گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 13)- ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

مظفر آباد (آزاد کشمیر) کا ایک سفر (1994ء)

ایک عرصہ سے آزاد کشمیر جانے کی خواہش تھی، اس دفعہ یہ خواہش پوری ہو گئی۔ والد محترم کے طلبہ میں ایک عراقی نوجوان عبد اللہ کہلان تھے جو اکثر شام کے اوقات میں تشریف لاتے اور حدیث کا درس لیتے، ان سے ایک قربت سی پیدا ہو گئی۔ وہ خود انجینئر ہیں اور یہاں ایک رفاہی ادارے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان کی پک اپ میں سفر کا عزم کیا۔ رفقاء سفر میں میرے برادر خورد راغب، جدہ سے ایک مہمان اور کوئٹہ میں متعین ایک مصری ڈاکٹر شامل تھے۔

صبح سات بجے ہمارا قافلہ مری کی طرف روانہ ہوا، جہاں ناشتہ کرنے کے بعد کوہالہ پل پر ہم نے دریائے جہلم کو عبور کیا کہ جہاں سے آزاد کشمیر کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔ پہلی چوکی پر پولیس نے ہمارے ساتھ چند غیر ملکیوں کو دیکھ کر آئیں بائیں شائیں کی لیکن تسلی کر لینے کے بعد ہمیں جانے دیا۔ راستہ بڑا کٹا پھٹا ہے۔ کہیں بہت تنگ، کہیں بالکل پہاڑ کی آغوش میں، مظفر آباد دریائے نیلم اور دریائے جہلم کا سنگم ہے۔

ہم اس مکتب میں پہنچے جسے عبد اللہ عزام نے قائم کیا تھا۔ تونس کے برادر طارق نے ہمارا استقبال کیا، وہ میرے دونوں بھائیوں راغب اور احمد سے اچھا تعارف رکھتے تھے، پھر ہم جماعت تنویر الاسلام کے قائم کردہ مجاہدین کے مرکز پہنچے اور وہاں کچھ دیر قیام کے بعد مظفر آباد کی مشہور علمی شخصیت مولانا محمد یونس اثری سے ملاقات کے لیے ان کے دولت خانہ پہنچے۔ انہوں نے اپنی درسی وتدریسی زندگی کے بارے میں بات چیت کی اور پھر مولانا اور ان کے صاحبزادے کے ساتھ تحریک مجاہدین کے سربراہ ابوعبیدہ اور ان کے دو مساعدین سے ملاقات کی۔ مولانا نے اپنے قائم کردہ دار العلوم جامعہ محمدیہ کی زیارت کروائی، وہاں مولانا مظفر حسین ندوی سے بھی ملاقات ہوئی۔

نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد ہم نے طارق تونسی کے مکتب کی راہ لی۔ مکتب کے عقب میں مدرسہ کو دیکھا جو اس وقت اندھیرے کی اوٹ میں تھا۔ تینوں اداروں کو حسب توفیق کچھ مالی اعانت دینے کا شرف حاصل ہوا۔ رات کافی ہو چکی تھی، طارق نے مکتب سے متصل ایک کمرے کی راہ دکھائی، جس میں ہمارے بستروں کا انتظام کیا گیا تھا۔

ایک لطیفہ: کوئی آدھی رات کا عمل ہو گا کہ پیٹ میں شدید مروڑ کی بنا پر بیت الخلاء جانے کی حاجت محسوس ہوئی۔ بجلی نہ ہونے کی بنا پر بستروں کو ٹٹولتا ٹٹولتا دروازے تک پہنچا کہ جس سے ملحق برآمدے میں چوکیدار اپنے بستر پردراز تھا، پوچھا کہ بیت الخلا کہاں ہے تو اس نے بتایا کہ باہر کمرے کی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے عقب میں جاؤ، جہاں اپنی منزل مقصود کو پا لو گے، باہر شدید بارش ہو رہی تھی، گھپ اندھیرا تھا، چنانچہ میں اس عالم میں بیت الخلاء پہنچا کہ مجھے پاؤں کی حرکت سے بیت الخلاء کے پائیدان کو تلاش کرنے کے بعد وہاں فراغت نصیب ہوئی اور پھر دوبارہ دیوار کے ساتھ ساتھ راستہ ٹٹولتے ہوئے میں اپنے کمرہ تک پہنچا۔

صبح ناشتہ پر میں نے طارق کو رات کا واقعہ سنایا تو وہ ہنستے ہنستے بے حال ہو گیا۔ وہ مجھے کمرے میں واپس لے آیا اور بتایا کہ کمرے کے ساتھ تو بیت الخلاء ہے کہ جس کا دروازہ کمرے ہی میں سے کھلتا ہے، غالباً یہ بات چوکیدار کے علم میں نہ تھی وگرنہ وہ مجھے باہر کی راہ نہ دکھاتا۔

اگلا دن براہ مانسہرہ واپسی کا تھا۔

آسمان پورے زور و شور سے برس رہا تھا، یہ راستہ بھی شاہراہ مظفر آباد کی یاد دلا رہا تھا۔ ایک طرف اونچے اونچے سرسبزوشاداب پہاڑ، اتنے اونچے کہ بادل ہمیں چھوتے گذر رہے تھے اور دوسری طرف گہری وادی جس میں دریائے کنہار کا پانی پتھروں سے ٹکراتا ، دونوں کناروں کو کاٹتا چھانٹتا، بڑے زور وشور سے رواں دواں تھا۔ وادی کی طرف کا کنارہ کسی رکاوٹی دیوار کے یا منڈیر سے محروم تھا۔ یہ ڈرائیور کی مہارت اور بصارت پر منحصر تھا کہ وہ معتدل رفتار سے چلتا رہے، آنے والی ٹریفک سے محتاط رہے اور پہلو سے جڑے پہاڑ کی پتھریلی بوچھاڑ یعنی (Land Sliding) سے ہمہ وقت ہوشیار رہے۔

ہم گڑھی حبیب اللہ سے ہوتے ہوئے بالاکوٹ کی طرف گامزن تھے۔ گویا چڑھائی سے نشیب کی طرف آر ہے تھے اور پھر اتنا نیچے آ گئے کہ بعض جگہوں پر دریا کے کنارے کا پانی کا ہماری گاڑی کے ٹائروں کی قدم بوسی کرتا نظر آ رہا تھا۔ ہمارے مصری مہمان کو یہ ادا بالکل پسند نہ آئی، وہ بآواز بلند احتجاجی نعرے بلند کر رہے تھے لیکن ہمارے مہربان ڈرائیور آگے بڑھتے گئے۔

بالاکوٹ سید احمد شہید اور سید اسماعیل شہید کے آخری معرکہ کی یادگار ہے۔

6 مئی 1831ء میں سکھوں سے جہاد کرتے ہوئے یہ دونوں بطل اسلام شہادت سے سرفراز ہوئے۔ سید اسماعیل شہید کی قبر تو معروف ہے لیکن سید احمد شہید کا مزار کہیں ہٹ کر ہے، ہندوپاک کی روایات کے زیر اثر قبرستانوں میں پکی قبروں کا چلن ہے۔ ہم قبرستان میں مسنون دعا کے لیے حاضر ہوئے تھے، ہمارے سعودی ہمسفر گاڑی سے تو اتر آئے لیکن قبرستان میں داخل ہونے کے لیے آمادہ نہیں ہوئے۔ سید احمد شہید کی قبر پر کتبہ ہے جس میں اس معرکے کی تاریخ ثبت کی گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہاں صرف ان کا سرمدفون ہے، باقی جسم گڑھی حبیب اللہ میں دفن ہے۔

ہم مانسہرہ ہوتے ہوئے ایبٹ آباد پہنچے، یہ شہر انگریزوں کی حکومت کے دوران کسی میجر ایبٹ کے نام پر آباد کیا گیا تھا جو اپنی جودوسخا کی بنا پر مقامی لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنا رہا اور پھر اپنا نام اس شہر کو بخشتا چلا گیا۔

یہ تین شہر تین مذاہب کی نمائندگی کرتے ہیں، گڑھی حبیب اللہ ایک مسلم نواب کے ، مانسہرہ ایک سکھ سردار کے اور ایبٹ آباد ایک عیسائی میجر کے نام سے منسوب ہے۔ ہم ظہر تک اسلام آباد میں داخل ہو چکے تھے اور یوں یہ مختصر لیکن پُرمشقت اور مسحورکن سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ آزاد کشمیر دو دفعہ پھر آنے کا بھی اتفاق ہوا۔ اگر میری ڈائری نے میرا ساتھ دیا تو باقی دو زیارتوں کے بارے میں بھی کچھ عرض کرتا چلوں گا لیکن پہلے کچھ آزاد کشمیر کے حدود اربعہ اور تاریخ کا بیان ہو جائے۔

جموں کشمیر کا کل رقبہ تقریباً 88 ہزار مربع میل پر مشتمل ہے اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد صرف 5134 مربع میل کا رقبہ پاکستان کے ہاتھ آیا۔

جموں کشمیر کا نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں، چاند کا ایک ٹکڑا نظر آئے گا۔ جنوب میں پنجاب سے متصل کوٹلی اور میرپور سے شروع ہو کر باغ، مظفر آباد ہوتا ہوا 250 میل کی لمبائی میں پھیلا ہوا کشمیر کا یہ جنت نظیر حصہ شمال میں نیلم وادی پر جا کر ہمالیاتی پہاڑوں کے سلسلہ سے جا ملتا ہے۔

اور اتنا حصہ بھی تقسیم کے فوراً بعد پاکستان کے سرحدی علاقوں اور کچھ ریٹائرڈ فوجی جوانوں کی جہادی سرگرمیوں کی بنا پر آزاد ہو سکا۔ وہ تو بارہ مولا یعنی سرینگر کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے لیکن پھر پاکستان کے پہلے انگریز کمانڈر اِنچیف کی مداخلت یا مداہنت کی بنا پر مزید پیش قدمی سے روک دیئے گئے اور یوں جس حد تک وہ پہنچ پائے تھے وہی بعد میں لائن آف کنٹرول (LOC) قرار پائی اور اس کے بعد وادی کشمیر پر قبضہ ایک خواب بن کر رہ گیا۔ بلکہ 24 اکتوبر 1947ء کو جتنا علاقہ آزاد کرایا گیا تھا، اس کی حفاظت پاکستان کے لیے ایک فرض قرار پایا۔ اللہ بھلا کرے گلگت اور بلتستان ایجنسی کا جو زمینی اعتبار سے تو کشمیر کی سرحدوں کو چھوتی ہے لیکن لسانی اور ثقافتی اعتبار سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ اس کا اپنا رقبہ بھی تقریباً 28 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے کہ یہ علاقہ پاکستان کے ساتھ منسلک رہا اور یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستان سے ملحق آزاد کشمیر ایک تہائی رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ وادی نیلم آزاد کشمیر کے خوبصورت ترین مقامات میں سے ہے، اٹھمقام اس کا صدر مقام ہے، یہاں بلند وبالا پہاڑ ہیں جن کی قدوقامت کہیں پندرہ ہزار اور کہیں انیس ہزار فٹ تک جا پہنچتی ہے۔ تقسیم سے پہلے 90 میل پر پھیلی ہوئی یہ وادی کشن گنگا کہلاتی تھی اور بعد میں دریائے نیلم کے نام پر وادی نیلم سے معروف ہوئی۔

ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں پاکستان کی بہ نسبت شرح خواندگی زیادہ ہے، آبادی کے تناسب سے 74 فیصد کے لگ بھگ ہے اور اس کی علامت ہے کہ یہاں اسکولوں میں جانے والے طلبہ وطالبات کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ میں میرپور، کوٹلی اور آزاد کشمیر کے دوسرے خطوں سے آنے والے افراد مہاجرین کے ہر اول دستے کی حیثیت رکھتے ہیں، یہ ہجرت اس زمانے کی معاشی تنگدستی اور رزق کی جستجو کا عنوان تھی اور پھر صدر ایوب کے عہد میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے بعد لوگوں کی کثیر تعداد میں نقل مکانی کے باعث دوچند ہوتی گئی۔

جن لوگوں کو سرگودھا اور اس کے نواح میں بطور عوض زمینیں عطا کی گئی تھیں، وہ وہاں جا بسے اور ان میں سے کچھ لوگ برطانیہ میں اپنے لواحقین تک پہنچنے میں بھی کامیاب رہے اور پھر یہاں برسوں کارخانوں، صنعتی اداروں یا اپنی ذاتی دکانوں میں اپنی عمریں کھپا کر وہ اس قابل ہوئے کہ اپنی جائے ہجرت میں جائیداد کے حصول کے ساتھ ساتھ میرپور اور اس کے مضافات میں اپنی خوبصورت اور وسیع کوٹھیاں اور وہاں کے بازاروں میں انگریزی طرز پر سجی سجائی پررونق دکانوں کے جھرمٹ (یعنیMall) وجود میں لا سکیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد عمر کے آخری حصے کو باعزت اور پُرسکون گذارنے کے لیے اکثر مہاجرین برطانیہ کی کوششیں بار آور نظر آتی ہیں اور یہی حال دنیا وآخرت کا بھی ہے۔

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو جہاں بھی رہے، اپنی آخرت کے لیے زاد راہ بناتے گئے، ریٹائرمنٹ کے ایام کے لیے نہیں بلکہ اس لازوال زندگی کے لیے جو اللہ سے ملاقات کے بعد حاصل ہو گی۔ ایسے ہی نفوس قدسیہ میں جنہوں نے برطانیہ میں اپنی آمد کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں اللہ کے گھر آباد کیے، ان کی دیواریں، چھتیں، مینار اور گنبد بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے قیام، رکوع اور سجود سے بھی انہیں آباد رکھا۔

مظفر آباد دو دفعہ مزید جانے کا موقع ملا۔

اپریل 1995ء میں پانچ افراد بشمول برادر راغب حسن ہمارا قافلہ پہلے مانسہرہ پہنچا۔ ہری پور ہزارہ میں ایک عرب NGO کا قائم کردہ ادارہ ’دار حراء‘ دیکھا۔ افغانی یتیم طلبہ اور طالبات کی تعلیم اور ان کی رہائش کا اعلیٰ پیمانے پر بندوبست کیا گیا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی ڈاکٹر خبیب حسن ان کی صحت اور جسمانی دیکھ بھال کے انچارج تھے اور ان کے توسط سے اس عظیم درسگاہ کے درودیوار دیکھنے کی سعادت بھی حاصل ہو گئی۔

مظفر آباد پہنچے جہاں چند مراکز کا دورہ کیا۔ اگلی صبح بعد از نماز فجر ایک جگہ مختصر درس دینے کا موقع بھی ملا۔ ہمارا یہ ایک دن کا دورہ اسی راستے سے مکمل ہوا جس راستے سے ہم آئے تھے۔

اور پھر اپریل 1997ء میں انٹرنیشنل کشمیر ویلفیئر کونسل کے صدر حسین احمد اصلاحی کی دعوت پر مظفر آباد کے ساتھ ساتھ ’باغ‘ شہر جانے کا بھی اتفاق ہوا۔ جدہ سے میرے بڑے بھائی شعیب حسن بھی ہمراہ تھے۔ اس دفعہ بجائے زمینی سفر کے ہوائی سفر رہا۔ پی آئی اے کا ایک چھوٹا جہاز راولا کوٹ ہوتا ہوا ہمیں مظفر آباد ائیرپورٹ لے آیا۔

یہ پرواز اس لیے بھی دلچسپی کا باعث رہی کہ جہاز کی کھڑکی سے آزاد کشمیر کے سرسبز وشاداب پہاڑ، وادیوں میں بہتے دریا، ٹیلوں، کہساروں پر لکڑی کے خوشنما گھر اس سرزمین کی خوبصورتی کو دوبالا کر رہے تھے اور پھر جہاز کے کپتان کی مہارت کی داد دیئے بغیر بات نہیں بنتی کہ اترتے چڑھتے وقت پہاڑوں کے درمیان میں سے جہاز کو بسلامت گذارنے کے عمل کو کامیاب بنایا اور دھڑکتے دلوں کو اطمینان اور یکسوئی حاصل ہونے میں مددگار ثابت ہوا۔ اور یہ سب کچھ اللہ کی توفیق اور اعانت ہی کا مرہون منت ہے۔ وَمَا تَوْفِیْقِیْ إِلَّا بِاللہِ

ایئرپورٹ پر ہمارے میزبان چشم براہ تھے جو ہمیں ’باغ‘ لے جانے کے لیے بے تاب تھے۔ باغ تک کا زمینی سفر انہی پہاڑی گزرگاہوں کا نمونہ تھا جو ہم اپنے پچھلے اسفار میں دیکھ چکے تھے۔ باغ سے پانچ میل کے فاصلے پر ایک مہاجر کیمپ میں لوگ ہمارے منتظر تھے۔

یہاں مسلم ایڈ برطانیہ کی طرف سے خواتین میں سلائی مشینیں اور طلبہ وطالبات میں اسکول بیگ تقسیم کیے گئے جو تمام تعلیمی ضروریات سے بھرپور ہونے کی بنا پر ’اسکول کِٹ ‘کے نام سے یاد کیے گئے۔

مظفر آباد میں کشمیر پیپرماشی آرٹ سنٹر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی، کہا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یہ صنعت شاہ ہمدان نے روشناس کرائی تھی اور جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، کاغذ اور گتے کی مدد سے گھریلو اشیاء انتہائی نفاست اور عمدگی سے بنائی جاتی ہیں جو سیاحوں کے لیے باعث کشش اور ان کے کاریگروں کے لیے باعث رزق بنتی ہیں۔

یہاں اس سنٹر کے علاوہ چار چنار سلائی سنٹر اور چارچنار گبہ سنٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اول الذکر مرکز میں چالیس طالبات ٹریننگ لے رہی ہیں۔

ہماری اس وزٹ میں سید مظفر حسین ندوی، ریٹائرڈ ڈائریکٹر دینی امور حکومت آزاد کشمیر بھی ہمراہ تھے۔

اصلاحی صاحب نے کونسل کی طرف سے تعمیر کردہ مسجد شہداء کا بھی دیدار کرایا، پھر مظفر آباد ریڈیو اسٹیشن لے گئے جہاں ایک مختصر بیان بھی ریکارڈ کروایا۔

آزاد کشمیر کا یہ دورہ مسلم ایڈ برطانیہ کے ویلفیئر کاموں کا ایک حصہ تھا اور اللہ سے امید کرتا ہوں کہ میری ان حقیر کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازیں۔ وما ذلك على الله بعزيز

٭٭٭

علامہ حافظ ابن قیم ﷫ نے فرمایا :

’’سلف صالحین ایک دوسرے کو 3 باتوں کی وصیت کیا کرتے تھے۔

اگر یہ باتیں ہمارے دلوں پر محفوظ ہوجائیں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔

وہ تین باتیں یہ ہیں :

جس نے اپنے باطن کی اصلاح کی اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کی اصلاح فرما دے گا۔

جس اپنے اور اللہ کے درمیان معاملات ٹھیک رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور بندوں کے معاملات ٹھیک کر دے گا۔

جس نے اپنی آخرت بنانے پر توجہ دی، تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا بھی درست کر دے گا۔

(الرسالة التبوكیہ: ص 92)

٭٭٭

جلیل القدر عالم امام ابن مبارك﷫ سے کسی نے کہا:

’’اگر آپ سے کہا جائے کہ آج آپ کی عمر کا آخری دن ہے تو آپ اس دن کیا کریں گے۔

فرمایا :

’’اس دن بھی میں لوگوں کو علم سکھاؤں گا۔‘‘

(رواه البیہقی فی المدخل : 2؍45)

٭٭٭

تبصرہ کریں