گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 19)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

گھانا کا ایک سفر

26؍ جون ، بروز جمعہ

آج صبح فجر کے بعد صبح کی سیر کے لیے مدرسہ کے ارد گرد جنگل کا راستہ لیا۔ دو طلبہ ہمراہ تھے، پانی کا ایک نالا ساتھ ساتھ بہہ رہا تھا۔

جمعہ کے خطبہ کے لیے مسجد اقصیٰ نامی مسجد کا انتخاب کیا گیا تھا۔ مسجد کا مرکزی ہال اور اردگرد کے دالان میں نمازیوں کا خوب ہجوم تھا۔ حقیقت تقویٰ کے موضوع پر خطاب تھا، عربی خطبے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ترجمانی کرتا رہا۔ واپسی میں مارکیٹ سے گذرے لیکن دکانیں ’متاع قلیل‘ کا منظر پیش کر رہی تھیں، مجھے سوائے جوتے کے ایک جوڑے کے اور کچھ نہ بھایا۔

نماز عصر کے بعد ABLIABA کی مسجد میں جانا طے تھا، مسجد کے بالمقابل ایک دوسری مسجد بھی نظر آ گئی اور مجھے بتایا گیا کہ اس کا تعلق تیجانی طریقے سے ہے۔ تیجانی طریقہ مغربی افریقہ کے سلاسل تصوف کا ایک مشہور سلسلہ ہے۔ راستے میں گنبد ومینار سے مزین دو اور مسجد بھی نظر آئیں جس میں ایک مرکزی جامع مسجد بھی تھی اور دونوں کے متولی تیجانی طریقے سے وابستہ تھے۔ میرا خطاب عربی میں تھا، برادرم توفیق مقامی زبان میں ترجمانی کا فرض انجام دیتے رہے۔ ابتدائے خطاب میں نبی ﷺ کے سفر اسراء اور معراج کا بیان رہا اور پھر نبوت کے مدعی کاذب مرزا قادیانی کے جھوٹے دعاوی اور ان کی حقیقت پر روشنی ڈالی، ’الہامی گرگٹ‘ کے نام سے ایک کتاب جس میں مرزا کے 71 دعوؤں کا ذکر ہے، زیر بحث رہی۔ ہمارے سامعین زیادہ تر قادیانی مبغلین کی ہفوات سنتے رہے تھے اور ان کے علم میں وہ باتیں نہ تھیں جو میں نے ان کے گوش گذار کیں۔

ڈیڑھ گھنٹہ کے خطاب کے بعد نماز مغرب ادا کی اور واپس لوٹے، اس مسجد میں کوئی ایک سو کے قریب اشخاص کی گنجائش تھی۔ مسجد سے باہر بھی کچھ لوگ موجود تھے۔

مدرسہ لوٹنے پر دو طلبہ میرے منتظر تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ ان کا تعلق احمدیہ جماعت سے ہے، چنانچہ ان کے ساتھ ایک گھنٹہ نشست رہی۔ دونوں طلبہ اپنے مزعومہ عقائد کا خوب دفاع کرتے نظر آئے۔ دلائل سے زیادہ وہ خلیفہ قادیانی کی طرف رجوع کرنے کی خواہش کرتے رہے۔ یعنی کچھ نہیں جانتا، میرے بڑوں سےبات کریں۔اس رات آسمان کھل کر برسا اور فجر تک جھڑی لگی رہی۔

27 جون، بروز ہفتہ

نماز فجر کے بعد چند طلبہ اور استاد یوسف کے ساتھ ایک آیت یا ایک چھوٹی سورت کے معانی اور مطالب کے بارے میں بات ہوتی رہی اور پھر معمول کے مطابق باہر کا راستہ لیا اور صبح کی سیر کا لطف اٹھایا۔

سپریم کونسل یا مجلس اعلیٰ کے نام سے یہاں ایک تنظیم قائم ہے، اس کے ارکان جن میں ڈاکٹر احمد، شیخ بکر اور چند دوسرے مشائخ شامل تھے، آج صبح تشریف لائے اور میری موجودگی میں انہوں نے اپنا اجلاس منعقد کیا۔

اس اجلاس کی بدولت مجھے ان کی مصروفیات کے بارے میں علم ہوا۔ مدرسہ کے طلبہ ایک بڑی درسگاہ میں جمع ہو چکے تھے، جہاں گھنٹہ بھر قیام رہا جس میں اس حدیث (الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر) کے تناظر میں انسان اور شیطان کے مابین جاری کشمکش پر سیر حاصل گفتگو رہی۔

میں نے ذکر کیا کہ اس حدیث کا ایک مفہوم تو بالکل واضح ہے کہ مؤمن کے لیے یہ دنیا جیل کی مانند ہے کہ یہاں انسان کو چند ضابطوں اور قواعد کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ جیسے حلال اور حرام کی تمیز کرنا، یہ کرو، یہ نا کرو، پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ نفس کی ناجائز خواہشات کو کچلنا پڑتا ہے۔ فرائض اور عبادات کی ادائیگی میں اپنے آپ کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے برخلاف ایک کافر کے لیے یہ دنیا یوں ایک جنت ہے کہ وہ اپنے آپ کو تمام پابندیوں سے آزاد سمجھتا ہے۔ وہ جیسے چاہتا ہے اپنی زندگی گزارتا ہے۔ اسے حلال وحرام کی کیا پرواہ ، وہ تو وہی کچھ کرتا ہے جو اس کے من میں آتا ہے اور اس حدیث کا ایک دوسرا مفہوم قاضی مصر ابن حجر ہیثمی کے اس واقعہ سے ابھر کر سامنے آتا ہے کہ ایک دن قاضی صاحب عدالت کی طرف جا رہے تھے۔ گھوڑے پر سوار، زرق برق لباس میں ملبوس اور ایک شان وشوکت ان کی ذات سے ٹپکتی تھی۔ راستے میں ایک غیر مسلم تیلی کی دکان تھی۔ مٹی کا تیل بیچنے کی بنا پر اس کے ہاتھ اور کپڑے سب آلودہ تھے۔ شکل پر بھی فقر وفاقہ اورمسکینی غالب تھی۔ جونہی قاضی صاحب کی سواری اس کی دکان کے قریب پہنچی وہ کود کر سامنے آ کھڑا ہوا اور چلا کر بولا:

قاضی صاحب! قاضی صاحب! میں نے آپ کے رسول کی ایک بات سنی ہے کہ دنیا مؤمن کے لیے ایک جیل خانہ اور کافر کے لیے ایک بہشت ہے، تو مجھے اپنی حالت زار اور اس کے مقابلے میں آپ کی شان وشوکت کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حدیث میں کہاں تک صداقت ہے، کیونکہ دیکھا جائے تو میں ایک کافر ہوں لیکن جیل خانے کی سی زندگی گزار رہا ہوں اور آپ ایک مؤمن ہیں اور جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

قاضی صاحب نے ذرا توقف کیا اور پھر اس سے کہا:

ہمارے رسول کی بات بالکل درست ہے جو کچھ تمہیں اس دنیا میں حاصل ہے، وہ اس تکلیف اور عذاب کے مقابلے میں جو تمہیں اپنے کفر کی بنا پر حاصل ہو گا، وہ کسی جنت سے کم نہیں اور ہمیں بحیثیت مؤمن جنت میں جن آسائشوں، نعمتوں اور عیش و آرام کی جو نوید سنائی گئی ہے، اس کے مقابلے میں دنیا یک یہ ساری شان وشوکت کچھ بھی نہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک قیدی کو جیل خانہ میں کچھ کھانا پینا نصیب ہو جائے!!

عصر کے بعد ہم Tammilf شہر کو جانے والے راستے پر ایک دوسرے افریقن محلے میں پہنچے۔ یہاں کویت کے بعض مخیر افراد کی طرف سے مدرسہ کے صحن میں ایک کنواں کھدوایا گیا تھا جو نہ صرف مدرسے کے طلبہ بلکہ مدرسہ کے پڑوسیوں کے لیے بھی چشمۂ رحمت ثابت ہور ہا تھا۔ یہاں میرا خطاب (اليوم أكملت لكم دينكم) کے تناظر میں تھا۔

نبوت کے خصائص اور خاص طور پر ختم نبوت کی اہمیت پر بات ہوئی اور یہ کہ اللہ کے رسول قیامت تک کے لیے ہمارے اسوۂ حسنہ ہیں اور پھر مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں پر بات ہوئی۔ خاص طور پر محمدی بیگم سے شادی کیے جانے کی پیشین گوئی جو مرزا کی اپنی موت تک باعث حسرت بن گئی۔ اس مباہلے کا بھی ذکر کیا جو انہوں نے مولانا ثناء اللہ کو چیلنج کرتے ہوئے دیا تھا کہ دونوں میں سے کاذب کی موت صادق کی زندگی میں ہو گی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مرزا 26 مئی 1908ء کو اس دنیا سے سدھارا اور مولانا ثناء اللہ اس کے بعد چالیس سال زندہ رہے۔

اقامت گاہ لوٹنے کے بعد برادرم یوسف سے شیعی عقائد کے بارے میں تفصیلی بات ہوتی رہی۔ 10 بجے رات بستر کی راہ لی۔ برطانیہ مین ان دنوں ہم عشاء کی نماز سے رات 11 بجے کے بعد فارغ ہوتے ہیں اور شب خوبی کی نوبت آدھی رات سے قبل نہیں آتی۔ وللہ الحمد

28؍ جون بروز اتوار

فجر کے بعد سورۃ الکوثر کا مختصر بیان ہوا اور پھر صبح کی سیر کا معمول جاری رہا۔ آج اکرا کی واپسی کا دن تھا۔ شیخ آدم ایک اسکول ٹیچر مسیحی نوجوان کو لے کر آئے جو اسلام قبول کرنے پر آمادہ تھا۔ اسلام کے مبادیات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس نے برضا ورغبت کلمہ طیبہ پڑھا اور دائرہ اسلام میں داخلے کی سعادت حاصل کی۔اپنے لیے عبد الکریم کا نام پسند کیا۔ پھر ہم Bantama کے علاقے میں گئے حہاں گھانا مسلم مشن سے وابستہ مرد وزن موجود تھے۔ انہوں نے پہلے اپنا تعارف کرایا اور پھر میں نے اپنے خطاب میں قرآن وسنت پر مبنی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قادیانیت کے گمراہ کن عقائد سے خبردار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مشن کی پورے ملک میں شاخیں موجود ہیں۔

ہم نے پھر ائیرپورٹ کی راہ لی۔ راستے میں اسلامی امور کی سپریم کونسل کے اس قطعۂ ارض پر رکے جہاں وہ ایک اسلامک انسٹیٹیوٹ قائم کرنا چاہتے ہیں، وہاں سے ایک دوسرے قطعۂ ارض پہنچے جہاں انہوں نے کونسل کے مرکزی دفاتر کی بنیادی رکھ دی تھیں۔ اور اب اس کی عمارت تعمیر کرنے اور بچوں کی ایک نرسری اسکول قائم کرنے کی تگ ودو میں تھے۔

بالآخر ایئرپورٹ پہنچے۔ جہاز ڈھائی بجے ظہر اپنے مقررہ وقت پر آ چکا تھا۔ ایئرپورٹ کے سامنے ایک مصلیٰ میں ہم نے نماز ادا کی۔ اپنے میزبانوں کو الوداع کیا۔ میرے ساتھ استاذ محمد کامل بھی اسی جہاز میں سوائے ہوئے۔

یہ ایک چھوٹا جہاز تھا جو پہلے پندرہ منٹ کی پرواز کے بعد Suyami جا اترا، جہاں ہمارے میزبان حضرات ایک دعوتی کیمپ لگانے کا عزم رکھتے تھے ، جو بعض اسباب کی بنا پر منعقد نہ کیا جا سکا۔ یہاں سے 35 منٹ کی پرواز کے بعد ہم ’اکرا‘ ایئرپورٹ پر اتر چکے تھے۔ ’اکرا‘ ائیرپورٹ کے ایک نواحی علاقہ ’نیما‘ میں شیخ عمر ابراہیم کا مرکز ہمارا اگلا پڑاؤ تھا، جہاں بعد نماز مغرب ختم نوبت کے موضوع پر پونا گھنٹہ خطاب رہا۔

ساڑھے سات بجے عشاء کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ مصلیٰ مدرسے کی نچلی منزل میں واقع تھا، جہاں اندر باہر نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جو ہمارےلیے بڑی خوش آئند بات تھی۔

شیخ عمر اپنی گاڑی میں ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے آئے۔ یہاں افراتفری کا عالم تھا۔ نظم وضبط جیسے بسوں کے اڈہ میں نہ تھا، یہاں بھی ویسا ہی عالم تھا، بمشکل ایئرپورٹ کی تمام کاروائی سے گزر کر عمارت کے بالائی ہال تک رسائی ہوئی جہاں ایک راہداری سے ہوتے ہوئے ہم جہاز میں داخل ہوئے۔

جہاز اپنے مقررہ وقت یعنی گیارہ بجے رات عازم لندن ہوا۔

اللہ کا شکر ادا کیا کہ اب تک سارے کام سہولت سے ہوتے رہے تھے۔ کیپٹن نے اعلان کیا کہ یہ جہاز 33 سے 36 ہزار کی فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے سوا چھ گھنٹے میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے گا۔

اگر اسی وقت ایک پرواز جدہ سے لندن کے لیے روانہ ہو تو وہ بھی اتنے ہی وقت میں لندن پہنچتی ہے۔ مقصورہ جہاز کی اسکرین پر ایک فلم دکھائی جا رہی تھی، میں نے کوئی ایک گھنٹہ نیند کا مزہ چکھا لیکن چونکہ رات کے کھانے کا وقت ہو چلا تھا، اس لیے حالت خواب سے نکلنے پر مجبور تھا۔

کچھ دیر بعد صبح صادق کی روشنی جہاز کے شیشوں سے جھانکتی نظر آئی۔ یہ کوئی ساڑھے تین بجے کا عمل ہو گا، چنانچہ اپنی سیٹ پر نماز فجر ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ اور ابھی کوئی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ سورج طلوع ہوتا نظر آیا، برطانیہ میں چونکہ موسم گرما میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جاتی ہیں اس لیے وہاں صبح پانچ بج رہے تھے۔

جس وقت ہم لندن ایئرپورٹ پر داخل ہوئے تو اس وقت بارہ اور پروازیں لینڈ کر چکی تھیں، اس لیے خوش آمدید کہنے والے لوگوں کا ہجوم تھا، جو اپنے اپنے دوست واحباب اور اقارب کی پذیرائی کے لیے وہاں موجود تھے۔

ایک دفعہ پھر بخیریت وعافیت گھر پہنچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔

ولله الأمر من قبل ومن بعد

تبصرہ کریں