فتنہ ارتداد، اسباب اور ہماری غفلت شعاری (اداریہ)۔محمد حفیظ اللہ خان المدنی

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت اسلام وہ واحد دین ہے جو سب سے زیادہ تیزی سے ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں ہر دن اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی ریسرچ سینٹر PEWکی رپورٹ کے مطابق 2060 تک دین اسلام ساری دنیا میں ایک غالب دین کی حیثیت اختیار کرلے گا۔ یقیناً اسلام کا اس قدر مقبولیت حاصل کرنا قرآن وحدیث میں ذکر کردہ پیش گوئیوں کے عین مطابق ہے۔ مگر دوسری جانب احادیث نبویہ میں قربِ قیامت ظاہر ہونے والے ان فتنوں کا بھی ذکر ہے۔ جو ایک مؤمن کے ایمان کے حق میں انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ سیاہ رات کی تاریکی کی مانند اٹھنے والے ان فتنوں کی لپیٹ میں آنے والوں کی بدحواسی کا یہ عالم ہو گا کہ وہ حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے سے اس طرح محروم کر دیے جائیں گے، جس طرح سیاہ رات کی تاریکی میں ہر کسی کا احساس زیاں جاتا رہتا ہے اور وہ نافع اور ضار کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔

اس وقت احادیث میں مذکور فتنوں کی پیش گوئیاں ان چند مسلمان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی شکل میں سچ ثابت ہور ہی ہے۔ جو نہ صرف اسلام سے دل برداشتہ ہوتے جا رہے ہیں بلکہ کھلم کھلا دین سے اپنی برأت کا اعلان کرنے لگے ہیں۔ مغربی ممالک میں ’سابق مسلمان‘ جیسے لقب سے تنظیمیں اور انجمنیں وجود میں آر ہی ہیں جن میں مسلمان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ان تنظیموں کے تحت آن لائن سروس کے ذریعہ دین بیزار نوجوانوں کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے اور مزید اسلام کے خلاف دلائل مہیا کرنے کی ناپاک کوششیں جاری ہیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق تاحال 23 فیصد مسلمان نوجوان جن میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے، دین اسلام سے کسی نہ کسی شکل میں لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں اور ایک بڑی تعداد میں ایسے مسلم نوجوان بھی ہیں جو معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے برملا اس کا اظہار کرنے سے جھجھک رہے ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ ان دین سے برگشتہ مسلمان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق مذہبی گھرانوں سے ہے جو باقاعدہ جزوقتی دینی تعلیم حاصل کر چکے ہیں، لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو خاندانی دباؤ کی وجہ سے مکمل حجاب بھی کرتی رہی ہیں، دینی ماحول میں پروان چڑھی ہیں اور باقاعدہ مع ترجمہ قرآن مجید پڑھ چکی ہیں۔

ان تمام کے باوجود آج وہ اپنے آپ کو کیوں مسلمان کہلوانا نہیں چاہتیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔

ان میں سے ایک وجہ وہ شکوک وشبہات ہیں جو قرآن وحدیث میں مذکور بعض احکام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ان کے ذہنوں میں گھر کر چکے ہیں۔ مثلاً ان نوجوانوں کے نزدیک قرآن وحدیث کی تعلیمات میں مرد اور عورت کے درمیان اونچ نیچ کے فرق کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ہر معاملہ میں مرد کو فوقیت دی گئی ہے اور عورت کو ماتحت قرار دیا جاتا ہے۔

مسلمان مرد کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت، کیوں؟

نیز بیوی کی بوقت ضرورت پٹائی کرنے کی اجازت!

غیر مسلم خواہ وہ کس قدر نیک کیوں نہ ہو، اس کا ٹھکانہ جہنم کیوں؟

ایک مسلمان لاکھ بدکار گناہگار ہی سہی، جنت اس کےلیے مخصوص، آخر کیوں؟

خون ریز جنگوں کی وجہ سے بے گناہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے، جنگ و فساد کا نشانہ بننے والے لوگوں کی زندگیاں عبرت کا نمونہ بنی ہوئی ہیں۔ شہروں کےشہر مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کیے جا رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تو ان جنگوں کو روکتا کیوں نہیں؟

قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ میری زبان عربی نہیں، کیوں خدا مجھے میری اپنی زبان میں نہیں بتلاتا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔

نماز، روزہ، حجاب پر زبردستی، اجنبی مردوں سے گفتگو ممنوع، کم عمر میں شادی یہ سب کیوں؟

کیا مجھے اپنی زندگی جینے کی اجازت نہیں، کیا مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں سوال کر سکوں؟

میں نے قرآن مجید کو سمجھنے کی غرض سے خصوصی طور پر عربی زبان سیکھی۔ اس کے باوجود میں مطمئن نہ ہو سکا۔ پھر میں نے اس پر تحقیق شروع کی، مختلف کتب کا مطالعہ کیا مگر پھر بھی مجھے میرے سوالات کے جوابات مل نہ سکے۔

قارئین کرام! یہ اور ان جیسے سینکڑوں سوالات ان نوجوانوں کے ذہنوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کو نہ ملحد کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی مرتد بلکہ الحاد اور ارتداد کی جانب ان کا سفر شکوک وشبہات سے شروع ہوتا ہے اور جب ان کے شکوک اور شبہات کا ازالہ نہیں ہوتا تو پھر وہ الحاد تک جا پہنچتے ہیں۔

ان حالات میں ان نوجوانوں پر لعن طعن کرنے یا ان کے خلاف فتویٰ بازی کرنے سے قبل ہمیں کھلے دل سے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

کیونکہ عموماً دیکھا گیا ہے کہ شکوک وشبہات میں گھرے نوجوانوں کو والدین سمیت ائمہ مساجد اور علماء کرام کی جانب سے کڑوے کسیلے جواب ہی سننے کو ملتے ہیں، ہر اعتبار سے ان پر بے جا تنقید لعن طعن ہمارا وطیرہ ہے۔ ہمارا یہ رویہ ان نوجوانوں کو اپنوں کے درمیان اچھوت بنا کر رکھ دیتا ہے اور پھر یہی نوجوان ارتداد اور الحاد کی تاریک وادیوں میں کھو جاتے ہیں۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ رفتار زمانہ کے ساتھ حالات ، ماحول اور سوچ میں تبدیلی آ چکی ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا نے شیطان کے لیے تمام راہیں آسان کر دی ہیں، ارتداد اور الحاد کی جانب دعوت دینے والی تنظیمیں سوشل میڈیا کا بھرپور فائدہ اٹھا کر شکوک وشبہات میں گھرے نوجوانوں کو انتہائی منظم انداز میں، پوری ہمدردی جتا کر اپنا رہی ہیں ۔ خصوصاً مغربی ماحول میں پروردہ نوجوان ہر مسئلہ منطقی انداز میں سمجھنے کے عادی ہیں۔

دوسری جانب اول تو ہم اس فتنہ کو اہمیت دینے پر راضی نہیں، ثانیاً اس فتنہ کو نہایت سختی کے ساتھ دبانا ضروری سمجھتے ہیں اور انتہائی حقارت آمیز انداز میں شکوک وشبہات کے حامل نوجوانوں کو دھتکار دیا جاتا ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ فتنہ ارتداد اب ہمارے معاشرہ کا حصہ بن چکا ہے لہٰذا آپ اس سے اپنے آپ کو یا اپنی نوجوان نسل کو بچا نہیں سکتے۔ لہٰذا اس کے سدباب کی تدابیر پر غور کرنا ہو گا، اس کے لیے مساجد اور دیگر دینی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات، دروس، لیکچرز کے ذریعہ اور نوجوانوں کے لیے ورکشاپس کے انعقاد کے ذریعہ ان کی صحیح راہنمائی فرمائیں، لیکچر میں اور ورکشاپس میں نوجوانوں کو بلاجھجھک سوال کرنے کی اجازت ہو نیز ایسے علماء دین تیار کئے جائیں جن کو ارتداد کی جانب مائل نوجوانوں کے ذہنوں میں پلنے والے سوالات کے جوابات پر مکمل عبول حاصل ہو اور وہ انتہائی منطقی انداز میں ان کے سوالات کے جوابات دے سکیں۔ نیز ان کے ساتھ ہمدردی، اپنائیت اور نرمی انتہائی ضروری عوامل ہیں۔ جن کے بغیر آپ کی کوشش بارآور نہیں ہوسکتی۔ وما علینا إلا البلاغ

تبصرہ کریں