گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط )۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

24۔ تذکرہ شاہ خالد اور شاہ فیصل کا

10 جون 1981ء کو سعودی سفارت خانے کی طرف سے شاہ خالد کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ یوں تو مجھے کسی شاہی دربار کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا، لیکن شاہان آل سعود کو قریب سے دیکھنے کا موقع ضرور ملا ہے۔

لندن کی اس تقریب میں تمام مدعوین ایک قطار کی شکل میں شاہ خالد کے سامنے گزرتے گئے اور ان سے ہاتھ ملا کر آگے بڑھتے گئے۔ زیادہ تر مدعوین انگریز اشرافیہ تھی، لیکن مسلم کمیونٹی کے عمائدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا اوریوں مجھے بھی اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ کے قیام کے دوران شاہ فیصل ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونے کے بعد ایک دفعہ جامعہ تشریف لائے تھے۔ جامعہ کی سادہ سی عمارت کے ایک سادہ سے ہال میں ان کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد ہوا تھا، جس میں شیخ عبد العزیز بن باز انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ وہ امیر المؤمنین کا لقب اختیار کر لیں، انہوں نے اپنے جوابی خطاب میں کہا کہ میں خادم الحرمین الشریفین پر اکتفا کرنے کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔

اس دن مدینے کے گلی کوچے اس عربی ترانے سے گونچ رہے تھے:

فَيْصَلْنَا يَا َفيْصَلْنَا حيّ اللهُ فَيْصَلْنَا

چند سال قبل رابطہ عالم اسلامی لندن کی ایک تقریب میں شاہ فیصل کے صاحبزادے ترکی الفیصل (اس وقت برطانیہ میں مملکت کے سفیر) کے ساتھ نشست رہی تو میں نے انہیں پورا یہ واقعہ سنایا۔ گویا وہ اپنے والد کے بارے میں یہ حکایت ایک تیسرے شخص سے پہلی مرتبہ سن رہے تھے۔

شاہ فیصل کے بارے میں ہمارے ایک کرم فرما کے ذاتی مشاہدہ پر مشتمل ایک اور حکایت پیش خدمت ہے:

ڈاکٹر حسن الشافعی مصر کے ایک نمایاں ازہری عالم ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے 10 سال تک صدر بھی رہے ہیں۔ وہ اپنی کتاب (حیاتی فی حکایاتی) میں لکھتے ہیں:

1971ء کے حج میں وہ مکہ مکرمہ میں موجود تھے۔ یہ 8؍ذی الحجہ کی صبح تھی جب کہ حجاج کے قافلے منیٰ کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ ڈاکٹر حسن الشافعی کہتے ہیں:

یہ ایک روشن صبح تھی۔ ہم سعی سے متصل حرم کے اس حصے میں تھے، جہاں کعبہ مشرفہ ہماری آنکھوں کے سامنے تھے۔زمزم کا کنواں بالکل ہمارے قریب تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ احرام کی چادروں میں ملبوس ایک طویل القامت شخص، جس کا چہرہ روشن، بدن نحیف، داڑھی خشخشی، آگے آگے قدم بڑھا رہا تھا۔ اس کے پیچھے اس کے ساتھیوں کا جھرمٹ چلا آ رہا تھا۔ غور سے دیکھا تو وہ شاہ فیصل بن عبد العزیز تھے، میرے ارد گرد بیٹھے لوگ یکدم اٹھ کر اسے تالیاں بجا بجا کر خوش آمدید کہنے لگے۔

اس کے آگے بڑھتے قدم کعبہ کے قریب پہنچ کر انتہائی وقار کے ساتھ تھم گئے اور ساتھ ہی ان کے ساتھی بھی! ان کے باڈی گارڈ چند میٹر کے فاصلے پر کھڑے نظر آئے۔

یہ باوقار شخص حاجیوں کے اس گروہ کی طرف متوجہ ہوا جو شاہ فیصل کے لیے تالیاں بجا رہے تھے اور پھر وہ بلند آواز سے مخاطب ہوا:

یہ جائز نہیں۔ یہ جائز نہیں!

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكَاءً وَتَصْدِيَةً ﴾

’’اُن (اہل جاہلیت) کی بیت اللہ کے نزدیک مکاء اور تصدیہ سے عبارت تھی۔‘‘ (سورۃ الانفال: 35)

پھر کہا: مُکاء سیٹی بجانا ہے اور تصدیہ تالی بجانا ہے۔

یہ بات انہوں نے تین دفعہ کہی اور یہ کہہ کر وہ طواف میں مشغول ہو گئے۔

یہ وہ واحد موقع تھا جب میں نے اس عظیم شخصیت کو اتنے قریب سے دیکھا تھا، ان کی یہ حالت بالکل قدرتی تھی کہ جسے پہلے سے ترتیب نہیں دیا گیا تھا اور یہ واقعہ ان کی شہادت سے چار سال پہلے کا ہے۔

25۔ کچھ جزیرہ نما قرم (Craemea) کے بارے میں

24 فروری 2022ء سے یوکرین کا نام عالمی سرخیوں کا مرکز بن چکا ہے جب کہ روس نے اس یورپی ملک پر یلغار شروع کر دی تھی۔ یوکرین کی حدود بحر اسود سے ٹکراتی ہیں اور اس سمندر میں یوکرین سے متصل 27 ہزار کلو میٹر مربع پر مشتمل قرم (کرائیمیا) کے نام سے ایک جزیرہ نما بھی ہے جو اسلام اور مسلمانوں سے تعلق کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔

قرم کے نام سے میری دو یادیں وابستہ ہیں:

مسلم اقلیات کے بارے میں 9۔ 10 اپریل 1980ء میں ایک کانفرنس ہیتھرو (لندن) کے قریب ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی جس میں عالم اسلام کی کئی مقتدر شخصیات شریک ہوئی تھیں۔

آج کل یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے حوالے سے صرف ایک شخصیت کی تقریر کے بارے میں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ اسی جزیرے کی ایک خاتون تھیں۔ نام تھا عائشہ سیموار تورا، ان کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ جنگ عظیم کے دوران روس نے کرائیمیا پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کے لیے تاتاری مسلمان باشندوں کو نشانہ ہدف بنایا تھا۔ تین لاکھ مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ مسلح فوجی انہیں زبردستی مال گاڑیوں پر سوار کرا دیتے اور پھر انہیں سائبریا اور ازبکستان کی طرف ھنکا دیتے۔ مال گاڑی کا یہ سفر تین ہفتوں میں کہیں جا کر مکمل ہوتا تھا اور اس دوران بے شمار افراد بھوک، پیاس اور بیماریوں کی بنا پر موت کا شکار ہوئے۔ ازبکستان پہنچ جانے کے بعد بھی انہیں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں شدید حراست کے تحت رکھا گیا۔ انہیں پانچ کیلومیٹر کی حدود سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ پہلے 10 سال کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ایک لاکھ اشخاص تو صرف بھوک کی وجہ سے مارے گئے تھے۔ اگر کوئی شخص وطن واپس جانے یا راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرنا تو اسے قید یا موت کا سامنا کرنا پڑتا۔

یہ خاتون بذات خود ایک طویل جدوجہد کے بعد وہاں سے دیارِ مغرب ہجرت کرنے پر قادر ہو سکیں اور اس کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہی دنوں ایک مسلمان شخص نے ہجرت سے روکے جانے پر خودسوزی کر کے اپنے آپ کو ہلاک کر دیا تھا۔

اور اپنی دوسری یاد سے قبل جزیرہ نمائے قرم کا کچھ تعارف کراتا چلوں۔ تیرھویں صدی میں منگولیا، جیسے دور افتادہ علاقہ سے چنگیز خان ایک آندھی کی طرح اٹھا۔ اس کا رخ مغرب کی طرف تھا اور پھر وہ اور اس کے بیٹے چین، ترکستان، بخارا وسمرقند کو روندتے ہوئے بحرقزوین اوربحر اسود کے درمیان قوقاز کے پہاڑی علاقوں تک جا پہنچے۔

اس کے ایک پوتے ہلاکو خان نے 1258ء میں بغداد کو تخت وتارا ج کیا اور سلطنت عباسیہ کی شان وشوکت کو خاک میں ملا دیا۔ چنگیز خان کے ایک دوسرے بیٹے جوجی خان کا بیٹا برکہ خان اپنی فتوحات کے درمیان سمرقند سے گزرتا ہے، وہاں شیخ نجم الدین مختار الزاہدی سے ملاقات ہوئی ہے اور مذہب اسلام سے تعارف حاصل ہوتا ہے۔ برکہ خان نے شیخ سے گزارش کی کہ وہ اس کے لیے محاسن اسلام کے بارے میں ایک کتاب تالیف کر دے۔ یہ کتاب ’الرسالہ الناصریۃ فی النبوۃ والمعجزات‘ کے نام سے منصہ شہود پر آئی جس کے مطالعہ کے بعد برکہ خان نے 1250ء میں اسلام قبول کر لیا اور جب اس کے عم زاد نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجاد دی تو برکہ خان نے ممالک مصر کے سلطان سیف الدین قظر اور اس کے کمانڈر الظاہر پیرس کے ساتھ بھرپور عسکری تعاون کیا اور یوں 1258ء میں عین جالوت (فلسطین) کے مقام پر تاتاریوں کے بڑھتے ہوئے قدم عبرتناک شکست کے بعد واپسی کی راہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور پھر دو سال کے بعد برکہ خان نے ہلاکو کو ایک اور بدترین شکست سے دوچار کیا۔

اور بقول اقبال

عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

برکہ خان کی سلطنت جسے اس کے بھائی باتو خان نے قائم کیا تھا، سنہری قبیلے (Golden Hord) کے نام سے پہچانی جاتی ہے جس کا قیام 1242ء میں عمل میں آیا اور اگلے 260 سال تک بحر قزوین سے لے کریوکرین کے علاقوں تک ان کی حکومت ایک وسیع وعریض علاقے پر قائم رہی۔

باتو خان اور برکہ خان نے دریائے وولگا کے کنارے پر ایک شہر کی بنیاد بھی رکھی جسے پہلے سرائے برکہ اور اب Sartov کہا جاتا ہے۔ یہ شہر سنہری قبیلے کا دار السلطنت تھا اور اپنی وسعت، خوبصورتی، مساجد اور خانقاہوں کی وجہ سے ایک زمانہ میں خوب شہرت رکھتا تھا۔

برکہ خان کے اخلاف میں سے اوزبک خان نے اسلام کو اپنی سلطنت کا سرکاری مذہب قرار دیا تھا۔ 1378ء میں اس نے روسی امارات کو بھی شکست سے دوچار کیا اور وہ سلطنت اسلامیہ کو جزیہ دینے پر مجبور ہوئے۔

جزیرہ نمائے قرم میں اوزبک خاں کی تعمیر کردہ مسجد اس جزیرے میں اسلام کی قدامت کی گواہ ہے۔

1478ء میں قرم خلافت عثمانیہ میں داخل ہو چکا تھا۔

1502 میں سنہری قبیلے کی سلطنت مائل بہ زوال تھی اور اس کے کئی علاقے بشمول قرم، قازان، استرا خان چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں تقسیم ہو چکے تھے جنہیں خانیٹ(Khanet) کا نام دیا گیا۔

اٹھارہویں صدی میں روسی امارات ایک متحدہ اکائی کی شکل اختیار کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو مستحکم کر رہی تھیں اور پھر 1783ء میں روس کے شاہی خاندان کی حکمران ملکہ کیتھرائن نے جزیرہ قرم پر اپنی بالادستی مسلط کر دی تھی۔ اس وقت قرم کی 80فیصد آبادی مسلمان تھی جنہیں زبردستی عیسائی بنانے کی تحریک عمل میں لائی گئی اورجس کے نتیجے میں کوئی ساڑھے تین لاکھ مسلمان تہ تیغ کر دیے گئے۔

قرم کی تاریخ میں اکتوبر 1853ء سے فروری 1856ء تک ایک طویل جنگ کا آغاز ہوا، جس میں روس کے بالمقابل برطانیہ، فرانس اور عثمانی سلطنت کی متحدہ افواج تھیں۔ اس جنگ کا محرک ایک مذہبی جذبہ تھا کہ روس، فلسطین، آرمینیہ، قرم اور دیگر علاقوں میں آرتھوڈاکس چرچ کی حفاظت چاہتا تھا اور برطانیہ، فرانس کیتھولک چرچ کی حفاظت چاہتے تھے اور روس کی بڑھتی ہوئی طاقت کے سامنے بند باندھنے کے لیے سلطنت عثمانیہ کا ساتھ دینے پر مجبور تھے۔ روس کا شاہ نکولس، فرانس کا نپولین اور سلطنت برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ اس جنگ کے مرکزی کردار تھے۔

گو یہ جنگ کئی محاذوں پر لڑی گئی لیکن مرکزی محاذ قرم ہی کی سر زمین تھی، اکتوبر 1854ء میں یہیں معرکہ Balacalva برپا ہوا، جو انگریزی تاریخ میں ایک تاریخی معرکہ گنا جاتا ہے اور جسے الفرڈ لارڈ ٹینی سن کی مشہور زمانہ نظم CHARGE OF THE LIGHT BRIGADE کی بنا پر لازوال شہرت حاصل ہوئی۔ اس محاذ پر ہلکی توپوں سے مسلح 700 افراد کا ایک دستہ متعین تھا جس کے قائد کو مرکزی کمانڈ کی طرف سے ایک تحریری حکم موصول ہوا۔ یہ ایک مبہم عبارت تھی جس میں اس دستے کو ایک مختصر روسی فوج پر حملہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن عبارت میں ابہام کی وجہ سے یہ دستہ ایک بھاری توپوں سے لیس روسی فوج سے ٹکرا گیا۔

انگریزی دستے نے بڑی بہادری سے ان توپوں کا مقابلہ کیا پھر بھی اس مختصر دستے کے 278 سپاہی کھیت رہے۔

یہ نظم 6 قطعات (STANZA) پر مشتمل ہے اور اس کے چند بول میری یاد کا اس طرح حصہ بنے کہ پنجاب بورڈ (پاکستان) کے میٹرک کے نصاب میں انگریزی منظومات کا جو مجموعہ شامل تھا۔ اس میں یہ نظم بھی شامل تھی۔ یہ 1957ء کی بات ہے، اس کے یہ دو قطعات میری یاد کی گرفت سے کبھی باہر نہ نکل سکے۔

II

“Forward, the Light Brigade!

Was there a man dismayed?

Not though the soldier knew

someone had blundered.

Theirs not to make reply,

Theirs not to reason why,

Theirs but to do and die.

Into the valley of Death

Rode the six hundred

III

Cannon to right of them,

Cannon to left of them,

Cannon in front of them

Volleyed and Thundered.

Stromed at with shot and shell,

Boldly they rode and well,

Into the Jaws of Death,

Into the mouth of hell

Rode the six hundred.

اس وقت مجھے یہ تو معلوم نہ تھا کہ یہ کونسی جنگ تھی اور کہاں لڑی گئی تھی لیکن یوکرین کی نسبت سے جب قرم کے حالات نظر سے گزرے تو اس حقیقت کا انکشاف ہوا۔

1917ء کے کمیونسٹ انقلاب میں یوکرین سمیت یہ سارا علاقہ نئی مستبدانہ حکومت کی نذر ہو گیا اور پھر 1944ء میں اسٹالن کے حکم سے قرم کے مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اسٹالن کی طرف سے الزام لگایا کہ دوسری جنگ عظیم میں قرم کے مسلمانوں نے ہٹلر کے ساتھ سازباز کر رکھی تھی۔ اس لیے بطور سزا قرم سے ان کا جبری انخلاء کرایا گیا جس کا تذکرہ پہلے آ چکا ہے، روس نے یہاں اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے ا س بدنام زمانہ اصول پر عمل کیا کہ جہاں اپنا تسلط جمانا ہو وہاں کی ڈیموگرافی تبدیل کر دو، چنانچہ قرم کی اصل آبادی کو دربدر کرنے کے بعد ان کی جگہ روسیوں کو آباد کرنے کی مہم شروع کر دی گئی اور جب 1991ء میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا، تو اہل قرم کو واپس آے کی اجازت دی گئی۔

کوئی 1 لاکھ 30 ہزار مسلمان واپس آنے میں کامیاب ہو سکے۔ پھر جب وہ واپس پہنچے تو وہ اپنے ہی وطن میں اجنبی حیثیت اختیار کر چکے تھے، نہ ان کا گھر، گھر رہا اور نہ ان کی زمینیں انہیں واپس مل سکیں۔ کہاں وہ ایک زمانے میں ساری آبادی کا 80 فیصد تھے اور اب ان کی تعداد 12 فیصد تک گھٹ کر رہ گئی۔ اور یہی کوئی ڈھائی تین لاکھ کی آبادی!!

1984ء میں روس کے صدر نکتیا خروشیف نے بڑے ڈرامائی انداز میں قرم کو یوکرین کے حوالے کر دیا تھا لیکن نصف صدی کے بعد ان کی یہ خوشی پھر ایک دفعہ ان کا ساتھ چھوڑ گئی۔

16 مارچ 2014ء میں روس نے دوبارہ قرم پر اپنا قبضہ جمایا۔ بچے کچھے مسلمانوں پر دوبارہ افتاد نازل ہوئی۔ اب تک ان میں سے 10 فیصد یوکرین کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور باقی حالات سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے تحفظ کی امین مسلم کونسل تحلیل کر دی گئی ہے۔ اپنی مادری زبان پڑھنے پڑھانے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

یوکرین میں نسبتاً مسلمانوں کی حالت بہتر ہے۔

2012ء کی مردم شماری کے مطابق وہاں مسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ بتائی گئی تھی ، یقیناً اس میں اب تک معتد بہ اضافہ ہو چکا ہو گا۔

ملک میں تقریباً 160مساجد ہیں۔ دار السلطنت ’کیف‘ میں کوئی ایک لاکھ کے قریب مسلمان ہیں جن کا تعلق تتاری مسلمانوں کے علاوہ ازبکستان، آذربائیجان اور قازقستان سے بھی ہے۔ موجودہ صدر ’زیلنسکی‘ اصلاً اور نسلاً یہودی ہیں اور اپنی فتوحات کو دیکھتے ہوئے یوکرین کو گریٹر اسرائیل کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

خدا کرے کہ ان کا یہ خواب پورا ہوتا کہ فلسطین پر فلسطینی مسلمانوں کی حکومت قائم ہو سکے۔

وَلِلهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ

٭٭٭

تبصرہ کریں