فضائل ومسائل جود وسخااور صدقہ وخیرات۔ ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

رمضان المبارک میں نبی کریمﷺ بہت زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔

خدا کی راہ میں دینا ہے گھر کا بھر لینا

ادھر دیا کہ اُدھر داخلِ خزانہ ہوا

اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (سورہ الذاریات: 56)

اور عبادت مجموعہ ہے بدنی اور مالی عبادت کا۔ اسلام میں کلمۂ شہادت کے اقرار کے بعد نماز اور روزہ کاتعلق بدنی عبادت سے ہے تو زکوٰة کا تعلق صاحب استطاعت پر مال سے ہے اور حج کاتعلق مال اور بدن دونوں سے ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی جسمانی اور مالی دونوں نعمتوں کو اللہ کے راستے میں لگائے ۔ اسی لئے قرآن حکیم میں 82 مرتبہ نماز اور زکوٰة کا ایک ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ زکوة صاحب استطاعت پر ہے یعنی جن کو الله تعالیٰ نے 75 گرام سونا یا 525 گرام چاندی یا اس کے برابر فاضل دولت عطافرمائی ہے اور اس پر ایک سال گزر چکا ہے تو ان پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے کہ وہ اس میں سے یا اس کی قیمت میں سے اڑھائی فیصداللہ کے راستہ میں مستحقین پر خرچ کر دے ۔

رمضان المبارک کے بے پایاں اجر وثواب سے مستفید ہوسکیں، کیونکہ رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب 70 درجہ سے شروع ہوتا ہے۔ جبکہ غیر رمضان میں 10 درجہ سے شروع ہو کر 700تک پہنچتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کے ثواب میں بے حساب اضافہ کرتا ہے۔

زکوٰة تواہل نصاب پرفرض ہے مگر صدقہ و خیرات کی اہمیت ہر مسلمان کے لئے ہے، خواہ وہ صاحبِ زکوٰة ہو یا نہ ہو اور ماه رمضان المبارک میں تو اللہ کے نبی ﷺ کثرت سے صدقہ و خیرات اور جود وسخا فرماتے تھے۔ احادیث میں ہے کہ آپﷺ تیز ہوا سے بھی زیادہ خیر کے کاموں میں سبقت لے جاتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1902)

اس سلسلہ میں چند آیات اور احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں ۔ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے :

﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾

’’جولوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور الله تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور الله تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔ ‘‘ (سورہ البقرہ: 261)

یعنی الله تعالیٰ کے راستے میں جو خرچ کرو گے وہ اسے 700 گنا بڑھا چڑھا کر ثواب عطا کرے گا اور اس سے بڑھ کر بھی بے حساب عطا کرتا ہے۔

ایک مقام پر یوں ارشاد ہوا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾

”اے ایمان والو!جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی اور نہ شفاعت اور کافر ہی ظالم ہیں۔‘‘ (سورۃ البقره: 254)

یہاں اہل ایمان سے کہا جارہا ہے کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال کو الله کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ آنے والا دن وہ ہے کہ نہ وہاں خرید و فروخت کر سکتے ہیں نہ دوستیاں کام دیں گی نہ سفارشیں کام آئیں گی، وہاں ایمان وعمل صالح کے علاوہ کوئی چیز کام آنے والی نہیں ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے:

﴿وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

”بات یہ ہے کہ جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچیں وہی کامیاب اور بامراد ہیں۔‘‘ (سورۃ الحشر: 9)

یعنی بخالت اور کنجوسی سے بچ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں سخاوت اور فیاضی سے کام لو۔ الله تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے دیئے ہوئے مال کو اس کی راہ میں خرچ کرنے کو قرض حسنہ دینے سے تعبیر کیا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر واپس کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ

﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾

’’ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، اللہ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے۔ اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 245)

عموماً آدمی کو مرتے وقت احساس ہوتا ہے کہ کاش میں اپنی زندگی میں یہ مال و دولت اللہ کے راستہ میں خرچ کر کے اپنی آخرت بنالیتا تو اچھا تھا مگر میں نے زندگی میں نہیں کیا، اگر مجھے ایک لمحہ کی مہلت مل جائے تو میں ساری دولت اللہ کے راستہ میں خرچ کر دوں ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَأَنفِقُوا مِن مَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴾

’’اور جوکچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے ہماری راہ میں اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے، اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کے لئے مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہوجاوں۔‘‘ (سورۃ المنافقون: 10)

لیکن وقت مقررہ آنے کے بعد اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے :

﴿إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ﴾(سورہ یونس: 49)

اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کو وہ صدقہ و خیرات زیادہ پسند ہے جوزندگی اور صحت کی حالت میں کیا جائے۔ (صحیح بخاری)

آپ ﷺنے ارشادفرمایا:

’’زندگی اور تندرستی کی حالت میں ایک درہم خیرات کرنا موت کے وقت 100درہم خیرات کرنے سے بہتر ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد)

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’صدقہ وخیرات کرنے سے آنے والی بلائیں اور مصیبتیں رک جاتی ہیں لہٰذاصدقہ و خیرات میں جلدی کرو۔‘‘

اللہ تعالی کے راستہ میں خرچ کرنے سے مال و دولت میں کمی نہیں آتی بلکہ اس میں اللہ پاک بیش بہا برکت عطا فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾

’’تم کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ ‘‘ (سورۃ سبا: 39)

الله تعالیٰ کے راستہ میں علانیہ اور خفیہ دونوں طریقوں سے خرچ کر سکتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾

’’جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب تعالیٰ کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 274)

بعض علماء نے کہا ہے کہ زکوٰۃ علانیہ خرچ کرنا چاہیے اور دیگر صدقات وخیرات چھپا کر، جہاں لوگوں کو ترغیب دلانا ہو وہاں پر علانیہ خرچ کرنا چاہیے اور جہاں یہ مقصود نہ ہو وہاں چھپا کر۔ بحرحال علانیہ خرچ کریں کہ چھپا کر دونوں میں نیت صحیح ہو کہ اللہ کی رضا کی خاطر خرچ کریں، ریا ونمود کا اس میں دخل نہ ہو۔

کیونکہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إنَّما الأعمالُ بالنِّيَّاتِ» (صحیح بخاری: 1)

’’سارے اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔‘‘

اللہ کے رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس نے حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ حلال کمائی ہی قبول کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اپنے پاس اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح کہ کوئی بچھڑے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی طرح ہو جاتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1014)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ صدقہ وخیرات حلال کمائی سے کرنا چاہیے کیونکہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ دوسری بات معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ روز قیامت صدقہ و خیرات کرنے والے کے میزانِ عمل میں پہاڑ کی طرح اجر وثواب عطا فرمائے گا۔

صدقہ و خیرات کرنے والوں کے لئے اللہ کے فرشتے بھی اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

’’ہر روز 2 فرشتے زمین پر اترتے ہیں، ایک یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! سخی اور خرچ کرنے والے کو اچھا بدلہ عطا فرما، دوسرا کہتا ہے، اے الله ! بخیل کا مال ضائع کر دے۔ ‘‘ (صحیح بخاری : 1442)

صدقہ روز قیامت صدقہ کرنے والے پر سایہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

’’روز قیامت سورج جب سر پر ایک میل کے فاصلے پر ہوگا اور ہرشخص اپنے گناہوں کے بقدر پسینہ میں ڈوبا ہوا ہو گا تو اس وقت اس کا صدقہ اس پر سایہ کرے گا۔ ‘‘ (صحیح الجامع للالبانی: 4510)

چھپا کر صدقہ کرنے والے عرش الٰہی کے سایہ تلے جگہ پائیں گے، جس دن اس کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا :

’’ سات قسم کے لوگ عرش الٰہی کے نیچے جگہ پائیں گے۔ جس دن اس کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا، ان میں ایک وہ شخص ہے جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1423)

آپ ﷺ نے فرمایا :

’’ صدقہ اللہ کے غصے کو ختم کردیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے۔ ‘‘ (جامع ترمذی)

آپﷺ نے فرمایا : ’’افضل صدقہ بھوکے کو پیٹ بھر کر کھلانا ہے۔ ‘‘ (سنن بیہقی)

آپ ﷺ نے فرمایا :

’’ صدقہ کرنے والوں کوصدقہ قبر کی گرمی سے بچائے گا ۔‘‘ ( صحیح الجامع للالبانی: 4384)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ

’’کھجور کا ایک ٹکڑاہی صدقہ کر کے جہنم کی آگ سے بچ جاؤ۔ ‘‘ (اللؤلؤ والمرجان: : 597)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ

’’اگر صدقہ و خیرات کرنے کے لئے کچھ بھی نہ ہوتو خندہ پیشانی سے ایک میٹھا بول کہہ دو ، یہ بھی صدقہ ہے۔ ‘‘ (اللؤلؤ والمرجان: 597)

آپ ﷺ نے فرمایا :

’’ حسد(رشک ) 2 قسم کے آدمیوں میں جائز ہے، ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی دولت سے نوازا ہے اور وہ رات دن ا س کو پڑھتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے اور وہ اسے رات دن خرچ کرتا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 5025)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ

’’صدقہ کرو کیونکہ تمہیں دوزخ سے محفوظ رکھے گا۔‘‘ (طبرانی)

اسلام میں بخالت اور کنجوسی کی مذمت کی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کنجوسی اور بخالت سے بچو کیونکہ اس برائی نے پہلے لوگوں کو ہلاک و برباد کیا ہے۔

اس چیز نے انہیں خون بہانے اور حرام چیزوں کو حلال کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ (صحیح مسلم)

بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر صدقہ اور زکوٰۃ دے کر بعد میں ان پر احسان جتاتے ہیں یا ان کی بے عزتی کرتے ہیں، اسلام میں اس سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾

’’جولوگ اپنا مال الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، ان پر تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہوں گے۔‘‘ (سورۃ البقره: 262)

بلکہ اس کے بعد والی آیت میں ارشاد ہوا کہ ایسا صدقہ کرنا کہ جس صدقہ کے بعد لینے والے کو اذیت پہنچے اس سے بہتر ہے کہ اسے صدقہ نہ دیا جائے صرف اچھی بات ہی کی جائے کہ جس سے اس کو تکلیف نہ پہنچے۔ ارشاد ہوتا ہے:

’’نرم بات کہنا اور معاف کردینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذارسانی ہو اور اللہ تعالیٰ بے نیاز اور بردبار ہے۔ ‘‘ (سورۃ البقرہ: 263)

آپ ﷺ نے فرمایا کہ

’’سائل کو واپس نہ کرو بلکہ کچھ نہ کچھ اسے دو، اگر چہ جلا ہوا کھُر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 1667)

مطلب یہ ہے کہ جو بھی میسر ہو وہی پیش کر دو، نہ دینے سے بہتر ہے کچھ دے دو۔

اسلام نہیں چاہتا کہ تم ہمیشہ اعلیٰ چیز صدقہ میں دو بلکہ اس میں اعتدال کی راہ ملحوظ خاطر رہے، نہ ہمیشہ اعلی چیز صدقہ کریں نہ ہمیشہ گھٹیا چیز ، بلکہ ضرورت پر اپنے محبوب ترین مال کو بھی راہِ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:

﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ‎﴾

’’جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو الله تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے۔‘‘ (سورة آل عمران: 92)

کسی شاعر نے اس آیت کریمہ کے ٹکڑے کو ایک مصرع بنا کر شعر کہاہے، ملاحظہ ہو:

هرچه داری صرف کن درراهِ أو

لن تنالوا البر حتى تنفقوا

جو کچھ بھی تمہارے پاس ہو اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دو۔ اس لئے کہ اللہ نے خود فرمایا کہ تم ہر گز نیکی اس وقت تک کما نہیں سکتے جب تک کہ اپنی محبوب شئے اس کے راستے میں خرچ نہ کر دو!

یہاں ایک بات کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا کہ عموماً لوگ مانگنے والوں کوتو دے دیتے ہیں مگر نہ مانگنے والے سفید پوش لوگ جو شرم وغیرت کی وجہ سے مانگ نہیں سکتے ہیں، ایسے لوگوں کو بھی دینا چاہئے بلکہ تلاش کر کے دیناچاہئے ۔ قرآن کریم میں انہیں سائل کے مقابلہ محروم (نہ مانگنے والا ) کہا گیا ہے۔ کیونکہ نہ مانگنے کی وجہ سے اکثر و بیشتر جائز ضروریات پوری کرنے کے لئے صدقات وزکوۃ وغیرہ سے محروم رہتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ‎0‏ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ المعارج: 24۔25)

’’اور جن کے مالوں میں مقررہ حصہ ہے مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی۔‘‘

اسی طرح یہ بھی عرض کر دوں تو بے جا نہ ہوگا کہ صدقہ فطر جو کہ فقراء و مساکین کے لئے ہے تا کہ وہ لوگ بھی اس کے حصول کے بعد عید کی خوشیوں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوسکیں مگر یہاں پر اکثر و بیشتر مساجد و مدارس اور دیگر چیریٹی (Charity) اداروں کے ذمہ دار یہ بھی وصول کر کے ان غرباء کو اس سے بھی محروم کر دیتے ہیں اور یہ پیسہ بڑی بڑی عمارتوں کی تعمیر وغیرہ میں لگا دیتے ہیں، یہ بالکل ظلم ہے۔ کم ازکم صدقہ فطر ایسے محتاجوں میں تقسیم کریں جس سے وہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھر سکیں نہ کہ حرص و ہوس کا!

اللہ کریم ہمیں نیک توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

٭٭٭

تبصرہ کریں