گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط 9)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

21۔ کھل جا سم سم

اب یہ یاد نہیں کہ یہ اسی سال (1981ء) کی بات ہے یا کسی دوسرے سال کی۔ میں برمنگھم یونیورسٹی میں ایم اے بحیثیت پارٹ ٹائم طالب علم رجسٹرڈ ہو چکا تھا۔ چاہتا تھا کہ اپنے تحقیقی مقالہ کے لیے ایسے موضوع کا انتخاب کروں، جس میں حدیث پر مستشرقین کے اٹھائے ہوئے اعتراضات کا رد کیا جا سکے، لیکن سیلی اوک کالج کے ڈاکٹر ڈیوڈ کُر (جو بعد میں امریکہ سدھار گئے تھے) اور ڈاکٹر نیلسن (جن کا تعلق ڈنمارک سے تھا) سے تفصیلی ملاقات کے بعد ایسے کسی موضوع پر اتفاق نہ ہو سکا۔ پھر غوروفکر کے بعد ایک موضوع ہاتھ لگا، اور وہ یہ کہ سنن ابن ماجہ میں میں جن احادیث کو بربنائے اسانید نشانہ تنقید بنایا گیا ہے، ان کو موضوع بحث بنایا جائے اور بطور تمہید علم اصول حدیث یا مصطلح کا ایک مفصل تعارف بھی پیش کر دیا جائے۔ میں نےلندن کے اسکول آف اورنٹیل اینڈ افریکن سٹڈیز (SOAS) کی لائبریری کے اس حصے میں تھا، جو تیسری یا چوتھی منزل پر واقع ہے اور جس کی کھڑکیاں ایک مرکزی شاہراہ پرکھلتی ہیں۔

چونکہ 4 بجے مغرب کا وقت ہو جاتا ہے تو میں لائبریری ہال کے مرکزی کمرے سے چند سیڑھیاں اوپر چڑھ کر ایک بغلی کمرے میں داخل ہوا ، جہاں نماز پڑھنے کی سہولت حاصل تھی۔ نماز کے بعد جب میں ہال میں واپس آیا تو بڑا تعجب ہوا کہ روشنیاں گل ہو چکی تھیں۔ میں لائبریری میں ایستادہ کتابوں کی الماریوں کے درمیان میں سے ہوتا ہوا ہال کےصدر دروزاے تک پہنچا، تو دیکھا کہ دروازے کے دونوں گرانڈیل پٹ گلے مل چکے ہیں اور باہر کی طرف سے لوہے کی زنجیر میں بندھا قفل انہیں اگلی صبح تک کھولے جانے سے مانع ہے۔

اب یہ میری غلطی تھی کہ میں نے لائبریری کے بند ہو جانے کے اوقات پر دھیان نہیں دیا تھا اور چوکیدار کی یہ غفلت کہ اس نے ہال میں بیٹھے زائرین کو تو یقیناً باہر کی راہ دکھائی ہو گی لیکن وہ بغلی کمرے میں جھانکنے کا روادار نہ ہوا کہ جہاں میں سربسجود رہا تھا۔

یہ بات موبائل فون کی سہولت سے میسر آنے سے بہت پہلے کی ہے۔ اس لیے باہر کی دنیا سے رابطے کی کوئی سبیل نہ تھی۔ کھڑکی سے جھانکا تو سردیوں کی شام ایک ویرانے کا پیغام لا رہی تھی۔ نیچے دور فٹ پاتھ پر اکا دکا شخص چلتا نظر آیا لیکن نہ میری آواز اس تک پہنچ سکتی تھی اور نہ ہی میں اس پوزیشن میں تھا کہ کسی کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا۔ میں نے صدر دروازے کو پیٹنا شروع کر دیا۔ دروازوں کو جھجھوڑا، تپایا، کھٹکھٹایا اور بآواز بلند ہیلپ، ہیلپ کے نعرے بلند کرنا شروع کیے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرا عرصہ امتحان مختصر رہا۔ چوکیدار بالآخر دروازے تک پہنچ گیا۔ اس نے باہر سے پوچھا کہ تم اندر کیا کر رہے ہو؟

میں نے کہا: پہلے دروازہ تو کھولو پھر مجھ سے پوچھ گچھ کر لینا۔

یوں اس نے دروازہ کھولا اور پھر میری رام کہانی سننے کے بعد گویا ہوا کہ تمہیں لائبریری کے اوقات کا جاننا ضروری تھا۔ میں نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے گھر کی راہ لی۔

ہاں اگر چوکیدار نہ آتا تو سردیوں کی وہ رات میں لائبریری کے اس کھردرے فرش پر کیسے گذارتا، لیکن نہیں، ’’اگر مگر‘‘ شیطانی وسوسوں کا دروازہ ہے(“لَو”’تفتح باب الشیطان‘)۔ اس لیے بہتر ہے کہ ’’اگر‘‘ کو جھٹک کر میں اپنے گوشۂ عافیت میں پناہ لے لوں۔

22۔ یورپ کا ایک بری وبحری سفر

یہ مارچ 1983ء کی بات ہے، در الافتاء کی طرف سے ہالینڈ، جرمنی اور ڈنمارک کا ایک دعوتی اورمطالعاتی سفر مطلوب تھا۔ طے ہوا کہ اس سفر کے لیے میں اور برادرم محمود احمد میرپوری ہم دونوں مع اہل وعیال اپنی اپنی گاڑی میں براہِ برّ وبحر سفرکریں گے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس سال یورپ کے دو اسفار ہوئے اور دونوں میں برادرم محمود کا ساتھ رہا۔

ہم 30 مارچ کی ایک سہانی صبح کو ہاروچ کی بندرگاہ پر اپنی گاڑیوں کے ساتھ پہنچے، دونوں گاڑیوں کو جہاز کے ایک مخصوص حصے میں پارک کر دیا گیا اور ہم نے اپنی اپنی نشستوں کو سنبھال لیا۔

ایک عرصہ کے بعد بحری جہاز کے سفر کا لطف اٹھایا۔ بحر شمال کی ساکن موجوں سے اٹھکیلیاں کرتا ہمارا جہاز جسے مختصر آمد ورفت کی بنا پر فیری بھی کہا جاتا ہے، ہم چھ گھنٹوں میں ’ھُک آف ہالینڈ‘ کی بندرگاہ پہنچ گئے۔

روٹرڈیم میں ایک دوست کے ہاں پڑاؤ ڈالا اور شام کو مغاربہ (یعنی الجزائر اور مراکش ) کی مسجد کے امام سے ملاقات رہی اور اس کی خواہش پر میں نے اس کے لیے چند تعارفی کلمات بھی تحریر کیے۔

31؍ مارچ: صبح سیرگاہی کے دیرینہ عمل کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نہر کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔ ہالینڈ نہروں اور پن چکیوں کا ملک ہے، جابجا ان دونوں کے قرب سے محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔

دوپہر کو ہم جرمنی کے قصد سے روانہ ہوئے، جلد ہی آخن جا پہنچے جہاں کے اسلامی مرکز کا تعارف اور مشاہدہ حاصل ہوا۔ ہمارا اگلا پڑاؤ ’’ڈوسلڈرف‘‘ کے قریب ’ویل برٹ‘ نام کی بستی میں برادر یا سین کے مرکز شباب میں جانا ہوا، جہاں نوجوانوں کے ایک گروپ سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے اکثر سیاسی پناہ گزین کی حیثیت رکھتے تھے۔

یکم اپریل: ہیمبرگ جاتے ہوئے ’وُوپرٹال‘ سے گذرے جہاں ’معلق ٹرین‘ میں چالیس منٹ کا ایک تفریحی سفر پروگرام میں شامل تھا۔ ’معلق ٹرین‘ کا مطلب ہے کہ ریلوے یعنی پٹڑی اوپر ہے اور ٹرین کے ڈبے آہنی کنڈوں کے ساتھ ان کے نیچے لٹک رہے ہیں، یہ ایسے ہی ہے جیسے کیبل کار، لیکن پوری ٹرین کا کیبل کار بن جانا ایک دوسرا سائنسی شاہکار ہے۔

ہمبرگ میں ایک مقامی نوجوان کے ہاں رات گذا ری۔

2؍اپریل: ایک اور مختصر بحری سفر ہمارا منتظر تھا۔ جرمنی اور ڈنمارک کے درمیان سمندری راستے کو طے کیا اور پھر کوپن ہیگن کی طرف رواں دواں ہو گئے، جہاں حاجی عبد اللہ ہمارے میزبان ٹھہرے۔ شام کو ام وہیب نے خواتین میں اور میں نے یہاں کے اسلامی مرکز میں عربوں کی ایک جماعت سے خطاب کیا۔

3؍اپریل: ایک بڑے سنٹر میں اجتماع عام رکھا گیا تھا۔ میرے صاحبزادے اسامہ اور حاجی عبد اللہ کے صاحبزادے محمد شاہد نے قرآن کی تلاوت سے اجتماع کا آغاز کیا۔ میرے اور برادرم محمود کے خطابات ہوئے اور مغرب کے بعد ’نور گاسی‘ کی مسجد میں عربوں سے خطاب کا ایک دورسا موقع ملا۔

اگلے دو دن مختلف مساجد اور مراکز میں خطاب کا پروگرام رہا۔ رابطہ عالم اسلامی کے مکتب میں برادرم درمنجی سے ملاقات رہی جو اس وقت مدیر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، پھر ترکوں کی مسجد میں نماز ظہر کے بعد کوپن ھیگن سے رخصت ہونے کا وقت آ گیا۔ 5؍اپریل کی شام کو 45 منٹ کے ایک اور بحری سفر کے بعد ڈنمارک کے ایک دوسرے بڑے شہر (ODENSE) کاقصد کر رہے تھے۔

یہاں بھی 2 دن قیام رہا، ترکوں کی مسجد ہی سے راہ ورسم رہی اور پھر 7؍اپریل کی شام ہم (ESBERJ) کی بندرگاہ پہنچے جہاں DANA ANGLIA کا بحری جہاز ہمارا منتظر تھا۔

برطانیہ کی بندرگاہ HARWICH تک یہ کوئی 19 گھنٹے کا سفر تھا، جس میں رات بھر کا قیام شامل تھا۔ ہم نے اس پُرسکون سفر کا لطف اٹھایا اور بخیریت وعافیت پہنچنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ہمارے کل سفر میں کوئی 1100 میل گاڑی دوڑاتے ہوئے اور 530 میل سمندر کی موجوں پر سواری کرتے گذرا۔ ھاروچ پہنچتے ہی ہماری اور برادرم محمود کی راہیں جدا ہو گئیں، انہوں نے ’میڈا سٹون‘ کا راستہ اپنایا اور ہم نے لندن کی راہ لی۔

برادرم محمود کی رفاقت نے اس سفر کو دلآویز بنا دیا۔ فجزاہ اللہ خیرا۔

23۔ برلین کا ایک دعوتی سفر (10 نومبر تا 15 نومبر 1983ء)

امسال یہ دوسرا دعوتی سفر تھا، جس میں اس دفعہ برادرم محمود احمد میرپوری اور ڈاکٹر سید متولی الدرش کی معیت حاصل رہی۔ HANOVER تک ہوائی جہاز میں اور پھر اس کے بعد برادرم فاروق اور ان کے ساتھی کی معیت میں بذریعہ کاربرلین کا رخ کیا۔ برلین تک پہنچنے کے لیے مشرقی جرمنی سے گذرنا لازمی تھا، اور اس مقصد کے لیے مغربی جرمنی والوں کےلیے ایک گذرگاہ مختص کر دی گئی تھی کہ جو انہیں سیدھابرلین پہنچا دے۔ سخت دھند کی وجہ سے یہ سفر سست روی کا شکار رہا۔

جرمنی میں ہمارے پرانے رفیق جناب عبدالرزاق اور ان کے بہنوئی عبد الحنان کے ہاں قیام کا بندوبست کیا جا چکا تھا۔

11؍ نومبر جمعہ کی مصروفیات میں برلین یونیورسٹی کے طلبہ کے مصلّی میں جمعہ کا خطبہ اور پھر ترکوں کی مسجد مولانا کی زیارت شامل تھی۔ شام کو بنگللور کے چند احباب نے عشائیہ کے بعد ایک تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا، جس میں ہم تینوں حضرات نے حصہ لیا۔ اب آئیے کچھ دیواربرلین کا تذکرہ ہو جائے۔

میں اس سے قبل دیوار برلین کو ایک دفعہ دیکھ چکا تھا لیکن اپنے دونوں رفقا کے ساتھ کئی دوسرے مقامات پر ایک دفعہ پھر دیکھا۔

آج کابرلین ’دیوار برلن‘ کی وجہ سے ایک تاریخی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ 1945ء میں اتحایوں کے ہاتھوں سقوطِ برلن کے وقت یہ شہر بیس بلدیاتی اکائیوں پر مشتمل تھا، جس میں سے آٹھ روس، چھ امریکہ، چار برطانیہ اور دو فرانس کی تحویل میں تھیں۔ پوسٹڈیم کے معاہدہ کے تحت طے پایا تھا کہ برلن سے متعلق ہر فیصلہ چاروں کے اتفاق سے ہو گا لیکن امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے ساتھ اپنے مقبوضہ علاقہ کا اقتصادی نظام وضع کر کے روس کی ناراضگی مول لی۔ نتیجتاً روس کی طرف سے باقی تینوں اتحادیوں کے علاقہ کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی گئی۔ جنگ کے عقب میں کچھ عرصہ اہل برلن پر ایسا بھی گزرا کہ سوائے فضائی راستے کے وہ باقی دنیا سے کٹ کر رہ گئے، مغربی برلن کا ایک ثانوی ایئرپورٹ غذا کی درآمد کا واحد راستہ تھا جس سے یہ محصور لوگ جسم وجان کا رشتہ قائم رکھ سکے۔

1961ء تک مشرقی برلن کے مزدور مغربی حصہ میں آ کر کام کر سکتے تھے لیکن روسیوں نے اپنے نظریہ کے استحکام کے لیے اور کچھ اہل مشرق کو مغرب کے افکار سے محفوظ رکھنے کے لیے برلن کی مستقل تقسیم کا فیصلہ کر لیا جو دیوار برلن کی شکل میں ایک ہی قوم کے مابین مصنوعی رکاوٹ کھڑی کرنے کا بہترین شاہکار ہے۔ یہ دیوار دریا کے پانی کی طرح شہر برلن کی آبادی کو کاٹتی چھانٹتی، بلکہ بعض علاقوں میں ایک ہی عمارت یا گرجا کو اس کے دالان سے محروم کرتی ہوئی، آڑ ی ترچھی 120 میل کی لمبائی میں پھیلی ہوئی ہے، اس دیوار کو پھلانگنے میں 1961ء سے اب تک کتنے ہی لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

برلن کے تاریخی مقامات کی سیاحت کے وقت ہم ہٹلر کے دور کی پارلیمنٹ سے متصل دیوار کے اس حصہ تک پہنچے، جہاں مشرقی برلن کی سمت سے بہتی ہوئی نہر کئی جرمنوں کے لیے رات کی تاریکی میں یا روسی فوجیوں کے لمحات تغافل میں راہ نجات بنتی رہی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ دو ماہ قبل ہی تین جرمن زیر آب تیرتے ہوئے مغربی برلن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ روسی پہرے داروں کی گشتی کشتی بہت تیزی سے ان کے تعاقب میں لپکی لیکن وہ اس وقت تک مغربی برلن کی حدود میں پہنچ چکے تھے اور معاہدہ کے مطابق نہ انہیں گولی کا نشانہ بنایا جا سکتا تھا اور نہ ہی گرفتار کیا جا سکتا تھا، اس طرف کئی سیاح ان کی مدد کو لپکے اور انہیں بحفاظت خشکی پر لے آئے۔

نہر کے کنارے دیوار کے ساتھ زمین پر چند تختیاں آویزاں ہیں، غالباً 10 یا 12 جن پر ان لوگوں کے نام لکھے گئے ہیں جو اس راستہ سے دیوار پھاندتے ہوئے روسیوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

برلن کا مضافات قدرآور درختوں سے پٹا پڑا ہے جس میں جابجا سیرگاہیں بنائی گئی ہیں لیکن کیا یہ احساس کہ انسان جدھر کا بھی رخ کرے دیوار برلن اس کے سامنے موجود ہو گی، قفس میں مقید ایک پرندے کے احساسات سے مختلف ہو سکے گا؟

لیکن نہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو مشرقی جرمنی کے طول وعرض سے جرمن مغربی برلن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے نظر نہ آتے۔

برلن کے قابل دید مقامات میں ہٹلر کے زمانہ کی پارلیمنٹ بلڈنگ شامل ہے جو اب عجائب گھر کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہاں جرمنی کی تاریخ، تصاویر، مجسموں، آرٹ کے نمونوں اور دیگر انداز سے بیان کی گئی ہے۔ ایک جگہ ہٹلر کے زمانے میں یہود کی تضحیک پر مشتمل کارٹون دکھائے گئے ہیں۔ برلن کا آخری معرکہ اسی بلڈنگ کے نواح میں برپا گیا گیا جہاں ہزاروں جرمن کھیل رہے تھے۔

کرسمس کی مناسبت سے برلن کی ایک مرکزی شاہراہ کو مختلف روشنیوں کے امتزاج سے بقعہ نور بنایا گیا تھا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ محافظ عیسائیت برطانیہ میں کرسمس کے موقع پر لندن کی ریجنٹ سٹریٹ اور پکاڈلی کو جس طرح سجایا جاتا ہے برلن ا س کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

مشرقی برلین ایک دفعہ پہلے جاچکا ہوں۔ اب اپنے رفقاء سفر کے ساتھ اس گھاٹی کو ایک دفعہ پھر پار کیا۔ پانچ جرمن مارک کا نذرانہ بطور سرحد پار کرنے کے دیے اور 25 مارک کی حد تک ہمیں مقامی کرنسی بدلوانے کی اجازت دی گئی۔ ہم نے اس زیارت میں سائنس اکیڈمی، پبلک لائبریری اور یونیورسٹی کی لائبریری میں چند ساعتیں گذاریں۔ مقصود تھا کہ پچھلی زیارت میں جن مفقود مخطوطات کی تلاش تھی، شائد اس کا سِرا کہیں سے مل جائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

اب ذرا پچھلی زیارت کا بھی کچھ تذکرہ ہو جائے۔

مغربی برلن کی لائبریری میں عربی کتب کی ایک کثیر تعداد موجود ہے، جس کی فہرست لندن میں نظر سے گزری تھی لیکن عرصہ ہوا مدینہ منورہ میں علم حدیث کے استاد شیخ حماد الانصاری کے توسط سے انتہائی نایاب مخطوطات پر مشتمل ایک فہرست ہاتھ آ لگی تھی جسے جنگ عظیم اول سے قبل ایک ہندوستانی زائر نے ترتیب دیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ یہ کتب شاہی کتب خانہ کے فلاں فلاں کمروں میں فلاں فلاں الماریوں میں رکھی گئی ہیں لیکن دو عظیم جنگوں کے بعد ان قیمتی شہ پاروں کا سراغ لگائے نہیں لگتا۔ ایک مصری زائر کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ کتب جنگ کے بعد پوسٹڈیم کے ذخیرہ نوادرات و ریکارڈز میں محفوظ کر دی گئی تھیں۔ ہماری پہنچ صرف مشرقی برلن کی موجودہ لائبریری تک ہو سکی، لیکن لائبریری کے کارپردازوں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ بعد میں برادرم عبد الرزاق نے پوسٹڈیم کے متذکرہ ادارے پر بھی دستک دی لیکن جواب نفی میں ملا۔

اس فہرست میں تفسیر کی 24، حدیث کی 92، شرح حدیث کی 26، اسمائے رجال کی 30 اور تاریخ کی 22 نادر کتب درج ہیں۔

اس فہرست میں سے چند غیر مطبوعہ نوادرات کا ذکر اس مضمون کے آخر میں بطورِ ضمیمہ کیا گیا ہے۔ یہ عنوانات دیکھیے اور سردھنیے کہ اتنے عظیم شاہکار مغرب کے ہاتھ کیسےآ لگے۔

ہو سکتا ہے کہ قارئین میں سے کوئی ہمت کے شناور اس بحر کے غوطہ زن رہے ہوں اور کاتب مضمون کی معلومات میں اضافہ کر سکیں۔ وہ نہ صرف علم کی اشاعت کا ثواب پائیں گے بلکہ امت مسلمہ پر ایک عظیم احسان بھی کریں گے کہ صدیوں سے پردۂ نسیان میں مستوران نوادرات کو منظر عام پر لائیں گے۔

برادرم فاروق کے ساتھ برلین کی نابغہ روزگار ہستی جناب حسن الدین کا ایک مرتبہ پھر دیدار ہوا۔

جناب حسن الدین صاحب حیدر آباد کے ایک علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ الیاس برنی مرحوم کے بھانجے، دیوار برلن کے اٹھتے ہی طلب علم کی خاطر برلن آئے تھے اور پھر ایسے یہاں کے ہوئے کہ دوبارہ ہندوستان جانے کا نام نہیں لیا۔ ربع صدی کا طویل عرصہ امریکن انتظامیہ سے اقامت کے حصول میں جدوجہد کرتے گزرا۔ بڑے بڑے عزائم رکھتے ہیں۔ 200 جلدوں میں سیرت پاک ﷺ پر انسائیکلوپیڈیا کے لیے برسوں سے مواد مہیا کر رہے ہیں جو اب ان کے رہائشی کمرے کے طول وعرض کو سمیٹتا نظر آتا ہے۔ 20 جلدوں پر مشتمل اسلامی آرٹ کے لیے مواد علیحدہ سے زیرترتیب ہے۔

افسوس ہے کہ ایسی قابل قدر ہستی تغافل احباب کاشکار ہے۔ انگریزی، جرمن اورٹرکش زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ شاید یہ سطور کسی علم دوست ادارے کے لیے دردمندی کے احساسات پیدا کریں۔

میں اپنی پچھلی زیارت کی روشنی میں مشرقی برلن کے بارے میں یہ تاثر رکھتا ہوں کہ معیار زندگی کے قابل محسوس تفاوت کے علاوہ وہاں کی دکانوں میں ’اشیاء کمالیات‘ کی کمی یقیناً ہے لیکن کھانے پینے کی اشیاء سستی ہیں۔ گو ایک بڑے اسٹور پر صرف روٹی کی خرید کے لیے لمبی لمبی قطاروں کا لگنا اچنبھے کا باعث ہوا۔ اس بات کا اندازہ یوں ہوا کہ اس اسٹور سے نکلنے والے اکثر لوگ اپنے تھیلوں میں صرف ڈبل روٹی یا انڈے وغیرہ خرید کر نکل رہے تھے۔ مچھلی کی ایک دکان پر یہ منظر بھی نظر آیا کہ کاؤنٹر سے متصل چھوٹے چھوٹے حوضوں میں زندہ مچھلیاں اور کیکڑے لا کر چھوڑ دیے گئے ہیں اور گاہک کی نشان دہی پر مطلوبہ مچھلی کو پانی سے نکال کر ٹھنڈا کیے بغیر ہی کانٹ چھانٹ شروع کر دی جاتی ہے اور پھر اسے خریدار کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

مشرقی برلن کا ٹی وی ٹاور دنیا کے بلند ترین میناروں میں سے ہے جوبرلن کے کونے کونے سے نظر آتا ہے، ٹاور کی بالائی منزل پر گھومنے والا ریسٹورنٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں کام و دہن کے چٹخاروں کے ساتھ 20، 30 منٹ میں بیٹھنے والے کا ایک چکر مکمل ہو جاتا ہے اور یوں وہ برلن کے مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کو تاحد نگاہ دیکھ سکتا ہے۔

یہاں کی سڑکوں پر کاروں کی وہ بہتات نہیں جو برلن یا لندن کا خاصا ہے۔ جو کاریں نظر بھی آئیں وہ صرف روسی ساخت کی ’لاڈا‘ ہیں، شاید چند دوسرے ماڈل بھی ہوں جو میری نظر سے اوجھل رہے ہوں۔

ہم نے چند دعوتی اجتماعات میں بھی شرکت کی جس میں تحریک اسلامی برلین کا سالانہ اجتماع، مسجد عمر بن خطاب اور ایک مکان پر احباب ہند سے ملاقات اور ان کے سوالات کی نشست شامل تھی۔ برادرم محمود ان اجتماعات میں شریک رہے اور ڈاکٹر الدرش برادران عرب کی خواہش پر ان کے مہمان ٹھہرے۔

15 نومبر کو ہم نے HANOVER جانے والی ٹرین کی نشستیں سنبھال لیں۔ 4 گھنٹے کا سفر تھا۔ ہمارے مقابل دو انگریزی سے شد بُد رکھنے والی خواتین اپنی سیٹوں پر براجمان تھیں۔ ہمارے دونوں رفیق سفران سے کچھ اسلام کی اور کچھ اخبار عالَم کی باتیں کرتے رہے۔ میں نے اپنی کم گوئی کی بنا پر ایک اچھے سامع کا تاثر دیا۔

اسٹیشن پہنچتے ہی ہم تینوں نے ائرپورٹ کی راہ لی اور رات کے 9 بجے ہم لندن کے ہوائی اڈے پر تھے۔ دونوں رفقاء کی معیت میں یہ سفر بہت خوشگوار گذرا۔(مارچ 2022ء کی اس تحریر کے موقع پر اپنے ان دونوں دوستوں، بھائی عبد الحنان اور جناب حسن الدین کی دعائے مغفرت کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ یہ چاروں حضرات کچھ وقفے وقفے سے اپنے رب کے حضور جا چکے ہیں)

ان دونوں سفر ناموں سے مقصود کچھ پرانی یادوں کو تازہ کرنا ہے۔ اپنے خطابات اور تقاریر کی تلخیص یا بیان مطلوب نہیں ہے، اس لیے ان کا ضمناً اجمالی ذکر آ گیا ہے۔

ضمیمہ:

POSTDAM کے میوزیم میں جس کتب خانہ کی فہرست کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہ 17 صفحات پر مشتمل ہے۔

ہم بطورِ نمونہ مخطوطات حدیث پر مشتمل دو صفحات کا عکس پیش کر رہے ہیں، جن میں ’مسند بقی بن مخلد‘ کی موجودگی کا تذکرہ ہے جو کہ حدیث کا سب سے بڑا مجموعہ قرار دیا گیا ہے۔

٭٭٭

 

تبصرہ کریں