گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط 8)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

18۔ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کی لندن میں آمد

میں اپنے حالات زندگی کی اولین اقساط بزبان انگریزی میں تحریر کر چکا ہوں کہ زمانہ طالب علمی میں میرا ڈاکٹر اسرار احمد﷫ سے کیسے ربط قائم ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کے بارے میں اپنی ایک پرانی تحریر سے چند اقتباس پیش کرتا ہوں:

یہ 1961ء کی بات ہے جب ابا جان (مولانا عبد الغفار حسن﷫) کے حکم اور ڈاکٹر اسرار احمد﷫ کی خواہش پر میں لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کو داغِ مفارقت دے کر منٹگمری (حال ساہیوال) میں ڈاکٹر صاحب کے قائم کردہ قرآن ہوسٹل میں منتقل ہو گیا تھا۔ اس ہوسٹل کے قیام کا مقصد تھا کہ کالج اور یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ علومِ اسلامیہ سے بھی واقفیت بہم پہنچائی جائے اور اس غرض سے ڈاکٹر صاحب نے ابا جان کو بطور معلم ومربی وہاں آنے کے لیے آمادہ کر لیا تھا۔ میں بطور ہر اول دستہ پہلے چلا آیا تھا۔

میں ابھی خود طلب علم کے مرحلہ سے گزر رہا تھا کہ میری پیشانی پر فاضل عربی کا تمغہ مجھے معلم عربی کی حیثیت سے متعارف کرا چکاتھا۔ ہوسٹل میں میرا کام تھا کہ وہاں پر موجود طلبہ کو عربی پڑھاؤں اور اپنے فارغ اوقات میں بی اے (انگریزی) کی تیاری کروں۔ اس ہوسٹل کے مکین صرف پانچ طلبہ تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے برادرِ خورد ابصار احمد، ان کے ابن عم مظفر احمد، صلاح الدین، عبد الغنی اور ہمایوں۔ ہم نَو وارد ان ہوسٹل کا برادرم وقار احمد سے بھی یارانہ رہا جو اپنی خاموشی لیکن دل آویز شخصیت کی بنا پر ہر دلعزیز رہے۔ یہاں منتقل ہونے سے قبل چند دن ڈاکٹر صاحب کے مکان کی بیٹھک میں بھی مقیم رہا، جہاں عارف اور عاکف کھیلتے کودتے اکثر آ نکلتے لیکن ڈاکٹر صاحب کا ایک اشارہ انہیں دوبارہ اندر کی راہ دکھا دیتا۔

باعتبار عمر ہوسٹل کے ساتھیوں سے میرا کوئی زیادہ تفاوت نہ تھا۔ میں اپنی عمر کے 19 سال میں تھا اور میرے یہ سارے رفیق میٹرک کرنے کے بعد کالج کی زندگی کا آغاز کر چکے تھے لیکن عربیت اور مولویت کا جامہ اوڑھنے کی بنا پرمیری بزرگی ہر حال میں قائم تھی، اُدھر ڈاکٹر صاحب کا جلال اور دبدبہ بھی ہم سب پر قائم تھا۔ یہ عقدہ تو بہت بعد میں کھلا کہ ان میں اور مجھ میں صرف 10 سال کا فرق ہے، وہ خود بھی عربی پڑھنے کے خواہاں تھے لیکن ان کی سیال طبیعت کسی ایک درسی کتاب کی تنگنائیوں میں محدود ہونے سے بالاتھی۔ وہ آتے تو ایک فرشی نشست جم جاتی۔ پرانے طرز کی بڑی بڑی گول ’اسپولز‘ پر مشتمل ٹیپ ریکارڈر آن ہو جاتا جس میں قاری عبد الباسط اپنی ساحرانہ قراءت کا جادو جگاتے نظر آتے۔ ڈاکٹر صاحب کبھی لیٹے، کبھی بیٹھے، سردھنتے اور قاری عبد الباسط کی بلائیں لیتے۔ ڈاکٹر صاحب سے میرا یہ اولین تعارف تھا جو پھر اگلے 49 سال، میری لوحِ دماغ پر نت نئے نقوش بھرتا رہا۔ ڈاکٹر صاحب کا پہلا درس قرآن بھی وہیں سنا اور وہاں کی ایک مسجد میں ان کا ایک خطبہ جمعہ بھی۔

وہ جب رسول اللہﷺ سے منسوب اس جامع الکلم خطبہ کو اپنی گرجدار آواز کے زیر وبم کے ساتھ دہراتے تو دل دہل جاتے:

«إن الرائد لا يكذب أهله

والله لو كذبت الناس جميعًا ما كذبتكم

والله لو غررت الناس جميعًا ما غررتكم

وإني رسول الله إليكم خاصة وإلى الناس عامة

والله لتموتن كما تنامون

ولتبعثن كما تستيقظون

ولتحاسبن بما تعملون

ولتجزون بالإحسان إحسانًا وبالسوء سوءًا

وإنها لجنة أبدًا، أو لنار أبدًا»

’’قوم کا پیش رَو اپنے لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا۔

اللہ کی قسم! اگر میں تمام لوگوں سے بھی جھوٹ بولوں تو تم سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔

اللہ کی قسم! اگر میں تمام لوگوں کو بھی دھوکہ دوں تو تمہیں دھوکہ نہ دوں گا۔

میں خاص طور پر تمہاری طرف اللہ کا پیغامبر ہوں اور عمومی طور پر تمام لوگوں کے لیے

اللہ کی قسم! جیسے تم (روزانہ) سوتے ہو ویسے ہی (ایک دن) مر جاؤ گے۔

اور جیسے (سونے کے بعد) اٹھتے ہو، ویسے ہی (قیامت کے دن) اٹھو گے۔

اور پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو، اس کا حساب دو گے۔

اور پھر اگر اچھے کام کیے ہیں تو اچھا بدلہ ملے گا اور اگر برے کام کیے ہیں تو برا بدلہ ملے گا اور یہ (بدلہ) ہمیشہ ہمیش کی جنت ہو گا یا ابدی جہنم۔‘‘ (یہ خطبہ سیرت کی کتب اور جمہرۃ خطب العرب سے لیا گیا ہے)

ہر شخص اپنی زندگی میں دوسروں سے بہت کچھ سیکھتا ہے، مجھے آج بھی یہ احساس ہے کہ میں نے اس نابغۂ عصر ہستی سے کیا کچھ استفادہ نہیں کیا۔ ان کا زورِ خطابت ، قرآن سے ان کا بے پایاں شغف، تاریخ اسلام پر ان کی گہری نظر، اسلامیانِ پاکستان کے مسائل کا وہ گہرا نبض شناس، مغربی افکار کا وہ بے رحم ناقد، یہ سارے دریچے آہستہ آہستہ میرے سامنے واہوتے رہے اور میں ان میں جھانکنے کی کوشش کرتا رہا۔ غالباً تین ماہ کے بعد ابا جان بھی منٹگمری منتقل ہو گئے اور یوں مجھے بی اے کی تیاری کے لیے فراغت نصیب ہو گئی۔ البتہ وہاں کے مدرسہ رشیدیہ میں 2 اسباق، نور الانوار (اصول فقہ میں) اور مسایرۃ مع مسامرۃ (علم الکلام میں) بھی جاری رکھے۔

1962ء میں بی اے (انگریزی) سے فارغ ہوتے ہی جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ جانے کے اسباب پیدا ہو گئے۔ میں منٹگمری سے رخت سفر باندھ کر کراچی آ پہنچا جہاں پاسپورٹ اور ویزا کے حصول میں ایک دو ماہ کا قیام ناگزیر تھا۔ اب دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب منٹگمری چھوڑ چھاڑ کر کراچی منتقل ہو گئے ہیں جہاں وہ اپنے برادرِ بزرگ اظہار قریشی کی تعمیراتی کمپنی کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ بالآخر میں عازم حجاز ہوا۔ سعودی سفیر نے پاکستان سے مدینہ یونیورسٹی کے پہلے دستے کو، جس میں مجھ سمیت 18 طلبہ شامل تھے، سفینہ حجاج سے جدہ روانہ کر دیا۔ یہ جہاز حاجیوں کو جدہ سے واپس لا چکا تھا اور مزید حاجیوں کو لانے کے لیے دوسرا پھیرا کر رہا تھا۔

مدینہ منورہ میں اگلے چار سال درس ومذاکرہ میں گزرے۔ 1966ء میں جامعہ سے فراغت اور اس کے اگلے سال مشرقی افریقہ کے ملک کینیا میں میری بحیثیت مبعوث آمد، مجھے پاکستان اور اہل پاکستان سے دور لے جاتی گئی، البتہ اپنی سالانہ چھٹی میں کبھی مدینہ منورہ (بغرض ملاقات والدین) اور کبھی پاکستان جانا لگا رہتا۔ ڈاکٹر اسرار احمد سے تعلقات میں مزید استواری آتی گئی۔

میں نے نیروبی (کینیا) کے قیام کے دوران دو مختصر کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ ایک مولانا مسعود عالم ندوی کی کتاب ’اشتراکیت اور اسلام‘ کا اور دوسرا ڈاکٹر اسرار احمد کی کتاب ’ مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘ کا۔ یہ دونوں مقالات ندوۃ العلماء ’لکھنو‘ کے عربی جریدہ ’البعث الاسلامی‘ میں بالاقساط شائع ہوئے۔ ان دنوں جمال عبد الناصر کی فکر اشتراکیت کو عربوں میں خوب پذیرائی حاصل تھی، اس لیے ’اشتراکیت اور اسلام‘ کو عربی جامہ پہنانے کی سوجھی اور ڈاکٹر صاحب کے کتابچہ کو عربی میں منتقل کرنے کی تحریک میں وہ جذبہ کام کرگیا جو ڈاکٹر صاحب کی تحریر وتقریر کی ساحرانہ تاثیر کا مرہونِ منت تھا۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ عرب قارئین میں اس عربی کتابچے نے ڈاکٹر اسرار احمد کو روشناس کرانے میں مدد دی۔

ڈاکٹر صاحب نے تنظیم اسلامی قائم کی اور ہر داعی الی اللہ کی طرح انہوں نے “مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللهِ” کا نعرہ لگایا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک طویل مراسلہ میں مجھے تحریک سے وابستہ ہونے کی دعوت دی اور پھر اسی شد ومد کے ساتھ ان کے ایک انتہائی مخلص رفیق قاضی عبد القادر صاحب نے بھی اس نامہ وپیام کو دو آتشہ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ڈاکٹر صاحب کی تحریک بیرون پاکستان (برطانیہ اور امریکہ وغیرہ) میں برگ وبار لانے کے ابتدائی مراحل میں تھی۔ میں تذبذب کے عالم میں تھا، ابا جان سے بذریعہ مراسلت مشورہ کیا، ابا جان جماعت اسلامی کو خیرباد کہنے کے بعد سے تنظیم سازی اور جماعت بازی کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔ میری برطانیہ کی جماعت اہل حدیث سے وابستگی کے وقت بھی ان کا یہی مشورہ تھا کہ جہاں بھی رہو، دین کا کام کرتے رہو، قال اور قال الرسول کی مجلسیں برپا کرتے رہو، لیکن کسی تنظیم کا حصہ بن کر باہمی چپقلش اور نزاعات میں اپنا وقت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ مثبت طور پر دین کی دعوت پیش کرتے رہو۔ مجھے بیعت کے مسئلہ میں بھی شرحِ صدر نہ تھا اور اب بھی میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ بیعت خلافت کے علاوہ تمام دوسری بیعتیں میزانِ قرآن و سنت پر پوری نہیں اترتیں۔ میں نےاپنا نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے اپنا معذرت نامہ ارسال کر دیا۔ گو میں رسمی طور پر تنظیم اسلامی میں شامل نہیں ہوا، لیکن میثاق اور ندائے خلافت کے صفحات پر تنظیم اسلامی کی کاوشوں کو ہمیشہ بنظر تحسین دیکھتا رہا۔ پاکستان کے دگرگوں حالات میں جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی اور جماعت اہل حدیث کی جدوجہد کو میں نے ہمیشہ سراہا اور ان خدام دین کے لیے بارہا دعا کی۔

یہ ڈاکٹر صاحب کی وسعت ظرفی ہے کہ انہوں نے میرے اس معذرت نامے کے باوجود باہمی تعلقات میں کوئی آنچ نہ آنے دی۔ ان کی اکثر تحریریں جو کتابی شکل اختیار کر چکی ہیں، ملاقات کے موقع پر عنایت فرماتے، تدبر قرآن جلد دوم کا وہ نسخہ میرے پاس محفوظ ہے، جو انہوں نے اپنے دستخط کے ساتھ عنایت فرمایا تھا۔ اس پر 7 ستمبر 1971ء کی تاریخ مرقوم ہے۔

یہ جون 1981ء کی آخری تاریخوں کا واقعہ ہے، جب ڈاکٹر صاحب لندن تشریف لائے اور مجھےان کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔

لندن میں ان کے پہلے جلسہ عام کی تقریب کا اہتمام میرے اپنے ادارے قرآن سوسائٹی کے زیر انتظام ہوا۔ قیام میرے ہاں تھا۔ میں شمالی لندن کے جس علاقہ (وُڈگرین) میں مقیم تھا، وہاں اس وقت تک کسی مسجد کا قیام عمل میں نہیں آ سکا تھا۔ ہمارے قریب ہی ایک صاحب نے دو منزلہ مکان کی نچلی منزل کا کمرہ پنج وقتہ نماز ادا کرنے کے لیے فراہم کیا ہوا تھا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے نماز فجر کی امامت کے لیے کہا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے معمول کے مطابق پورے انہماک اور بلند آواز سے قراءت میں محو ہو گئے۔ پڑوس میں کسی انگریز کی رہائش گاہ تھی، دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھی، اب جو ڈاکٹر صاحب کی آواز کا آہنگ اس کی نیند میں خلل انداز ہوا تو اس نے اپنی جانب سے دیوار کو زور زور سے تھپتھپانا شروع کیا۔ ہم مقتدیوں کو تو اس آفت ناگہانی کا ادراک ہو گیا لیکن ڈاکٹر صاحب کو لندن کے اس دستورِ نو کا کیسے علم ہوتا ہے۔پہلی رکعت کے رکوع و سجود کا وقفہ جونہی ختم ہوا اور ڈاکٹر صاحب نے دوبارہ قراءت کا آغاز کیا تو اس کا پارہ بھی سوا نیزے تک جا پہنچا، گھر سے نکلا اور ہمارے عارضی مصلی کے دروازے پر آ کر جوتوں کو پھینکتا اور مغلظات بکتا رہا، پولیس کو بھی بلا لیا لیکن پولیس کے آنے تک طوفان تھم چکا تھا اور ہم نمازی آہستگی سے رخصت ہو رہے تھے۔ اس لیے پولیس کسی جرم کی شہادت نہ پا سکی اور یوں یہ معاملہ اس کی خفیف سی تنبیہ پر ختم ہو گیا۔ اب اس علاقہ میں ایک چھوڑ چار مسجدیں قائم ہو چکی ہیں، جہاں مقامی کونسل کی ہدایات کے مطابق آدابِ جوار کو محلوظ رکھا جاتا ہے۔

یہ تحریر چونکہ فروری 2022ء میں قلمبند کی جار ہی ہے تو کہتا چلوں کہ اب ڈاکٹر صاحب اس دنیا میں نہیں رہے۔ اپریل 2014ء میں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

مسلکی اعتبار سے ان کی بعض آراء سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ہر صاحب علم کے اپنے تفردات رہے ہیں لیکن کسی بھی شخص کو جانچنے کے لیے چند معیار ملحوظ ِخاطر رہنے چاہئیں جن میں کتاب وسنت سے اس کی وابستگی اور شیفتگی، اپنی اولاد کی دینی خطوط پر تعلیم وتربیت، اپنی نجی زندگی میں تقویٰ اورطہارت اور اسلام کی سربلندی کے لیے مسلسل جدوجہد اور محنت سر فہرست ہیں، ڈاکٹر صاحب کو ان تمام باتوں سے حظ وافر ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور دین اسلام کی خاطر ان کی مساعی جمیلہ کو ان کے لیے توشۂ آخرت بنا دے۔

19۔ مجلس عمل اور مجلس شریعت اسلامیہ کا قیام

یہ 1981ء ، 1982ء کی بات ہے جب انگلینڈ کے ایک مذہبی طبقہ کی طرف سے مسلکی اختلاف اور سیاسی عناد کی بنا پر یہ تحریک شروع کی جا چکی تھی کہ ارضِ حجاز جسے مکہ اور مدینہ اکی میزبانی کا شرف حاصل ہے، عالم اسلام کی مجموعی تولیت میں دے دیا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک کانفرنس کا بھی انعقاد کیا گیا۔

اس بے ہنگم تجویز کی نامعقولیت کو آشکار کرنے کے لیے برطانیہ کے اہل علم ودانش، قرآن وسنت کی دعوت کے علمبردار علماء و مشائخ اور فکر سلیم کے پاسبان حضرات کی جانب سے ایک مجلس عمل قائم کی گئی اور اتحاد ملت کا نعرہ بلند کیا گیا اور اس سلسلے میں برمنگھم شہر کی جامع مسجد کے وسیع وعریض ہال میں ایک عظیم الشان کانفرنس بھی منعقد کی گئی۔

اس کانفرنس کے اسٹیج پر ان تمام مسالک اہل سنت کے متعدد علماء موجود تھے جو اہل اہوا اور بدعت کی ریشہ دوانیوں سے بخوبی واقف تھے۔ اگر دار الافتاء کی طرف سے مجھے نمائندگی کا شرف حاصل تھا تو مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کی جانب سے مولانا محمود احمد میرپوری نے نمائندگی کا بھرپور حق ادا کر دیا۔

اس موقع پر والد مکرم کا ایک مضمون ’سنت اور اتحاد ملت‘ کے عنوان سے ایک کتابچے کی شکل میں عام لوگوں کے لیے دستیاب رہا۔

میرے ذہن میں اس وقت اسلامی شریعت کونسل کے نام سے ایک تنظیم کا خاکہ انگڑائیاں لے رہا تھا۔ ایک ایسی تنظیم جو برطانیہ کے مسلمانوں کے لیے تمام دینی مسائل میں ان کی رہنمائی کر سکے، فقہی سوالات کا قرآن وسنت اور اجتہادات ائمہ کی روشنی میں جواب مہیا کر سکے اور مسلمان خاندانوں کے عائلی نزاعات میں ثالثی کا فریضہ انجام دے سکے۔ میں اپنے خیالات تحریری شکل میں ائمہ، مدیران مساجد ومراکز کے سامنے پیش کر چکا تھا۔ ضرورت تھی کہ اسے عملی جامہ پہنایا جائے، چنانچہ کانفرنس کے اختتام پر 10 اسلامی مراکز ومساجد کا ایک نمائندہ اجلاس بھی بلایا گیا، جس میں اس تجویز کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا گیا اور ا سکے بال و پر کو ایک لڑی میں پرونے اور اس کے خدوخال کو نکھارنے پر توجہ دی گئی۔

اس تجویز پر صاد کیا گیا اور اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اس تنظیم کے صدر اور سیکرٹری کو بھی منتخب کر لیا جائے۔ اس موقع پر علامہ خالد محمود اپنی کرسی سے اٹھے، میرے سر پر ہاتھ رکھا اور گویا ہوئے کہ ہم نے اپنی سی جدوجہد تمام کر لی ہے، اس لیے میں صدارت کے لیے لندن کی مرکزی مسجد یعنی ریجنٹ پارک کے اسلامک سنٹر کے امام وخطیب ڈاکٹر سید متولی الدرش اور نظامت کے لیے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ مولانا محمود احمد میرپوری کا نام تجویز کرتا ہوں۔ ان کی اس تجویز کو بالاتفاق منظور کیا گیا اور یوں اسلامی شریعت کونسل کی کاروائیوں کا آغاز عمل میں آ گیا۔

1982ء سے لے کر تام دم تحریر (2022ء) 40 سال کا عرصہ گذر چکا ہے، کونسل اب ایک تناو وَر درخت بن چکی ہے لیکن اس طویل عرصہ میں جن نشب وفراز اور مدّ وجد سے وہ گذری، اس کا تذکرہ اس آپ بیتی کا حصہ بنتا رہے گا۔

20۔ مسجد پکاڈلی

پکاڈلی لندن کا دل کہلاتا ہے، غالباً اس لیے کہ یہاں کا سارا ماحول تھیٹر، سینما، میوزیم وغیرہ سے عبارت ہے۔

ایک دن اس علاقے کی واحد مسجد کا قصد کیا۔ میں پکاڈلی کی تنگنائیوں میں راستہ تلاش کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا تو بعض دوکانوں کے جھروکوں اور شیشوں سے نامناسب (بلکہ شرم وحیا کے منافی) شہوانی جذبات کو برانگیختہ کرنے والے نقش ونگار، مصنوعی صنفی اعضا کے اشتہارات اور تماشا ہائے صبح وشام کے اعلانات جگہ جگہ نظر آئے۔ انکشاف ہوا کہ

معروف معنوں میں یہ بازار حسن نہیں ہے لیکن اس بازار کا ایک شہوانی باب ہے جو عیاش اور اوباش تماش بینوں کے جذبات کو بہلانے کے اسباب عیش مہیا کرتا ہے۔

میں تیز قدم بڑھاتے ہوئے ایک تنگ سی سٹرک کے اس دو منزلہ یا سہ منزلہ مکان تک پہنچ گیا جس میں ایک مسجد قائم تھی۔ یہ ایک تنگ سا مکان تھا جس کی نچلی منزل میں وضو خانہ، گراؤنڈ فلور پر مصلی اور پہلی منزل میں بچوں کی تعلیم کے لیے جز وقتی مدرسے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

یہ میرا اس مسجد کا پہلا اور آخری دیدار تھا۔ مسجد کے امام اور خطیب سے ملاقات ہوئی۔ یہ معلوم کر کے خوش ہوئی کہ وہ تو میرے ایک دیرینہ شناسا نکلے، احرار الزمان میرے ایامِ مدینہ کے دوران جامعہ کے طالب علم رہے تھے۔

ان کے بارے میں اتنا تو معلوم تھا کہ وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش میں اپنی نئی دنیا بسا چکے تھے لیکن کن حالات میں انہیں یہاں آنا پڑا وہ میرے علم میں نہ تھا۔ ان سے مختصر سی ملاقات رہی۔ میں نے پوچھا: حضرت! یہ آپ کو اس جائے تماشا اور عالَم شراب وکباب میں مسجد قائم کرنے کی کیا سوجھی کہ جہاں ایک مسلمان کو آنے جانے میں بھی تکلف کا سامنا کرنا پڑے تو انہوں نے جو جواب دیا وہ آج تک میرے نہاں خانہ دل میں گونج رہا ہے۔

کہنے لگے: آپ یہ بتائیں کہ موم بتی کہاں جلائی جاتی ہے؟

میں ان کی ہمت کو داد دیتا ہوں کہ

انہوں نے اندھیرے میں ایک روشنی کی کرن چمکا رکھی ہے، اللہ کرے کہ یہ گھر آباد رہے۔

خیال رہے کہ ہمارے بنگالی بھائیوں نے برطانیہ کے طول وعرض میں ریسٹوران قائم کرنے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے اور پھر ہر ریسٹوران کے قرب وجوار میں انہیں کرائے یا کونسل کے مکانات کی بھی تلاش رہتی ہے۔ گو ان میں سے اکثر صرف اپنے کام یا ملازمت کے ہو کے رہ جاتے ہیں لیکن ان میں ایسے نفوس قدسیہ کی کمی نہیں جو تاریکیوں میں چراغ جلانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں