گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط 5)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

11۔ یادرفتگاں: محمد لقمان سلفی

ہمارے اس باب میں حکایات کا تسلسل زمانی ملحوظ نہیں رکھا گیا، میرے دوست، جامعہ مدنیہ کے ساتھی، سرزمین ہند کے مایہ ناز سپوت محمد لقمان سلفی کے بارے میں ان کی قائم کردہ جامعۃ الامام ابن تیمیہ (بہار) کے طلبہ اور اساتذہ نے ان کی یاد میں ایک کانفرنس آن لائن کا اہتمام کیا۔ خیال رہے کہ 5 مارچ 2020ء کو ریاض میں ان کا انتقال ہوا۔ حرم مکی میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں مکہ کے قبرستان المعلّی میں مدفون ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔

اسی کانفرنس میں مجھے بھی دعوت خطاب دی گئی بلکہ اس 2 روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس کی صدارت بھی سونپی گئی۔ میں نے جن خیالات کا اظہار کیا، وہ قلمبند کیے دیتا ہوں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

﴿وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى ۗ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا﴾ (سورة مريم)

’’ اور اللہ ان لوگوں کو جو ہدایات پا چکے ہیں اور زیادہ ہدایت عطا کرتا ہے اور باقی رہ جانے والے نیک اعمال تیرے رب کے نزدیک زیادہ بہتر ہیں ثواب کے لحاظ سے اور زیادہ بہتر ہیں انجام کے اعتبار سے۔‘‘

میں منتظمین اور ابناء جامعۃ الامام ابن تیمیہ کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے دعوت خطاب دی تاکہ میں اپنے عزیز بھائی، اپنے دوست اور اپنے ہمعصر برادرم محمد لقمان سلفی کے بارے میں اپنی یادوں میں آپ سب حضرات کو شریک کر سکوں۔

میں نے اپنی ان یادوں کو مندرجہ ذیل نقاط میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے:

1۔جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا قیام ایک بابرکت قیام تھا۔ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے طلبہ کا آپس میں محبت والفت کی داستانیں رقم کرنے کا ایک سنہری موقع تھا اور اس حدیث کا مصداق کہ ارواح وہ ہتھیار بند لشکری ہیں جو ایک دوسرے کو خوب پہچانتے ہیں اور پھر باہم شیر وشکر ہو جاتے ہیں، کئی ساتھی بنے اور بنائے جن میں پٹنہ (بہار) کے محمد لقمان سلفی بھی تھے۔

میں پاکستانی طلبہ کے 18 رکنی وفد کے ساتھ جولائی 1962ء میں مدینہ منورہ پہنچ پایا تھا، جبکہ محمد لقمان ہندوستان کے 17 رکنی وفد کے ساتھ ہم سے چند ماہ قبل وہاں وارد ہوئے تھے۔

والد محترم مولانا عبد الغفار حسن 2 سال بعد بحیثیت مدرس تشریف لا چکے تھے، لقمان کے ساتھ نہ صرف میرا بلکہ میرے برادران خورد کا تعلق بھی استوار ہوتا گیا، انہیں انگریزی زبان کے حصول کا بھی بہت شوق تھا اور اس سلسلہ میں ہمارا تعلیم وتعلم کا باہمی تعلق بے پایاں بڑھتا گیا۔ میں ان سے درجہ عالیہ میں ایک سال آگے تھا، لیکن جامعہ کے 4 سال کا دورانیہ ساتھ ساتھ گزرا اور پھر کچھ عرصہ میرے مشرقی افریقہ جانے کی بنا پر رابطوں میں کمی آتی گئی لیکن پھر تجدید ملاقات کی سبیل پیدا ہو گئی اور وہ اس طرح کے دار الافتاء کی جانب سے ایام حج کے دوران دعوت وتبلیغ کے لیے ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جسے (التوعیۃ الاسلامیہ فی الحج) کا نام دیا گیا۔ میں کئی سال اس ادارے کی طرف سے حج کے موقعہ پر وہاں مدعو کیا جاتا رہا۔

چونکہ شیخ ابن باز﷫ ہمارے سربراہ تھے اس لیے ان کا سارا سارا مکتب دوران حج ریاض سے مکہ مکرمہ منتقل ہو جاتا اور ہمارے دوست لقمان شیخ کے سیکرٹری اور ترجمان کی حیثیت سے ان کے دفتر کے عملہ کے شب و روز وہیں گزارتے اور یوں یہ تعلق مزید نکھرتا گیا اور پھر نہ صرف مکہ مکرمہ بلکہ طائف جہاں وہ شیخ ابن باز﷫ کے ساتھ موسم گرما میں منتقل ہو جایا کرتے تھے، ہماری ملاقات کے دفتر کھلتے چلے جاتے، مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کی سالانہ کانفرنس میں بھی میں نے انہیں مدعو کیا۔ انہوں نے انتہائی مسرت کے ساتھ میری اس دعوت کو قبولیت سے نوازا۔

2۔انہوں نے جامعہ میں طلب علم کا حق ادا کر دیا، عربی زبان سے تو پہلے ہی شغف تھا، لیکن قابل اساتذہ کی صحبت نے ان کی فصاحت اور بلاغت کو چار چاند لگا دیے، یہ اتفاق ہے کہ طلب علم کے دوران میرا پہلا مضمون بیروت کے ایک ہفتہ وار جریدۃ ’ الشہاب‘ میں شائع ہوا تھا اور ایسے ہی لقمان سلفی کا ایک مضمون بیروت ہی کے مجلہ ’ الالأديب‘ میں شائع ہونے کی سعادت حاصل کر پایا۔

پاک وہند سے بے شمار طلبہ نے جامعہ تک رسائی ضرور حاصل کی لیکن ان میں چند ہی ایسے خوش نصیب ٹھہرے جو عربی زبان کی نزاکت اور لطافت کو اپنے قلم کی زینت بنا سکے۔

3۔ برادرم لقمان سلفی میں مسلک اہل حدیث کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، کتاب وسنت کی صاف ستھری دعوت کو عام کرنے میں وہ پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے زبان وبیان سے لے کر قلم وقرطاس کو اس کام کے لیے وقف کر دیا تھا، ڈاکٹریٹ کے لیے جس موضوع کو چنا وہ بھی سنت کا دفاع تھا۔

ایک ملاقات کے دوران انہوں نے مجھے اپنے اس تحقیقی مقالہ کو مطبوع کتاب کی شکل میں ہدیہ بھی کیا تھا۔ عنوان: ” اهتمام المحدثين بنقد الحديث سندا ومتنا” اس کتاب میں جہاں احادیث کو پرکھنے کے لیے روایت اور درایت پر مشتمل مساعی کا ذکر کیا گیا ہے وہاں مستشرقین کے اٹھائے گئے شکوک اور شبہات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

میں نے اس ضمن میں اپنے ایم اے میں پیش کردہ تحقیقی مقالے کا بھی ذکر کیا جو اس سے مشابہ عنوان رکھتا ہے اور جس میں خاص طور پر سنن ابن ماجہ کی ان احادیث پر بحث کی گئی ہے جن پر متاخرین محدثین (ابن جوزی وغیرہم) نے موضوع ہونے کا حکم لگایا ہے اور پھر شناخت کے اس اعتراض کا رد کیا ہے کہ احادیث کی اسانید میں مرور زمانہ کے ساتھ پیوندکاری (Grafting) کا رجحان پایا گیا ہے اور اس ضمن میں میں نے بیوع میں سے بیع مزابنہ کی نہی پر مشتمل احادیث کی اسانید کو جمع کرنے کے بعد شاخت کی دلیل پر کلام کیا ہے۔

برادرم لقمان نے میرے اس مقالے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور مذکورہ نقاط کی تحسین فرمائی۔

4۔ برادرم لقمان کا ہندوستان سے کافی دور ہونے کے باوجود ہندوستان کے صوبہ بہار (جھاڑ کھنڈ) میں جامعۃ الامام ابن تیمیہ کے نام سے ایک عظیم درسگاہ کی داغ بیل ڈالنا، اسے پروان چڑھانا، اس کے شایان شان عمارتیں کھڑی کرنا، ایک ایسا قابل ذکر کام ہے جو ان کے لیے ان شاء اللہ تو شۂ آخرت رہے گا۔

یہ 1988ء کی بات ہے جب میں نے سب سے پہلے ان کی بان سے اس ادارے کے قیام کی بات سنی، بلکہ انہوں نے مجھ سے شیخ ابن باز﷫ کے نام ایک تعارفی خط کی بھی فرمائش کی۔ میری ڈائری کے مطابق 27 جنوری 1988ء کو میں نے یہ خط تحریر کیا تھا، جس میں چندن بارہ بہار میں ایک درسگاہ کے قیام کے سلسلہ میں برادرم لقمان کی سرگرمیوں کو سراہا گیا ہے۔ لقمان نے اس مرکز کی تاسیس کے مختلف مراحل میں اپنے محسنوں کو یاد رکھا، چنانچہ قسم تحقیق کو شیخ ابن باز﷫ کے نام سے اور لیکچر ہال کو شیخ محمد ناصر الدین البانی﷫ کے نام سے موسوم کیا۔ میں نے اس عظیم الشان مرکز کی تصاویر دیکھیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک فردِ واحد نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ایک پوری جماعت کے کرنے کا تھا۔

5۔ برادرم لقمان کی خود نوشت سوانح ’کاروان حیات‘ کا تذکرہ بھی ہو جائے ، کتنے خوش نصیب وہ طلبہ ہوں گےجو اپنے اساتذہ اور اپنے رفقاء درس کو یاد رکھے ہوں گے۔ برادرم لقمان نے اپنے تمام اساتذہ کا نام بنام تذکرہ کیا ہے، ان کا بھی جن سے ہندوستان میں شرف تلمذ حاصل کیا اور ان کا بھی جو جامعہ مدنیہ اور المعہد العالی (الریاض) میں ان کے مربی اور مرشد رہے۔

اساتذہ میں انہوں نے میرے والد شیخ عبد الغفار حسن رحمانی کا تفصیلی تذکرہ ےکیا ہے اور ان سے قبل شیخ ابن باز، شیخ محمد امین شنقیطی، شیخ البانی اور حافظ محمد گوندلوی کا والہانہ تذکرہ بھی موجود ہے اور پھر وہ اپنے رفقا کا بھی جابجا تذکرہ کرتے ہیں، خاص طور پر ان کے ہم درس، ہم نوالہ وپیالہ حافظ احسان الٰہی ظہیر کا جن کا ان کے ساتھ خاص تعلق رہا اور مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے مجھ ناچیز کو بھی فراموش نہیں کیا۔

6۔ میں چونکہ اکثر مکہ، ریاض، طائف جاتا رہا، اس لیے بارہا ان کی ضیافت کے مزے لوٹتا رہا۔

سن 87، 88 میں مجھے لندن کے ایک ساتھی ڈاکٹر سید متولی الدرش (ازہری) کے ساتھ معافی قرآن کے انگریزی ترجمہ کی مراجعت اور تصحیح کے لیے کوئی تین ماہ ریاض میں قیام کرنا پڑا۔ اس دوران تقریباً روزانہ ہی دفتر میں ملاقات بھی رہی اور پھر ان کی دعوت پر ان کے مہمان خانے کی زیارت بھی جاری رہی۔ ایک دوسری زیارت میں ایک یا دو رات ان کے مہمان خانے میں قیام بھی کیا۔ دیکھا کہ مہمانوں کا آنا جانا جاری رہتا ہے اور کئی رفقاء کئی کئی دن وہاں قیام پذیر رہے ہیں اور ان کے دستر خوان کا مزا لیتے رہے ہیں۔

دفتر کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے کام میں مصروف ہیں لیکن ضرورتمند احباب ان کی توجہ کے منتظر سامنے کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کوئی سفارشی خط لکھوانا چاہتا ہے، کوئی شیخ سے ان کے توسط سے ملاقات کا خواہشمند ہے اور کوئی عارضی قیام میں ان کی مدد کا طالب ہے۔

7۔ ایک عالم کے لیے نیک اولاد بہت بڑا انعام ہے، عام طور پر علماء اپنی بے پناہ مصروفیات کی بنا پر اولاد پر زیادہ توجہ نہیں دے پاتے ، اس لیے ان کے گزر جانے کے بعد ایک جہان ان کا ثنا خواں رہتا ہے لیکن خود ان کی اپنی اولاد باپ کے نقش قدم کو نشان منزل سے بدل دینے سے قاصر رہتی ہے۔

برادرم لقمان سے مارچ 2010ء میں ایک ملاقات رہی جس میں انہوں نے یہ واقعہ ذکر کیا: شیخ ابن باز﷫ کے فرزند ارجمند کلیۃ الشریعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد تجارت کی طرف مائل ہو گئے اور اس کا سبب یہ بنا کہ وہ اپنے لڑکپن میں شاہ فہد کے صاحبزادے عبد العزیز سے بڑے بے تکلف ہو چکے تھے کہ جن کی والدہ آل شیخ میں ہونے کی بنا پر اپنے بیٹے کو شیخ ابن باز﷫ کی صحبت میں اکثر بھیجا کرتی تھیں۔عبد العزیز جب عملی زندگی میں داخل ہوئے تو احمد کو بھی اپنے ساتھ تجارت میں شامل کر لیا۔

برادرم لقمان نے احمد کو ناصحانہ مشورہ دیا کہ وہ شیخ کی وراثت علمی کو سنبھالیں اور اپنے باپ کے نام کو روشن کریں۔ احمد نے اس مخلصانہ مشورے کا شکریہ ادا کیا لیکن وہ بدستور اپنے کام میں جتے رہے۔ ایک دفعہ جامعہ مدینہ جانا ہوا تو وہاں کے اساتذہ اور طلبہ نے ان کے لیے استقبالیہ ترتیب دے ڈالا۔ ایک استاد نے شیخ کا دلدوز مرثیہ بھی پڑھ کر سنایا جس سے احمد کافی متاثر ہوئے اور شدت تاثر کی بنا پر زیادہ بات کرنے سے معذرت بھی چاہی۔ شیخ کے دوسرے بیٹوں میں خالد اور عبد الرحمٰن بھی ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی شیخ کا جانشین بننے کا شرف حاصل نہ کر سکا۔

اور اب ہم شیخ محمد لقمان سلفی کے لائق وفائق صاحبزادے عزیزم ڈاکٹر عبد اللہ سلفی سے پوری امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قائم کردہ مادر علمی کی پورے جوش اور جذبہ کے ساتھ سرپرستی فرماتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مراتب علم وعمل سے سرشار رکھے۔ و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين

12۔ جمعیۃ القرآن کے لیے حصول مکان

سال 1979ء کے اختتام سے قبل یہ تحریک پیدا ہوئی کہ القرآن سوسائٹی کی تعلیمی ودعوتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایک مکان خرید لیا جائے۔ گرینجر روڈ کے چھوٹے سے مکان میں میری اہلیہ ام وہیب نے بچوں اور خواتین کے لیے اس گھر ہی میں شام کی ایک کلاس کا آغاز کر دیا تھا لیکن یہ جگہ اپنی تنگ دامنی کی شکایت کرتی نظر آئی۔ کافی تلاش کے بعد اس موجودہ رہائش گاہ سے قریب ہی ایک قدرے وسیع مکان کو مارکیٹ میں قابل فروخت پایا جس کا کمرہ استقبالیہ پندرہ بچوں اور بچیوں کی تعلیم وتدریس اور جمعیت کے دفتری اور تنظیمی کاموں کے لیے انتہائی موزوں تھا لیکن 27 ہزار پاؤنڈ کی قیمت مکان ہماری قوت خرید سے بالکل خارج تھی، فنڈز کے حصول کے لیے تگ و دو جا ری رہی۔ اپنے صدر دفتر دار الافتاء ریاض سے بھی خط وکتابت کا سلسلہ جاری رکھا ، جہاں اب ہم ہمارے شیخ عبد العزیز بن باز مفتی مملکت سعودی عرب کی حیثیت سے تشریف لا چکے تھے اور بالآخر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت سے اس مکان کی خرید ممکن ہو سکی اور وہ اس طرح کے دار الافتاء نے 15 ہزار اور ہمارے محسن عبد العزیز علی المطوع نے 12 ہزار پاؤنڈ کے عطیات سے نوازا۔

میری حیثیت ایک کرایہ دار کی رہی لکین گراؤنڈ فلور کا وسیع کمرہ استقبالیہ ایک آفس کے سارے لوازمات سے آراستہ کر دیا گیا اور پھر یہ ہر شام ایک کلاس روم کی حیثیت اختیار کر لیتا جس میں ٹوٹنہام، وُڈگرین بلکہ قرب وجوار کے کئی علاقوں سے بچوں اور بچیوں کی آمد شروع ہو گئی اور پھر اگلے 18 سال (یعنی 1997ء تک) یہ گھر ایک مدرسے کی شکل اختیار کر گیا جہاں اُم وھیب کی انتھک محنت کے طفیل طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد نے قرآن ناظرہ کی تعلیم حاصل کی۔ جزء عمّ کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا، نماز سیکھنے اور باجماعت پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔

ہمارے تیار کردہ قرآن وسنت کے کورس براہِ مراسلت کا مطالعہ بھی کروایا جاتا رہا اور پھر یہ کورس طباعت کے مراحل سے گزرتا ہوا ہمارے اس آفس کے توسط سے برطانیہ، چند مغربی افریقہ کے ممالک (جیسے گھانا اور نیجیریا) اور چند دیگر مغربی ممالک تک رسائی حاصل کر گیا ، جہاں سے ہمیں اس کور کے حصول کے لیے خطوط آنا شروع ہو گئے۔

اس مکان سے کئی یادیں وابستہ ہیں۔

ایک وہ دن جس دن نو مسلمہ سمیہ کا نکاح ایک شامی نوجوان غسّان سے پڑھایا گیا، یہ نوجوان انگریز خاتون قرآن کے مطالعہ کے بعد دین اسلام میں داخل ہوئی۔ گھر والے اس بات کو برداشت نہ کر پائے اور اس کی زندگی کو اجیرن کر کرے رکھ دیا، ناچاروہ ادھر ادھر تنہائی کی زندگی بسر کرتی رہی۔ انہی ایام میں غسّان سے ملاقات ہو گئی اور وہ اس کی زلفوں کا اسیر ہو گیا۔

اور پھر اس مکان میں اس کے نکاح کی سادہ ی تقریب ہوئی لیکن اسی دن اتفاق سے ہمارے جرمن نومسلم دوست برادر صدیق 25، 30 خواتین کا وفد لے کر ہمارے مہمان بن کر پہنچ گئے۔ جرمنی میں ان کا سنٹر دعوت وتبلیغ کا مرکز تھا، خود انہوں نے اسلام لانے کے بعد جامعہ مدینہ منورہ میں تعلیم حاصل کی۔ ملیشیاء کی ایک مسلم خاتون سے شادی کی اور پھر اس مرکز کے توسط سے جرمنی میں دعوت وتبلیغ کا آغاز کر دیا۔ وہ اکثر کبھی طلبہ کا اور کبھی طالبات کا وفد لے کر یورپ کے کسی دوسرے ملک میں اسلامی مراکز کی زیارت کے لیے چلے جاتے، سرفہرست مکہ اور مدینہ کی زیارت رہتی۔ اس بار وہ برطانیہ چلے آئے، ایک پوری بس ہمارے گھر کے سامنے پارک تھی، خواتین میں جرمن نومسلمہ بھی تھیں اور کچھ ہندو پاک سے آ کر جرمنی میں آباد ایشیائی خواتین تھیں۔ اب یہ سادہ سی تقریب ایک یادگار محفل میں بدل گئی۔ سمیہ کی دلداری کے لیے اب صرف ہمارے گھر کی خواتین نہ تھیں بلکہ ایک بین الاقوامی مجمع کی صورت پیدا ہو گئی تھی۔

سمیہ نے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے کیا تھا:

’’میری زندگی میں 2 دن ایسے آئے جب میں تنہائی کا شکار تھی اور پھر مجھے سورۃ والضحیٰ کی اس آیت نے بے حد تسلی دی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا رب مجھ ہی سے مخاطب ہے اورکہہ رہا ہے:

﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى﴾

’’نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ ہی وہ تجھ سے بیزار ہوا ہے۔‘‘

ایک تو وہ دن جب میں نے اسلام قبول کیا تھا اور مجھے گھر والوں نے بالکل تنہا چھوڑ دیا تھا اور دوسرا یہ دن جب میرا عقد نکاح ہوا اور اللہ نے میری تنہائی دور کرنے کے لیے غیب سے اتنے مہمان بھیج دیے۔‘‘

سمیہ اور غسّان اپنی ازدواجی زندگی کے ایک مرحلہ پر برطانیہ کے جنوب میں آباد ہو گئے تھے، اللہ نے انہیں تین بیٹیوں سے بھی نوازا۔ میں اور میری اہلیہ ایک دفعہ ان سے ملاقات کے لیے ان کے گھر بھی پہنچے۔ غسّان سے خط وکتابت کے ذریعہ پیغام رسانی جاری رہی، پھر یہ معلوم کر کے افسوس ہوا کہ سمیہ سے اس کی علیحدگی ہو چکی اور پھر ایک طویل عرصہ کے بعد اس کی وفات کی خبر آئی اور اس خاندان سے ہمارے مراسم کے باب پر ایک پردہ حائل ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ سمیہ اور اس کی بیٹیوں کی دنیا اور دین کو سنوار رکھے، انہیں صراط مستقیم پر قائم رکھے۔

القرآن سوسائٹی کے اس مکان میں کئی ملکی اور غیر ملکی مقتدر ہستیوں کا آنا ہوا جن میں سرفہرست ہیں:

امام کعبہ شیخ محمد بن السبیّل، شیخ عبد المحسن حمد العباد سابق رئیس جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، مولانا وحید الدین خان (ہندوستان) ڈاکٹر اسرار احمد اور ان کے برادر بزرگ اعجاز احمد اور برادر خورد ڈاکٹر ابصار احمد، حکیم عبد الرحیم اشرف، سید عبد العزیز علی المطوع وغیرہم، ان احباب کا تذکرہ پھر آتا رہے گا۔

٭٭٭


وفیات

قاری محمد عبد القدیر محمدی کا انتقال

جانے والے کبھی نہیں آتے                                    جانے والوں کی یاد آتی ہے!

جمعیت اہل حدیث حیدر آباد دکن کا ایک ستون گر پڑا ، توحید وسنت کا ایک شیدائی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری نے اپنے بچپن کے دوست کی نماز جنازہ پڑھائی اور لوگوں کا اژدہام۔ قاری محمد عبد القدیر محمدی امیر جمعیت اہل حدیث حلقہ فتح دروازہ حیدر آباد دکن مختصر علالت کے بعد اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

انتقال سے ایک دن قبل مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے قائد اور مجلس القضاء الاسلامی کے صدر مولانا محمد عبد الہادی العمری برطانیہ سے حیدر آباد دکن پہنچے اور اپنے چچازاد بھائی اور بچپن کے جگری دوست قاری محمد عبد القدیر محمدی ذمہ دار جامعہ سمیہ للبنات حیدر آباد سے ملاقات کی اور دوسرے دن وہ مالک حقیقی سے جا ملے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے دیرینہ کزن اور یار غار کے منتظر تھے۔ نماز جنازہ میں نمازیوں کا کثر اژدہام تھا اور سب نے یہ گواہی دی کہ مرحوم توحید وسنت کے شیدائی تھے اور اپنے والد مولوی محمد سرور محمدی  اور تایا قاری محمد افضل محمدی کے تربیت یافتہ بچپن سے ساری زندگی مسجد کی خدمت وصیانت کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا تھا اور اپنے کام کو تقویت پہنچانے کے لیے اپنے برادر خورد قاری محمد عبد الحق محمد سرور کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور دونوں نے مل کر اور اپنے بچوں کو ساتھ لے کر مسجد ومدرسہ کے انتظامات بے لوث کرتے رہے، بڑے بھائی کی جدائی سے قاری عبد الحق آج تنہا ہو چکے ہیں۔ اللہ پاک انہیں صبر عطا فرمائے ۔ آمین

مرحوم نے 65 سال کی عمر پائی، پسماندگان میں چھ لڑکے اور دو لڑکیاں اور بیوہ سوگوار ہیں۔ بڑے بیٹے مولانا حافظ عبد البصیر عمری ہیں، نماز جنازہ میں سرپرست خاندان حضرت مولانا محمد عبد الرحمٰن ندوی، مولانا عبد الخالق عمری، عبد السلام بن عبد الستار، عبد القیوم شفیق عثمانی، مولانا عبد الرحیم خرم عمری جامعی، مولانا عبد السلام عمری مدنی، حافظ محمد ابراہیم، ڈاکٹر عطاء اللہ بخاری، حاجی سید اسماعیل سلفی، قاری سید اسحاق الحقانی، محمد بشیر، محمد اسماعیل شیخ، عبد الکبیر، عبد المتکبر اور بہت سے اقارب اور دوست واحباب شریک رہے اور ہر ایک زبان پر دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ توحید وسنت کے اس متوالے کو جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل بخشے۔ آمین یا رب العالمین

واضح ہو کہ برمنگھم اور ڈڈلی کے مقیم ڈاکٹر عبد الرب ثاقب مرحوم کے بڑے بھائی ہیں۔

٭٭٭٭

عثام بن علی روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام اعمش کو کہتے سنا:

” إذا رأيت الشيخ، لم يقرأ القرآن، ولم يكتب الحديث، فاصفع له، فإنه من شيوخ القمر» . قال أبو صالح: قلت لأبي جعفر: ما شيوخ القمر؟ قال: شيوخ دهريون، يجتمعون في ليالي القمر، يتذاكرون أيام الناس، ولا يحسن أحدهم أن يتوضأ للصلاة”

“جب تم کسی عالم کو دیکھو کہ وہ قرآن کریم نہیں پڑھتا اور حدیث نہیں لکھتا تو اس سے دور رہو وہ شیخ القمر ہے۔” ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر (راوی) سے پوچھا: شیخ القمر کون ہے؟ آپ نے فرمایا: “شیخ القمر اُن دہریہ لوگوں کو کہتے ہیں جو چاندنی رات میں جمع ہو کر تاریخی واقعات میں بڑی دون کی لیتے ہیں اور مسائل دینیہ میں ان کی جہالت کا یہ حال ہوتا ہے کہ اچھی طرح وضوء کرنا بھی نہیں جانتے۔”

(شرف اصحاب الحدیث للخطیب:1؍67؛ والمحدث الفاصل: ص 306)

تبصرہ کریں