گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 15)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

افتتاحیہ

ان سطور کی ابتداء میں نے کینیا سے لندن آمد یعنی جولائی 1976ء سے کی تھی اور خیال تھا کہ تاریخی تسلسل کے ساتھ زندگی کے اہم واقعات بیان کرتا چلوں گا۔ اب تک تیرہ اقساط صراط مستقیم کے صفحات پر جلوہ افروز ہو چکی ہیں۔ ان میں چار وہ مزید مضامین ہیں جو جامعہ اسلامیہ کا ایک تعلیمی سال کے عنوان سے جامعہ میں میرے سال دوم (1963ء) کی روئداد پر مشتمل ہیں۔ یعنی تاریخی تسلسل قائم نہیں رہ سکا۔ کئی ایسے واقعات، سفر ناموں اور یادرفتگاں کا تذکرہ بھی قلمبند ہوتا گیا جو بہت بعد کے ایام سے متعلق تھے لیکن موقع محل کی مناسبت سے تحریر میں آتے گئے۔ اب چاہتا ہوں کہ دوبارہ رشتہ کلام 1983ء سے شروع کروں کہ جہاں تک میں اپنے ماضی میں جھانک چکا تھا۔

واضح رہے کہ میں اپنی روز مرہ، ہفتہ وار یا ماہوار مصروفیات کا ذکر کر کے قارئین کی سماعت (یا نظر وبصارت) پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا ہ یہ ساری مصروفیات ایک طالب علم، ایک داعی الیٰ اللہ، ایک امام یا ایک مبلغ کے جزو حیات کی سی حیثیت رکھتی ہیں اور جن میں درس وتدریس، مسلم قیدیوں سے جیل میں ملاقات، وہاں جمعہ کا اہتمام، مساجد، کالجوں، یونیورسٹیوں میں تقاریر، قرآن سوسائٹی کے زیر سایہ دروس کی طباعت و اشاعت، ملک بھر میں دار الافتاء کے ایماء پر مساجد ومراکز کا دورہ، ان کی ضروریات، تعمیر وترقی کے بارے میں معلومات کا حصول، جمعیت اہل حدیث اور شریعت کونسل کے اجلاسوں میں شرکت اور دوسری متعدد مصروفیات شامل رہیں۔

البتہ اتنا ضرور چاہوں گا کہ ہر سال کے اہم واقعات کے اختتام پر ’متفرقات‘ کے عنوان سے چند سطروں میں تاریخی ریکارڈ کے طور پر کسی تنظیم کے قائم ہونے یا کسی مشہور شخصیت کے شریک محفل ہونے کا تذکرہ کرتا چلوں جو قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہوں۔ معلوماتی اعتبار سے یا اپنی ندرت اور انوکھے پن کی وجہ سے اور اس ضمن میں کئی شخصیات کا تذکرہ بھی آتا رہے گا، وہ بھی جو زمرہ مشاہیر میں آتے ہیں اور وہ بھی جن سے دوستی اور گہرے تعارف کا شرف حاصل رہا۔

اور اسی عزم کے ساتھ میں اس قسط کا آغاز کر رہا ہوں جس میں سرفہرست ہے:

’التوعیۃالاسلامیہ فی الحج‘

یہ سال 1982ء سے متعلق ہے اور چونکہ اس ادارے کی نسبت سے میں اس سال کے بعد عرصہ دراز تک اس کمیٹی کی دعوت پر مکہ مکرمہ جاتا رہا، اس لیے آئندہ بھی اس کا ذکر خیر آتا رہے گا۔ کوشش کروں گا کہ واقعات کے بیان میں تاریخ کا تسلسل قائم رہے۔

التوعیۃ الاسلامیہ فی الحج

شیخ عبد العزیز بن باز کی حسنات میں سے اس ادارے کا قیام ہے، جسے مذکورہ بالا نام دیا گیا، یعنی حج کے دوران اسلامی تعلیمات سے آگاہی کا ادارہ

ہر سال حج کے دوران دنیا کے اطراف واکناف سے لاکھوں لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے تشریف لاتے ہیں تو کیوں نہ ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا جائے اور انہیں عموماً اسلام کی تعلیمات سے اور بالخصوص حج کے مسائل سے آگاہ کیا جائے؟

یہ وہ مقصد تھا کہ جس کی خاطر یہ ادارہ قائم کیا گیا۔ جامعہ کے اولین فارغین میں سے شیخ جابر احمد مدخلی کو اس ادارہ کا سربراہ بنایا گیا۔ مکہ، جدہ، مدینہ میں اس کے مراکز قائم کئے گئے اور نہ صرف سعودیہ کے علماء بلکہ دوسرے ممالک سے بھی ایسے علماء، دعاۃ اور مبلغین کو دعوت دی گئی جو مملکت کی جامعات سے فیض یافتہ ہوں یا ثاقب فکر اور عقیدہ سلیم رکھتے ہوں۔

مجھے غالباً ہجری سال 1401 (1981ء) سے مدعو کیا جانے لگا، 1982ء کی یاد داشتیں میرے پاس محفوظ ہیں۔

کوشش کروں گا کہ انہیں اختصار کے ساتھ بیان کرتا چلوں، یہ سطور چونکہ 2023ء میں تحریر کی جا رہی ہیں اور اب اس ادارے کا وجود بھی باقی نہیں اور خود میں بھی 2004ء کے بعد سے اس ادارے کی کاروائیوں میں شریک نہیں رہا۔

اس لیے مناسب سمجھتا ہوں کہ سال بسال کی یادداشتوں کو بالترتیب قلمبند کرتا جاؤں۔ آغاز 1982ء سے کرتا ہوں۔

مجھے جدہ کی بندرگاہ سے متعلق مرکز سے وابستہ کیا گیا تھا، قیام شہر میں ایک مکان میں تھا لیکن سارا دن بندرگاہ کے قریب حج کیمپ میں عارضی طور پر مقیم حاجیوں میں گذرتا تھا۔

میرے دوستوں اور شناسا ساتھیوں میں یہ حضرات شامل تھے، برازیل سے احمد محایری، فتح الدین تنکل (کینیا)، حافظ ثناء اللہ ( لاہور )، ان کے علاوہ نائیجیریا، گھانا، بنگلہ دیش کے ساتھی شامل تھے، ہمارے رئیس شیخ صالح غانم السدلان تھے اور مشائخ میں سے ریاض کے شیخ فہد الذکری تھے۔

چونکہ بندرگاہ ہر دن مصروف عمل نہ تھی، اس لیے چند دن جدہ ائیرپورٹ کی مسجد میں بھی گذرے کہ جہاں ہوائی جہاز سے حاجیوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔

اس کیمپ کے صدر شیخ سعود البشر تھے اور ان کے ساتھ چند مقامی ائمہ اور پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا کے چند فارغین بھی تھے، ان دو جگہوں کے علاوہ ہمارے کام کا دائرہ بسوں کے اڈے اور قبر سیدنا حوا تک پھیلا ہواتھا۔

جن مساجد میں خطاب کا موقع ملا ان میں مسجد رضا (بغدادیہ)، مسجد الوالدین، مسجد الامیر عبد اللہ سلمان اور مسجد مدینۃ الحجاج شامل ہیں۔

دوران حج جن دوستوں، احباب اور اہل علم سے ملاقات رہی، ان کے اسماء گرامی کا ذکر کیے دیتا ہوں۔

ڈاکٹر صالح الفوزان،شیخ صالح (نابینا)، احمد سہلی، سلیمان شبانہ، محمد حسن الدریعی، مصطفیٰ برہام، ڈاکٹر محمود غازی (مصر)، میرے لندن کے رفیق ڈاکٹر الدورش، اسماعیل الخطیب (تطوان، مراکش)، ڈاکٹر مقتدی ازہری (ہندوستان)، میرے یوگنڈا اور پھر کینیا کے رفیق سراج الرحمٰن ندوی، عبد اللہ یاسین، الشیخ سیلا، ڈاکٹر خدیم امباکی (سینگال)، دار الافتاء میں الدعوہ فی الخارج کے مدیر شیخ محمد بن قعود، شیخ اسماعیل بن عتیق، روڈیشیا میں ہمارے رفیق عبد الرحمٰن مبارکپوری، ہمارے جامعہ کے استاد محمد شقرہ، شیخ احمدصالح، تاج الدین شعیب، حیدر ملیباری، کینیا کے ایک پرانے ساتھی محمد مسلّم۔

جن نئے رفقاء سے تعارف ہوا:

ہالینڈ کے مبعوث سفیان ثوری، جن کا تعلق انڈونیشیا سے ہے، شیخ عبد الرحمٰن یعقوب، التوعیہ کے میگزین کی مجلس ادارت کے رکن، اصلاً مصر سے ہیں اور مصر ہی کے شیخ عبد اللطیف بدر جو امارات میں مبعوث کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، ہم نے پورا ایک ماہ بشمول ادائیگی حج حجاز مقدس میں گذارا۔

8 اکتوبر 1982ء کو جیزان کا ایک مختصر سفر رہا، جہاں کینیا اور یوگنڈا میں مبعوثین کے مدیر شیخ احمد عبدہ مدخلی سے ملاقات مقصود تھی۔

1983ء کا حج میری ڈائری میں جگہ نہ پا سکا، البتہ 1984ء (1404ھ) کے حج کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔

18اگست (20 ذوالقعدہ) کو میں مکہ مکرمہ پہنچا۔

عمرہ کی ادائیگی سے فارغ ہونے کے بعد الشسشہ (مکہ) میں توعیہ اسلامیہ کے دفاتر کے قریب اپنی رہائش گاہ کا رخ کیا۔

اس دفعہ حرم مکی میں فجر اور مغرب کے بعد حاجیوں سے مخاطب ہونے کا موقع دیا گیا لیکن تین دن کے بعد ہی سرکاری ہدایات موصول ہو گئیں کہ حرم میں صرف سعودی علماء ہی کو خطاب کی اجازت ہو گی، چنانچہ حرم کے اردگرد کی مساجد میں غیر سعودیوں کو خطاب کرنے کے لیے متعین کر دیا گیان۔ جن مساجد میں مجھے خطاب کا موقع ملا، ان کے نام ذکر کیے دیتا ہوں۔

 مسجد شامیہ (ایک دفعہ)

 مسجد خضرا (دو مرتبہ)

 مسجد البرید (دو مرتبہ)

 مسجد الجن (ایک دفعہ)

 مسجد الملک (ایک دفعہ)

خطاب کے علاوہ حرم کے قریب ایک چوکی سے حاجیوں میں کتب کی تقسیم اور کبھی کبھار دستی مائیکروفون سے حاجیوں کو خطاب کرنے کے فرائض بھی سر انجام دیئے۔

ہماری رہائش گاہ شِشہ سے کچھ فاصلے پر غزّۃ کی ایک بلڈنگ میں تھی۔

یہاں کوئی تیس کے قریب مبغلین کا قیام تھا، ان میں سر فہرست تھے ڈاکٹر عبد اللہ بن زاید اور ہندوستان سے مولانا مختار ندوی۔

حج کے دوران منیٰ، عرفات، پھر مزدلفہ اور منیٰ کے قیام کے دوران حاجیوں سے متعلق اپنے فرائض کو انجام دیا۔

18 ذوالحجہ (13 ستمبر 1984ء) کو ہماری ڈیوٹی کا آخری دن تھا، 20 ذی الحجہ کی دوپہر امام حرم مکی شیخ عبد اللہ بن سبیل اور ان کے لائق وفائق صاحبزادے شیخ عمر کے دولت کدہ پر ظہرانہ تناول کیا۔ اگلے دن شیخ ابن باز کے خاص الخاص سیکرٹری، ان کے ابن عم عبد العزیز ناصر سے بھی ملاقات رہی۔جدہ کی بندرگاہ پر ہمارے پرانے استاد اور مربی عبد الوہاب البناء کی ڈیوٹی تھی۔ اپنے برادر اکبر شعیب حسن اور برادر نسبتی یحییٰ کے ساتھ بندرگاہ کی مسجد جامع میں ان سے ملاقات لیے حاضر دی، وہاں برادرم صغیر احمد شاغف بھی موجود تھے اور پھر اگلے دن (18 ستمبر) کو لندن واپسی ہوئی۔

افتتاح مکتب رابطہ عالم اسلامی

رابطہ عالم اسلامی کے صدر دفتر مکہ مکرمہ سے جناب ہاشم مہدی مدیر بن کر تشریف لائے، کچھ ماہ انہوں نے عزیز پاشا کے مرکز بمقام (Notting Hill) میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں اور پھر وسط لندن میں گوج سٹریٹ کے قریب Pitman کالج کی چار منزلہ عمارت خرید کر اس میں رابطہ کے دفاتر قائم کیے، ایک فلور مسجد کے لیے مختص کیا اور اسی فلور پر ایک کمرہ دارالافتاء (یعنی ہمارے لیے) بھی مخصوص کر دیا۔

21 اکتوبر 1983ء کو شیخ متولی الشعراوی کے خطبے کے ساتھ رابطہ کی مسجد کا افتتاح ہوا۔ اگلے دن ڈاکٹر عمر نصیف کے دست مبارک پر رابطہ کے دفاتر کا افتتاح کیا گیا اور پھر اس سے اگلا جمعہ (28؍ اکتوبر) قائم کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا اور میرے لیے یہ بات باعث افتخار ہے کہ میں ہر ماہ پابندی سے ایک جمعہ پڑھاتا رہا ہوں اور ان سطور کی تحریر کے وقت (اپریل 2023ء) مجھے 39 سال سے اللہ عزوجل نے مجھے اس خدمت کو بجا لانے کا موقع عطا فرمایا ہے، یعنی اب چالیسویں سال میں داخل ہو چکا ہوں، اتنی طویل مدت اس مسجد میں کسی اور خطیب کو حاصل نہیں رہی ہے۔ وذالك فضل الله يؤتيه من يشاء

عدالت میں ایک گواہی

25 نومبر 1983ء: ایک بنگلہ دیشی مسلمان سے واروڈ اسکرب جیل میں تعارف حاصل ہوا تھا کہ جہاں میں ہر جمعہ کو باقاعدہ جایا کرتا تھا اور مسلم قیدیوں کو جمعہ کی نماز میں شریک کر لیا کرتا تھا۔ یہ شخص اس بنا پر جیل میں تھا کہ اس پر اپنی ہی بیٹی کو بنگلہ دیش لے جانے کے لیے اغوا کرنے کا الزام تھا۔ وہ دراصل یہ دیکھ کر کہ بچی لندن کے ماحول میں ہے بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے، اسے اپنے وطن واپس لے جا رہا تھا کہ اسے اغوا کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

اس کی خواہش تہی کہ میں اس کی اگلی پیشی پر عدالت میں اس کے حق میں گواہی دوں اور یہ کہ والدین کو اپنی ہی اولاد کو اسلام کے مطابق تعلیم وتربیت دینے کا حق حاصل ہے، اور اس کا یہ فعل کہ وہ اپنی بچی کو اپنے ہی وطن لے جا رہا ہے، اغوا کی تعریف میں نہیں آتا، یہ گواہی دراصل ایک ماہر فن (Expert) کی گواہی کے طور پر عدالت کے روبرو پیش کی جاتی ہے، چنانچہ میں نے اولڈ ہیلی کی عدالت میں انہی خطوط کے اوپر متعلقہ موضوع کے بارے میں اسلامی تعلیمات کو پیش کیا۔ اب مجھے یاد نہیں کہ عدالت نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا، اسے بری کر دیا گیا یا اسے سزا دی گئی!!

متفرقات (1982ء اور 1983ء)

1۔ عبد السلام ابو شخیدیم کا بحیثیت معبوث استقبال کیا، وہ فلسطین سے تعلق رکھتے تھے اور دار الافتاء کی طرف سے مبعوث ہو کر آئے تھے ۔ وہ نیوکاسل اور ساؤتھ شیلڈ کی عرب یمنی کمیونٹی کے ساتھ دعوت وتبلیغ کے کام میں مصروف ہو گئے۔

2۔ سوڈان کے عصام البشیر کا تعلق بھی دار الافتاء سے رہا اور اس طرح ان سے تعارف حاصل ہوا۔

3۔ 2 فروری 1983ء: مولانا یوسف اصلاحی نے یوکے اسلامک مشن کے زیر اہتمام ایک اجلاس سے خطاب کیا۔

4۔ 3؍مارچ سے 8؍ اپریل 1983ء تک برادرم محمود احمد کے ساتھ دو گاڑیوں میں ڈنمارک کا سفر رہا۔

5۔ 30 اپریل 1983ء: عزیزم اسامہ (عمر گیارہ سال) نے گھر میں اپنی والدہ کی زیرنگرانی اور قاری خلیل الحصری کی ٹیپ کے توسط سے قرآن حفظ کر لیا تھا۔ ہم نے اس خوشی میں ایک دعوت کا اہتمام کیا جس میں اسی کے قریبی احباب نے شرکت کی۔

6۔ 11؍جولائی 1983ء: دار الرعایہ میں سید متولی الدرش، امام مرکزی مسجد ریجنٹ پارک نے عید کی پہلی نماز پڑھائی اور پھر میں نے دوسری نماز کی امامت کرائی۔

7۔ 17؍جولائی 1983ء: جمعیت اہل حدیث کی طرف سے لی برج روڈ کے ایک ریستوران میں عید پارٹی رکھی گئی، جس میں ڈاکٹر الدرش اور ریاض سے آئے ہوئے ہمارے نابینا مہمان ڈاکٹر محمد احمد صالح خصوصی مہمان تھے۔

8۔ 10؍نومبر سے 15 نومبر 1983ء: برادرم محمود احمد اور سید الدرش کے ساتھ برلن (جرمنی) کا سفر کیا۔ تفصیل پچھلی ایک قسط میں آ چکی ہے۔

٭٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کی ’’یارسول اللہ ﷺ !میں نے رات خواب میں دیکھا ہے کہ بادل سے گھی اور شہد ٹپک رہاہے اور لوگ اس سے اپنے ہاتھوں کے لپ میں لے رہے ہیں کوئی کم لیتاہے اور کوئی زیادہ!‘‘سیدنا ابوبکر نے عرض کیا’’یارسول اللہ ﷺ!میرا باپ آپ ﷺ پر قربان واللہ!مجھے اس خواب کی تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیجئے۔‘‘آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’اچھا! بتاؤ۔‘‘ سیدنا ابوبکر نے کہا: ’’بادل تو اسلام ہے اور بادل سے ٹپکنے والے گھی اور شہد سے مراد قرآن مجید کی حلاوت اور شیرینی ہے اور کم یا زیادہ حاصل کرنے سے مراد قرآن مجید کم یا زیادہ یاد کرناہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 5928)

سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے مؤمن کی مثال میٹھے لیموں کی سی ہے اس کا ذائقہ بھی اچھا اور خوشبوبھی اچھی ہے قرآن مجید کی تلاوت نہ کرنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے اس کا ذائقہ تو اچھا ہے لیکن خوشبو نہیں ہے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے گنہگار آدمی کی مثال ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو اچھی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن مجید کی تلاوت نہ کرنے والے گناہ گار کی مثال اندرائن ( کڑوے پھل کا نام) کی سی ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہے اور خوشبو بھی نہیں ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 5025)

٭٭٭

تبصرہ کریں