فضائل ذی الحجہ ومسائل قربانی۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ﴾ (سورة التوبہ: 36)

’’اللہ کے ہاں سال بھر کے مہینوں کی تعداد بارہ ہے، یہ معاملہ نوشتہ الٰہی میں اسی دن سے ہے جس دن اللہ نے زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔‘‘

’’محرم، رجب، ذی القعدہ اور ذو الحجہ۔ یہ چار ماہ حرمت والے ہیں۔‘‘

﴿وَالْفَجْرِ ‎0‏ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ (سورۃ الفجر: 1۔2)

’’قسم ہےفجرکی اور قسم ہے دس راتوں کی۔‘‘

حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

٭ عشر سے مراد ماہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ (مسند احمد)

٭ عشرہ ذوالحجہ سال کے افضل ترین دن ہیں۔ ان میں عبادت کرنا، اللہ کو بہت پسند ہے۔ (صحیح بخاری)

٭ عشرہ ذی الحجہ میں کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید یعنی لا إله إلا الله والله أكبر ولله الحمد کہنا چاہیے۔ (مسند احمد)

٭عرفہ کے دن (ذی الحجہ کی نویں تاریخ) کو اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ (ابن خزیمہ)

٭ عرفہ کے دن روزہ رکھنے سے سال گزشتہ اور سال آئندہ کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم: 1162)

٭ جو قربانی کرنا چاہیں وہ ذالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ تراشیں۔ (صحیح مسلم: 1977)

٭ جو قربانی نہ دے سکتے ہوں ، وہ بھی نماز عید کے بعد بال اور ناخن کٹائیں تو انہیں بھی قربانی کا ثواب ملے گا۔ (مسند بیہقی)

٭عید کے دن اچھا لباس پہننا اور خوشبو لگانا مسنون ہے۔ (مستدرک حاکم)

٭ عید الاضحیٰ کی نماز، عید الفطر کے وقت سے پہلے پڑھنا چاہیے، احادیث میں آتا ہے کہ جب سورج ایک نیزہ برابر بلند ہوتا تو آپ ﷺ نماز عید الاضحیٰ ادا فرماتے تھے اور سورج دو نیزے برابر بلند ہو تو نماز عید الفطر ادا فرماتے۔‘‘ (مسند احمد)

٭ عید گاہ کو پیدل جانا مسنون ہے لیکن ضرورت ہو تو سواری استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتاویٰ للشیخ العثیمین)

٭ عید الاضحیٰ کی نماز کو جاتے ہوئے کچھ نہ کھا کر جانا اور نماز کے بعد قربانی کا گوشت تناول کرنا سنت ہے۔ (صحیح بخاری)

٭ عید کی نماز آبادی سے باہر کھلے میدان میں ادا کرنا مسنون ہے، بصورت مجبوری مسجد میں ادا کی جا سکتی ہے۔ (سنن ابو داؤد)

افسوس ہے کہ برطانیہ اور یورپی ممالک میں چونکہ موسم اکثر وبیشتر سرد، تیز ہواؤں، آندھیوں، بارشوں والا اور غیر متوقع ہوتا ہے اس لیے عموماً اس سنت پر عمل آوری نہیں ہوتی۔ جب یہ عذر نہ ہو تو اس سنت پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

٭ عورتوں کو عید گاہ لے جانا مسنون ہے۔ اگر عذر شرعی کی وجہ سے نماز ادا نہ کر سکتی ہوں تب بھی وہ عید گاہ جائیں تاکہ عید کی خوشی اور دعا میں شامل ہو سکیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

٭ نماز عید کے لیے جانے والی خواتین عطریات اور خوشبو کا استعمال نہ کریں تاکہ مردوں کے لیے فتنہ کا باعث نہ بن سکیں۔ ( صحیح مسلم)

٭ نماز عید کی دو رکعت ہیں، اس کے لیے اذان و اقامت کی ضرورت نہیں ہے۔ (مسند بزار)

٭ عید گاہ میں نماز عید سے پہلے یا بعد میں کسی قسم کی نماز خواہ وہ سنت ہو کہ نفل، حضور ﷺ سے ثابت نہیں۔ (فقہ السنہ)

٭ عید کی نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ بارہ تکبیریں کہنی مسنون ہیں، پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہیں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں اور ہر تکبیر پر رفع الیدین کرنا مسنون ہے۔ (مسند احمد)

نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ اعلیٰ، سورۂ جمعہ اور سورۂ ق میں سے کوئی ایک سورہ پڑھنا اور دوسری رکعت میں سورٔ غاشیہ،سورٔ منافقون اور سورۂ قمر میں سے کوئی ایک سورہ پڑھنا مسنون ہے۔ (صحیح مسلم)

٭ اگر کسی کی نماز عید کی جماعت چھوٹ جائے تو وہ زائد تکبیرات کے ساتھ دو رکعت پڑھ لے۔ (صحیح مسلم)

٭ نماز عید کے بعد خطبہ ہو گا اور خطبہ میں اجتماعی دعا ہو گی۔ (سنن ابن ماجہ)

٭ کھڑے ہو کر خطبہ دینا مسنون ہے، حضور اکرمﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ (مسند بزار)

٭ عیدین کے خطبے بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر دینا مناسب نہیں ہے۔ حضور نبی کریمﷺ سے عیدین کے موقعوں پر بیٹھ کر خطبہ دینا ثابت نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ان موقعوں پر آپﷺ مردوں کو خطبہ دینے کے بعد اس خیال سے کہ عورتوں کو پوری طرح آواز نہ پہنچی ہو گی، آپ ﷺ ان کے قریب تشریف لے جاتے اور دوبارہ انہیں مخاطب فرماتے تھے، بیٹھتے نہیں تھے، آج کل عیدین کے موقع پر غیر اہل حدیث خطباء حضرات کی اکثریت کا یہ معمول بن چکا ہے کہ وہ بیٹھ کر خطبہ دیتے ہیں، جن کی نمایاں تصاویر اخبارات اور رسائل کی زینت بھی بنتی ہیں۔

بدقسمتی سے کتاب وسنت سے دوری کی وجہ سے کئی بدعات وخرافات ہماری عبادات اور مساجد میں داخل ہو گئی ہیں، ان میں یہ بدعت بھی شامل ہے، اس لیے علماء کرام اور خطیب حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہوں اور اس بدعت سے احتراز واجتناب کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

﴿لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ (سورة الأحزاب: 21)

’’یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔‘‘

قربانی کا جانور نماز عید کے بعد ذبح کرنا چاہیے، اگر کوئی نماز عید سے پہلے ذبح کر ڈالے تو وہ قربانی نہیں ہو گی۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

برطانیہ میں بعض بے دین قسم کے دوکاندار اور تاجر لوگ پیشگی قربانی کے آرڈر لے لیتے ہیں اور نماز عید سے قبل بلکہ رات ہی میں ذبح کر کے صبح تک ان کا حصہ تیار کر کے ڈبوں میں پیک کر دیتے ہیں اور گاہک خوش ہو جاتے ہیں کہ نماز عید سے فراغت ہوتے ہی ان کی قربانی ادھر کٹی کٹائی تیار ہے اور جو لوگ خود سلاٹر ہاؤس (ذبح خانہ) جاتے ہیں، بسا اوقات اس کام میں پورا دن صرف ہوتا ہے، بعض دفعہ تیار شدہ گوشت دوسرے دن گھر پہنچتا ہے، پچھلے سالوں برطانیہ کے مسلم قائدین اور علماء کرام نے جب حلال گوشت کی جانچ پڑتال شروع کی تو بے ایمانی اور غیر دیانتداری کی ایسی کریہہ مثالیں سامنے آئیں کہ الامان والحفیظ!

اللہ انہیں ہدایت دے جو دنیا کی خاطر اپنی عاقبت برباد کر رہے ہیں، اس لیے قربانی کا آرڈر دینے والوں کو اس بات کا اطمینان کر لینا چاہیے کہ ان کی قربانی نماز عید سے پہلے ذبح نہ ہو جائے۔

٭ رسول اکرمﷺ مدینہ منورہ میں دس سال رہے اور ہر سال برابر قربانی کرتے رہے۔ (جامع ترمذی)

٭ پورے گھر کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے۔ (جامع ترمذی)

٭ قربانی کے جانور کے ہر ہر بال پر ایک ایک نیکی ملے گی۔ (مستدرک حاکم)

٭ قربانی کا جانور لاغر اور بیمار نہ ہو، ٹوٹے ہوئے سینگ والا، اندھا، کانا، لنگڑا اور نصف سے زیادہ کان کٹا ہوا نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ)

٭ ایک اونٹ یا گائے میں سات حصہ دار شریک ہو سکتے ہیں۔ (صحیح مسلم)

٭ بغیر سود کے قرض حسنہ لے کر قربانی کرنا جائز ہے۔ ( نیل الاوطار للشوکانی)

٭ 10 ذی الحجہ سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک قربانی کی جا سکتی ہے۔

٭ قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا بہتر ہے لیکن ضرورت پر دوسروں سے بھی ذبح کروا سکتے ہیں۔ (صحیح بخاری)

٭ قربانی رات کے وقت بھی کی جا سکتی ہے۔ (فقہ السنہ)

٭ قربانی کا گوشت خود استعمال کرنا، فقراء و مساکین کو دینا، دوست و احباب اور خویش و اقارب میں تقسیم کرنا مسنون ہے۔ (فقہ السنہ)

٭ جہاں غرباء ومساکین یا عزیز و اقارب نہ ہوں، وہاں سارا گوشت خود بھی رکھ سکتے ہیں۔ (فتاویٰ صراط مستقیم، مولانا محمود احمد میرپوری﷫)

٭ قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ (فتاویٰ صراط مستقیم، مولانا محمود احمد میرپوری﷫)

٭ قربانی کا گوشت قصاب کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس کی اجرت اور مزدوری کے بدلے میں قربانی کا گوشت یا کھال دینا جائز نہیں ہے۔ (فقہ السنہ)

٭ برطانیہ میں چونکہ کھالیں سلاٹر ہاؤس (مذبح) والے لیتے ہیں اور جانور کی قیمت میں اس کی کھال شامل نہیں ہوتی، اس لیے احتیاط اس میں ہے کہ یہاں قربانی کرنے والے حضرات اس کے عوض ایک یا دو پاؤنڈ اللہ کی راہ میں خیرات کر دیں۔

٭ استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں پر بڑی وعید آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ مسلمانوں کی عید گاہ میں نہ آئے۔ (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)

٭ جائز طریقے سے عید کے دن خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا، اچھے کپڑے زیب تن کرنا، اچھے کھانے تناول کرنا، معقول شعر وشاعری کی محفلوں کا منعقد کرنا، اہل وعیال، دوست واحباب کے ساتھ سیر وتفریح، جشن ہائے عید کا اہتمام کرنا جائز بلکہ عید کا تقاضا ہے ، ایسے موقع پر اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے اہل وعیال کے ساتھ خوشی کا اظہار فرمایا ہے۔ (خلاصہ فقہ السنہ)

٭ عشرہ ذی الحجہ سال کے افضل ترین دن ہیں۔ ان میں عبادت کرنا اللہ کو پسند ہے۔ (صحیح بخاری)

٭ ذی الحجہ میں ایک عمل کاثواب سات سو گنا تک مل سکتا ہے۔ (الترغیب والترہیب)

٭ عشرہ ذی الحجہ میں نفلی روزوں کی بڑی فضیلت ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ ان مبارک ایام میں روزے رکھا کرتے تھے۔ (سنن ابو داؤد)

٭ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے۔ (صحیح ابن خزیمہ)

٭ نماز عید کے لیے ایک راستہ سے آنا اور نماز کے بعد دوسرے راستے سے واپس ہونا مسنون ہے۔ (صحیح بخاری)

٭ عید کے دن اور ایام تشریق (ذی الحجہ کی 11، 12 اور 13 تاریخ میں روزہ رکھنا منع ہے۔ (فتح الباری)

٭ 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک فرض نماز کے بعد بلند آواز سے تکبیر کہنا چاہیے۔

نماز کے علاوہ جب بھی موقع ملے تکبیرات کہتے رہنا چاہیے۔ (فقہ السنہ)

٭ عید کی نماز کو آتے ہوئے اور عید گاہ میں نماز سے پہلے بلند آواز سے تکبیر کہیں۔

تکبیر یہ ہے:

الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد (فقہ السنہ)

٭ عورتیں بھی اپنی یا دوسروں کی قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کر سکتی ہیں۔ (صحیح بخاری)

٭٭٭

تبصرہ کریں