گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را(قسط11 )۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

 

26۔ شیخ عبد القادر صوفی اور طریقہ درقاویہ

دار الافتاء (ریاض) سے تعلق کی بنا پر مجھے نہ صرف برطانیہ کے طول وعرض میں بلکہ دنیا کے دور دراز علاقوں جیسے جزائر فیجی تک جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ مارچ 1981ء کی بات ہے جب مجھے برطانیہ کے ایک شہر ناروچ (NORWICH) جسے صوتی اعتبار سے ’’نورچ‘‘ پڑھا جاتا ہے، شیخ القادر اطرابط سے ملاقات کے لیے جانا پڑا۔ غالباً دار الافتاء کے معزز اراکین ان کے افکار سے باخبر ہونا چاہتے تھے یا شیخ عبد القادر نے خود ان سے رابطہ قائم کیا تھا، جس کی بنا پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے مجھے اس ملاقات کا اہتمام کرنا پڑا۔ اس شہر میں نو مسلم انگریزوں کا ایک حلقہ اپنا مرکز قائم کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔ اس مرکز کے روح رواں اسکاٹ لینڈ کے صوفی عبد القادر (IAN DALLAS) تھے جو اصلاً ایک فلم ایکٹر کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھتے تھے۔ 60 کی دہائی میں وہ مراکش (دیار المغرب) میں اسلام سے روشناس ہوئے اور وہاں سے درقاوی طریقہ صوفیہ کا تحفہ لے کر واپس آئے۔

درقاوی طریقہ مراکش کے محمد العربی الدرقاوی (1760۔۔ 1823ء) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جو کہ اصلاابو الحسن الشاذلی کے طریقہ شاذلیہ ہی کی ایک شاخ ہے اور محمد الدرقاوی اپنے سلسلہ تصوف کی اسناد کو 37 واسطوں کے ساتھ سیدنا علی تک پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے اپنا پہلا مرکز برسٹل گارڈن (لندن) میں قائم کیا تھا جہاں وہ درقاوی طریقے کے مطابق ہر جمعرات کو ذکر کی محفل برپا کیا کرتے تھے جس میں ذکر کے ساتھ رقص یعنی جھولنے اور سر کو دائیں بائیں ہلانے کا عمل بھی شامل تھا اور اسے ’حضرۃ‘ کا نام دیا جاتا تھا۔

1976ء میں جب میں نیروبی (مشرقی افریقہ) سے لندن کی پہلی بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا تھا تو ایک شام برادرم سراج الرحمٰن (یوگنڈا میں دار الافتاء کے مبعوث) کے ساتھ ان کی اس محفل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ کانفرنس کے شرکاء میں سے جناب کوثر نیازی (سابق وزیر برائے اسلامی امور، پاکستان) کو بھی اس محفل کی رونق بڑھاتے دیکھا۔

یہ میرا ان حضرات سے پہلا تعارف تھا۔ معلوم ہوا کہ عراق کے ایک متمول تاجر بھی اس طریقہ سے خاصا شغف رکھتے ہیں اور مذکورہ جماعت کی دل کھول کر مدد بھی کرتے ہیںن۔

میں مذکورہ شخصیت سے بھی ملا اور پھر لندن سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ناروچ قصبے کا بھی قصد کیا۔

اسے میں نے قصبہ آج کل کے اعتبارب سے کہا ہے، وگرنہ یہ شہر ایک ہزار سالہ شاندار ماضی رکھتا ہے ور ایک طویل مدت تک لندن کے بعد سب سے بڑا شہر گنا جاتا تھا۔ لندن سے تقریباً ایک سو میل دور مشرقی ساحل کے قریب واقع ہے۔آبادی ایک لاکھ 20 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ اس شہر کی امتیازی بات یہ ہے کہ اسے برطانوی شہروں میں مذہبی اعتبار سے سب سے کم شمار کیا گیا ہے اور وہ اس طرح کہ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق یہاں اپنے آپ کو عیسائی کہنے والوں کی تعداد تقریباً 9ء 44 فیصد ہے۔ کوئی 5ء 42 فیصد اپنے آپ کو لامذہب مانتے ہیں اور مسلمانوں کی تعداد اب 2فیصد کے قریب ہے۔ اسے نسبتاً خالص سفید فام شہر بھی قرار دیا گیا ہے۔

اب میں 1980ء کے لگ بھگ اپنی زیارت نوروچ کی طرف لوٹتا ہوں۔ شہر سے سترہ میل دور مذکورہ جماعت نے ایک قلعہ نما گھر خرید رکھا تھا جس کی مرمت کا عمل جاری تھا، اس عمارت سے متصل کوئی چالیس ایکڑ زرعی زمین تھی جسے وہ موسم گرما میں باغبانی اور زراعت کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

شہر کے اندر انہوں نے ایک ہال کی عمارت خرید کر اسے مسجد احسان میں تبدیل کر دیا تھا اور اپنی مطبوعات کو زیور طبع سے آراستہ کرنے کے لیے دیوان پریس کی بنیاد بھی ڈال دی تھی۔

شیخ عبد القادر صوفی سے ان کا قلعہ نما مرکز میں ملاقات ہوئی جسے درقاوی انسٹی ٹیوٹ کا نام دیا گیا تھا، وہ اپنے حلقہ ارادت کے جھرمٹ میں تشریف فرما تھے، ذکر وفکر کی محفل کے بعد مجھے شرف ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا۔

میں ان کے چند کتابچے ساتھ لیتا آیا جو ان کے افکار کی عکاسی کر رہے تھے، انہی دنوں ایک عربی اخبار میں اس عنوان کے ساتھ ایک خبر شائع ہوئی تھی،

’’برطانیہ کا ایک پورا قصبہ حلقہ بگوش اسلام‘‘

اور مقصود اس سے نوروچ کا یہی قصبہ تھا۔

یہ خبر حقیقت پر مبنی نہ تھی۔ صرف اتنا تھا کہ 60 سے 70 افراد پر مشتمل نومسلم انگریزوں کی یہ جماعت وہاں اسلامی بودوباش کی خاطر اپنا ایک مرکز قائم کر چکی تھی۔

شیخ عبد القادر صوفی سے میری دو ملاقاتیں رہیں، ایک تو یہی جس کا تذکرہ ہوا اور دوسری مئی 1982ء کے اوائل میں جب وہ لندن میں میرے غریب خانہ پر تشریف لائے۔

ان سے گفتگو کے بعد اور پھر میرے مشاہدات اور ان کی بعض تالیفات کے مطالعے سے میرے علم میں یہ باتیں آئیں:

شیخ القادر صوفی ایک طلسماتی شخصیت کے حامل ہیں، وسیع مطالعہ رکھتے ہیں، سلسلہ درقاویہ شاذلیہ کے شیخ محمد حبیب کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد اب اس سلسلے کے توسط سے دیار غرب میں اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں اور اپنی اس تحریک کو عالمی تحریک مرابطین کا نام دیا ہے۔

وہ اس بات کے قائل ہیں کہ اپنی جماعت کو برطانیہ کے کئی ایسے شہر میں بسنے کی ترغیب دے سکیں جہاں وہ اسلامی طریقے سے بودوباش اختیار کر سکیں اور اس مقصد کے لیے وہ شہر ناروچ میں ، درقاوی انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں لا رہے ہیں، جہاں فی الوقت چار خاندان مقیم ہیں۔ عمارت کے ساتھ چالیس ایکڑ زمین بھی حاصل کی گئی ہے جہاں اگلے موسم گرما سے پھلوں، جڑی بوٹیوں اور ترکاریوں کے اگانے کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اب تک وہ ’برکلے‘ (امریکہ) اور قرطبہ (اسپین)میں دو مراکز قائم کر چکے ہیں اور اپنے تین وفود اسپین، برمودا اور نائیجریا بھی روانہ کر چکے ہیں۔

مسجد احسان میں جمعہ اور جماعات کے علاوہ ذکر وفکر کی محفل بھی برپا کی جاتی ہے اور بچوں کی دینی تعلیم کا بھی بندوبست کیا گیا ہے۔

اب تک وہ دو کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں بعنوان: یورپ میں اسلام اور اسلام میں تصوف کی تجدید

جو چند کتابیں بزبان انگریزی اب تک شائع کی جا چکی ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے:

1۔ ماہیۃ الانسان تالیف سید علی الجمال، ترجمہ عائشہ الترجانہ، مقدمہ از قلم شیخ عبد القادر الصوفی

2۔ صوفیانہ نظموں کا ایک مجموہ بعنوان: علم ذاتی، تالیف غوث ابو مدین

3۔ عثمان ڈان فودیو کی ایک ہینڈ بک بابت اصطلاحات اسلام، ایمان، احسان

4۔ نائیجیریا میں اسلام

5۔ جہاد بقلم عبد القادر الصوفی

6۔ جریدۃ ’اسلام‘ جس کے دو شمارے اب تک شائع ہو چکے ہیں۔

ان کتب میں سے 48 صفحات پر مشتمل جہاد پر کتابچہ میرے مطالعہ میں آیا تو اس سے شیخ عبد القادر کے افکار کا کچھ علم ہوا۔ وہ جس فکر کے حامل ہیں وہ کئی دوسری اسلامی تنظیموں اور تحریکات جیسے رابطہ عالم اسلامی، الاخوان المسلمون اور وہابیت کی سخت ناقد ہے، خود امام ابن تیمیہ﷫ کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان سے استفادہ نہ کیا جائے کیونکہ عقلی طور پر وہ متوازن ذہن نہیں رکھتے۔ خیال رہے کہ ان خیالات کا تانا بانا ابن بطوطہ کی چند فرعومہ عبارات تک پہنچتا ہے۔

مستقبل میں وہ کئی خوش آئند پروگرام کی تکمیل کرنے کا عزم رکھتے ہیں، جیسے:

1۔ قرآن کریم کا ایک نیا ترجمہ جس کا رجع اول اختتام پذیر ہے۔

2۔ چینی زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ جسے شائع کر کے چین بھیجنا مقصود ہے۔

3۔ قراءت ورش کے مطابق ایک مصحف کی تیاری اور اسے بلاد غریب میں رائج کرنا۔

4۔ قرآن مجید کے انگریزی تراجم کی ایک ڈکشنری کی تالیف

5۔ مؤطا امام مالک کا انگریزی ترجمہ

شیخ عبد القادر اپنی اس تحریک کو اکثر سلفی تحریک کا نام دیتے ہیں جس کی بنیاد مدینۃ الرسول کے ماڈل پر رکھی گئی ہے اور جس کی اجتماعی اور تشریعی ساخت مؤطا امام مالک کے گرد گھومتی ہے۔

شیخ کی ایک اور تحریر میں اس بات کو بڑی شدت سے اجاگر کیا گیا ہے کہ اس دور میں اسلام کے تیسرے رکن زکوٰۃ کی روح کو بری طرح سے پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور اس کے احیاء کے لیے ضروری ہے کہ دورِ نبوی کے دینار اور درہم کو دوبارہ روشناس کیا جائے یعنی کاغذی نوٹوں کے بجائے سونے اور چاندی کے سکے رائج کیے جائیں اور یہی وہ واحد طریق ہے کہ جس سے سود کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ شیخ عبد القادر کے بعض غیر پسندیدہ افکار کے باوجود میں نے ان کی جماعت کے بارے میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا، ان کی دامے، درمے امداد کی بھی سفارش کی اور مذکورہ عراقی شخصیت کی وساطت سے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ شیخ عبد القادر ایک دفعہ ہمارے شیخ عبد العزیز بن باز سے ملاقات کر پائیں تاکہ شیخ ان کے شکوک وشبہات کا ازالہ کر سکیں۔

میرے ان مشاہدات پر ایک طویل عرصہ گذر چکا ہے۔ معلوم ہوا کہ شیخ عبد القادر پچھلے سال (اگست 2021ء میں) کیپ ٹاؤں (جنوبی افریقہ) میں وفات پا چکے ہیں کہ جہاں انہوں نے جمعہ مسجد قائم کی تھی اور اپنی جماعت کی بھی صف بندی کی تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے نظریہ درہم ودینار سے رجوع کر لیا تھا، یہ بات خوش آئند ہے کہ ان کی جماعت نے شیخ کے تمام قابل اعتراض افکار کی پیروی نہیں کی ہے بلکہ کئی قابل قدر علمی کارنامے سر انجام دیے ہیں، جن میں قرآن مجید اور مؤطا امام مالک کا مکمل ترجمہ بھی شامل ہے۔

مجھے ان سطور کی تحریر کے وقت شیخ کے نظریات کو مزید پڑھنے کا موقع ملا، اقتصادی میدان میں وہ کاغذی نوٹوں پر مبنی مالیاتی نظام کے سخت ناقد تھے، انہوں نے سونے کے دینار اور چاندی کے درہموں پر مشتمل مارکیٹ کا آغاز بھی کیا تھا، جس کا تجربہ سلاؤ اور ناروچ میں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سود کی بیخ کنی اور زکوٰۃ کی افادیت اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب کہ دینار ودرہم پر مبنی مالیاتی نظام قائم کیا جائے۔

یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے 2014ء میں اپنی اس رائے سے رجوع کر لیا تھا اور مذکورہ مارکیٹ سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا۔

سیاسی میدان میں وہ مغربی سیکولر سسٹم کی پرداختہ جمہوریت کے بھی سخت ناقد تھے اور اس کے ڈانڈے قوموں کو غلاموں بنانے سے جوڑتے تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں پلنے والی بڑی بڑی کمپنیاں اور کارپوریٹ ادارے غلامانہ ذہن کی آبیاری کے جدید وسائل ہیں اور پھر قومی ریاستوں کی شکل میں لوگوں کی نقل وحرکت کو ویزا اور پاسپورٹ سے پابند کر کے محدود کیا جانا، غلامی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے اور اس کا مظہر، امیگریشن کے نام پر غیر قانونی طریقے سے ہجرت کرنے والوں کو زنداں کے حوالہ کرنے یا ان کو بڑے بڑے کیمپوں میں رکھ کر آزاد زندگی سے محروم کرنا ہے۔

مغربی اقدار دہرے معیارات کی حامل ہیں جس کا مظہر فلسطین کے باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کئے جانے کی شکل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہودیوں کی اس قلیل جماعت کو سراھا جو صہیونی تحریک کے افکار وخیالات سے بالکل اتفاق نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے غزہ پر بمباری اور بالآخر غزہ سے انخلاء کے فیصلے پر یہ طنزیہ ریمارکس کسے کہ وہ غزہ میں کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟

خالی عبادت خانے اور جن چیزوں کو آگے بڑھ کر گلے لگانا چاہتے ہیں وہ ہیں کینو، جوئے خانے اور سود مردود سے آباد مالیاتی دنیا۔

قرآن نے مفسدین فی الارض کا تذکرہ کیا ہے۔ زمین میں فساد کیسے کیا جاتا ہے تو اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف سمندری ساحلوں (اور بطور مثال تھائی لینڈ کے ساحلوں) میں پانی اور خشکی کے درمیان (MANGROVE) جھاڑیوں کی شکل میں ایک قدرتی رکاوٹ رکھی ہے جو سونامی جیسے پانی کے دفعۃً طوفان کو روکنے کا کام انجام دیتی ہے لیکن لوگ ساحلوں پر عیاشی کے لیے ان جھاڑیوں کو اکھیڑ کر وہاں ہوٹل، دکانیں، تفریحی مقامات بنانے پر تلے ہوئے ہیں جو بالآخر ان کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔

وہ اس نیچرل قانون کو تو جانتے ہیں کہ جہاں پانی ابالا جائے گا وہاں بخارات تو اٹھیں گے اور جہاں بادگولہ (HURRICANE) کے طوفان آئیں گے وہاں بردبادی تو آئے گی، لیکن وہ اس بات کی توجیہہ سے قاصر ہیں کہ امریکہ کے دو بڑے شہروں ’نیو اورلین‘ اور BILOXI میں تباہی کیوں آئی؟ اول الذکر بدی کا مرکز تھا اور ثانی امریکہ میں جوئے کا سنٹر تھا۔

دیار مغرب میں جنسی آوارگی، شرم وحیا کی حدود کو پامال کیا جانا، ٹیلی ویژن پر حیاباختہ فلموں کو پیش کیا جانا، لذت پرستی کی اس معراج کو پہنچ گیا ہے جہاں خاندانی نظام تباہ وبرباد ہوتا جا رہا ہے اور نسلی انسانی کی افزائش تھمتی جا رہی ہے۔ ایسے میں اسلام کی طرز معاشرت اور ازدواجی زندگی کا خوبصورت نظام یورپ میں مسلمانوں کے وجود کو استحکام بخش رہا ہے۔ (حخوالہ مقالہ از عبد القادر صوفی بعنوان:

“THe Dismantaling of the Political Class as Prelude to the Restoration of Personal Rule: The Islamic Position”

شیخ عبد القادر کے یہ نظریات قابل ستائش ہیں لیکن انہوں نے اپنی جماعت کو جس نظم میں پرویا تھا، اس کی خامیوں پر انہی کے حلقہ ارادت کے چند افراد نے سخت تنقید بھی کی، اس میں قبل ذکر یہ چند باتیں تھیں:

کہ شیخ عبد القادر نے گو اپنی دعوت کو امام مالک اور ان کی تعلیمات کے بموجب ایک سلفی تحریک کی شکل دینے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے جن صوفیانہ اوراد کو ایک مخصوص انداز سے رائج کیا ہے وہ خود امام مالک﷫ کی تصریحات کے منافی ہے۔

اوریہ کہ ان کے متوسلین اور مریدین کو عربی زبان سیکھنے اور اسلامی تعلیمات کے حقیقی مصادر (قرآن وسنت) تک بلاواسطہ رسائی حاصل کرنے پر اتنا زور نہیں دیا جاتا جتنا طریقہ درقاویہ کے اذکار واوراد کی پابندی کرنے پر دیا جاتا ہے اور یہ کہ ان کی شخصیت کو اس طرح تقدیس وتکریم کے ہالہ میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے کہ ایک نو مرید کو ان تک رسائی کے لیے باقاعدہ تیار ہونا پڑتا ہے اور یہ انداز پیری ومریدی ان کی تحریک کو ایک پُر اسرار ٹولے (CULT) کا روپ دے چکا ہے۔

اور یہ کہ ایک مرید کے لیے اس کی حیثیت شیخ کے سامنے اس مردے کی سی ہے جو غسل دینے والے کے رحم وکرم پر ہو۔ یعنی وہ ان کے تمام احکامات وفرامین کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پابندی کرنے پر مجبور ہے۔

ابن عربی (صاحب الفتوحات المکیہ اور فصوص الحکیم) کے افکار سے خوشہ چینی کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔

بہرحال ہمیں ان باتوں میں مبالغہ آرائی کا پہلو نظر آتا ہے جو ان کے فکر کو فری میسن ’کبالا‘ اور چند مغربی فلاسفہ سے متاثر ہونے کا عندیہ دے رہی ہے۔ (بحوالہ تصنیف سیدی عثمان آف اٹلی بعنوان:

“Iyan Dallas: Sheikh Who Has no Clothes”

صوفی عبد القادر اپنے رب کے حضور جا چکے ہیں اور بفجوائے تعلیم نبوی (أذكروا موتاكم بالخير) ہم نے اس تحریر میں ان کے محاسن کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کے متوسلین کو کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تبصرہ کریں