گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط 4)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

8۔ القرآن سوسائٹی کا قیام

دعوت وتبلیغ کے لیے میں کونسا راستہ اختیار کروں؟

ہائیڈ پارک کا وہ کونہ بھی دیکھا جہاں ایک اسٹول پر کھڑے ہو کر کوئی بھی شخص جو چاہے کہہ سکتا ہے، یہ اس کی قدرت روانی پر منحصر ہے کہ وہ کتنے لوگوں کے لیے باعث کشش بنتا ہے، لیکن اس کام کے لیے انگریزی میں لسانی اور عوام کی طرف سے تابڑ توڑ چاندماری کا مقابلہ کرنا میری استعداد سے باہر تھا، میں درس وتدریس یا یوں کہیے کہ لوح وقلم کا اسیر تھا، اس لیے ایک لٹریری کام کا رخ کیا۔

نیروبی کا وہ اجلاس مجھے مجھے یاد تھا کہ ایک وسیع ہال میں بائبل کے ایک پرچار کر کی طرف سے ہر کرسی پر Plain Truth رسالے کا ایک پرچہ رکھا ہوا تھا اور پھر اسٹیج پر ہرمرٹ ڈبلیو آرم اسٹرانگ کی ساحرانہ آواز گونجی۔ پادری آرم اسٹرانگ امریکہ کے ایک مشہور مشنری تھے جنہوں نے ورلڈ وائڈ چرچ آف گاڈ کی بنیاد رکھی۔ 1934ء میں اس رسالے کا آغاز کیا، جو ان کی وفات (1986ء) تک جاری رہا اور مسیحیت کی تبلیغ کے ضمن میں ایک بائبل کورس براہ خط وکتابت ان کے پروگرام میں شامل تھا۔

میرے علم میں لاہور کے حافظ نذر محمد کا کورس قرآن براہ خط وکتابت بھی تھا جو خاص طور پر اسیران زندان کو مخاطب کر کے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

مارچ 1987ء کی ایک شام ہم 6 حضرات (میرے علاوہ اجمل احمد، سلطان الحسن فاروقی، امیر محمد خان، محمد عثمان شہزادہ اور محمد عبد اللطیف) جمع ہوئے اور القرآن سوسائٹی لندن کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔

یہ حضرات میری تحریک پر جمع ہوئے تھے، کام مجھ سے متعلق تھا، ان کی اخلاقی اور ابلاغی مدد مطلوب تھی۔ آغاز میں 2 اہداف سامنے تھے۔ قرآن وسنت سے متعلق ایک کورس براہ خط وکتابت کا اجراء اور بچوں کی دینی وتعلیم وتربیت اورسوسائٹی کے انتظامی امور کو نمٹانے کے لیے ایک مناسب جگہ کا حصول۔

اور پھر اس ضمن میں ان دروس کی تحریر کا آغاز ہوا، جن میں قرآن وسنت کی تعلیمات کو تین حصوں میں بیان کیا گیا تھا۔

1۔ حضرت آدم سے لے کر خاتم النبیین سیدنا محمدﷺ تک تمام انبیاء ﷩ کی ان تعلیمات کا بیان جو قرآن کریم میں مذکور ہیں۔

2۔ عقائد یعنی ایمانیات کا شرح وبسط کے ساتھ بیان

3۔ ارکان اسلام یعنی اسلام کے حدود وفرائض کا احادیث کی روشنی میں تفصیلی بیان

ہر حصہ یا فصل کے آخر میں چند سوالات دیے گئے تھے اور طلبہ وقارئین سے ان کے جوابات مطلوب تھے۔

درس اول سے اس سلسلہ کا آغاز ہو گیا۔

میں مواد جمع کرتا، اسے تحریر میں لے کر آتا، ایک دوست اسے ٹائپ رائٹر کی مدد سے کاغذ کی زینت بناتے اور پھر جناب افسر صدیقی کے طٰہ پریس میں اس کی طباعت عمل میں آتی، اجمل احمد کی تعلیمی سرگرمیوں میں رہنمائی حاصل رہتی۔ سلطان الحسن فاروقی خطاط اور گرافک ڈیزائنر تھے۔ جہاں جہاں مفرد عربی حروف لکھنے کی ضرورت پیش آتی، ان کا قلم اپنی جولانیاں دکھاتا۔ امیر محمد خان اکاؤنٹنٹ تھے انہوں نے قرآن سوسائتی کے حسابات پر نظر رکھی۔

میں خود چونکہ لندن کی ایک جیل میں ہر جمعے مسلم قیدیوں سے ملاقات کی سبیل پیدا کر چکا تھا، اس لیے یہ دورس ان میں تقسیم کیے جاتے۔ جنگ اخبار سے ان کی تشہیر بھی کی گئی اور یوں شائقین جن میں طلبہ، جیلوں کے قیدی اور پھر بیرون ملک خاص طور پر مغربی افریقہ کے ممالک نائیجیریا اور گھانا کے جویان علم شامل تھے، ان دروس سے استفادہ کرتے۔ بیرونی ممالک سے خطوط کے جوابات دیے جاتے۔ دروس کی طباعت اورترسیل کے اخراجات ان عطیات سے پورے کیے جاتے جو مؤسسین سوسائٹی اور عام محسنین سے اکٹھے کیے جاتے تھے اور پھر یہ سلسلہ دروس بیس اسباق کی شکل میں چند سالوں پر محیط رہنے کے بعد اختتام کو پہنچا۔

قرآن سوسائٹی کی دوسری مطبوعات اورسالانہ سرگرمیوں کی تفصیل پھر سہی، ہم یہاں کویت کے سید عبد العزیز علی المطوع کا ذکر کریں گے جن کے مخیر عطیات کی بنا پر برمنگھم میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کی تاریخی بلڈنگ اور قرآن سوسائٹی کے اس مکان کی خرید ممکن ہوئی جس میں جمعیت القرآن کی تعلیمی اور ادارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔

9۔ سید عبد العزیز علی المطوع

موسم گرما میں لندن دیار عرب کے علماء وفضلا اور سیاح حضرات کا مرکز بن جاتا ہے، یہ غالباً 1978ء ہی کی بات ہے کہ میرا تعارف کویت کی ایک فاضل شخصیت عبد العزیز علی المطوع سے ہوا۔ وہ خود ایک بڑے بزنس مین تھے۔ نظریاتی لحاظ سے الاخوان المسلمون سے قربت رکھتے تھے اور اتنی قربت کہ شروع نوجوانی میں وہ خود اور ان کے برادر خورد عبد اللہ قاہرہ جا کر مؤسس جماعت شیخ حسن البناء سے ملاقات کر چکے تھے، علمی اعتبار سے قرآن مجید سے بہت شغف رکھتے تھے اور میرے اور ان کے درمیان عمر کے تفاوت کے باوجود یہی وجہ اشتراک رہی۔ ان سے ملاقات ہوئی تو موضوع بحث قرآن مجید کی آیات اور ان میں فکر وتدبر کی راہیں تلاش کرنا ہوتیں۔ انہوں نے مجھے اپنی ایک عربی کتاب بھی ہدیۃً عنایت فرمائی جس میں سورۃ الکہف کو موضوع بحث بنایا گیا تھا۔ ذوالقرنین کی تین مہمات کے بارے میں ان کی رائے منفرد پائی۔

ذوالقرنین کی دوسری مہم ایسے علاقے کی طرف تھی جہاں کے لوگوں اور سورج کے درمیان کوئی آڑ نہ تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ تھے جو بغیر چھتوں کے گھر تعمیر کیا کرتے تھے اور پھر وہ اس مہم کا لاتینی امریکہ کے بعض علاقوں سے تعلق قائم کرتے تھے اور یہ ان کے مطابق اس دور کی بات ہے جب براعظم امریکہ، افریقہ سے جغرافیائی لحاظ سے مربوط تھا۔

سید عبد العزیز ایک مخیر اور فیاض شخص تھے۔

لندن آمد کے بعد میں برمنگھم کی مرکزی جمعیت اہلحدیث سے تعارف حاصل کر چکا تھا جس کا قیام میری آمد سے قبل 1975ء میں لایا جا چکا تھا اور اس کی صورت یہ پیدا ہوئی کہ جامعہ مدنیہ کے آخری سال کے دو طالب علم محمود احمد میرپوری اور شریف احمد حافظ‎، ہمارے ایک دیرینہ استاد محمد الوہاب البناء کے ساتھ ایک دعوتی اور تبلیغی دورے پر برطانیہ آئے ہوئے تھے۔ ان کی تحریک پر مولانا فضل کریم عاصم نے ایک بنگالیوں کی مسجد میں چند احباب کو مدعو کیا اور جمعیت اہلحدیث برطانیہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔

جارج آرتھر روڈ پر ایک چھوٹا سا مکان ایک نوجوان کی ملکیت تھا جو اس کے مڈلزبرا منتقل ہونے کی بنا پر خالی ہو چکا تھا۔ اسی مکان میں مولانا فضل کریم عاصم نے بچوں کی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر جمعہ جماعت کا بھی اہتمام کیا جانے لگا۔ جمعیت ایک بڑی عمارت کے حصول کے لیے کوشاں رہی۔ ایک دو جگہیں قابل فروخت پائیں جن میں سمال ہیتھ کی ’لائبریری اور پبلک باتھ‘ کی جگہ انتہائی موزوں پائی کئی۔ یہ بلڈنگ کونسل کی ملکیت تھی لیکن جمعیت کے پاس اسے خریدنے کے لیے فنڈز ناکافی تھے۔

میں نے سید عبد العزیز سے جمعیت کی اس خواہش کا ذکر کیا کہ وہ ایک مسجد اور مرکز کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں جو قرآن وسنت کی تعلیمات کو ستھرے انداز میں پیش کر سکے۔

ایک دوپہر ہم لندن کے یوسٹن اسٹیشن پر جمع ہوئے۔ سید عبد العزیز کے ساتھ ان کی بزنس کے مصری مینیجر اور ایک دوست بھی موجود تھے۔ مقصد تھا کہ ہم برمنگھم ٹرین سے سفر کر سکیں۔ مصری مینیجر فرسٹ کلاس کے ٹکٹ لے آئے۔ سید عبد العزیز بڑے خفا ہوئے، کہا کہ انہیں واپس کرو اور اکانومی کلاس یا عام درجے کے ٹکٹ لے کر آؤ۔ برمنگھم پہنچے، ایک ٹیکسی لے کر جارج آرتھر کے اس مکان کا قصد کیا، جہاں اس وقت جمعیت کے شام کے مدرسہ کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس مکان کی دوسری منزل پر مولانا فضل کریم عاصم بچوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے۔ سید عبد العزیز وہاں کچھ دیر بیٹھے، بچوں کی کلاس کا جائزہ لیا۔ مولانا نے جمعیت کے کام کا تعارف کرایا۔ چائے اور اس کے لوازمات سے ہماری تواضع کی۔ سید عبد العزیز نے اٹھنے سے قبل جمعیت کے نام 20 ہزار پاؤنڈ کا چیک کاٹا اور مولانا فضل کریم عاصم کے سپرد کر دیا، اس مختصر سی ملاقات کے بعد ہم الٹے پاؤں برمنگھم ریلوے اسٹیشن پہنچے اور واپس لندن کی راہ لی۔

سید عبد العزیز کے اس خطیر عطیہ میں 4 ہزار پاؤنڈ کے اضافے کے ساتھ کونسل کی مذکورہ وسیع وعریض بلڈنگ کی خرید عمل میں آئی۔

اس عمارت میں تیراکی کے دو گرانڈیل تالاب تھے جو خشک سالی کی بنا پر نہیں بلکہ کونسل کی بے توجہی کی بنا پر خشک ہو گئے تھے۔

دونوں تالابوں کے مابین پبلک باتھ کی قطار تھی اور صدر دروازے سے متصل ایک بڑا ہال لائبریری کے لیے مختص تھا۔ یہ عمارت ایک تاریخی عمارت کی حیثیت رکھتی تھی، جس کی اندرونی ہیئت میں تبدیلی لائی جا سکتی تھی لیکن بیرونی شکل وصورت کو اپنی اصلی حالت میں باقی رکھنا لازم تھا۔ چنانچہ پہلے ایک سومنگ پول کو پاٹ کر ہال کی شکل دی گئی جس میں جمعیت کے سالانہ اجلاس منعقد ہوتے رہے اور پھر دوسرے سومنگ پول کوبھی پاٹ کر اسے قابل استعمال بنایا گیا۔ لائبریری کو آغاز ہی سے مسجد کی شکل دے دی گئی جس کے منبر ومحراب نے تین دہائیوں تک نماز باجماعت قائم کرنے اور قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے کی سعادت حاصل کی اور اب یہ عمارت احباب جمعیت کی پیہم جدوجہد کے نتیجے میں ایک عظیم الشان مسجد اور مدرسے کا روپ دھار چکی ہے۔ چونکہ یہ ایک تاریخی عمارت ہے اس لیے اس کا بیرونی منظر بشمول ٹاور اب بھی ویسے ہی ہے جیسے بوقت خرید تھا۔

عبد العزیز علی المطوع اور ان کے برادر خورد عبد اللہ العلی المطوع ابو بدر دونوں نے اعمال خیر میں سبقت لے جانے کا حق ادا کر دیا۔ مؤخر الذکر جمعیت الاصلاح الاجتماعی (کویت) کے اولین سربراہ تھے، ان کے اور شیخ ابن باز کے درمیان جمعیت الاصلاح کی سرگرمیوں کے بارے میں باہمی مفاہمت پر مشتمل خط وکتابت منظر عام پر آ چکی ہے۔ پچھلے دنوں عبد اللہ العلی المطوع کی رحلت (2006ء) کے بارے ایک مضمون پڑھا، جس سے ان دونوں بھائیوں کی اپنے مقصد حیات سے شدید دلچسپی، اپنے کاروبار میں حد درجہ دیانت، سودی معاملات سے مکمل اجتناب، رفاہی اور دعوتی کاموں میں بے نظیر دریا دلی کی وہ خوبصورت اور دل آویز داستان نظر نواز ہوئی، جو ان دونوں بھائیوں کے عظمت کردار اورخلق خدا کی خدمت کی بنا پر ان کی بے انتہا محبوبیت کی غماز ہے، اللہ تعالیٰ ان دونوں بھائیوں کی دینی اور رفاہی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔

میں یہاں یہ اضافہ کرتا چلوں کہ جمعیت کے ریکارڈ کے مطابق اپریل 1979 تک مندرجہ تک مذکورہ خرید کردہ عمارت کے بارے میں پلاننگ پر میشن (یعنی عمارت کو مسجد کی حیثیت سے استعمال کرنے کی اجازت) حاصل کرنے کی تگ و دو جاری تھی۔

1979ء کے اواخر میں القرآن سوسائٹی کے لیے جس جگہ کو خریدا گیا، اس کی تفصیل بعد میں ملاحظہ ہو۔

10۔ ایک اسیر زندان کی داستان

ہالو وے جیل سے میرا مسلمان قیدیوں کے ساتھ ہفتہ وار وزٹ کا آغاز ہوا تھا اور پھر اسلامک کلچرل سنٹر ریجنٹ پارک کے توسط سے لندن کی سب سے بڑی جیل ’’وارم وُڈ اسکرب‘‘ میں رضاکارانہ طور پر ہر جمعے زیارت کا معمول طے پایا، جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسلمان قیدیوں کو ایک ہال میں لایا جاتا جہاں خطبہ اور نماز کے ساتھ ساتھ ان کے نجی مسائل پر بھی ہلکی پھلکی گفتگو جاری رہتی۔ اگر کسی قیدی کو اپنی کوٹھڑی سے بوجوہ آنے کی اجازت نہ ملتی یا وہ خود آنے سے قاصر رہتا تو میں خود اس کا حال احوال دریافت کرنے کے لیے اس کے غریب خانہ پہنچ جاتا، جس کی بحیثیت امام مجھے اجازت تہی۔ اکثر ایسا ہوتا کہ مسلم قیدی اپنے ساتھ ایسے غیر مسلم دوستوں کو بھی لے آتے جو اسلامی تعلیمات میں رغبت رکھتے تھے اور پھر اگر وہ اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے تو انہیں مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت بھی حاصل کر لیتا، البتہ جیل کے قواعد کے مطابق اس کی درخواست کو سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہونے میں تین مراحل سے گذرنا پڑتا۔ ہر درخواست میں تین خانے تھے۔ پہلے خانے میں اس امام یا پادری کو اپنی موافقت کا اظہار کرنا مطلوب تھا کہ جس کے دین کو درخواست دہندہ خیر آباد کہنا چاہ رہا ہے۔

دوسرے خانے میں جس دین کو وہ قبول کر رہا ہے، اس کے نمائندہ امام یا پادری کو اپنی رضامندی کا اظہار مطلوب تھا اور پھر تیسرے خانہ میں جیل کا رجسٹرار اپنے دستخط ثبت کرتا تھا۔

میں نے اپنی اٹھارہ (18) سالہ (78ء سے 96ء تک) جیل یاترا میں ان بے شمار درخواستوں پر اپنے نوٹ کے ساتھ دستخط کیے ہیں جن کے پیش کرنے والے دائرۂ اسلام میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن اس طویل عرصہ میں صرف ایک ایسی درخواست موصول ہوئی جس کا پیش کرنے والا ایک فلسطینی مسلمان تھا اور جو اسلام چھوڑ کر کیتھولک عیسائیت، میں داخل ہونے کا خواہشمند تھا۔

یہ داستان ہے فہد فلسطینی کی!!

یہ نوجوان عمر قید کا پروانہ لے کر جیل میں وارد ہوا تھا،مجھے اتنا یاد ہے کہ اس نے ائیرپورٹ سے آنے والی اسرائیلی مسافروں سے بھری ہوئی بس کو ایک بم سے ا ڑانے کی ناکام کوشش کی تھی۔ اس نوجوان کو ہمیشہ دوگارڈز ایک تربیت یافتہ کتے کے ساتھ لے کر آیا کرتے تھے۔

فہد باقاعدہ جمعہ کی نماز کے لیے آیا اور مجھ سے بھی ہم کلام رہتا۔

کچھ عرصہ کے بعد میں نے محسوس کیا کہ وہ جمعے کے لیے نہیں آ رہا ہے۔ ساتھی قیدیوں نے بتایا کہ وہ ابھی یہیں ہے، اسے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا۔

پھر ایک دن مجھے وہ درخواست موصول ہوئی جس میں اس نے اسلام چھوڑ کر رومن کیتھولک مذہب اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا یعنی پہلا خانہ میرے OKكا منتظر تھا۔ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ یا اللہ! کیا مجھے اس کے ارتداد پر مہر ثبت کرنا ہو گی؟ نہیں! ایسا نہیں ہو سکتا، مجھے اس سے بات کرنا ہو گی۔ چنانچہ میں اگلے جمعہ خصوصی طور پر اس کی جیل کی کوٹھری میں پہنچا۔ وہ مجھے دیکھ کر چونکا۔

میں نے پوچھا کہ آیا واقعی تم نے یہ درخواست دی ہے؟

اس نے کچھ ہچکچاہٹ کے بعد اقرار کیا کہ واقعی اسی نے یہ درخواست دی ہے، ہم کافی دیر بات چیت کرتے رہے، مجھے اندازہ ہوا کہ وہ خوشدلی کے ساتھ یہ قدم نہیں اٹھا رہا بلکہ اسے یہ امید ہے کہ عیسائیت قبول کر لینے کے بعد اس کے جیل سے چھوٹ جانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

میں نے اپنی بات کے اختتام پر اس سے کہا:

فہد! مجھے یہ بتاؤ کہ تم واقعی اس بات پر یقین رکھتے ہو کہ خدا تین ہیں؟

فہد، جھٹ بول اٹھا کہ نہیں! قل هو الله أحد، الله الصمد اور پھر چار آیات پر مشتمل پوری سورۃ الاخلاص پڑھ گیا۔

میں نے کہا: الحمد للہ! فہد تم مسلمان ہو اور میں تمہارےخروج از اسلام کا شاہد نہیں بن سکتا، چنانچہ میں نے درخواست کے خانہ اولیٰ میں فہد کے مسلمان رہ جانے کی تصدیق کر دی۔ فہد ایک جیل سے دوسری جیل منتقل ہوتا رہا۔ میرا اس سے تعلق منقطع ہو چکا تھا کہ ایک دن گلاسٹر جیل سے مجھے اس کا خط موصول ہوا۔ اس نے مجھ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور اس مقصد کے لیے میری وزٹ کی منظوری بھی حاصل کر لی تھی۔ اور پھر ایک صبح میں نے اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور پیچدار شاہراہوں، مرغزاروں اور دیہی علاقوں کی تنگ سڑکوں سے ہوتا ہوا بالآخر گلاسٹر جیل جا پہنچا، یہ جیل کچھ زیادہ سہولیات کی بنا پر اوپن جیل کہلاتی تھی، یعنی فہد اور میری ملاقات جیل کے ریستوران میں ہوئی جہاں ہم دونوں ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

فہد نے بتایا کہ اس کے ملک بدر کیے جانے کی ایک صورت پیدا ہو چکی اور وہ اس شرط پر کہ کوئی مسلم ملک اسے قبول کر لینے پر آمادہ ہو جہاں اسے بھیجا جا سکے۔ میں اس ضمن میں اپنی بے بضاعتی کو خوب جانتا تھا اس لیے اس کی خدمت میں نیک خواہشات اور دلی ہمدردیوں کا ایک گل دستہ نذر کر کے واپس ہو لیا۔ یہ میری اس کے ساتھ آخری ملاقات تھی۔ میری دعا ہے کہ وہ جہاں بھی ہو خیر وعافیت کے ساتھ ہو۔

٭٭٭

تبصرہ کریں