گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 13)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

یہ بات ہے 1994ء کی!!

پاکستان میرا وطن ہے اور پاکستان کے بارے میں اپنے لیل ونہار کا ذکر کرنا بےجا معلوم ہوتا ہے لیکن اس دفعہ وطن عزیز کی زیارت، احباب و اقرباء سے ملاقات اور سیر وسیاحت کے گہرے نقوش لیے ہوئے تھی کہ بے اختیار چند یادوں کا تذکرہ صفحہ قرطاس کے حوالے کرنے کے لیے میرا قلم بے تاب چل پڑا۔

کراچی: جب سے والد مکرم پہلے فیصل آباد اور پھر اسلام آباد منتقل ہوئے ہیں، ہمارا کراچی کا قیام مرورِ کرام کی حدتک رہا ہے، ہمشیرہ اور اعزہ سے ملاقات اولین مقصد رہا ہے لیکن چند یادوں کا تذکرہ کیے بغیر آگے بڑھنے کو دل نہیں مانتا۔

برادرم جمیل فیصل گو والد کے ابناء عم میں سے ہیں لیکن عمر ورتبہ میں میرے قریب قریب ہیں، اس لیے ان سے قریبی تعلق ہے اور ہر دفعہ ایک مختصر نشست ان کے ساتھ رہتی ہے۔ جامعہ کراچی میں ریاضیات کے استاد ہیں، گوشۂ عافیت میں رہنےوالے نہیں بلکہ مجلسی آدمی ہیں۔ کراچی کی متعدد محفلیں ان کے درس قرآن یا وعظ ونصیحت سے بھرپور ان کی تقاریر سے آباد رہتی ہیں، جہاد کشمیر کی حقیقت اور بحیثیت جہاد اس کی شرعی حیثیت پر ان کے ساتھ گفتگو رہی اور اس دفعہ چونکہ میں آزاد کشمیر جانے کا پروگرام رکھتا تھا، اس لیے مناسب جانا کہ اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو ہو جائے۔

محبی محمد سلفی جامعہ ستاریہ کے روح رواں ہیں اور ان سے ملاقات، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے شب و روز اور پھر کینیا میں گذرے ہوئے اوقات کی یاد تازہ کر دیتی ہے، معلوم ہوا کہ وہ ان دنوں کینیا ہی کے دورے پر ہیں، اس لیے ملاقات نہ ہو سکی۔

نارتھ ناظم آباد میں میری رہائش گاہ سے قریب ہی چند اہل حدیث احباب نے مسجد نمرہ کے نام سے پچھلے سال ایک مسجد کی داغ بیل ڈال دی ہے۔ ابھی زیر تعمیر ہے، فی الحال ایک سادہ سا ہال اور برآمدہ جمعہ اور جماعت کے لیے کفایت کر رہا ہے۔

مسجد کے امام صاحب کا تعلق بلتستان سے ہے جنہوں نے میرے مختصر قیام کے دوران احباب کے ساتھ ایک نشست منعقد کر ڈالی جس میں برطانیہ کے میرے علمی اور دعوتی کام کا تعارف سرفہرست رہا۔

قاضی عبد القادر ہمارے ہمسایہ ہیں۔ بہت ہی مخلص، باہمت، کام کے دھنی، میدان دعوت کے شاہسوار، زندگی کا بڑا حصہ جماعت اسلامی کے سایہ میں گذارا، اب ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی سے وابستگی اختیار کر لی ہے، ان کا اپنا گھرانہ، اہلیہ اور بیٹوں کے ساتھ جماعت، تنظیم اور تبلیغی جماعت کا سنگم نظر آتا ہے اور یقیناً یہ صورتحال خوب بحث ومباحثہ اور تبادلہ خیالات کو جنم دیتی ہو گی۔

قاضی صاحب کے ہاں سے ان کے پسندیدہ الرسالہ اور تکبیر کے تازہ شمارے مطالعے کے لیے دستیاب ہوئے اور تکبیر کے حوالے سے پاکستان کی سیاست کے بہت سے گوشے بے نقاب ہوئے۔

برادرم افضال احمد اعظمی کا گھر بھی زیادہ دور نہ تھا، وہ اور ان کے برادر بزرگ نثار احمد اعظمی (نیروبی) میں ہمارے پڑوسی تھے، برادرم افضال سے تو بہت قریبی تعلق رہا۔ انگریزی زبان ان کا اوڑھنا بچھونا ہے اور سروس سے ریٹائر ہونے کے بعد انگریزی اخبارات میں اپنے قلم کی جولانیاں دکھاتے رہتے ہیں۔ یہاں آنے سے قبل یہ خبر وحشتناک موصول ہو چکی تھی کہ ان کے بھائی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔

نثار احمد کینیا کے مختلف شہروں میں استاد بلکہ ہیڈ ٹیچر کی حیثیت سے فعال رہے، اپنی صاحبزادیوں کو میڈیسن کی تعلیم دلوائی اور ان کے لیے ایک تاباں مستقبل چھوڑتے گئے، وہ رکھ رکھاؤ والے آدمی تھے۔ دین سے انتہائی شغف تھا ، نماز کے اتنے پابند تھے کہ اکثر فجر کی نماز کے وقت اپنے گھر سے چلتے ہوئے آتے جو کہ فاصلے پر تھا اور پھر افضال احمد کا دروازہ کھٹکھٹاتے اور پھرمیرا۔ افضال تو ان کے سگے بھائی تھے، اس لیے بعض دفعہ ان پر یہ کرم کرتے کہ اگر وہ نہ اٹھیں تو پانی کی بالٹی ان پر انڈیل دیتے۔ آخری ایام کچھ غفلت میں گذرے، اللہ تعالیٰ ان کی عبادت کو قبول فرمائے اور اسے ان کے لیے باعث نجات بنائے۔

برادرم ممنون احمد اپنے گھر میں باقاعدہ درس قرآن کا اہتمام کرتے ہیں اور میری آمد پر اس کارِ خیر میں مجھے بھی شریک کرتے ہیں لیکن معلوم ہوا کہ ان دنوں شارقہ کے دورے پر ہیں ، اس لیے یہ موقع نصیب نہ ہوا۔

اسلام آباد: پاکستان کے خوابیدہ دار السلطنت میں دو ہفتے قیام رہا۔ خوابیدہ اس لیے کہ پاکستان کے دوسرے شہروں کے برعکس یہ شہر اپنی وضع قطع اور روایات میں مشرق اور مغرب کا ایک حسین امتزاج ہے۔ رات کا اندھیرا ہوتے ہی یہاں کی چہل پہل موقوف ہو جاتی ہے۔ اس شہر کی بنیاد ہی حکومتی اداروں سے شروع ہوئی، یہاں قومی اسمبلی ہے، وزارتوں اور سول سروس کے دفاتر ہیں، متعدد جامعات اور ان کے ہاسٹلز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہاں کے سرکاری ملازمین اپنی تنخواہ کو گریڈ کے حوالہ سے ذکر کرتے ہیں اور اسی لحاظ سے ان کے رتبہ اور منزلت کو بھی پہچانا جاتا ہے۔

رات کو یہ شہر اگرتاریکی کی چادر اوڑھ لیتا ہے تو دن کی روشنی میں ہر طرف بہار کے رنگ بکھیرتا ہے، سرسبز پہاڑیوں کے دامن میں آباد، جنگلات سے ڈھکا ہوا اور اپنے دامن میں کئی ندی نالوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ مارگلہ کی اونچی پہاڑیوں میں ’دامن کوہ‘ ایک پرکشش مقام ہے جہاں سے اسلام آباد کا نظارہ دل کو فرحت، دماغ کو تروتازگی اور بصارت کو جلا بخشتا معلوم ہوتا ہے۔

جب سے لندن میں اقامت پذیر ہوا، وہاں کی سخت سردی اور بھیگے ہوئے موسم نے اقبال کے آداب سحرخیزی کو عالم فراموشی کی نذر کر کے رکھ دیا، لیکن اسلام آباد کی نسیم صبح کو مشام جان سے معطر کرنے کے لیے بےتاب رہتا ہوں، چنانچہ جب بھی یہاں آتا ہوں اپنے چھوٹے بھائیوں یا بھتیجوں کی معیت میں درختوں سے گھری سڑکوں کو پاپیادہ کاٹنے کا خوب لطف اٹھاتا ہوں۔

ایک رات گھپ اندھیرے میں ہم ایک بیرونی سڑک پر اطباء کی اس نصیحت کو عملی جامہ پہنا رہے تھے کہ

تَغَدَّ تَمَدَّ تَعَشَّ تَمَشَّ (چاروں حروف میں یا محذوف ہے)

جسے انگریزی میں یوں بیان کیا جاتا ہے:

After Lunch Rest a While And After Dinner Walk A Mile

کہ ایک معمر ٹیکسی والے اپنی ٹیکسی روکی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو منزل مقصود تک پہنچا دوں۔ ہم نے بے رخی کا اظہار کیا تو وہ گویا ہوا کہ میں کسی اجرت کا طالب نہ تھا۔ آپ لوگوں کو باریش دیکھ کر خیال آیا کہ آپ حضرات کی مدد کروں تو پھر ہم نے اپنے عزم کوہ کنی کا اظہار کیا اور اسے بصد شکریہ رخصت کیا۔

ایک صبح ہم دو بھائی درختوں کے جھنڈ میں تنگ سی پگ ڈنڈی پر ہوا خوری کا لطف اٹھا رہے تھے کہ اسلام آباد کے ایک دیسی انگریز کے گرانڈیل کتے سے سامنا ہو گیا۔خود لندن میں اپنے گھر کے سامنے ایک وسیع پارک ہے جس میں صبح صبح سیر کرنے کو طبیعت اس لیے اباکرتی ہے کہ اکثر ان کتوں کا سامنا ہو جاتا ہے جو اپنی مخصوص تربیت کی بنا پر حملہ آور نہیں ہوتے لیکن ان کا قرب بدن میں سنسنی سی دوڑا دیتا ہے۔ اس کتے کو بھی دیکھ کر یہی کیفیت طاری ہوئی۔ بھلا ہو ہمارے دیسی انگریز کا کہ اس نے اپنے کتے کو اپنی حدودکا پابند رکھا اور ہم بعافیت گھر واپس پہنچے۔

اسلام آباد ایک علمی اور معلوماتی شہر ہے، جہاں اب تک کئی علمی اور دعوتی ادارے وجود میں آ چکے ہیں۔

فیصل مسجد کے دامن میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور اس سے ملحق اسلامی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہے جسے ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی سرپرستی حاصل ہے۔ پھر دعوہ اکیڈمی ہے جو ڈاکٹر محمود غازی کے زیر نگرانی کام کر رہی ہے۔

غالباً سیکٹر G8 میں پروفیسر خورشید احمد کا انسٹیٹیوٹ آن پالیسی اسٹڈیز ہے، ایک سیکٹر میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ہے جس کے قرب وجوار میں جماعت اہل حدیث کا قائم کردہ جامعہ سلفیہ ہے جس کے احاطہ میں بعض عرب محسنین کی کاوشوں سے افغان مہاجرین کے لیے خاص طور پر ایک تعلیمی ادارے کی نئی نویلی بلڈنگ کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔ برادرم بشیر سیالکوٹی کا اشاعتی اور تدریسی ادارہ دار العلم کے نام سے قائم ہے جہاں درس نظامی عربی زبان کی خصوصی تدریس کے ساتھ پڑھایا جا رہا ہے۔ اتحاد العلماء کا اپنا سنٹر ہے جس کے تحت ایک ماہانہ رسالہ ’الاتحاد‘ عربی اور اردو میں نکلتا ہے کہ جس کی ادارت میرے ایک برادر خورد احمد حسن (ایم اے عربی اور اسلامیات) کے سپرد ہے۔

عربی طلبہ کی ایک کثیر تعدد ان مختلف اداروں سے وابستہ ہے کہ جس کی وجہ سے اسلام آباد ایک بین الاقوامی شہر کار وپ دھار چکا ہے۔

والد محترم (مولانا عبد الغفار حسن) کبر سنی اور ضعف کی بنا پر اکثر گھر ہی میں رہتے ہیں لیکن ان کا سارا دن مطالعہ اور درس وتدریس میں گزرتا ہے۔ اکثر شام کے اوقات میں عرب اور غیر عرب طلبہ چلے آتے ہیں اور بعض تو باقاعدہ اصول حدیث اور حدیث کی درسی کتب ’قراءت علی الشیخ‘ کے انداز سے پڑھ رہے ہیں۔

دعوہ اکیڈمی کے زیر اہتمام والد صاحب کے دو ہفتہ وار لیکچر رکھے گئے تھے جس کے طلبہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے جج حضرات تھے۔ بحکم والد یہ دونوں لیکچر میرے حصے میں آئے۔ ایک کا موضوع ’مقام سنت‘ اور دوسرے کا ’اسلام میں اجتہاد تھا۔ ایک ایک گھنٹہ کے لیکچر کے بعد سوال وجواب کا سلسلہ بھی جاری رہا کہ جس سے موضوع کے نکھرنے میں مدد ملی۔

جمعیت اہل حدیث کی مرکزی مسجد آب پارہ میں ’مجلس بحث علمی‘ کے نام سے ایک ادارے کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے کہ جس کی ضرورت اور اہمیت پر والد صاحب کافی عرصہ سے زور دے رہے تھے اور جسے اب مولانا عبد العزیز حنیف خطیب مسجد اہل حدیث نے عملی شکل عطا کی ہے۔ اس مجلس کے اجلاس میں شرکت کاموقع ملا۔ اس مجلس میں چند حضرات نے مختلف عنوانات پر آئندہ اجلاس کے انعقاد تک چند علمی مقالات تیار کرنے کا وعدہ کیا۔ مجلس کے کنوینر ڈاکٹر ادریس ہیں جو چند سال قبل اپنی بیگم کی معیت میں گلاسکو، اسکاٹ لینڈ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ دونوں میاں بیوی گو اسلامک یونیورسٹی کے اساتذہ میں سے ہیں لیکن دعوت وتبلیغ کے میدان میں بڑی تندہی سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی رمضان میں خواتین کے لیے درس قرآن کا اہتمام کرتی رہی ہیں جس میں عمائدین شہر بلکہ اکابرین حکومت کی بیگمات بھی شریک ہوتی رہتی ہیں، یہ سلسلہ رمضان کے بعد سے بھی قائم ہے۔ ڈاکٹر ادریس نے مردوں کےلیے ہفتہ وار درس کا اہتمام کر رکھا ہے اور میری موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا ایک درس مجھے نذر کر دیا کہ میں ان کے شرکاء درس سے خطاب کر سکوں، ان کا یہ سلسلہ اب ایک باقاعدہ مرکز کی شکل اختیار کر چکا ہے، ایک وسیع اور کشادہ بلڈنگ میں نہ صرف ہفتہ وار دروس بلکہ طلبہ وطالبات کی تعلیم کا بھی آغاز کیا جا چکا ہے۔ اللهم زد فزد

قیام اسلام آباد کے دوران یہاں کے معززین میں سے جناب رندھاوا صاحب نے اپنی کوٹھی کی وسیع نشست گاہ میں ایک دن احباب کو مدعو کیا۔ والد محترم نے درس دیا اور میں نے برطانیہ کے حوالہ سے دعوت وتبلیغ کے چند پہلوؤں پر گفتگو کی۔

میرے لیے قیام اسلام آباد اس لیے بارآور رہا کہ لگاتار تین جمعے مرکزی مسجد آب پارہ اور پھر G9 کی ایک ذیلی مسجد میں خطبہ جمعہ دینے کا شرف حاصل رہا۔

خطبہ جمعہ میں جہاد افغانستان کی موجود صورتحال اور سابق مجاہدین کی شرمناک جنگجوئی کے نتیجہ میں اس جہاد کے ثمرات ضائع ہو جانے کے اسباب وعلل کو موضوع بنایا گیا اور ایسے ہی بعض نام نہاد مفکرین کے اسلام کو لبرل ازم کا لبادہ اوڑھانے کے شوق میں اسلام کی اساسی تعلیمات کو نشانہ ستم بنانے کی تحریک پر تنقید اور اصلاح احوال اور دعوت الیٰ اللہ کی ضرورت واہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

مدینہ منورہ میں تعلیم کے دوران جو چند رفقاء ساتھ تھے ان میں سے برادر یوسف کاظم، مولانا عبد اللہ کاکا خیل اس وقت اسلامی یونیورسٹی میں بحیثیت استاد کام کر رہے ہیں اور برادرم عبد الرحمٰن ناصر اپنے ذوق وشوق کے مطابق ایک حساس ادارے کے ساتھ ہیں۔ صرف اول الذکر سے ملاقات ہو سکی۔ مؤخر الذکر دونوں حضرات سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔ برادرم عبد الرحمٰن سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا لیکن معلوم ہوا کہ وہ اپنی نواسی کی پیدائش کے فوراً بعد گذر جانے کی بنا پر مصروف ہو چکے ہیں اور اب اگلی سطور میں مظفر آباد ( آزاد کشمیر) کی زیارت کے احوال ملاحظہ ہوں۔ (جاری ہے)

٭٭٭

پندرہ شعبان کو برات کی رات سمجھنا

اس رات کے متعلق مسلمانوں میں بعض ضعیف اور موضوع روایات کی بنیاد پر عام رجحان پایا جاتا ہے کہ یہ بخشش اور جہنم سے آزادی کی رات ہے اس لئے بڑے اہتمام کے ساتھ جوق در جوق شب بیداری کی جاتی ہے اور ہجوم کی شکل میں قبرستانوں کی زیارت کی جاتی ہے، بڑے زور و شور کے ساتھ گھروں اور قبرستانوں میں چراغاں کیا جاتا ہے جبکہ نبی ﷺ سے صحیح احادیث میں صرف اتنا ہے کہ اللہ تعالی اس رات میں مشرک اور کینہ توز کے علاوہ سب کو معاف کر دیتا ہے چنانچہ حدیث میں ہے :

عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ :” إِنَّ اللَّهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ

’’سیدنا ابو موسیٰ الاشعری نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نصف شعبان کی رات جلوہ افروز ہوتا ہے پس اپنی ساری مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ پرور کے۔‘‘(سنن ابن ماجہ :1390)

اس روایت میں زیادہ سے زیادہ اس رات اللہ کی عام بخشش کا ذکر ہے جو اس میں کی جانے والی کسی خاص عبادت سے مشروط نہیں ہے اور نا ہی اس بنیاد پر نبی کریم ﷺ نے صحیح روایات کے مطابق کبھی بھی خصوصیت کے ساتھ رت جگا کیا اور نا ہی صحابہ کرام کو اس کی ترغیب دلائی۔ شیطان کی چالیں بھی عجیب ہیں اس نے اس رات میں جس کی عبادت کا ثبوت نبی ﷺ سے ثابت بھی نہیں مصنوعی عبادتوں میں لگا کر مسلمانوں کو ان راتوں سے غافل کر دیا جن میں اللہ اپنے بندے کو آواز لگا لگا کر پکارتا ہے۔ حدیث میں ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ، يَقُولُ : مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟

’’سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ ہمارا رب آسمان دنیا پر ہر رات نزول فرماتا ہے جب آخری تہائی رات باقی رہ جاتی ہے اور اعلان کرتا ہے، ہے کوئی مجھے پکارنے والا میں اس کی پکار سنوں؟ ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا میں اس کو عطا کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟‘‘

آج کا مسلمان اسی رات کی عبادت کو اپنے لئے کافی سمجھتا ہے حتی کہ اس کو فرائض کی بھی پرواہ نہیں ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں