گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط 7)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

16۔ دعوت دین کے بارے میں میرے خیالات وافکار

مجھے اپنی اس حیثیت کا پورا ادراک تھا کہ شیخ ابن باز﷫ نے اگر نیروبی سے لندن میرا تبادلہ کیا ہے تو صرف ایک داعی اور معلم کی حیثیت سے کیا ہے اور ضمن میں گو دار الافتاء نے میری معاشی کفالت کا ذمہ لیا ہے لیکن اس ادارے کی طرف سے میرے محاسبے، میری نگرانی، میرے کام کے جائزے کے لیے کوئی پابندی یا روک ٹوک روا نہیں رکھی گئی ہے، گویا کہ میں ہوں اور میرا یہ احساس کہ میں اللہ کے سامنے اس کام کے لیے جوابدہ ہوں۔

یہی احساس اور شعور میرےلیے راہ عمل کے سنگ میل بناتے چلے گئے۔

مشرقی لندن کی مسجد سے جس درس قرآن کا آغاز ہوا تھا وہ پھر مسجد توحید، اسلام چینل اور دروس قرآن براہ مراسلت کی شکل میں آجتک جاری وساری ہے۔

’القرآن سوسائٹی‘ کے نام سے جس ادارے کو میں نے قائم کیا، اس میں اشاعتی دروس کے ساتھ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی چلتا رہا کہ جو زیادہ تر میری اہلیہ امّ وہیب کی کوششوں کا مرہون منت ہے۔

لندن کی سب سے بڑی جیل میں ہر ہفتہ، بروز جمعہ میری آمد، مسلم اور نَو مسلم قیدیوں سے خطاب اور ان کے سؤالات کے تسلی بخش جوابات اس کام کو ایک بین الاقوامی رخ دینے میں کامیاب رہے اور پھر مستزاد یہ کہ میں مختلف مساجد اور مراکز کی طرف سے مدعو کیا جاتا رہا، جہاں موقع محل کی مناسبت سے خطاب کا موقع ملتا رہا، لیکن سب سے بڑھ کر ان طلبہ وطالبات سے مخاطب ہونا تھا، جس کا موقع برطانیہ کے طول وعرض میں موجود سیکنڈری اسکولوں، ہائر ایجوکیشن کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں سے وابستہ طلبہ کی انجمنوں کی طرف سے دعوت خطاب دیے جانے کی بنا پر ممکن ہوسکا تھا۔

اسی کی دھائی شروع ہو چکی تھی۔ جہاد افغانستان کا غلغلہ تھا۔ افغان پریس ایجنسی لندن کی طرف سے کئی مندوبین جن میں ڈاکٹر امان یار پیش پیش تھے، طلبہ کے سالانہ اجتماعات اور کانفرنسوں میں شرکت کی پوری کوشش کرتے بلکہ جہاد افغانستان کے علمبردار قائدین کو بھی وہاں خطاب کرنے کے مواقع فراہم کرتے۔

سعودی سفارت خانہ کے ساتھ تعاون کے آغاز ہی سے مجھے اس بات کا موقع ملا کہ میں میں مملکت متحدہ کے شمال وجنوب اور مشرق ومغرب کی طنابیں، ناپتا رہوں، اصل مقصود اسلامی مراکز، مساجد اور تعلیمی اداروں کی ضروریات، ان کی تعمیری اور توسیعی منصوبوں سے تعارف حاصل کرنا تھا، تاکہ میری سفارشات کی روشنی میں وہ سعودی عرب سے مالی اعانت حاصل کر سکیں لیکن اس بادہ پیمائی میں مجھے مساجد ومراکز کے حاضرین سے خطاب کرنے کا موقع بھی ملتا رہا جو میرے اسفار کے ٹائم ٹیبل کے ساتھ مناسبت رکھتے تھے۔

میرے لیے اصل سوال یہ تھا کہ دعوت دین کے لیے کن موضوعات کا انتخاب کیا جائے؟

کون سے نقاط کو ترجیح حاصل ہو اور دعوت دین کے کن پہلوؤں کو خاص طور پر اجاگر کیا جائے۔

میری اپنی فکری ودعوتی ساخت پر وہ چھاپ غالب رہی جس کے تانے بانے ہمارے گھریلو ماحول سے جڑے ہوئے تھے۔

ہمارے گھر کے ماحول میں آباؤ واجداد کے مسلک اہل حدیث کی جھلک نمایاں تھی۔ ہم نے اپنے گھر میں سوائے عید بقر عیدکے کسی اور تہوار کو مناتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کسی میلے ٹھیلے میں جانے کا دستور تھا۔ لڑکپن اور مراہقت(Teen Age) کے پندرہ سال کا عرصہ ابا جان کے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی بنا پر جماعت ہی کے رسائل وجرائد میں چند ہلکے پھلکے مضامین کا مطالعہ کرنے، جماعتی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے اور جماعتی احباب کے محدود حلقے تک آنے جانے میں گزرا۔

1957ء (بعمر 15 سال) میرا میٹرک کا سال ہے، اسی سال والد مکرم جماعت سے مستعفی ہو کر لائل پور (حالیہ فیصل آباد) میں مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف کے قائم کردہ جامعہ تعلیمات اسلامی کی نگہداشت اور پرداخت کے لیے منتقل ہو چکے تھے۔ اگلے پانچ سال والد محترم سے ذاتی تلمذ اور شہر کے تین مقتدر اداروں (گورنمنٹ کالج،جامعہ سلفیہ، دار القرآن والحدیث) سے استفادہ کرنے میں گزرے اور اس دوران میں عربی کی اتنی تحصیل کر چکا تھا کہ پنجاب بورڈ کے عالم عربی اور فاضل عربی کے امتحانات میں اول پوزیشن سے کامیاب ہو سکوں اور پھر عربی سے یہی شغف مجھ سے عربی کی دو کتب کا اردو ترجمہ کرواتا گیا۔

ایک تو مصر کے شیخ حسن البناء کی ’مذکرات الدعوۃ والداعیہ‘ جس کی ابتدائی اقساط بعنوان ’جسن البناء کی ڈائری‘ ہفتہ وار ’المنیر‘ میں شائع ہوتی رہیں لیکن جریدۃ ’المنیر‘ کے دفاتر کے منتقلی کی بنا پر غالباً یہ مسودہ ضائع ہو گیا ار روشنی طبع سے محروم رہا۔

دوسری کتاب مصر ہی کے استاذ البہّی الخولی کی کتاب ’تذکرۃ الدعاۃ‘ تھی،گویا دونوں کتابیں دعوت سے متعلق تھیں اور میرے مستقبل کے راہِ عمل کو متعین کر رہی تھیں اور پھر مجھے چند ماہ ڈاکٹر اسرار احمد کی خواہش پر منٹگمری (حالیہ ساہیوال) میں ان کے قائم کردہ ’قرآن ہاسٹل‘ میں گزارنے کا موقع ملا جہاں ہاسٹل میں مقیم چند طلبہ کو عربی پڑھانے پر مامور تھا۔ یہ طلبہ دن کے اوقات میں گورنمنٹ کالج کا رخ کرتے اورشام کے اوقات میں میری موجودگی سےفائدہ اٹھاتے اور انہی طلبہ میں ڈاکٹر صاحب کے برادخورد ابصار (یعنی ڈاکٹر ابصار احمد) بھی شامل تھے، میں خود بی اے (انگریزی) کی تیاری بھی کر رہا تھا اور پھر بی اے کا امتحان بھی گورنمنٹ کالج کی امتحان میں گاہ میں دیا۔ یہاں جماعتی فکر کو ڈاکٹر اسرار احمد کے بیعت پر قائم خلافتی نظریے میں ڈھلتے دیکھا۔ فکر اصلاحی سے بھی تعارف ہوا اور ان کی کتاب ’دعوت دین اور اس کا طریق کار‘ میری پسندیدہ کتب میں شامل رہی۔

جولائی 1962ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جانا ہوا اور وہاں کے چار سالہ قیام نے سلفیت کی ان بنیادوں کو پختہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ جو ہمارے گھرانے کی اصل پہچان تھی۔ میری یہ خوش قسمتی تھی کہ مدینہ منورہ میں اس وقت کے قابل ترین اور مقتدر اساتذہ کی رہنمای حاصل رہی۔

مساجد میں خطاب کرنے کا سلیقہ ہمارے ایک استاد عبد الوہاب البناء (مصری) کا مرہون منّت ہے کہ عمرہ وحج کے اسفار میں ان کی صحبت نصیب ہوتی رہی، وہ ہم چند طلبہ کو مکہ اور اطراف مکہ کی مساجد میں عربی زبان میں خطاب دلواتے، مجھے آج بھی مسجد جنّ میں خطاب کرنا یاد ہے۔ دوسرے شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کے دروس وخطابات جنہوں نے میری سلفیت کو مزید پختہ کیا۔ خود شیخ ابن باز اور عقیدۃ کے استاذ شیخ عبد المحسن حمد العباد، حدیث کے استاد عبد القادر شیبہ الحمد، توحید کے مباحث کو ہر لیکچر اور خطاب میں نکھارتے رہے۔ شیخ محمد امین الشنقیطی اور شیخ محمد ابراہیم شقرۃ فقہی مسائل میں توسع اور کشادگی کی راہیں دکھاتے رہے، شیخ محمد المجذوب اور شیخ محمد الراوی کے دروس میں اسلام کی عالمیت، اور عالم اسلام کی اسلامی تحریکات کا عکس نظر آتا تھا۔

میں جامعہ کے عرصہ تلمذ کو ایک اساس سمجھتا ہوں لیکن اس اساس پر مسلسل مطالعے کی بنا ہی پر خیالات وافکار کی ایک مستقل تعمیر بنانا ممکن تھی، جس کا موقع کچہ نیروبی کے نو سالہ قیام میں اور زیادہ تر لندن کی اقامت میں میسر آ سکا۔

لندن میں دروس قرآن اور جامعات و مراکز میں تقایر اور لیکچرز کی تیاری میں تفسیر وحدیث اور دیگر دینی کتب کثرت سے مطالعے میں رہیں۔

گو میری ذاتی لائبریری میں بہت سی اردواور عربی تفاسیر موجود ہیں لیکن بعض کتب کا میں نے بڑے شغف سے مطالعہ کیا ہے جن میں تفسیر ابن کثیر اور تدبر قرآن سرفہرست ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی کے کئی نظریات اور کئی آراء سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن نظم قرآن سے متعلق ان کے مباحث قارئ کی بہت سی الجھنوں کو دور کر دیتے ہیں، پھر اپنے استاد شیخ محمد امین الشنقیطی کی ’اضواء البیان‘ مولانا مودودی کی ’تفہیم القرآن‘ تفسیر قرطبی اور محمد طاہر بن عاشور کی ’التحریر والتنویر‘ ہے۔

مولانا ابو الکلام آزاد کی ترجمان القرآن میری لائبریری کی زینت رہی۔ ذوالقرنین کی شخصیت کے بارے میں مولانا کی تحقیق آج تک میرے لیے حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے، گو کئی متعدد آراء بھی پڑھ چکا ہوں لیکن ان پر دلی اطمینان نہیں ہو سکا۔

عبد اللہ یوسف علی کے ترجمہ معانی قرآن اور ان کے 6310 حواشی کو بھی حرفاً حرفاً پڑھا ہے اور وہ ایک دوسری مناسبت سے تھا جس کا تذکرہ اپنے وقت پر آ جائے گا۔

حدیث کی شروح میں ابن حجر کی فتح الباری شرح صحیح البخاری ایک مرجع کی حیثیت سے گاہے گاہے زیر مطالعہ رہی لیکن مسجد توحید میں صحیح مسلم کے ہفتہ وار دروس نے امام شرف الدین یحییٰ النووی کی شرح صحیح مسلم کو بالاستیعاب پڑھنے کا موقع فراہم کر دیا۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ آغاز میں جماعت کا فکر نفاذ اسلام کہ جس میں موجودہ جمہوریت کا سہارا لیا گیا تھا، دل ودماغ پر حاوی رہا اور پھر اس فکر کی اصلاح ڈاکٹر اسرار احمد کے نظریہ خلافت سے ہوئی جس میں بیعت امیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور پھر شیخ البانی﷫ اور عقیدہ کی ابحاث نے یہ گرہ لگائی کہ امت مسلمہ کی غایت عبادت الٰہی ہے، اس کا مقصد وجود دین اسلام کی سچی گواہی ہے، اس کا منہج قرآن وحدیث کی تعلیمات ہیں۔ خلافت ارضی بطور انعام حاصل ہوتی ہے کہ جسکا اولین مظہر خود خلافت راشدہ ہے اور پھر اسی منہج کا اتباع ایک دن پھر صحیح اسلامی خلافت کے پھریرےبلند کرنے میں کامیاب رہے گا۔

برطانیہ میں میری دعوت کا محور یہی موضوع رہا۔ ڈاکٹر اسرار احمد کے کتابچے مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق کا عربی ترجمہ میں نیروبی کے قیام کے دوران ہی کرچکا تھا اور اس موضوع کو میں نے مزید نکھارنے کی کوشش جاری رکھی۔ سورۃ العصر، سورۃ التکاثر اور کئی متعدد سورتوں پر والد محترم کے دروس میرے مشعل راہ رہے، عبد الکریم زیدان (عراقی) کی ’’السنن الالہیہ ‘‘ میری پسندیدہ کتب میں سے ہے جس کے موضوعات میرے خطابات جمعہ اور تقاریر کا محور رہے ہیں۔ شیخ متولی الشعراوی کے علمی نکات سے میں نے استفادہ کیا ہے لیکن عقائد کے باب میں ان کی اشعریت سے مجھے کوئی واسطہ نہیں ہے۔

برطانیہ کی جامعات اور مراکز اسلامیہ میں تقاریر اور خطابات کے ضمن میں میرے یہ پسندیدہ موضوعات رہے:

 امت مسلمہ کا مقصد اور غایت

 غیر مسلموں کو دعوت کیسے دی جائے

 مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق

 سورۃ الحجرات کی شرح وتفسیر

 تزکیۃ النفس

 روح کا سفر (اس موضوع پر میرا انگریزی میں کتابچہ بھی ہے)

 الحیاۃ بعد الممات

 قرآن کا تعارف

 حدیث کا تعارف

 برطانیہ میں اسلام اورمسلمانوں کی تاریخ

 قرآن کے اعجاز کے مختلف پہلو

 اولاد کی تربیت کیسے کی جائے؟

 قیامت کی چھوٹی اور بڑی نشانیاں

یہ چند موضوعات برسبیل تعارف لکھ دیے ہیں، مرور زمانہ کے ساتھ موضوعات کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائیں۔

17۔ 1400 ھ کی چیدہ چیدہ یادیں اور واقعات

سال 1400 ہجری جو نومبر 1979ء سے لے کر اکتوبر 1980ء تک محیط ہے، اس سے متعلق واقعات اور یادیں میری ایک ہی ڈائری میں محفوظ ہیں۔

خیال آیا کہ کیوں نہ میں ان واقعات اور ان یادوں کو مختصراً رقم کرتا جاؤں اور پھر اس کے بعد وہ حکایات حسب سابق درج کرتا چلوں جو میں تفصیلاً ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

٭ 21 نومبر 1979ء: یہ 2 محرم 1400ہجری کی تاریخ تھی کہ جس دن حرم مکی میں عبد اللہ قحطانی اور اس کے ساتھی جہیمان نے دیگر افراد کے ساتھ عبد اللہ قحطانی کے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ عسکری انداز میں قلعہ بند ہونے کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اور پھر 2 ہفتے کے محاصرے کے بعد یہ تحریک قتل وغارت پر ختم ہوئی۔

٭ 30دسمبر 1979ء: میری دعوت پر فکر اہل حدیث سے وابستہ آٹھ افراد کا اجتماع ہوا جس میں تین احباب ووکنگ سے تشریف لائے تھے اور یوں لندن جمعیت اہل حدیث کا قیام عمل میں آیا جس کی برکات میں سے مسجد توحید لندن کا قائم ہونا ہے۔

٭ جنوری 1980ء: میجر محمد اسلم مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد امریکہ جاتے ہوئے کچھ دنوں کے لیے لندن تشریف لائے، ان سے تفصیلی ملاقات رہی۔ پھر وہ امریکہ روانہ ہو گئے اور پھر چند سالوں کے بعد فلاڈیلفیا میں ان کی مظلومانہ شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ ان کی میت لندن ہوتے ہوئے واپس وطن بھیج دی گئی۔

٭ فروری 1980ء: مانچسٹر اور لندن کے بعض سرکردہ حضرات نے بر بنائے مخاصمت مرکزی جمعیت اہل حدیث برمنگھم کے بارے میں سفارت سعودیہ تک اپنی شکایت پہنچائی۔ یہ ایک بے بنیاد شکایت تھی جس کا کوئی اثر نہیں ہوا لیکن مذہبی عصبیت کا یہ اظہار گرانی طبع کا باعث رہا۔

٭ مارچ 1980ء: گو میں پاکستان سے ایم اے عربی کر چکا تھا لیکن ڈاکٹریت کے حصول کے لیے مجھے کسی برطانوی یونیورسٹی سے دوبارہ ایم اے کرنا لازم ٹھہرایا گیا تھا اور اس ضمن میں مجھے برمنگھم یونیورسٹی کے ایک ذیلی ادارے ’سیلی اوک کالج‘ میں ڈاکٹر نیلسن سے ملاقات کا موقع حاصل ہوا اور ان سے اپنے اختیار کردہ موضوع تحقیق پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

٭ 23 مارچ 1980ء: والتھم اسٹوو کے ایک گرلز اسکول کے ہال میں ایک جلسہ عام رکھا گیا تھا جس میں بعض شر پسند عناصر نے شور اور واویلا مچایا بلکہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرسیاں پھینکنے سے کیا جس میں میرے 10 سالہ بچے (اسامہ) کو پیشانی پر سخت چوٹ آئی بلکہ ہسپتال جا کر ٹانکے لگوانے تک کی نوبت آئی۔

٭ اپریل 1980ء: لیبیا کے ایک صحافی رمضان کو لیبیا کے ڈکٹیٹر کے اشارہ پر ایک نوجوان نے انہیں اس وقت گولی کا نشانہ بنایا جب وہ اسلامک کلچرل سنٹر لندن سے نکل رہے تھے۔

٭ کامن ویلتھ ہال میں سید عبد العزیز علی الطوع اور مدیر جسارت (کراچی) جناب صلاح الدین کے ساتھ سیرت کانفرنس یں شرکت کی۔

٭ ایرانی سفارت خانہ پر کچھ مسلح افراد نے قبضہ کر لیا۔ محصور افراد میں جریدۃ Impact کے مدیر حاشر فاروقی بھی تھے جو اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے حوالہ سے وہاں بحیثیت زائر گئے ہوئے تھے۔ برطانوی پولیس نے 5 مئی تک سفارت کو ان مسلح افراد سے آزاد کرا لیا تھا۔

جناب حاشر فاروقی کا ذکر آیا تو بتاتا چلوں کہ آج 17 جنوری 2022ء ) ہے کہ جب میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں، آج سے تین دن قبل اسلامک کلچرل سنٹر میں ان کا جنازہ لایا گیا اور پھر گارڈن آف پیس کے قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ الحمد للہ دونوں جگہ حاضرہونے کی توفیق ہوئی۔

٭ مئی 1980ء: ملیشیا ہال لندن میں ہفتہ وار درس قرآن کا آغاز کیاجس میں ملیشیا سے آئے ہوئے طلبہ کو شرکت کا موقع ملتا رہا۔

٭ جون 1980ء: ڈاکٹر اسرار احمد کےبرادر بزرگ اظہار احمد قریشی کی میزبانی کا شرف حاصل رہا۔

٭ جولائی 1980ء: رمضان کا آغاز ہو چکا تھا، سعودیہ سے جامعہ مدینہ کے سابق رئیس شیخ عبد المحسن حمد العباد اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے لندن تشریف لائے تھے۔ ایام مدینہ میں وہ ہمیں عقیدہ طحاویہ پڑھایا کرتے تھے۔ اطباء سے ملاقات کے لیے میں ان کی رہنمائی کرتا رہا۔

٭ شیخ محمود آل محمود اور ریاض کے ڈاکٹر محمد احمد الصالح استاد جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا رہا۔

٭ اگست 1980ء: یو کے اسلامک مشن کی سالانہ کانفرنس برمنگھم میں منعقد ہوئی جس میں شرکت کا موقع ملا۔ دار الافتاء (ریاض) سے شیخ اسماعیل بن عتیق تشریف لائے جن کے ساتھ کئی دن انتہائی مصروف گزرے۔ انہوں نے برطانیہ کے کئی شہروں میں خطاب کیا، جہاں میں ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

٭ ستمبر 1980ء: برمنگھم میں پیغام اسلام ٹرسٹ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کی۔ 11 ستمبر کو گلاسگو کی جامع مسجد کا افتتاح تھا۔ مفتی مقبول احمد امام وخطیب جامع مسجد سے ملاقات ہوئی۔ میں 1962ء میں مدینہ روانہ ہونے سے قبل چند ماہ منٹگمری میں رہا تھا، جہاں مفتی صاحب کے قائم کردہ جامعہ رشیدیہ میں چند اسباق(اصول فقہ میں نور الانوار اور عقیدہ میں مسایرہ مع مسامرۃ) کے اسباق پڑھنے کا موقع ملا تھا۔

٭ اکتوبر 1980: مکہ مکرمہ میں دعوتی پروگرام کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ کام دار الافتاء کے تحت شعبہ (التوعیۃ الاسلامیہ فی الحج) کے زیر اہتمام کیا گیا تھا اور اس طرح ہر سال مکہ مکرمہ جانے اور حج کے شعائر ادا کرنے کی سبیل پیدا ہوگئی۔

٭ نومبر 1980ء: 8 نومبر سے ہجری سال 1401 کا آغاز ہو چکا تھا۔

القرآن سوسائٹی کا باضابطہ اجلاس منعقد ہوا اور یو کے اسلامک مشن کے مرکزی دفتر واقع یوسٹن (لندن) میں ہفتہ وار عربی کلاس بھی لینا شروع کی۔

٭ دسمبر 1980ء: 21، 22 دسمبر کو طلبہ کی نمائندہ تنظیم FOSIS کی ڈربی میں موسم سرما کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں خطاب کا موقع ملا۔ سورۃ الحجرات کا درس دیا۔ یہ تنظیم برطانیہ میں دنیا کے طول وعرض اور خاص طور پر ہند وپاک اور ملیشیا سے آنے والے طلبہ کی دینی رہنمائی کے لیے گرانقدر کام کر رہی ہے۔

اس کانفرنس سے جماعت اسلامی (پاکستان) کے امیر میاں طفیل محمد نے بھی خطاب کیا۔

٭٭٭

مولانا اسد اور حافظ شاہد کی ہمشیرہ شیخوپورہ میں انتقال کر گئیں۔

امام وخطیب مسجد اہل حدیث ہیلی فیکس مولانا محمود الحسن اسد اور خطیب مسجد الہدیٰ بریڈ فورڈ حافظ شریف اللہ شاہد کی ہمشیرہ صاحبہ شیخوپورہ پاکستان میں وفات پا گئیں۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

مرحوم کی عمر 60 سال تھی اور یہ غلام رسول مرحوم کی زوجہ محترمہ تھیں۔ پسماندگان میں سات بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار ہیں۔ مرحومہ پابند شرع صالحہ اور عابدہ خاتون تھیں، مرکز جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے ذمہ داران حاجی محمد اکبر، حافظ اخلاق احمد، مولانا محمد ابراہیم میرپور، حافظ حبیب الرحمٰن جہلمی، مولانا شعیب احمدمیرپوری، مولانا عبد الستار، حافظ عبد الاعلیٰ درانی اور دیگر علماء کرام واحباب جمعیت نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ

اللہ کریم مرحومہ کو مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے اور ان کے بچوں کو والدین مرحومین کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے

طے کر رہا ہے جو تو دو دن کا یہ سفر ہے

تبصرہ کریں