گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را (قسط 15)- ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

1984ء کے متفرق واقعات

٭جنوری: محمد سلیمان جیٹھا کی معیت میں مکہ مکرمہ جانا ہوا، جہاں شیخ ابن باز کے ساتھ ان کے دفتر میں اور پھر ان کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ میں ان کے ساتھ ظہرانے میں شریک ہوئے، جیٹھا صاحب کا تعلق اسماعیلی جماعت کے ساتھ تھا لیکن ایسٹ لندن مسجد کے ٹرسٹی کی حیثیت سے وہ مذہب اہل سنت اختیار کر چکے تھے لیکن اسماعیلیوں کے امام عبد الکریم آغا خان کا بڑےاحترام سے ذکر کیا کرتے تھے۔

٭ 12 فروری سے 18 مارچ تک جزائر فیجی کے ایک دعوتی پروگرام میں شریک رہا۔ یہ سفر براہ لاس انجلیز (امریکا)، ہنو لولو طے ہوا۔ اس سفر کی یاد داشتیں میرےسفر نامہ فیجی میں شائع ہو چکی ہیں جو میری کتاب بعنوان ’ابن بطوبطہ ہوا کرے کوئی‘ کے مندرجات میں شامل ہیں۔

بس اتنا ذکر کرتا چلوں کہ جاتے وقت جب ہم خط تاریخ (Date Line) سے گزرے تو ایک دن کیلنڈر سے غائب ہو گیا یعنی 13 فروری ، 14 قرار پایا۔ لیکن واپسی میں یہ دن اسی خط تاریخ کی وجہ سے واپس مل گیا یعنی 16 مارچ کا دن 15 مارچ شمار کیا گیا۔

٭ 12 اپریل: ومبلڈن کی جامع مسجد مفتی عبد الباقی کی وجہ سے شہرت رکھتی تھی، شریعت کونسل سے متعلق ایک عائلی مسئلہ کو نمٹانے کے لیےڈاکٹر سید الدرش اور جناب خالد صدیقی کی معیت میں ان سے ملاقات کی۔

٭ ماہ اپریل میں 34 فرانسس روڈ کے مکات کی خرید مکمل ہو چکی تھی جسے مسجد اور مدرسۃ التوحید کا نام دیا گیا۔ مکان سے مسجد بننے کی ساری تفصیل میری کتاب ’انگلستان میں اسلام‘ میں آ چکی ہے۔ یہاں اتنا اضافہ کرتا چلوں کہ یہ مسجد جماعت اہل حدیث کی لندن میں اولین مسجد تھی اور اسے مَبَرّہ شیخ ابن باز کہنا بالکل درست ہو گا کیونکہ اس مکان کی کل قیمت 24 ہزار پاؤنڈ لگائی گئی تھی اور اس کا خریدنا اسی وقت ممکن ہوا جب شیخ ابن باز نے میرے نام پر 20 ہزار پاؤنڈ کا چیک ارسال کیا، یہ صرف اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ شیخ ابن باز مجھ پر کتنا اعتماد کرتےتھے، وگرنہ عام طور پر ایسی رقم کا چیک شخصی طور پر نہیں بلکہ ادارے کے نام لکھا جاتا ہے۔ اللہ انہیں دنیا اورآخرت کی سعادت سے نوازے۔

یکم رمضان (یکم جون 1984ء) سے مسجد توحید میں تراویح کا بھی آغاز کر دیا گیا، معمول تھا کہ چار رکعات میں اور چار رکعات میرےصاحب زادہ اسامہ پڑھائیں۔ 30 جون کو فنسبری پارک میں نماز عید پڑھانے کا شرف بھی حاصل رہا۔

٭ 18 مئی: امام حرم شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل نے گلاسگو کی مسجد کا افتتاح کیا۔ شیخ نے مختلف مساجد کا دورہ بھی کیا اور مجھے ان کے خطابات کی ترجمانی کا شرف بھی حاصل رہا۔

٭ امسال جولائی اور پھر ستمبر میں غیر ملکی اسفار رہے۔ ریاض کے سفیر میں سعودیہ کے مشائخ سے ملاقات ایک قدرتی امر تھا اور پھر برادرم محمود احمد میرپوری کی معیت میں کویت کے دورے کا پروگرام رہا جس کے دوران ان مقتدر شخصیات سے ملاقات ہوئی:

شیخ عبد الرحمٰن عبد الخالق، شیخ عبد اللہ السبت، ڈاکٹر عبد الرحمٰن سمیط، شیخ عارف محمدی، شیخ صلاح الدین مقبول، شیخ بدر عبد اللہ، برادرم یوسف قطامی اور شیخ طارق عیسیٰ۔

پاکستان کے سفر میں ڈاکٹر حسن الشافعی صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد، ڈاکٹر احمد یار، استاد پنجاب یونیورسٹی، لاہور اور پھر فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ہال کی تقریب میں مولانا عبد الرحیم اشرف اور سید محمد منور کے ساتھ شرکت کی۔

٭ لندن میں جو لوگ بطور مہمان تشریف لائے اور جن سے بھرپور ملاقات رہی ان میں یہ شخصیات شامل تھیں:

 ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف (سیکرٹری رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ)

 ڈاکٹر محمد احمد صالح (استاد جامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض

 ڈاکٹر اسرار احمد اور ان کے برادر ڈاکٹر ابصار احمد

 شیخ عبد السلام رحمانی (ہندوستان)

٭ 28 ستمبر: لندن کی مرکزی جیل وارم وڈ میں ہفتہ وار حاضری برقرار رہی۔

عراقی جوان معبد الجمیلی سے دوبارہ ملاقات ہوئی، کیونکہ اسے یہاں سے ویکفیلڈ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ نوجوان عراق سے آتش خیز مواد لے کر آیا تھا لیکن ’اڑنے نہ پائے تھے کہ شکار ہم ہوئے‘ کا مصداق بن گیا۔ اسے جمعہ کے اجتماع میں آنے کی اجازت نہ تھی، اس لیے اس کی کوٹھری میں جا کر ملاقات کی۔

دوران پرواز ایک مریض کا واقعہ

یہ 6؍نومبر 1984ء کی بات ہے، میں جدہ سے لندن جانے کے لیے سعودیہ کی فلائٹ میں سوار ہوا۔ سعودیہ کا یہ معمول تھا کہ نصف شب کے قریب لندن کے لیے محو پرواز ہوتی اور صبح 6 بجے کے قریب لندن کے ہوائی اڈہ پر اتر جاتی۔

میں جہاز کے اکانومی سیکشن میں دوسری یا تیسری قطار کی ایک سیٹ پر براجمان تھا۔ دیکھا کہ ایک عرب عمر رسیدہ شخص کو اسٹریچر پر لایا گیا ہے، پہلی قطار کی تین سیٹوں کو ملا کر ایک بستر کی شکل دی گئی جہاں اسے لٹا دیا گیا۔ ساتھ ہی ایک اسٹینڈ لایا گیا تھا کہ جس کے ساتھ ایک نلکی متصل تھی اور وہ ایک انجکشن کی شکل میں اس کے بازو کو گلوکوز یا کوئی دوسری دوا منتقل کر رہی تھی، گویا اس شخص کے لیے جدہ کے کسی ہسپتال میں مزید علاج کا یارانہ باقی نہ رہا تھا اور صرف لندن ہی میں اس کا علاج ممکن تھا۔ میں جہاز کے عملہ کو دیکھ رہا تھا کہ وہ مریض کے سفر کو آرام دہ بنانے کے لیے کچھ جتن کر رہے تھے۔

میں خود دن بھر کی مصروفیات اور پھر آدھی رات گذر جانے کی بنا پر اتنا تھک چکا تھا کہ نیند سے آنکھیں جھپکا رہا تھا۔ بارے جہاز کے دورازے بند ہوئے اور جہاز نے پرواز کے لیے پَر تولے اور پھر جہاز کے فضا میں پہنچنےکے ساتھ ہی میں گہری نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ اتنی گہری نیند کہ میری آنکھ اس وقت کھلی جب جہاز کے لینڈ ہونے کی گڑگڑاہٹ مجھے آنکھیں کھولنے پر مجبور کر گئی۔

دیکھا کہ جہازکے دروازے کھل چکے ہیں۔ مریض اپنے عارضی بستر پر ایک چادر کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ اسٹینڈ ہٹایا جا چکا ہے اور باہر سے کچھ عملہ اسے اٹھا کر لے جانے کے لیے آ چکا ہے۔

یا اللہ! یہ کیسی گہری نیند تھی کہ میری بند آنکھوں کے سامنے پورا ایک ڈرامہ برپا رہا اور مجھے خبر تک نہ ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اس مریض کی حالت بگڑتی گئی تھی۔ جو بھی ڈاکٹر یا جہاز کا عملہ موجود تھا اس نے مصنوعی تنفس دینے کی پور ی کوشش کی لیکن مریض کا آخری وقت آ چکا تھا۔ اس کی موت سرزمین جدہ میں نہیں بلکہ فضا میں مقدر تھی، اس لیے وہ صرف چند آخری سانس لینے کے لیے اس پرواز میں سوار کرایا گیا اور فرشتے اس کی روح کو قبض کرنے کے لیے فضا میں اپنا فرض انجام دیتے رہے۔ پرواز کے دو گھنٹے کے بعد غالباً اس کی وفات ہوئی تو فلائٹ کا رخ واپس جدہ کی طرف موڑ دیا گیا اور اس وقت ہم دوبارہ جدہ ایئرپورٹ پر تھے جہاں میت کو اتارا جا رہا تھا۔

“النوم أخت الموت” ’’نیند موت کی بہن ہے۔‘‘

میں گہری نیند کے عالم میں کچھ نہ سن سکا۔ اتنا یاد ہے کہ ایک موقع پر چند لمحوں کیلئے آنکھ کھلی تو کچھ لوگوں کو اس پر جھکے ہوئے مصنوعی تنفس دیتے دیکھا۔

یہ وہ امر غیب ہے جو سورہ لقمان کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے:

﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾

’’اور کوئی نفس یہ نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں وفات پائے گا۔‘‘

اس حادثے کی بنا پر یہ فلائٹ چار گھنٹے کی تاخیر سے لندن پہنچی۔

٭ زیادت اندلس کی چند خوشگوار یادیں

اب ہم سال 1985ء میں داخل ہو چکے ہیں۔

میرے لیے دار الافتاء (ریاض) کی طرف سے ایک خوشخبری تھی کہ میں اسپین کا ایک معلوماتی اور دعوتی دورہ کروں، چنانچہ ماہ اپریل میں اہل خانہ کے ساتھ اپنی گاڑی میں براہ فرانس اورجنوبی اسپین غرناطہ کا پروگرام طے پا گیا۔

لِور پول سے ہمارے کرم فرما ڈاکٹر احمد زمان بھی اپنی فیملی کے ساتھ اپنی گاڑی میں شریک سفر رہے۔ ’لندن سے غرناطہ‘ کے عنوان سے زیارت اندلس کی پوری حکایت ایک سفر نامے کی شکل میں ستمبر 1994ء میں مکتبہ قدوسیہ لاہور کی طرف سے شائع ہوچکی ہے۔ اس کا ایک باب یہاں نقل کر رہا ہوں۔

عروس البلاد: قرطبہ

آئندہ پروگرام یہ بنا کہ غرناطہ کو عارضی مستقر قرار دیتے ہوئے قرطبہ ’اشبیلیہ اور اندلس کے جنوبی حصوں کے اہم مقامات کو دیکھ لیا جائے، چنانچہ 9 اپریل (1985ء) کو علی الصبح مدرسہ البیازین کے ایک جرمن نو مسلم ”طالب“ کی معیت میں ہمارا قافلہ قرطبہ کی طرف رواں دواں ہوا۔ قرطبہ تقریباً ایک سو آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ سارا راستہ سر سبز پہاڑیوں کے پیچ و خم اور اتھاہ وادیوں کے اتار چڑھاؤ کا ساتھ دیتا ہوا، اٹھلاتی بل کھاتی ندیوں کو پاٹتا ہوا، قرطبہ کے عظیم دریا الوادی الکبیر سے جا ملتا ہے۔ راستے میں کئی بستیاں آئیں اور ہر بستی کے نام سے پہلے ’’آل‘‘ کے سابقہ نے عرب تہذیب و تمدن کی یاد دلا دی۔ یہاں القلعہ Alkala اور القصبة Alkasba کا نام بہت عام ہے اور اب بھی جا بجا دکھائی دیتا ہے۔

ہمیں قرطبہ کے نئے شہر سے کوئی دلچسپی نہ تھی اس لئے الوادی الکبیر کے کنارے کھڑے ہو کر مسجد قرطبہ پر ایک پہلی نظر ڈالی، ہماری نگاہوں کے سامنے عالم اسلام کی سب سے بڑی مسجد تھی۔ دور سے اس کی وسعت اور عظمت کا اندازہ نہیں ہوتا ہے لیکن اہل نظر سے 1200 سال پرانی مسجد کی وسعتیں پوشیدہ نہیں۔ الوادى الکبیر پر ایک تنگ ساپل نئے Cordoba کو عرب قرطبہ سے جا ملاتا ہے۔ اس پل کے ساتھ ایک بہت ہی پرانے پل کے کھنڈرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کیا عجب ہے کہ یہ اس پل کا حصہ رہے ہوں جو خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے حکم سے کمانڈر سمح بن مالک خولانی نے اندلس کی فتح کے بعد تعمیر کیا تھا۔

قرطبہ کی اس عظیم الشان مسجد کو ہم نے کیسا پایا اس کا تذکرہ تو بعد میں ہو گا پہلے کچھ تفصیل اس مسجد کی تاریخ کے بارے میں ہو جائے۔

طارق بن زیاد نے اپنی فتوحات کے پہلے ہلے میں قرطبہ کو بھی فتح کر لیا تھا۔ لیکن اس کی اصل اہمیت عبدالرحمن الداخل کے عہد میں اجاگر ہوئی، جس نے اندلس میں بنو امیہ کی خلافت کا تسلسل باقی رکھا۔

150ھ میں قرطبہ شہر کی فصیل کی بنیاد ڈالی گئی اور اس کے 20 سال بعد 170ھ (786ء) میں مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ جائے مسجد پر پہلے سینٹ ونسنٹ نام سے ایک کنیسہ آباد تھا جسے دراصل گا تھک عیسائیوں نے رومن عہد کے معبد جانوس (Janus) کو تبدیل کر کے بنایا تھا۔

یہ شبہ نہ ہو کہ مسلمانوں نے اس کنیسہ پر بزور بازو قبضہ کر لیا ہو گا۔ نہیں! عبد الرحمن الداخل نے اس کی بھاری قیمت ادا کی اور مسجد کی تعمیر پر اس زمانے کے 80 ہزار دینار خرچ کئے۔ جامع مسجد کی توسیع کے بعد کے خلفاء کے دور میں برابر ہوتی رہی۔ عبدالرحمن کے بیٹے ہشام نے باپ سے دگنی رقم مسجد کی توسیع پر خرچ کی بلکہ مسجد کی مشرقی فصیل پر پتھر کی وہ سلیں لگائی گئیں جو سینکڑوں میل دور اربونیہ کے قلعے کی دیواروں سے حاصل کی گئی تھیں۔ اربونیہ کی بغاوت فرد کرنے کے بعد ہشام نے باغیوں کو بطور سزا قلعہ کی فصیل کا ایک ایک پتھر قرطبہ پہنچانے کا حکم دیاتھا۔

عبدالرحمن الناصر، الحکم اور ہشام ثانی اور وزیر محمد بن ابی عامر کے زمانے تک مسجد کی توسیع جاری رہی۔ گویا یہ مسجد 223سال کے عرصے میں اپنی موجودہ حالت میں پہنچی، تکمیل کے بعد اس کی لمبائی 180 میٹر اور چوڑائی 130 میٹر کے لگ بھگ تھی۔ مسجد کے مسقف حصہ کو سنگ مرمر کے 417 ستون اٹھائے ہوئے تھے۔ اندر آنے جانے کے لئے 21 دروازے استعمال ہوتے تھے۔ مسجد کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اندرونی حصہ میں روشنی کے لئے 10 ہزار جھاڑ و فانوس روشن کئے جاتے تھے۔ مسجد کے بیرونی احاطے میں سرو کے 9 ، کھجور کے 3، زیتون کا ایک اور مالٹے کے 117 درخت لگائے گئے تھے اور درمیان میں وضو کے لئے فوارے نصب تھے۔ مینار کی بلندی 108فٹ کے قریب تھی عالم اسلام کی یہ سب سے بڑی مسجد تھی۔

خود قرطبہ شہر کی جس کی موجودہ آبادی سوا 2 لاکھ کے قریب ہے، اموی دور میں 10 لاکھ نفوس کا شہر تھا اور یورپ کا سب سے حسین اور بڑا شہر شمار ہوتا تھا۔ اس شہر کے دامن میں 3 ہزار مسجدیں اور 9 سو حمام بتائے گئے ہیں، شہر کا اپنا طول 26 میل اور عرض 6 میل تھا۔

اموی حکمرانوں میں سے عبدالرحمن ناصر نے 4316 ستونوں اور برجوں پر مشتمل قصر زہراء کی تعمیر کر کے اس کے حسن میں چار چاند لگا دیئے تھے، اور بعد میں محمد بن ابی عامر منصور نے زاہرہ کے نام سے ایک دوسری شاہانہ بستی کی داغ بیل ڈالی۔ افسوس ہے کہ مؤخر الذکر تو خود مسلمانوں ہی کے ہاتھ سے اور اول الذکر امتداد زمانہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔

مسلمانوں کے سوا 500 سال کی حکمرانی کے بعد 133ھ/ 1236ء میں جب قرطبہ کا سقوط ہوا تو سوائے جامع مسجد کے مسلمانوں کے باقی آثار عیسائیوں کے تعصب کی نذر ہو گئے۔ 1521ء میں متعصب پادریوں نے کالوس پنجم سے مسجد کے اندر ایک کنیسہ کی تعمیر کی اجازت حاصل کرلی اور اس مقصد کے لئے مسجد کے وسطی حصہ کو کنیسہ کے قالب میں ڈھالنے کے لئے بالکل بدل دیا گیا، پانچ سال بعد جب بادشاہ اس کنیسہ کی زیارت کے لئے آیا تو متاسفانہ لہجے میں یہ الفاظ کہے بغیرنہ رہ سکا:

’’افسوس ہے جو چیز تم نے یہاں بنائی ہے وہ دوسری جگہ بھی بن سکتی تھی مگر جس چیز کو تم نے بگاڑا ہے اس کی مثل کبھی تعمیر نہ ہو سکے گی۔‘‘

ہمیں جلد از جلد مسجد میں داخل ہونے کی فکر دامن گیر تھی، الوادی الکبیر کا پل پار کرتے ہی 1200 سالہ پرانی مسجد چاروں طرف پھیلی ہوئی آبادی کے وسط میں عظمت کا مینار دکھائی دیتی ہے، جذب و شوق کے عالم میں بیرون احاطہ کا صدر دروازہ پار کیا۔ مالٹوں کے باغ کی جگہ ایک سبزہ زار پایا جہاں سیاحوں کی ٹولیاں مسجد کا اندرونی دروازہ کھلنے کے انتظار میں محو انتظار تھیں۔ معلوم ہوا کہ ایک سے چار بجے تک وقفہ رہتا ہے جس کے بعد بذریعہ ٹکٹ داخلہ ہو گا۔ احاطے کے اندرونی برآمدے کہنگی اور خستہ حالی کی تصویر تھے۔ پہلا دھچکا لگا جب ایک برآمدے میں سیاحوں کی فوج ظفر موج کو مینا و ساغر کے جام چھلکاتے دیکھا۔

موجودہ مسجد کو Misquita Cathedral یعنی ’’مسجد کنیسہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ موجودہ مینار بھی عیسائی دور میں از سر نو تعمیر کیا گیا تھا۔ ہم نے جب اوپر جانا چاہا تو مینار کی حفاظت پر مامور خواتین نے خاص طور پر ہدایت کی کہ مینار کی چوٹی پر نصب گھنٹیوں کو نہ بجایا جائے۔ اوپر کے جھروکوں سے مسجد کی چھت، دریا اور شہر کی آبادی کا ایک خوبصورت منظر سامنے تھا۔

مسجد میں داخلے کا وقت ہو چلا تھا۔ تجدید وضو کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن مسلم عہد کا واحد فوارہ خود پانی کو ترستا نظر آیا۔ ملحقہ گلیاں چھاننا شروع کیں۔ مسلمانوں نے اپنے دور میں اندلیس کے ہر شہر میں جا بہ جا حمام بنائے تھے جسم کی اس حد تک صفائی ان متعصب عیسائیوں کو کہاں بھا سکتی تھی، جن کی ایک راہبہ نے اس بات پر فخر کیا تھا کہ میں نے 60 برس کی عمر تک جسم کے کسی عضو کو پانی نہیں لگایا۔ بجز انگلیوں کے سروں کے اور وہ بھی گرجا میں داخل ہوتے وقت۔ چنانچہ اندلس پر قبضہ ہوتے ہی سب سے پہلے حماموں کی بن آئی جو یکے بعد دیگرے زمین بوس کر دیئے گئے۔

سوچا کہ شاید کوئی پبلک ہاتھ یا استراحت گاہ کی شکل ہی نظر آجائے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شده !!

ہمارے رفیق سفر ڈاکٹر زمان کی جدت طبع نے اس کا حل تلاش کر ہی لیا۔ مے خانہ سے ملحق بیت الخلاء تو ہوتا ہی ہے۔ اب ساقی کو کیا معلوم کہ ہر اندر آنے والا کس مقصد کے لئے آرہا ہے۔ چنانچہ سیاحوں کے جلو میں ہمیں اپنے مقصد تک رسائی ہو گئی اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکریہ ادا کیا۔

مسجد کے 14 دروازوں میں سے صرف ایک دروازہ پبلک کے لئے کھولا گیا ہے۔ 150 پستیا (75)پنس کے قریب فی ٹکٹ کی ادائیگی کے بعد مسجد میں قدم رکھا۔ اس خیال سے بھی کوفت ہوئی کہ ہر ایک شخص جوتوں سمیت دندناتا پھر رہا ہے شام ہو چکی تھی اس لئے سورج کی خفیف سی روشنی روشن دانوں سے چھلکتی ہوئی اندرونی ماحول کو اجاگر کر رہی تھی۔

1400 ستونوں میں سے باقی 850 ستونوں اور ان کے درمیان محراب نما راہداریوں پر مشتمل وسیع و عریض ہال ہمارے سامنے تھا، لیکن درمیان میں تعمیر شدہ گرجا اور جابجا نصب مجسموں نے محراب کو نگاہوں سے اوجھل کر دیا تھا۔ مسجد کی دیوار کے ساتھ مقدس راہبوں اور راہبات کے مجسمے نقشین الواح اور تبرکات نصب نظر آئے۔ آہنی جنگلوں سے ان ہستیوں کے تقدس کو عام آدمی کی پہنچ سے محفوظ کر دیا گیا تھا۔ ہمیں ان دل سوختہ مناظر سے کوئی دلچسپی نہ تھی بس ان ستونوں کو حسرت و یاس سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ موجودہ فرش عام اینٹوں کا ہے جب کہ مسجد کا اصل فرش بھی سنگ مرمر کا تھا جس کی آبرو کب کی لوٹ لی گئی۔

زمین پر جا بجا تحریری نقوش نظر آئے۔ غور سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ نہ جانے عیسائی دور کی کتنی مقدس ہستیاں یہاں مدفون ہیں جن کے سینوں پر مونگ دلنے کے لیے ہر سیاح و زائر کو دعوت عام دی جا رہی ہے۔

ایک ستون کے ساتھ ایک مقدس مجسمہ کے دامن میں چند موم بتیاں ٹمٹما رہی تھیں۔ میرے چہرے پر حزن و ملال کے تاثرات دیکھتے ہوئے ایک اسپینی گائیڈ نے بطور خود گفتگو کا آغاز کیا۔

اس نے کہا: ”جناب مجھے افسوس ہے کہ اس مسجد کا حسن سیاست کی نذر ہوکر رہ گیا۔‘‘

میں نے مختصر جواب دیا: ”اس میں زیادہ دخل سیاست کا نہیں بلکہ مذہبی تعصب کا ہے۔ تمہیں یقیناً معلوم ہو گا کہ اس خوبصورت مسجد کو کنیسہ بنانے کے لئے عیسائی یا دریوں کا کتنا عمل دخل ہے۔‘‘

اب ہم محراب تک پہنچ چکے تھے، جس کی پیشانی پر اب بھی قرآنی آیات اور عربی نقوش جلوہ گر ہیں۔ انتظامیہ کی طرف سے محراب کے بالمقابل مختصرسی جگہ کو لوہے کے کٹہرے سے محفوظ کر لیا گیا ہے تاکہ سیاح زیادہ قریب نہ آسکیں۔

یہ خیال کہ سقوط قرطبہ کے بعد سے اب تک پچھلے 750 سال میں ہم ان گنے چنے افراد میں ہوں گے جنہیں یہاں خدائے ذوالجلال کے حضور سجدہ ریز ہونے کا شرف حاصل ہو رہا ہے، ایک لازوال مسرت کا احساس دلا گیا۔ ہمیں غرناطہ کے دوستوں نے بتایا تھا کہ موجودہ انتظامیہ کی طرف سے یہاں نماز کی ادائیگی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ۔ صرف 2 سال قبل غرناطہ اور نواح کے دیگر مسلمانوں کے شدید اصرار پر بلدیہ نے نماز عید کی ادائیگی کی اجازت دی تھی۔ اس اجازت کا ملنا تھا کہ اسپین کے مختلف شہروں سے نو مسلم حضرات اور عربی و عجمی مسلمانوں کی کثیر تعداد بسوں اور خصوصی کو چز کے ذریعے قرطبہ پہنچ گئی اور اللہ کا گھر اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ نماز عید ادا کی گئی اور مسلمانوں میں خوشی و انبساط کی لہر دوڑ گئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی انتظامیہ کے چہرے فق ہو گئے اور اگلے سال مسلمانوں کو یہ موقع فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا۔

میرے لئے محراب کے بالمقابل کھڑے ہو کر با آواز بلند اذان دینے کے لمحات متاع زیست کا ایک انمول سرمایہ ہیں۔ برادرم زمان ابھی مسجد میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ میں نے بچوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی سیاحوں کا جمگھٹا ہمارے گرد جمع ہو گیا جن کے کیمرے ان لمحات کو محفوظ کرنے کے لئے حرکت میں آچکے تھے۔ تھوڑی دیر میں زمان صاحب بھی پہنچ گئے اور انہوں نے بھی بچوں کے ساتھ محراب کے بالمقابل سجدہ ریز ہونے کی سعادت حاصل کی۔ وقت کی تنگی اور مسجد کی وسعت تفصیلی مشاہدے میں حارج تھیں۔ مسجد کے اگلے حصہ میں بالکونی کے انداز پر مسقف حصہ نظر آیا جو غالباً موذن کے بیٹھنے اور اذان دینے کے لئے استعمال ہوتا ہو گا جیسا کہ عموماً اموی انداز کی مساجد میں پایا جاتا ہے۔ اس بالکونی کے عقب میں مسجد کے وسطی حصہ میں وہ کلیسائی اضافہ ہے جو اس بے نظیر مسجد کے دامن پر ایک داغ کی حیثیت رکھتا ہے اس سارے حصے کو فرش سے چھت تک مجسموں، نقوش اور پینٹنگ سے آلودہ کیا گیا ہے، عام کنیساؤں کے انداز پر زائرین یا سروس کے شرکاء کے لئے بنچ ایستادہ ہیں۔

ایک مراکشی محقق کے مطابق مسجد کی اندرونی دیواروں کے ساتھ عیسائیوں نے 56 اور وسط میں 18 قربان گاہیں (یا عبادت گاہیں) بنائی ہیں۔

ہم رات کے سفر سے بچنے کے لئے جلد سے جلد رخصت ہو جانا چاہتے تھے اس لئے مسجد پر ایک آخری نظر ڈالتے ہوئے باہر کی راہ لی۔ مسجد کی بیرونی دیوار پر بھی جا بجا سنگ مرمر کے محرابی ستون نظر آئے جن میں سے اکثر کو پاٹ دیا گیا ہے۔ مغربی احاطے کے بالمقابل عجائب گھر میں قرطبہ کے نوادرات رکھے گئے ہیں۔ میوزیم کا صدر دروازہ بند ہو چکا تھا۔ اس لئے دروازے کی جالیوں میں سے جھانکتے ہوئے ہم نے واپسی کا رخ اختیار کیا۔

الوادی الکبیر کے پل کے قریب ایک سبزہ زار پر کھانا تناول کرتے ہوئے اس عظیم الشان شہر سے منسوب ہستیاں پردہ سیمیں کی تصایر کی طرح آئینہ دماغ پر منعکس ہوتی نظر آئیں۔

اس شہر سے تعلق ہے قاضی منذر بن سعید کا جن کے پاس ایک بڑھیا خلیفۂ وقت کی شکایت لے کر آئی جو اس کی زمین کو زبردستی اپنے قبضہ میں لینا چاہتا تھا۔ قاضی صاحب خلیفہ کو اس زمین تک لے آئے۔ کدال سے زمین کھودی ایک بورا بھر کر خلیفہ سے کہا کہ: ذرا پیٹھ پر لاد کر دکھاؤ۔ خلیفہ حیران و ششدر اس منظر کو دیکھ رہا تھا، قاضی صاحب کے کہنے پر بورا اٹھایا لیکن پیٹھ پر نہ رکھ سکا۔

اب قاضی صاحب نے کہا کہ جس زمین کے معمولی حصہ کو تم آج نہ اٹھا سکے، وہ ساری زمین اگر حق تلفی کی بنا پر قیامت کے دن تمہاری گردن کا طوق بنا دی گئی تو اسے کیسے اٹھاؤ گے ؟ خلیفہ زار و قطار رو پڑا اور اپنے مذموم ارادے سےتائب ہو گیا۔

قاضیوں میں اسد بن فرات، محمد بن بشیر، مفسرین میں ابو حیان، محدثین و فقہاء میں بقی بن مخلد ابن حزم ابن سید الناس فلاسفہ ادباء اور اطباء میں ابن رشد، موسیٰ بن میمون، ابو القاسم زاہراوی ،ابو جعفر الغافقی اور مؤرخین میں ابن بشکوال اور ابن القوطیہ۔ غرض کس کس کا نام گنوایا جائے۔ عباس بن فرناس کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا، جس نے رائٹ برادران سے صدیوں قبل پر لگا کر اڑنے کی کوشش کی تھی۔ قرطبہ مرکز خلافت ہونے کی بنا پر اہل علم کا مرجع رہا اور اس سرزمین نے لاتعداد نابغہ روزگار پیدا کئے۔

ہمیں بتایا گیا کہ شہر میں ایک چھوٹی سی مسجد اور بھی پائی جاتی ہے جسے فرانکو نے اپنے دور اقتدار میں مراکشی فوجیوں کے لئے بنایا تھا اور جو عرصہ سے بند پڑی ہے اور جسے واگذار کرنے کے لئے بعض اسلامی حکومتوں کی طرف سے سعی کی جا رہی ہے۔

قرطبہ شہر سے کچھ فاصلے پر ایک اور مسجد کی طرف جانے کے لئے تیر کا علامتی نشان نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ یہ جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نام لیواؤں نے کھڑی کی ہے۔ گویا قادیانی پروپیگنڈے کی زنبیل اس دور افتادہ علاقے میں کھل چکی ہے لیکن امید ہے کہ جمعیت اسلامیہ اسلامی مرکز اور نو مسلم تنظیم کے تعاون سے محمد عربی ﷺ کے نام لیوا اسلام کی صحیح تصویر پیش کر سکیں گے۔

٭٭٭

خواتین کی قربانیاں

آج کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ

ویسے تو خواتین زیورات میں پلنے بڑھنے والیاں ہوتی ہیں جو جھگڑے کے وقت ڈھنگ سے اپنی بات بھی نہیں رکھ سکتیں:﴿أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ﴾ ( سورة الزخرف:18)

لیکن شروع سے ہی مردوں کے شانہ بشانہ بہادری وسخاوت کے کارنامے انجام دیئے ہیں، جیسے:

اسلام میں سب سے پہلے جس نے ’جان‘ کی قربانی پیش کی وہ ایک عورت ہے جسے دنیا سیدہ سمیہ کے نام سے جانتی ہے۔ (الإصابۃ:8؍114)

سیدنا محمد ﷺ کی سب سے پہلے جس نے مدد کی وہ ایک عورت ہے جسے دنیا سیدہ خدیجہ بنت خویلد کے نام سے جانتی ہے۔

اسلام کی بلندی کے لئے سب سے پہلے جس نے اپنا ’مال‘ نچھاور کیا وہ مکہ مکرمہ کی ایک بڑی تاجر سیدہ خدیجہ ہیں۔

سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ام المؤمنین سیدہ خدیجہ ہیں۔

’غارِ حرا‘ کی پہلی وحی سے گھبرائے نبی (ﷺ) کو سب سے پہلے تسلی دینے والی سیدہ خدیجہ ہی ہیں۔

ساتویں آسمان سے بذریعہ جبریل خالقِ کائنات جس پر سلام بھیجتا ہے وہ عورت ہے جسے سیدہ خدیجہ سے جانا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری:3820)

’صلح حدیبیہ‘ کے موقع پر نبی ﷺ کو کامیاب مشورہ دینے والی ایک عورت ہے جسے دنیا سیدہ امِ سلمہ کے نام سے جانتی ہے۔ (صحیح بخاری: 2731-2732)

10 سال نبی ﷺ کی خدمت کے لئے جس نے اپنا بچہ (انس) پیش کیا وہ ایک عورت ہے جسے دنیا سیدہ امِ سُلَیم کے نام سے جانتی ہے۔ (صحیح بخاری: 6038)

غزوۂ حنین کے موقع پر جس کا خنجر اور بہادری دیکھ کر نبی کریم ﷺ مسکرانے لگے وہ سیدہ امِ سلیم ہی ہیں۔ (صحیح مسلم:1809)

آسمان سے جس کے پاک دامنی پر آیات نازل کی جاتی ہیں وہ عورت ہے جسے دنیا ام المؤمنین سیدہ عائشہ سے جانتی ہے۔ (صحیح بخاری:4141)

ساتویں آسمان کے اوپر سے اللہ تعالیٰ نے جس کی شادی کرائی وہ ایک عورت ہے جسے دنیا سیدہ زینب بنت جحش کے نام سے جانتی ہے۔ (صحیح بخاری: 7420)

جسکی شکایت (شوہر کے تعلق سے) ساتویں آسمان پر سنی گئی وہ ایک عورت ہے جسے دنیا سیدہ خولۃ بنت ثعلبۃ کے نام سے جانتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ: 2063)

خواتین کی قربانیاں ہنوز جاری ہیں اور بإذن اللہ جاری رہیں گی جنہیں دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

لہٰذا بھائیو! خواتین کے تعلق سے اگر آپ (سوچ وفکر میں) کسی کج روی کے شکار ہیں تو اس کا علاج کیجئے۔

عصرِ حاضر میں ہماری بعض بہنیں جو غلط راستے پر چل پڑی ہیں، کفر وشرک کے مہلک دلدل میں اپنا گھر بسانا چاہتی ہیں تو وہ ہوش کے ناخن لیں، اپنے اسلام وایمان کا کسی بھی صورت میں ہرگز سودا نہ کریں؛ کیونکہ حسن وجوانی (خاص کر تمہاری) ڈھلتے بالکل دیر نہیں لگتی۔

بصورتِ دیگر آخرت سے پہلے اسی مختصر سی دنیاوی زندگی میں پچھتاؤ گی۔

اسلامی بہنو! سدا یاد رہے، جو اللہ اور اس کے رسول کا نہ ہوا وہ تمہارا کبھی نہیں ہوسکتا۔

اللہ تعالیٰ وقت رہتے ہماری بہنوں کو صحیح سمجھ عطا کرے، اور انہیں اسلاف کی خواتین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں