فیمن ازم! اسلام اور عورت۔ بنت بشیر

فیمنزم کا وجود چونکہ ہیومنزم کے حسین مگر الحادی نظریات سے نکلا ہے۔ اس لیے اس پر کچھ لکھنے سے پہلے میں قارئین کو ہیومنزم کا مختصر تعارف کروانا چاہتی ہوں۔

اہل مغرب نے عقل کے ارتقاء اور شعور کی ترقی کے نام پرجن نظریات کا پرچار کیا ہے ان میں سے ایک اہم نظریہ ہیومن ازم کا ہے۔ جس کے مطابق انسان نے خود ہی خود کو بچانا ہے کسی خدا نے نہیں اور نہ انسان کو خدا کی ضرورت ہے اور فطری طور پر انسانوں کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی عقل ، سمجھ، شعور اور تجربے کی بنیاد پر اچھے ، برے کی تمیز کر سکتا ہےاور اس کو الہامی تعلیمات اور وحی الٰہی کی سرے سے کوئی ضرورت نہیں اور رنگ، نسل، جغرافیے کی بنیاد پر انسانوں میں کوئی امتیاز نہیں۔ اہل مغرب کا یہ محبوب نظریہ بظاہر تو بہت خوش کن دکھائی دیتا ہے لیکن دراصل یہ نظریہ الحاد کا پیامبر ہے۔ اسلامی قدروں کی پامالی اور اسلام کو انسانیت کے استحصال کا مذہب قرار دینے کے لیے ہیومنزم کو بہت زور شور سے فروغ دیا گیا اور اس ازم کے ذریعے ان کے مفکرین نے انسانی قدروں کے نام پر خوب چیخ وپکار کی۔

اور یہ ہیومنزم جو ایک ایسا عالمی شرک ہے جسے انسان پرستی یا انسانی خدائی (Humanism) کا نام دیا جاتا ہے۔ جس کے ذریعے ڈیمو کریسی، سیکولرازم، سرمایہ داری ،آزادی، مساوات، فیمن ازم، اخلاقی قدروں کے قتل، رائے عامہ، عریانی، انارکی اور فری مارکیٹ اکانومی کا اظہار کیا گیا۔ آج کی اس تحریر میں میرا موضوع فیمن ازم، اسلام اور عورت ہے۔ فیمن ازم کے نام پر عورتوں کی آزادی کا جو ناسور ہمارے گھروں اور معاشروں میں دندناتا نظر آتا ہے۔ اصل میں اس کا مقصد ہمارے خاندانی سسٹم کی تباہی اور عورت کی اصل حیثیت کو ختم کرکے شمع محفل بنانا ہے۔ تاکہ وہ آزادی کے نام پر ہر بے حس کے لیے تر لقمہ بن سکے۔

اور اسی فیمن ازم کی غذا روشن خیالی کی حامل تحریک آزادی نسواں جیسی وہ تحریکیں ہیں جن کا آغاز یورپ سےہوا اور اس کی سزا وہ آج بری طرح بھگت چکے ہیں۔ آزادی نسواں کے نقصانات یورپ بہت اچھی طرح ملاحظہ کر چکا ہے اور آج ان کے اسلام قبول کرنے والوں میں اکثریت ان عورتوں کی ہے جو آزادی نسواں کی بدولت بے بسی، آوارگی اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دور حاضر میں اس کے اثرات مسلم معاشروں اور ممالک پر اس قدر نمایاں ہیں کہ آزادی کے نام پر عورتوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے نقصانات اور سنگینی پر لکھنے سے پہلے اسلامی نظام حیات کے حوالے سے یہ کہنا چاہوں گی کہ مذہب اسلام کا ہر حکم انسانی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو پر گہرا اثر رکھتا ہےاور یہی وہ مذہب ہے جس نے سب سے زیادہ حقوقِ نسواں کی پاسداری کی۔ اور ذلت، پستی ، غلامی ، محکومی اور محرومی سے نکال کر عزت وعظمت کے اعلی مقام سے روشناس کیا۔

اسلام نے صرف عزت ہی نہیں مادی حوالے سے بھی خواتین کو پوری طرح حقوق سے نوازا۔ اسلام نے وراثت کے نظام سے روشناس کروا کہ اس کے مالی حقوق کا تحفظ کیا، نکاح کے مضبوط رشتے کو فروغ دے کر ہر کسی کی محکوم بننے کی بجائے شوہر کے گھر کی ملکہ ہونے کا اعزاز دلایا۔ اور نکاح کے ذریعے بننے والا رشتہ انسانی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ تاکہ نسل انسانی کی بقا اور اس کی پرورش کا بہترین بندوبست ہو سکے۔

اسلامی نکاح کا معاہدہ اور اس سے برآمد ہونے والے نتائج کو اسی پس منظر سے دیکھیں تو پھر مرد کی چار شادیوں کی اجازت، عورتوں کو ایک تک محدود کرنا، مردوں کو خرچ کا ذمہ دار بنانا ، عورت کو شوہر کی اطاعت کی تلقین کرنا اور مرد کو با اختیار بنانا تو پھر ایک معاہدے کے تحت ساتھ رہنا بہت آسان اور ضروری بھی ہوجاتا ہے اور علیحدہ ہونے کے نقصانات اور دشواریوں سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ اور پھر فیمن ازم کی حقیقت بھی کھل جاتی ہے۔ اس سسٹم کے تحت عورت پر بالکل مالی بوجھ نہیں بلکہ وہ مالی طور پر آزاد اور مرد کو تعدد ازواج آزادی کے ساتھ بہت ساری ذمہ داریاں بھی سونپیں اس کے ذریعے کس طرح اسلام نے ایک مضبوط اور متوازن معاہدہ بنا دیا جو ایک تہذیب یافتہ معاشرے کے استحکام اور اللہ کی خوشنودی کی ضمانت ہے۔ الحمدللہ

اسی طرح خواہ دیت کا قانون ہو یا وراثت کا،عزت واحترام کی بات ہو یا حقوق و فرائض کی، خانگی امور ہوں یا حسن معاشرت کا کوئی پہلو، سبھی میں تو اسلام نے عورت کے حق کو مقدم اور فائق رکھا۔

اب آتے ہیں آزادی نسواں کی ان تحریکوں کی طرف جنہوں نے ہیومنزم کی کوکھ سے جنم لیا اور روشن خیال مفکرین، لبرل ازم کے حامیوں، موم بتی مافیا اور اہل مغرب کی پروردہ جدید آنٹیوں نے اسے غذا فراہم کی۔ جن کی روشن خیالی کے خاص اہداف میں سے تحریک آزادی نسواں نمایاں مقام کی حامل ہے جو مغرب سے اٹھی اور آج مسلم معاشروں میں اس کے خوش نما نعروں کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔اس تحریک نے مغربی خواتین کا استحصال تو برے طریقے سے کیا اب ان کا ہدف اور نشانہ مسلم خواتین ہیں۔

یہ ایک سازش ہے جس کی وجہ سے اسلام اور رخ نسوانیت سے اس کے نسوانی اثرات کو مٹانے کے ساتھ ایمان ، عقیدہ اور اعمال کی پامالی بھی کی جارہی ہے۔ اپنے خاص ہدف کی بدولت ان تحریکوں کے نعروں اور جلوسوں کی بدولت عورت کے فطری مزاج اور حقیقی مقام کی بنیادیں بھی ہلنا شروع ہو گئی ہیں۔ مسلم معاشرے میں اسی کی بدولت فواحش کا رجحان اور بے حیائی کا سیل رواں بڑھتا جا رہا ہے۔ اور حقیقت میں یہی مادر پدر آزاد معاشرے کے پاسبان اختلاط مرد و زن کی بدولت عورت کے استحصال کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

انہیں بے راہرو تحریکوں کی آغوش کی پروردہ عورتیں جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی ریاست کو اسی دلدل میں دھکیلنے کی خواہاں ہیں۔ اورحدود اللہ کو چیلنج کرنے کے لیے میدان میں نکلی ہیں ان کی اس دیدہ دلیری پر غالب کی زباں میں حالت کچھ یوں ہے :

حیراں ہوں دل کو رؤوں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

اسلام کا استہزا کرنے والی یہ خواتین اغیار کی نقالی میں کاش یہ بات سمجھ لیتں کہ یہ تو اسلام کے احسان تلے اس قدر دبی ہوئی ہیں کہ اپنا سر سجدے سے نہ اٹھائیں جن کو معاشرے میں انسانوں کے حقوق حاصل ہونا تودور کی بات ان کو تو حق زندگی حاصل نہ تھا.ذلت اور عار سمجھ کر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اسلام آیا تو انہیں قعر مذلت سے نکال کر عزتوں سے سرفراز کر دیا. اور صرف جینے کا حق نہیں بلکہ اتنا بلند مقام کہ بحیثیت ماں قدموں میں جنت رکھ دی.. بحیثیت بیٹی جنت کی ضامن قرار پائی بحیثیت بہن عزت سے سرفراز ہوئی اور بحیثیت بیوی اپنے شوہر کا نصف ایمان اور محبت و مودت کی تکمیل کا ذریعہ قرار پائی.. اتنی عظمت اور وقار کو داؤ پہ لگا کر چند ٹکوں کے عوض اپنا مقام گروی رکھنے والی عورتیں کبھی اس بات پر بھی غور کر لیا کریں جو ان کو آزادی اور برابری کے نام پر نچا رہے ہیں، ان کو گمراہ کر رہے ہیں کبھی ان کے کلچر اور خواتین کی سوچ کا بھی مشاہدہ کر لیں۔

یورپ کے حالات پر تجزیہ کرنے والے ہمیشہ اس بات کا اظہار کہتے ہیں کہ وہاں کے اسلام قبول کرنے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہے اور ان خواتین کا یہ کہنا ہے کہ ہمارے اسلام قبول کرنے کی بنیادی وجہ اسلام کا وہ مقام ہے جو اس نے عورت کو دیا کیونکہ مغربی معاشرے میں عورت کو عزت و احترام کی بجائے آزادی کے نام پر تحقیر و تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہی حال ہندو معاشرے کا ہے کچھ سال پہلے ایک ہندو صحافی عورت نے اسلام قبول کیا اور انھوں نے اپنا نام کملا داس کی جگہ ثریا رکھا اور ان کا ایک مضمون ماہنامہ مجلہ الاخوہ کے صفحات پر شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے لکھا کہ پردہ عورت کے لیے بلٹ پروف جیکٹ ہےاور انھوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ بطورِ صحافی میں معاشرے میں ایک اہم مقام کی حامل تھی لیکن جب میرے شوہر کا انتقال ہوا تو مجھے ان تمام بے ہودہ اور عورت کے استحصال پر مبنی رسومات کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی گئی جو ہندو معاشرے کا خاصا ہیں. ان تمام باتوں سے دل برداشتہ ہو کر میں نے مذہب اسلام کا مطالعہ کیا اور اس کی پر امن تعلیمات اور عورت کے مقام کو دیکھ کر میں نے اسلام قبول کر لیا. لیکن یہ بات مغرب زدہ لبرل آنٹیوں کی سوچ سے بالا تر ہے۔

ایک مرتبہ ایک لبرل خاتون فہمیدہ ریاض کی ’’چادر اور چار دیواری‘‘ کے موضوع پر شاعری پڑھنے کا اتفاق ہوا تو دل دہل گیا کہ ایک نام نہاد مسلم عورت اس طرح بھی اللہ اور اس کے رسول کے فرامین جو سرتاپا خیر ہی خیر ہیں کی دھجیاں بھی یوں اڑا سکتی ہے۔

افسوس صد افسوس!!! مسلمان عورت کو تعصب کی عینک نے ان ساری باتوں سے اوجھل رکھا اور یہ ساری حدیں پار کر کے خود کو تباہی میں دھکیلنے کے لیے ہر سال سڑکوں پر نکل آتی ہیں. جو ان کے نعرے اور غیر اخلاقی باتوں پر مبنی مطالبات ہیں ان کو بیان کرنے کی تو شرم و حیا اجازت دیتی ہے اور نہ قلم میں سکت ہے. اور جو خواتین اس سال بھی ماہ مارچ میں سر بازار اپنے استحصال پر مبنی حقوق کا مطالبہ کرنے کے لیے آمادہ و تیار ہیں۔ اور اللہ کی نافرمانی کے ساتھ اپنے عصمت اور عظمت کو داؤ پر لگانے کے لیے بھی بضد ہیں ان سے اتنی گزارش ضرور ہے۔

جس تہذیب نے عورت کو رسوا کیا سر بازار

اس کو جدت کہنا غلط سراسر بے حیائی ہے

اور یہ کہ

جس نے بھی اسلام سے بے وفائی کی

پایا نہیں میں نے اس کا انجام بخیر

المختصر یہ کہ ان تمام لوگوں کے نام ایک پیغام ہے جن پر فیمن ازم کا بھوت پوری آب و تاب کے ساتھ سوار ہے کہ جاؤ تمام مذاہب کا مطالعہ کرو، دنیا کی تمام تہذیبں کھنگال لو عورت کے حقوق کا تحفظ صرف اسلام میں ملے گا۔

اعجاز احمد رحمانی نے بہت خوب صورت بات کہی ہے:

تم کو راحت نہ ملے گی دنیا بھر کے ازموں سے

اس دنیا میں نافذ حکم شاہ ابرار(ﷺ) کرو

یاد رکھیے!!! حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا بھر کے ازم گمراہی کے اندھیروں میں تو پھنسا سکتے ہیں۔ روشنیوں کا ہم نوا کبھی نہیں بنا سکتے ۔ میرا جسم ، میری مرضی کا نعرہ لے کر بازاروں میں پھرنا اور شخصی آزادی کا راگ الاپنا آزادی رائے کا اعتدال والا راستہ نہیں، اور نہ ہی مثبت رویوں پر مبنی کوئی قدم ہے۔ بلکہ یہ ایک سازش ہے جس میں ہماری خواتین بری طرح گھر چکی ہیں۔

خدارا !!ہم پہلے ہی بہت سی آفات و آزمائش میں گھرے ہوئے ہیں۔اتنی بے ہودگی کے مظاہرے کر کے غضب الٰہی کو دعوت مت دیجئے اور یہ بھی سوچنا ہو گا کہ کسی بھی ازم کو ماننے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اگر آپ اللہ کو معبود مانیں اور اپنائیں ہر وہ نظام جو جزوی یا کلی طور پر’’ غیر اللہ‘‘ کا ہے تو ایک دن ایسا آئے گا جب آپ کا معبود وہی نظام ہو گا جس کو آپ نے اپنایا ہو گا۔اس کا واحد حل یہی ہے کہ حکم قرآنی ”پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ‘‘ کے تحت اسلام کے نظام حیات میں پورے داخل ہو جائیں اور اللہ کو معبود مانیں تاکہ ایک ایسا نظام وجود میں آئے جو اس واحد رحمن کی بندگی کو یقینی بنائے۔

رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اسلام کے مضبوط حصار میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

تبصرہ کریں