گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 20)-ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

ترجمہ قرآن بزبان انگریزی پر نظر ثانی

یہ 4 اکتوبر 1978 کا دن تھا جب میں لندن سے ریاض روانہ ہوا۔ یہ سفر دار الافتاء کی جانب سے ایک خاص مقصد کے لیے تھا اور وہ یہ کہ سعودیہ کی طرف سے انگریزی زبان میں قرآن کی ترجمانی کے لیے کسی معتمد ترین ترجمے کا انتخاب کیا جائے اور پھر نہ صرف زبان کے اعتبار سے بلکہ عقائد کے لحاظ سے بھی اس کی اتنی اصلاح کی جائے کہ وہ انگریزی دان طبقے کے لیے صحیح رہنمائی کا باعث بن سکے اور اس مقصد کے لیے مجھ سے اور میرے رفیق سفر ڈاکٹر سید متولی الدرش سے قبل دو یا تین کمیٹیاں پہلے بھی اس اس موضوع پر کام کر چکی تھیں۔ انہوں نے زیادہ تر زبان وبیان کی باریکیوں کا لحاظ رکھا اور غالباً ہمارا کام مکمل ہونے کے سے پہلے ان کا ترجمہ ’الامانۃ‘ امریکہ کی طرف سے منظر عام پر آ چکا تھا۔

ایسی ہی ایک کوشش فرانسیسی ترجمے اور اردو ترجمے سے بھی متعلق تھی جو پایہ تکمیل تک پہنچی اور شاہ فہد کمپلیکس سے شائع بھی ہوئی۔

ہمارے سامنے عبد اللہ یوسف علی کے (6310) حواشی تھے جو انہوں نے قرآن کی آیات کی مختصر تفسیر کے ضمن میں قلمبند کیے تھے، ہماری توجہ انہی حواشی پر رہی جس میں اس بات کا خیال رکھا جانا تھا کہ کوئی بات شریعت حقہ کے مسلمہ عقائد سے ٹکراتی ہوئی نہ پائی جائے اور ایسی کوئی تحریرہو تو یا تو اسے حذف کر دیا جائے یا پھر اس کی اصلاح کر دی جائے۔

دار الافتاء کی عظیم بلڈنگ سے چند قدم کے فاصلے پر ہمارے مکتب کے دعاۃ کے لیے ایک مہمان خانہ بھی موجود تھا، اس میں 13 نمبر فلیٹ ہم دونوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ پہلے دن مراقبۃ المصاحف اور مطبوعات کے ڈیپارٹمنٹ میں متعدد شیوخ سے ملاقات رہی جن میں دعوۃ فی الخارج کے مدیر شیخ محمد بن قعود، مغربی ممالک کے امور دعوۃ سے متعلق جناب علی الغیث اور شیخ ابن باز کے نائب شیخ ابراہیم بن صالح آل الشیخ شامل تھے۔

میں اپنی اس تحریر میں ان چند شیوخ، احباب اور دوستوں کا مختصر تذکرہ کرتا چلوں گا جن سے ریاض کے قیام کے دوران ملاقات رہی یا انہوں نے ہمیں اپنے ہاں مدعو کیا۔

ڈاکٹر محمد احمد صالح

جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں شریعہ کے استاذ ہیں، نابینا ہیں لیکن خداداد حافظہ رکھتے ہیں، ان کا دولت کدہ علماء اور اہل قلم کی ضیافت اور پذیرائی کے لیے خصوصی مقام رکھتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب سے پہلی ملاقات لندن ہی میں ہوئی تھی، جب وہ موسم گرما کی تعطیلات گذارنے کے لیے برطانیہ تشریف لائے تھے۔ انہوں نے مغربی لندن کے ایک اسلامی مرکز کے قریب ڈیرہ ڈالا تھا، جس کے کردتا دھرتا افراد سے ان کی پہچان تھی اور پھر وہ اسی مرکز میں نماز کے لیے بھی تشریف لاتے اور وقتا فوقتاً سامعین اور حاضرین کو اپنے مواعظ حسنہ سے بھی مستفید کرتے نظر آتے۔ میرا ان سے یہ تعلق ان کی سالانہ لندن یاترا کے طفیل ایک گہرے رشتہ اخوت میں تبدیل ہو گیا۔ ان کی جائے اقامت چند سالوں کے بعد برطانیہ کے کسی دوسرے شہر میں منتقل ہوتی رہی اور یوں وہ لندن سے برمنگھم، مانچسٹر اور بالآخر نیوکاسل کے اسیر ہو کر رہ گئے، جہاں مسجد توحید کے بانی مبانی حاجی موسیٰ سے ان کی لازوال دوستی دیکھنے کو ملی۔ ان شاء اللہ آئندہ سطور میں بھی ان کا تذکرہ آتا رہے گا۔

ان کے ہاں ظہرانہ تناول کرنے کا اتفاق ہوا۔ عصر کی نماز گھر سے قریب ترین مسجد میں ادا کی، یہاں اپنی ایک بدحواسی کا بھی تذکرہ کرتا چلوں کہ میں نے عصر کی نماز کے بعد اس خیال سے کہ میں نے ظہر کی نماز ادا کی ہے۔ 2 رکعت سنت بھی ادا کر ڈالی۔ یہ بات شیخ کے لیے بھی اور باقی نمازیوں کے لیے بھی تعجب کا باعث بنی۔

اگلے دن 6 اکتوبر (14 صفر 1408ھ) سے ہمارا دوام شروع ہو گیا۔

سعودی اصطلاح میں دوام سے مراد روزانہ مکتب میں کام کے اوقات کو کہا جاتا ہے، ہم نے آغاز قرآن سے ترجمے اور حواشی کا جائزہ لینا شروع کیا۔

ہمارا پہلا جمعہ کچھ بھاگ دوڑ کے بعد ادا ہو سکا، یعنی قریب ترین مسجد میں پہنچے جہاں پونے 12 بجے نماز کھڑی ہو چکی تھی، اس لیے ایک دوسری مسجد کی طرف لپکے، جہاں 12 بج کر 10 منٹ پر نماز ادا کی گئی جو ہمیں مل سکی۔

اگلے دو دنوں میں اپنے کام سے متعلق شیخ ابراہیم بن حسن آل الشیخ، ڈاکٹر عبد اللہ بن زید اور شیخ عبد اللہ بن رَدَن اور شیخ علی الغیث کے ساتھ مفصل اجتماعات میں شرکت کرتے رہے۔ شیخ اسماعیل عتیق پاکستان میں مکتب الدعوۃ سے متعلق رہے ہیں۔ ان سے پرانی یاد اللہ تھی۔ انہوں نے ظہرانے پر مدعو کیا تھا جہاں ان کی صحت میں چند ساعتیں گزاریں۔

ایسے ہی شیخ ابراہیم آل الشیخ نے بھی العلیاء میں اپنے دولت کدہ پر بلا کر عزت افزائی کی۔ ایک نوجوان خطیب اور صحافی عبد العزیز مشعل ملاقات کے لیے تشریف لائے، ان کا میرے ساتھی سید متولی الدرش کے ساتھ خوب یارانہ تھا، ہمارا دوسرا جمعہ شیخ عبد العزیز کی مسجد میں ان ہی کی اقتدا میں ادا ہوا۔ اور پھر ان کی ضیافت کا مزا بھی اڑایا۔

ڈاکٹر محمد صالح کے گھر مصر کے ایک محقق عالم عبد الفتاح حلو سے ملاقات رہی۔ پھر شیخ عبد الرحمٰن عوین سے ہلکی پھلکی ملاقات رہی۔ عشائیہ شیخ عبد اللہ المدلج کے ہاں تھا، جو مکہ جانے والی نئی شاہراہ پر واقع محلہ العلیا میں سکونت پذیر ہیں۔

انہوں نے متعدد شیوخ کو مدعو کر رکھا تھا جن میں ڈاکٹر حمد الماجد بھی تھے، جنہیں اب لندن کے اسلامک کلچرل سنٹر کا نائب مدیر مقرر کر دیا گیا ہے۔

الحمد للہ، گیارہ دنوں میں ہم بقدر پانچ پارے اپنا کام کر چکے تھے۔

سعودی اخبار سے معلوم ہوا کہ جنوبی برطانیہ کو سخت جھکڑ اور ہواؤں کے طوفان کا سامنا ہے، کئی جگہ درخت جڑوں سے اکھڑ کر سڑکوں پر یا گھروں پر جا گرے ہیں جس کے نتیجے میں کم اکم 13؍ اشخاص دب دبا گئے ہیں۔ چنانچہ لندن فون کر کے اہل خانہ کی خیریت دریافت کی۔

ریاض میں ایک افسوسناک خبر ہماری منتظر تھی۔

شیخ عبد الرزاق عفیفی، انصار السنہ مصر کے سرکردہ عالم ہیں جو کئی سال سے سعودیہ میں مقیم ہیں، ہیئۃ کبار العلماء کے رکن ہیں، ان کے ایک نوجوان صاحبزادے گیس کا سلنڈر لے کر آئے اور اسے چولہے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے کرتے حادثے کا شکار ہو گئے، سلنڈر ان کے منہ کے سامنے پھٹ گیا تھا جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

مرکزی جامع مسجد میں بعد نماز عصر ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور پھر شیخ عبد اللہ المدلج کے ساتھ مقبرہ العود میں ان کی تدفین میں حاضری دی۔ اللہ تعالیٰ شیخ عفیفی کو صبر جمیل اور نعم البدل عطا فرمائے۔ انہیں اس حادثہ میں صبر کا پہاڑ پایا۔ ہمارا کام تقریباً سارا دن جاری رہتا تھا۔ دفتر کی طرف سے مغرب اور عشاء کے درمیان ہماری خدمت کے لیے ایک قہوہ جی کا بندوبست کر دیا گیا تھا یعنی وہ ہماری اور ہمارے مہمان حضرات کی قہوہ سے آؤ بھگت کرتا رہے۔ ایک دوسری مہربانی یہ فرمائی کہ ہمارے فلیٹ میں ٹیلی فون کی تار پہنچا دی گئی، چنانچہ اب ہم فون کرنے کی سہولت سے بخوبی استفادہ کر سکتے تھے۔

احباب میں سے ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی، جناب غلام نبی اور اقرباء میں سے برادرم آصف قریشی اور میرے بڑے بھائی شعیب حسن سے اولین رابطے کیے، بھائی شعیب عرصہ دراز سے جدہ میں مقیم ہیں، سعودی ائرلائنز کے ٹیکنیکل شعبے سے وابستہ ہیں۔

میں دار الافتاء کی ڈیوٹی کے ساتھ اپنی ذاتی مصروفیات سے بھی غافل نہ تھا۔ان دنوں برمنگھم یونیورسٹی کے سیلی اوک کالج کی نگرانی میں ڈاکٹر یٹ کی تیاری کر رہا تھا اور اس مناسبت سے محدث نعیم بن حماد کی کتاب الفتن کے مہدی سے متعلق روایات کی تحقیق میرا موضع بحث تھی۔ رات کو یہ شغل جاری رہتا۔ ان بارہ تیرہ دنوں میں ساٹھ کے قریب روایات کا ترجمہ کر چکا تھا۔ مطالعے کے لیے ڈاکٹر عبد الحلیم محمود کی کتاب ’الاخوان المسلمون: احداث صنعت التاریخ‘ ہاتھ آئی جس کا مطالعہ بہت سے حقائق کو جاننے کا سبب بنا۔

دارالافتاء کے شیوخ نے ہماری پذیرائی اور عزت افزائی کا پورا پورا حق ادا کیا، بدھ 21؍ اکتوبر کا ظہرانہ شیخ عبد اللہ بن بداح الردن کے ہاں جو محلہ الشفاء میں قیام پذیر تھے۔

دفتر میں دو پرانے احباب سے ملاقات ہوئی، ہندوستان کی جماعت اہل حدیث کے امیر، بہت سی کتابوں کے مؤلف مولانا مختار احمد ندوی اور آسٹریلیا میں دارالافتاء کے پاکستانی مبعوث ڈاکٹر شفیق الرحمٰن خان۔

22؍ کی شام دار الافتاء کے ایک ساتھی عبد الرحمٰن عوین نے مدعو کر رکھا تھا لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی میری طرح نسیان کا شکار ہو گئے تھے۔ شام کو بڑا انتظار کیا لیکن ان کا نام ونشان نہ تھا۔ ناچار گھر سے نکلنے اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ایک مطعم کا سہارا لیا۔ برادر شفیق الرحمٰن کے ساتھ جناب غلام نبی کی زیارت کے لیے پیدل ہی نکل کھڑے ہوئے۔

23 ؍ اکتوبر سے ماہِ ربیع الاول کا آغاز ہو گیا۔ یہ جمعہ کا دن تھا، جمعہ ہم نے شارع عسیر سے پرے ایک مسجد میں ادا کیا۔ خطبہ اور آغاز سے 20، 30 منٹ میں فارغ کر دیا گیا۔ شام کو چند احباب ہمارے منتظر تھے۔ دو شیخ الدرش کے لیے اور قاضی محمد یوسف میرے لیے۔ قاضی محمد یوسف سے مشرقی افریقہ کے قیام کے دوران یوں رابطہ قائم ہوا کہ وہ ریاض میں ہمارے مالی معاملات کا خیال رکھتے تھے۔ دار الافتاء سے مشرقی افریقہ کے مبعوثین کی تنخواہوں کی وصولیاں اور پھر ہم تک ان کی ترسیل کا کام رضاکارانہ طور پر انہوں نے اپنے ذمے لے رکھا تھا اور پھر وقتاً فوقتاً جب کوئی مبعوث ریاض پہنچتا تو پھر اس کی ضیافت سے بھی غافل نہ رہتے، اللہ تعالیٰ اپنے خزانوں سے انہیں بہت کچھ نوازے۔

اگلا دن ہفتہ تھا۔ شیخ ابن باز، ان کے سیکرٹری خاص شیخ ابو ناصر اور نگران قسم ترجمہ ہمارے دوست محمد لقمان سلفی مکہ مکرمہ سے واپس پہنچ گئے تھے۔ شیخ سے ان کے مکتب میں ملاقات ہوئی۔ آج کی ضیافت ہمارے مدیر جناب محمد ابراہیم بن قعود کے حصے میں آئی، جن کا گھر مکتب سے قریب ہی تھا۔

ہمارا دوام کا وقت صبح ساڑھے سات سے شروع ہو کر ڈھائی بجے تک جاری رہتا تھا، جس میں ساڑھے بارہ بجے کے قریب نماز ظہر دار الافتاء ہی کی مسجد میں ادا کرنے کا موقع مل جاتا تھا۔

ہم اب سورۃ الانعام کے آخر تک مراجعت کر چکے تھے، یعنی کام اطمینان بخش رفتار کے ساتھ جاری تھا۔ اگلے روز کی مصر دینیات میں ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن مدیر جامعۃ الامام محمد بن سعود سے ملاقات اور ادارہ تحفیظ القرآن کی زیارت شامل تھیں۔ راستے میں ایک جگہ رکے جہاں لندن کے ہمارے دوست رشید احمد صدیقی مقیم تھے اور ان کی معیت میں عمر فاروق مودودی سے بھی سلام وکلام ہو گیا۔ واپسی میں جب ڈاکٹر محمد احمد صالح کے ہاں جانا ہوا تو انہوں نے مجھے اور ڈاکٹر الدرش کو ایک چھوٹے حجم کا ٹرانسسٹر تحفۃً عطا کیا جو ہمارے لیے باہر کی دنیا سے ربط قائم کرنے کا ایک وسیلہ بنا۔ اب ہم سورۃ الاعراف تک پہنچ چکے تھے گویا قرآن کا ایک ثلث پورا کرنے کے قریب تھے۔ (جاری ہے)

تبصرہ کریں