گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط 6)۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

13۔ قاضی امارت شارقہ کا ایک عجیب واقعہ

غالباً یہ 1982ء کی بات ہے کہ میری ملاقات اماراتِ خلیج کی ایک امارت شارقہ (جسے شارجہ بھی لکھا جاتا ہے) کے ایک قاضی صاحب سے ہوئی۔ اُن کا طاق نسیان کی نذر ہو چکا ہے۔ باتوں باتوں میں اندازہ ہوا کہ انہیں تحضیر الارواح یعنی روحوں کو حاضر کرنے کے موضوع سے بڑی دلچسپی ہے۔

خود میں بھی اس موضوع سے دلچسپی رکھتا تھا اور اس کا آغاز ہوا، مصر کے طنطاوی جوہری کی کتاب ’تحضیر الارواح‘ سے جس میں انہوں نے ایسے واقعات کا تذکرہ کیا ہے کہ ایک معصوم بچے کو معمول بنا کر کسی گذری ہوئی روح کو حاضر کیا جاتا ہے اور پھر اس سے بات چیت کی جاتی ہے۔ کتاب پڑھتے پڑھتے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر یہ بات درست ہوتی تو کیوں نہ سیدنا عیسیٰ کی روح کو بھی حاضر کی جانے کی کوشش کی جاتی اور ان سے پوچھ لیا جاتا کہ آپ اس دنیا میں کس حیثیت سے تشریف لائے تھے اور پھر ان کے جواب کی روشنی میں عیسائیت کا دعویٰ بابت ’ابن اللہ‘ (اللہ کا بیٹا ہونا) نیست ونابود ہو جاتا۔

میں کتاب کی ورق گردانی کرتا رہا تو میرے اس سوال کا جواب بھی مل گیا۔

علامہ طنطاوی جوہری لکھتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عیسیٰ کی روح کو حاضر کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن یہی جواب آیا کہ وہ اپنی مصروفیت کی بنا پر حاضر نہیں ہو سکتے۔

طنطاوی جوہری اس عمل پر اتنا یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے ’العباسہ: اخت الرشید‘ کے دفاع میں اور اس کی پاکیزگی ثابت کرنے میں ایک پوری کتاب لکھ ماری تھی۔ ہوا یوں کہ اس عنوان سے لبنانی ناول نگار جرجی زیدان نے پورا ایک ناول تحریر کیا تھا جس میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی بہن العباسہ کی حکایتِ عشق کا تذکرہ تھا۔

مؤلف کتاب لکھتے ہیں کہ تحضیر الارواح کے ان تجربات میں ہارون الرشید کی روح مجھ سے ہم کلام ہوئی اور اس نے اپنی ہمشیرہ العباسہ کے دفاع میں مجھ سے قلم اٹھانے کی استدعا کی۔

میں نے قاضی صاحب سے لندن کی تھیوسافیکل سوسائٹی کا بھی تذکرہ کیا کہ جو اس قسم کے تجربات میں یقین رکھتےہیں۔ قاضی صاحب کا کہنا تھا کہ ان کا اپنا طریقہ ہے جس سے روح کو حاضر کیا جا سکتا ہے اور ایک کاغذ اور پنسل کے ذریعے کاغذ پر علامتی خطوط یا حروف کی مدد سے ان سے بات بھی کی جا سکتی ہے۔

مجھے بڑا تجسس ہوا اور پھر میں نے انہیں اپنی اقامت گاہ پر آنے کی دعوت دی تاکہ وہ یہ تجربہ میری موجودگی میں بھی کرسکیں۔

ایک شام میں قاضی صاحب کو گھر لے آیا۔ آداب ضیافت سے فراغت کے بعد انہیں یہ تجر بہ کرنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے ایک ٹوکری منگوائی اور پھر اس کے ساتھ ایک پنسل کو یوں باندھا کہ اس کی نوک کا رخ نیچے کی طرف ہو۔ پھر میز پر ایک کاغذ رکھا، کہا کہ اس ٹوکری کو دو حضرات دائیں بائیں سے پکڑے رکھیں۔ اب میں اور میرے ایک دوست (یا صاحبزادے) ٹوکری کو پکڑے ہوئے ہیں، پنسل کی نوک میز پر رکھے ہوئے کاغذ پر ہے۔قاضی صاحب نے بآواز بلند قرآن کی چند آیات کی تلاوت کی۔ مجھ سے پوچھا کہ کس روح کو بلانا ہے۔

چند ماہ قبل ہی نیروبی کے ہمارے ایک بزرگ دوست عبد الحلیم کا برطانیہ کے ایک گاؤں میں انتقال ہوا تھا، چنانچہ میں نے ان کا نام لے دیا۔ قاضی صاحب نے اس نام کو بار بار دھرایا۔ اسے آنے کو کہا۔ پوچھا کہ آیا ٹوکری میں حرکت پیدا ہوئی، کیا پنسل نے کاغذ پر کچھ رقم کیا ہے، میں نے بتایا کہ ٹوکری کی خفیف سی حرکت سے کاغذ پر آڑی ترچھی لیکیریں سی بن گئی ہیں۔

انہوں نے پوچھا کہ آیا کسی حرف کی شکل بنی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں!، پھر کہنے لگے کہ یہاں کی زبان انگریزی ہے تو ایک دفعہ پھر کوشش کرتے ہیں اور اب بجائے تعال تعال (یعنی آؤ، چلے آؤ) کے بجائے Please Come! Come کی صدا لگائی گئی لیکن نتیجہ وہی صفر رہا، کاغذ پر سوائے چند الٹی سیدھی لکیروں کے اور کچھ نظر نہ آیا۔

کہنے لگے یہ ملک فرنگ ہے، یہاں کے حالات بھی مختلف ہیں جس کی بنا پر ہمارا یہ تجربہ ناکام ہو رہا ہے۔

میں تو صرف یہ چاہتا تھا کہ اس مفروضے کی غلطی ثابت ہو سکے کہ مرنے کے بعد کسی روح کو حاضر کیا جا سکتا ہے چونکہ کتاب وسنت سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔احادیث میں تو صاف صاف بیان ہوا ہے کہ نیک روحیں اعلیٰ علیین کی طرف پرواز کر جاتی ہیں اور بد روحیں سجّین ’’یعنی ایک قید خانے میں چلی جاتی ہیں اور پھر ان میں سے کوئی بھی روح اس دنیا میں آنے کی روادار نہیں ہے۔ نیک روح تو اعلیٰ علیین کے مزے لوٹ رہی ہے تو اسے اس دنیائے رنج وغم میں دوبارہ آنے کی کیا رغبت ہو سکتی ہے اور بد روح تو خود قیدخانے میں ہے اور پھر اللہ کے قید خانے سے کیسے اسے چھوٹ حاصل ہو گی۔

اب رہا یہ سوال کہ پنسل میں حرکت کیسے پیدا ہوئی کہ وہ کاغذ پر نقش بناتی رہی تو اس کا جواب بالکل آسان ہے۔

ٹوکری کو دونوں طرف سے دو اشخاص نے پکڑ رکھا ہے اور آپ کتنا ہی کیوں نہ چاہیں، اپنے بازو کو بالکل ساکن نہیں رکھ سکتے ہیں، بازو میں ذرا سا بھی ارتعاش پیدا ہو گا تو ٹوکری ہلے گی اور ٹوکری کی حرکت سے پنسل بھی کاغذ پر گھسٹنا شروع ہو جائے گی اور پھر شوخئ قلم سے کاغذ پر نقش ونگار بھی ظاہر ہوں گے۔

میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اگر میں نے ایک غلط عمل میں حصہ لیا ہو۔ میری نیت صاف تھی، میں تحضیر الارواح میں قطعاً یقین نہیں رکھتا۔ صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا قاضی صاحب اپنے دعویٰ کو سچا ثابت کر سکتے ہیں یا نہیں! اور پھر وہ دن اور آج کا دن، اس موضوع پر بات کرنے کی نوبت نہیں آئی۔

14۔ ہومیوپیتھی سے میرا شغف!

عنفوان شباب سے دیکھتا رہا کہ ابا جان اکثر ہومیوپیتھک دواؤں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک بڑا سا چوبی ڈبہ تھا۔ اس کا ڈھکنا اٹھائیں تو وہاں باریک باریک اور گول گول سرا خوں کا ایک فرش سا بچھا نظر آئے گا، ہر سوراخ میں ایک ننھی سی شیشی کو فٹ کیا گیا تھا اور پھر ان شیشیوں پر اس قسم کے نام رقم تھے۔

فیرم فاس، نیٹرم فاس، نیٹرم میور، نکس وامیکا، بیلاڈونا، تھوجا وغیرہ وغیرہ۔ گھر کے کسی فرد کو کوئی بھی عارضہ ہوتا تو پہلے اس باکس کو کھولا جاتا اور ابا جان کسی ایک شیشی سے چند مہین گولیاں نکالتے اور انہیں کاغذ کی ایک پڑیا میں لپیٹ کر مریض کے حوالہ کر دیتے۔ مجھے بھی نہ جانے کتنی دواؤں سے سابقہ پیش آیا جن میں ایسڈفاس (طاقت 30) کا نام بار بار ذہن میں گردش کر رہا ہے۔

لائل پور کے منٹگمری بازار میں کئی ہومیوپیتھک دواؤں کی دکانیں تھیں جہاں میں ابا جان کی ہدایت پر دوائیں خریدنے کے لیے اکثر جاتا رہا اور یوں ہو میوپیتھی سے میری شناسائی بڑھتی گئی، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ جانا ہوا تو یہ سلسلہ ختم ہوتا نظر آیا۔ سعودی عرب میں اس طریقہ علاج کو سرکاری سطح پر قبولیت سے نوازا نہیں کیا گیا تھا۔

پھر مکہ مکرمہ میں حکیم معراج الحسن سے تعارف ہوا۔ نامور حکیم تھے لیکن حکمت کے ساتھ ساتھ ہومیوپیتھی سے بھی علاج کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کسی امیر کو اسی طریقہ علاج سے روبصحت کیا تھا اور یوں انہیں خصوصی اجازت حاصل تھی اور پھر اپنے بڑے بھائی شعیب حسن کو بھی دیکھا۔ وہ سعودی ائرلائنز میں بحیثیت انجینئر جدہ تشریف لا چکے تھے، انہوں نے باقاعدہ ہو میوپیتھی سے تعلق قائم کر رکھا تھا اور اپنے اہل خانہ اور احباب کو اس کی افادیت کے قائل کر چکے تھے۔

میں جب لندن وارد ہوا تو ہومیوپیتھی کے ایک پرائیویٹ ادارے کی سن گن حاصل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ خط وکتابت کے ذریعہ ایک سالہ کورس بمع سند میسر ہے۔ کیونہ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے؟

چنانچہ میں نے اس کورس کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا، کتب اور دروس کی آمد شروع ہو گئی، فارغ اوقات میں مطالعہ جاری رکھا اور پھر ایک دن میرے ہاتھ میں ایک چمکتا دمکتا سرٹیفیکیٹ تھا جس پر ادارے کے نام اور مہتمم کے دستخط کے ساتھ مجھے ڈاکٹر کے لقب سے نوازا گیا تھا۔

میں نے اس کاغذ کو چوما اور پھر اے اسی گتے کی نلکی میں ڈال کر رکھ دیا کہ جس میں وہ مجھے ڈاک سے موصول ہوئی تھی۔ میری یہ ساری تگ و دو صرف گھریلو حد تک علاج کے لیے تھی۔ میں ڈاکٹر کے اس مصنوعی لاحقے کو اپنے لیے جائز نہیں سمجھتا تھا۔ یہ درست ہے کہ مجھے ایک حد تک علامات کی روشنی میں کسی مرض کی دوا ڈھونڈنے کی صلاحیت پیدا ہو چکی تھی لیکن ایک طبیب کے لیے اولاً جسم کی اناٹومی کا اور دوسرے کسی طبیب حاذق کی طویل صحبت کا حصول لازمی ہے اور میں ان دونوں چیزوں سے عاری تھا۔

اس لیے میں نے 1990ء میں برمنگھم یونیورسٹی سے شعبہ الٰہیات کے تحت المہدی کے عنوان پر محدث نعیم بن الحماد کی کتاب الفتن کے مخطوطے کو موضوع بنا کر جب ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر لی تو پھر اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا لاحقہ لگانے کی اولین جسارت کی۔ ایک تاریخی اور معلوماتی حوالے کے اعتبار سے اپنی اس سند کو پہلی بار منظر عام پر لا رہا ہوں۔ (سند کا عکس ملاحظہ ہو۔ اس مضمون کے آخر میں)

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہومیوپیتھی کا مختصر تعارف کرتا چلوں لیکن اس موضوع کو کسی دوسری نشست کا لیے اٹھا رکھتا ہوں۔

15۔یادرفتگان: تذکرہ ایک ہم جماعت کا

میرے ایک فاضل ہم جماعت اور قریبی ساتھی برادرم عبد الرزاق اسکندر 30 جون 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

یہ جولائی 1962ء کی بات ہے، ہم اٹھارہ طلبہ تھے جو مدینہ منورہ میں ایک سال قبل قائم ہونے والی جامعہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے پہلے ہر اول دستے کی حیثیت رکھتے تھے۔ ہم سب نے سوئے حجاز کے لیے سفینہ حجاج سے بحری سفر اکٹھے کیا تھا جس کی روئیداد میں اپنے سفر ناموں پر مشتمل کتاب بعنوان ’ ابن بطوطہ ہوا کرے کوئی‘ میں تفصیل سے ذکر کر چکا ہوں۔ یہ طلبہ اس وقت کے پاکستان (بشمول مشرقی پاکستان) کے تمام صوبوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ صوبہ سرحد (حال پختونخواہ) کی نمائندگی کا اعزاز تین فاضل ہستیوں کو ہوا: حسن جان، عبد اللہ کاکا خیل اور ہمارے ممدوح عبد الرزاق اسکندر، مؤخر الذکر سے قریبی تعلق یوں ہوا کہ 1964ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد میں اور میری اہلیہ والد مرحوم مولانا عبد الغفار حسن کی معیت میں پہلی مرتبہ ہوائی جہاز سے ظہران ، ریاض ہوتے ہوئے جدہ پہنچے تھے اور غالباً اسی سال عبد الرزاق اسکندر بھی اپنی اہلیہ کو مدینہ منورہ لے آئے تھے۔ 1965ء کا حج ہم سب نے اکٹھا ہی کیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ مکہ مکرمہ میں جس گھر میں ہم اترے تھے اس میں معلم کی مہربانی سے ایک وسیع کمرے میں پردے ڈال کر کئی عدد حجاج کو جگہ دی گئی تھی۔ ہمارے نصیب میں بھی تین پردے آئے کہ والد محترم، میں اور میری اہلیہ اور پھر برادرم عبد الرزاق اسکندر اپنی اہلیہ کے ساتھ وہاں تخلیہ کے چند لمحات گزار سکیں۔ والدہ محترمہ ان دنوں کراچی میں ہی تھیں اور یوں والد کے ساتھ صرف ہم دونوں تھے۔

برادرم عبد الرزاق اور ان کے دونوں ساتھی عمر میں مجھ سے بڑے تھے، مجھ سے پہلے دار العلوم کی منزلیں طے کر چکے تھے اور فقہی لحاظ سے حنفی مذہب پر گہری نظر رکھتے تھے، اس لیے اکثر دوران درس اور خاص طور پر شیخ محمد ناصر الدین البانی، والد مکرم، شیخ محمد امین شنقیطی اور شیخ عبد المحسن حمد العباد کے دروس میں سوال وجواب کرنے سے نہ کتراتے تھے۔

کیا میں یہ کہوں کہ جامعہ کا نصاب ان کے لیے باعث جدت اور نُدرت تھا؟

میرا جواب اثبات میں ہو گا ۔ پاک وہند کے مدارس حنفیہ میں عقائد کی تعلیم عقائد نسفی، مسایرۃ مع مسامرۃ کی تنگنائیوں تک محدود تھی۔ حدیث کی کتب ستہ کی صرف قراءات کی جاتی ہے الّا یہ کہ جہاں فقہی مسائل کا استنباط ہوتا ہو تو وہاں حنفیت اور شافعیت ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہے۔ احادیث کی اسنادی بحث شاذ ونادر موضوع بحث بنتی ہے۔

جامعہ اسلامیہ چونکہ عالم اسلام کیا، دنیا بھر کے مسلم وغیر مسلم ممالک کے طلبہ کو قرآن وحدیث کی تعلیمات سے روشناس کرانے کے عزم سے آغاز کی گئی تھی، اس لیے اس کے ابتدائی درجوں میں تو حنبلی فقہ کو فوقیت دی گئی تھی لیکن عالی درجات میں ابن رشد کی بدایۃ المجتہد کو جگہ دی گئی تھی تاکہ طلبہ تمام فقہی مذاہب کا نقطۂ نظر جان سکیں اور اسی طرح عقائد میں امام ابن تیمیہ﷫ کی عقیدۃ واسطیہ کے بعد امام طحاوی﷫ کی العقیدۃ الطحاویہ کو اس کی شرح کے ساتھ شامل کیا گیا جو ابن ابی العز الحنفی کی تالیف ہے اور جس میں زیادہ تر ائمہ سلف کے عقیدہ کی ترجمانی کی گئی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب کے شامل نصاب کرنے میں سلف اور اشاعرہ دونوں کا نقطۂ نظر سامنے آ جاتا ہے لیکن پھر بھی ائمہ اربعہ کی سلفیت نمایاں رہتی ہے۔

دراسۃ الاسانید کے نام سے ایک نیا کورس متعارف کرایا گیا جس کی تدریس میں شیخ البانی﷫ اور پھر والد محترم شیخ عبد الغفار حسن کے مذکرات قابل ذکر ہیں، میں یہاں کلیہ شریعہ کے نصاب کی بات کر رہا ۂں جو ہمارے زمانہ میں واحد کلیہ تھا، بعد ازاں کلیۃ القرآن، کلیۃ الحدیث، کلیۃ اصول الدین قائم ہوتے گئے اور اس نصاب میں مزید وسعت اور نکھار پیدا ہوتا گیا۔

گویا جامعہ کے نصاب میں جامعیت اور توسع کا پہلو نمایاں تھا، اور ہم سب کو بشمول فارغین مدارس حنفیہ اس بحر بیکراں میں غوطہ زنی کی دعوت دی گئی تھی، 1966ء میں جامعہ سے فراغت کے بعد ہماری راہیں مختلف ہو گئیں۔

میں دار الافتاء کی دعوتی اسکیم کے تحت اس سے اگلے سال مارچ 1967ء میں عازم مشرقی افریقہ ہو چکا تھا۔ میرے ساتھ بلتستان کے ایک ہمدم دیرینہ ابراہیم خلیل تھے جنہیں ممباسہ کے ایک عربی مدرسہ کے لیے چنا گیا تھا اور میں نیروبی کے ایک افریقی مدرسہ (منغانو ریاضہ مدرسہ اسلامیہ) کا اسیر ہو کر رہ گیا تھا۔

یہ 1975ء کی بات ہے کہ ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر کی طرف سے رابطہ کیا گیا۔ بتایا کہ وہ ختم نبوت کے ایک وفد کے ہمراہ نیروبی پہنچ رہے ہیں۔ وفد کے صدر ان کے استاذ مولانا محمد یوسف بنوری تھے۔

مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے رفقاء کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔ ہوٹل تک پہنچایا اور پھر اگلے دن محلہ ایسٹلی کی ایک صومالی مسجد میں اراکین وفد کی تقاریر کا ایک پروگرام رکھا۔ لیکن وہاں جو ایک ناخوش گوار واقعہ پیش آیا، اس کی تفصیل میں اپنے انگریزی بلاگ (Sheikh Suhiab Hasan Blog) کی قسط نمبر 18 میں بیان کر چکا ہوں۔ شائقین چاہیں تو بلاگ کو کھنگال کر پورے واقعے کی تفصیل جان سکتے ہیں۔ بعد ازاں اسی وفد نے ممباسہ اور پھر دیگر افریقی ممالک کی راہ لی۔

ایک دفعہ پھر برادرم عبد الرزاق اسکندر سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

اور یہ کوئی پچھلے پانچ چھ سال کی بات ہے کہ ان سے کئی مرتبہ ملاقات کی سبیل پیدا ہو گئی، ایک تو لندن میں جہاں وہ مقامی ختم نبوت تنظیم کی دعوت پر تشریف لائے تھے، دوسرے استنبول کی ایک کانفرنس میں، جہاں میں اصلاً یورپین کانفرنس برائے فتویٰ اور ریسرچ کے سالانہ اجلاس میں شمولیت کے لیے موجود تھا اور تیسری دفعہ 2018ء کی مکہ کانفرنس میں جہاں انہیں وھیل چیئر پر آتے دیکھا۔ کراچی کے مفتی منیب الرحمٰن کے ساتھ ہی ان کی نشست تھی۔ کانفرنس کی گہماگہمی میں صرف سلام وکلام ہو سکا۔ تفصیلی ملاقات کی نوبت نہ آ سکی۔

روزنامہ جنگ کے صفحات پر سوالات و جوابات کے ضمن میں ان کے فتاوی نظر سے گزرتے رہے، لیکن میری نظر ان کے فتاویٰ میں ابن رشد کی بدایۃ المجتہد والی وسعت تلاش کرنے سے قاصر رہی۔

یوٹیوب کی ایک نامعلوم پیشکش میں ان کے چند اساتذہ کا ذکر کیا گیا ہے جن میں پاکستان کے چند علماء شامل ہیں۔ ان کے مداحین سے التماس ہے کہ ان کے اساتذہ میں جامعہ اسلامیہ کے فاضل شیوخ کو بھی شامل کر لیا جائے کہ جن میں سے چند کا تذکرہ متذکرہ بالاسطور میں آ چکا ہے۔

اللہ تعالیٰ علم وتعلم کو عام کرنے، پاکستان میں تدین اور دین سے محبت کو فروغ دینے اور ختم نبوت کے سلسلہ میں ان کی انتھک مساعی کو قبول فرمائیں اور انہیں اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازیں۔

 

تبصرہ کریں