس کے بعد آتا تھا۔

اس اجلاس میں صف اول کے لیے قطر کا نام قرعہ فال میں نکلا تھا۔ پاکستان کو صف آخر میں دیکھا اور معاً بعد پانامہ کے مندوب کی کرسی کو۔

میں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ہندوستان کا مندوب اپنی چندیا پرگاندھی کو ٹوپی سجائے ہوئے تھا اور جزائر انقمر(Comoro) کا مندوب مشرقی افریقہ میں معروف منقش ٹوپی پہنے ہوئے جبکہ اکثر مندوبین سروں کے تاج سے محروم تھے۔

اجلاس کی صدارت یوگو سلاویہ کے سپرد تھی۔ صبح کے پہلے اجلاس میں رواندا، روس، نیوزی لینڈ اور ملاوی کے مندوبین کی تقاریر سننے میں آئیں۔

اس اجلاس کے بعد دو ڈالر دے کر اس عظیم عمارت کے چند مخفی گوشوں کو دیکھنے کی ٹھانی،گائڈ کے فرائض انگریزی زبان سے شناسا ایک جاپانی خاتون نبھا رہی تھی۔ ہم نے سیکیورٹی کونسل کا ہال دیکھا جس کے عموماً پندرہ ممبر ہوتے ہیں جن میں وہ پانچ بنیادی ممبرز شامل ہیں جنہیں ویٹو کا حق حاصل ہے یعنی جمہوریت کے علمبردار چیمپیئن حضرات نے اپنی آستینوں میں وہ خنجر چھپا رکھا ہے جسے اس مزعومہ جمہوریت پر کاری وار لگانے کے لیے فوراً استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اکنامک کونسل کے ہال میں بھی داخل ہوئے اور پھر وہ تحفے اور یادگاریں بھی دیکھیں جو مختلف ممالک نےیو این او کی نذر کر رکھی تھیں۔ ایران کے منقش قالین، چمکتے شیشوں کے عقب میں چین کے پہاڑوں اور ان میں دوڑتی ریلوے کا خوش کن منظر، گھنٹہ گھر سے مزین جاپانی پگوڈا، روس کی طرف سے فضا میں اچھالا گیا سیپٹنک(Sputnic) کا تاروں سے نیا ماڈل اور یونان کی سوغات میں سے ایک برہنہ دیوتے کا مجسمہ نظر نواز تھے، ہال میں داخل ہوتے وقت ایک گرانڈیل نپڈولیم نظر آیا جوعرش سے فرش تک (یعنی چھت سے زمین تک) کی فضا کو آباد کیےہوئے ہے۔

دوپہر کے اجلاس میں حاضری کے لیے دوبارہ جنرل اسمبلی کا رخ کیا۔ یہاں گفت وشنید کا نہیں بلکہ حجت بازی کا ایک دنگل سجا تھا جس میں زامبیا، سنگاپور کے مندوبین نے ےکچھ دھیمے انداز میں اور ایتھوپیا (حبشہ) کے مندوب نے کچھ گھن گرج کے ساتھ صومالیہ کی خوب ٹھکائی کی کہ دونوں ملکوں کے درمیان رزم آرائی جاری تھی۔ مندوب نے اریڑیا کا قطعاً ذکر اسرائیل کے وزیر خارجہ موشے دایان کے خطاب کو مسلم اکثریت آبادی کو اقلیت میں بدل دیا تھا۔ سننے نہیں کیا جس پر حبشہ نے غاصبانہ قبضہ کر کے وہاں کی کے لیے گیلری میں لوگوں کا ہجوم تھا جو اس کی ہر ادا پر تالیاں بجا کر داد دے رہے تھے۔ عرب اور پاکستانی مندوبین نے اپنی اپنی نشستوں کو خیر آباد کہہ کر اپنے احتجاج کو رجسٹر کرایا تھا۔ میں نے انہیں ہال کی راہداریوں میں کھڑے دیکھا۔

یو ان او کے بارے میں ہمیشہ سنتا آیا تھا، آج اس میلے کو دیکھ کر خوب محظوظ ہوا اور یوں سرزمین امریکہ سے میرا اولین تعارف پورا ہوا لیکن تقدیر میں یہاں بار بار آنا لکھا تھا جس کی سرگزشت ان سطور کی زینت بنتی رہے گی۔ (جاری )

٭٭٭

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

چلا ہے تذکرہ عثمان کے کردار وسیرت کا

حیا دار وحلیم ونرم خو کا، جان عفت کا

عجب انداز کا سیکھا تھا گر اس نے تجارت کا

کیا کرتا تھا سودا مال کے بدلے میں جنت کا

متاع عجز دی اس کو خدا نے مال سے بڑھ کر

کبھی دل میں غرور آیا نہ اس کے مال و دولت کا

صحابہ سب ستارے ہیں، نشان رہ دکھاتے ہیں

انہی میں وہ بھی اک روشن ستارہ ہے ہدایت کا

زباں پر سب سے پہلے نام عثمان غنی آیا

کسی نے بھی کیا جب تذکرہ جود وسخاوت کا

خدا کی راہ میں اک بار بھی کیا کم فضیلت ہے

شرف عثمانؓ کو حاصل ہوا دو بار ہجرت کا

سعادت کم ہے کیا اک بار داماد نبیؐ ہونا

جہاں میں مستحق ٹھہرا وہ دو بار اس سعادت کا

خریدا چاہ رومہ اور وقف عام کر ڈالا

ہوا حل مسئلہ طیبہ میں یوں پانی کی قلت کا

جہاد بدر کا اس کو بدل حق نے دیا ایسے

ملا اعزاز اسے بنت پیمبرؐ کی عیادت کا

نجابت کا اثر بھی تھا، حلیمی تھی، تدبر تھا

کیا فتح مبیں میں کام عثماں نے سفارت کا

قصاص خون عثماں پر جو لی بیعت پیمبرؐ نے

رکھا ہاتھ اپنے پر دستِ مبارک اس کی بیعت کا

مراکش سے سواد چین اس کا ہوا سایہ

کیا اونچا عمؓر کے بعد یوں پرچم خلافت کا

خطاب اس کو دیا ہے جامع القرآں کا امت نے

کیا باضابطہ کام اس نے قرآں کی اشاعت کا

خود اپنی جان تو دے دی، اجازت دی نہ لڑنے کی

تھا اس کو پاس کتنا شہر پیغمبرؐ کی حرمت کا

تلاوت یوں تو ہر مؤمن ہی کرتا ہے محبت سے

نچھاور جان ہو جس میں مزہ ہے اس تلاوت کا

نبیؐ کے دین کی خاطر گزاری زندگی اس نے

نبیؐ کے شہر میں رتبہ ملا اس کو شہادت کا

نچھاور جان کر دی جس نے اس کے نور کی خاطر

کہو عارف پتنگا تم اسے شمع رسالت کا

خواجہ محمد عارف، برمنگھم

تبصرہ کریں

2 تبصرے

    • وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
      عمیر بھائی! اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔
      بہت شکریہ آپ کے فیڈ بیک کا۔ مزید بھی اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کرتے رہیں۔ اور اگر آپ نے اس الجامع الکامل پر کچھ لکھا ہے یا لکھنا چاہتے ہیں تو ہمارے صفحات حاضر ہیں۔
      (حافظ عمر، ویب سائٹ کنٹرولر)
      فون نمبر: 00923336519527