فضائل ومسائل حج۔ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے۔ (بخاری)

حج صاحب استطاعت پر فرض ہے۔ (آل عمران: 97)

اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے بعد حج مبرور سب سے افضل عمل ہے۔ ( بخاری ومسلم )

حج صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ (مسلم)

حج مبرور ( جس میں کوئی غلط کام نہ سرزد ہوا ہو اور جو اللہ کے دربار میں مقبول ہو ) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ ( بخاری ومسلم)

جس نے حج کیا اور فسق و فجور اور اللہ کی نافرمانی سے بچارہا وہ گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو کر لوٹے گا جیسا کہ وہ آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ (صحیح بخاری)

البتہ جمہور علما کی تحقیق یہ ہے کہ یہ کفارہ عموماً صغیرہ گناہوں سے ہوگا، رہے کبیرہ گناہ جیسے قتل و خونریزی، شراب و سود خوری اور لوگوں کا مال ناجائز طریقہ سے ہڑپ کرنا وغیرہ ، ایسے بڑے گناہ حج یا کسی عبادت جیسے نماز ، روزہ وغیرہ سے بھی معاف نہیں ہوں گے، جب تک کہ سچے دل سے توبہ نہ کی جائے اور حقداروں کو ان کا حق لوٹا نہ دیا جائے ۔ (خطبات از فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن زید احمود، قطر)

عورتوں کا افضل جہاد حج مبرور ہے۔ ( صحیح بخاری)

کوئی عمرہ یا حج کے سفر پر روانہ ہو اور یہ ادا کرنے سے قبل ہی وفات پا جائے تو اللہ تعالیٰ اسے عمرہ اور حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔ (بیہقی )

عمرہ و حج کے لیے مال حلال ہونا شرط ہے، جب بندہ حلال مال سے عمرہ اور حج کے لیے احرام باندھ کر لبیک کہتا ہے تو آسمان سے آواز آتی ہے، لبیک وسعدیک تیری لبیک قبول ہو اور تجھ پر اللہ کی رحمت ہو ) اور جب مال حرام ہو تو آسمان سے آواز آتی ہے:

(لا لبیك و لاسعد یك ) ’’ نہ تیری لبیک قبول ہے اور نہ ہی تجھ پر اللہ کی رحمت ہے۔‘‘ (طبرانی)

حج کی استطاعت کے باوجود کوئی مسلمان اگر حج نہ کرے تو اللہ کے نبی ﷺ نے یہ وارننگ دی ہے کہ وہ خواہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہوکر ۔ (جامع ترمذی)

عمرہ اور حج کرنے والے خوش نصیب گویا کہ ضیوف الرحمن (اللہ کے مہمان ہیں) اور اللہ پاک گویا کہ ان کا میزبان۔ (ابن ماجہ )

حج کی تین قسمیں ہیں:

حج افراد، حج تمتع اور حج قران ( بخاری و مسلم)

یورپ سے جانے والوں کے لیے حج تمتع بہت ہی آسان ہے کہ عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لے اور عمرہ مکمل ہونے کے بعد احرام کھول کر حلال ہو جائے یعنی احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائے اور 8؍ ذی الحجہ کو حج کی نیت سے مکہ ہی میں دوبارہ احرام باندھ لے، عمرہ اور حج کے درمیان جو فائدہ اٹھاتے ہیں اسے تمتع کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس حج کا نام حج تمتع قرار پایا اور اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ” میں قربانی کے جانور ساتھ لایا ہوں اس لیے قران کر رہا ہوں ، ورنہ تمتع کرتا۔ ‘‘ (مسلم)

اس طرح حدیث قولی ( آپ ﷺ کا ارشاد فرمانا ) ، حدیث فعلی ( آپ ﷺ کے عمل ) سے افضل ہے، اس لیے بعض لوگ حج تمتع کو حج افراد و قران سے افضل قرار دیتے ہیں۔ (مسلم)

اور حق بات یہ ہے کہ برطانیہ اور یورپ اور دور دراز ممالک سے جانے والے حاجیوں کے لیے یہ آسان بھی ہے اور چونکہ عمرہ بھی اس میں شامل ہے اس لیے ہم خر مادھم ثواب والا معاملہ ہے۔

چونکہ حج تمتع میں پہلے عمرہ کرنا پڑتا ہے اس لیے ہم عمرہ کا مختصر طریقہ بیان کر دیتے ہیں۔ حج تمتع میں میقات (احرام باندھنے کی جگہ) سے صرف عمرہ کی نیت سے لبیک عمرة (عمرہ کے لیے حاضر ہوا ہوں) کہہ کر احرام باندھا جائے گا۔

واضح ہو کہ عمرہ اور حج کی نیت کے الفاظ احادیث میں وارد ہیں، چنانچہ دل میں ارادہ کے ساتھ ان الفاظ کی ادائیگی ضروری ہے، البتہ ان کے علاوہ دیگر عبادات میں صرف دل سے نیت کافی ہے، الفاظ کی ادائیگی کی چنداں ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک طرح کی بدعت شمار ہوگی۔

احرام مردوں کے لیے بغیر سلی ہوئی دو چادریں ہوں، ایک تہہ بند کی طرح باندھ لیں اور دوسری اوڑھ لیں۔ ( بخاری )

مردوں کے احرام میں کوئی سلا ہوا کپڑا ان کے جسم پر نہ ہو اور سر ننگا ہو اور خواتین اپنے معمول کے کپڑوں کے کپڑوں میں احرام باندھیں البتہ سر کے بال ڈھکے رہیں۔ ظاہر نہ ہونے دیں اور چہرہ کھلا رکھیں، ہاں مردوں کا سامنا ہوتو چادر لٹکا ئیں۔

اس کے بعد تلبیہ کہیں تلبیہ یہ ہے : لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك و الملك ، لاشريك لك ”اے اللہ ! میں تیری عبادت کے لیے حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں، بے شک ساری تعریف اور ساری نعمت تیرے ہی لیے ہے اور بادشاہت بھی صرف تیرے لیے ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)

اس کے بعد دعا مانگنا مسنون ہے۔

آپ ﷺ نے یہ دعا مانگی ہے: اللهم انى اسئلك برضاك الجنة واعوذ برحمتك من النار ”اے اللہ، میں تیری رضامندی کے ساتھ جنت مانگتا ہوں، اور تیری رحمت کے ساتھ دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ (بیہقی)

احرام کی حالت میں بال کاٹنا ، ناخن تراشنا، سلے ہوئے کپڑے پہننا، نکاح کا پیغام بھیجنا، نکاح کرنا یا کسی کا نکاح کرانا، خوشبو لگانا، خشکی کے جانور کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں کسی کا تعاون کرنا ، گالی گلوچ ، لڑائی جھگڑا اور برائیوں کا ارتکاب کرنا، یہ سب کام منع ہیں۔ (فقہ السنہ)

حالت احرام میں مذکورہ ممنوعات میں سے کوئی چیز سرزد ہو جائے تو کفارہ کے طور پر اس کا فدیہ دینا ہوگا، فدیہ یہ ہے: 30 دن روزے رکھنا یا 6 مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ایک بکری ذبح کرنا ، سوائے جماع ( بیوی سے ہم بستری) کے کہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ (صحیح بخاری)

اگر عمرہ کی حالت میں جماع کا ارتکاب ہو تو عمرہ باطل ہو جائے گا، تو بہ و استغفار کے بعد ان دونوں کو دوسرا عمرہ کرنا ہوگا اور اگر حج کے احرام میں یہ فعل سرزد ہو گیا ہو تو ان کا حج باطل ہو جائے گا اور فدیہ کے طور پر ایک اونٹ کی قربانی کرنی چاہیے اور توبہ واستغفار کے بعد ان دونوں کو آئندہ حج کرنا پڑے گا۔

کعبۃ اللہ میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھنا مسنون ہے: أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ اَللهم صَلِّ عَلَى مُحَمد و آله وسلم اللهم اغْفِرْلِيْ ذُنُوْبِيْ وَافْتَحْ لِىْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

’’ پناہ مانگتا ہوں میں اللہ عظیم سے اور اس کے کریم چہرہ سے، اس کی قدیم سلطنت کے ذریعے شیطان مردود سے، اللہ کے نام سے اے اللہ محمد ﷺ اور ان کی آل پر رحمت بھیج ، اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘ (فقہ السنۃ)

عمرہ کی ابتداء کعبۃ اللہ کے طواف سے ہوتی ہے اور اس طواف کو طواف قدوم کہتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ مرد احرام کی چادر کو دائیں بغل سے نکال کربائیں مونڈھے پر ڈال دے، اس طرح کہ اپنا دایاں شانہ کھلا رکھیں ، اس کو اضطباع کہا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد)

حجر اسود کے پاس آکر اس کو بوسہ دیں یا ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو بوسہ دیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو ہاتھ یا عصا سے اس کی طرف اشارہ کر کے بسم اللہ اللہ أکبر کہہ کر طواف شروع کریں ، طواف کے پہلے تین چکروں میں ذرا تیزی سے دوڑیں اور مونڈھوں کو حرکت دیں، اس کو رَمل کہا جاتا ہے۔ رکن یمانی سے حجر اسود تک یہ دعا پڑھیں:

ربنا اتنا فى الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار

”اے ہمارے رب ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے محفوظ رکھ ۔‘‘ (سنن ابوداؤد)

حجر اسود تک پہنچنے پر اس کا چکر پورا ہوگا ، اسی طرح دوسرا چکر حجر اسود سے شروع کریں، جب تیسرے چکر سے فارغ ہوں تو مرد حضرات اپنی چادر کو دائیں بغل سے نکال کر مونڈھے پر ڈال لیں اور طواف کے بقیہ چار چکر نارمل طریقے سے پورے کریں، یعنی ان میں تیز نہ چلیں ، بعض حضرات عمرہ یا حج کے احرام باندھنے کے وقت سے عمرہ يا حج سے فارغ ہونے تک اپنا احرام دائیں بغل سے نکال کر ہا ئیں کندھے پر ڈال لیتے ہیں اور اپنا دایاں کندھا ننگار کھتے ہیں جو بالکل ہی کریہہ منظر پیش کرتا ہے ، اور اس طرح سات چکر پورے کرنے کے بعد حجر اسود کا بوسہ لینا ممکن ہو تو بوسہ لیں ورنہ صرف اشارہ کر دیں ، اس طرح ایک طواف مکمل ہو گیا ہے، اس کےبعد مقام ابراہیم کے پاس یا جہاں جگہ مل جائے طواف کی 2 رکعت نماز ادا کریں، پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قل يأیها الکافرون اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قل هو الله أحد تلاوت کریں۔ ( صحیح بخاری)

اس کے بعد یہاں دعا مانگیں، یہ قبولیت دعا کا مقام ہے۔ طواف کے بعد آب زمزم پینا اور سر پر بہانا مسنون ہے۔ (مسند احمد )

پہلے اس کے لیے زمزم کے کنویں کے قریب جانا پڑتا تھا، مگر اب سارے حرم میں جگہ جگہ ہر منزل میں ہزاروں نل نصب ہیں جہاں ہر وقت بآسانی آب زمزم دستیاب ہے۔ جس نیت سے اس پانی کو پئیں گے اس کا فائدہ ہوگا۔ (مسند احمد )

کفن کو آب زمزم سے دھو نا شریعت سے ثابت نہیں۔ اس کے بعد سعی کرنی چاہیے، تیز چلنے کوسعی کہتے ہیں، اس کا طریقہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں باب الصفا سے آگے بڑھیں تو وہاں دو چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں جنہیں صفا اور مروہ کہا جاتا ہے۔ پہلے صفا پہاڑی پر آئیں اور خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر تین بار بلند آواز سے اللہ اکبر کہیں اور تین بار یہ دعا پڑھیں۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ هُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَ نَصَرَ عَبْدَهُ وَ هَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ (صحیح مسلم )

اور مروہ کی پہاڑی کی طرف چلیں، جب سبز رنگ کی لائٹ پر پہنچیں تو مرد حضرات اپنی رفتار میں اضافہ کر دیں، سبز رنگ کی دوسری لائٹ پر پہنچنے کے بعد رفتار نارمل کر دیں، جب مروہ پہاڑی پر پہنچیں تو ایک چکر مکمل ہوا۔ یہاں پہنچ کر وہی دعا پڑھیں جو صفا پر پڑھی تھی اور وہاں سے جب صفا پر آئیں تو دوسرا چکر ہو گا۔ اس طرح کل سات چکر مکمل کریں۔ یعنی صفا سے شروع کر کے مردہ پر ختم کریں۔ اس کے بعد اپنے سر کے بال کتروائیں یا منڈ وائیں۔ اب عمرہ مکمل ہو چکا ہے۔ اپنا احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیں ، آپ کا یہ حج حج تمتع ہے، اس لیے آپ پھر 8 ذی الحجہ کو مکہ میں اپنی رہائش گاہ پر غسل اور وضو کر کے حج کی نیت سے لبیک حجۃ (حج کے لیے لبیک کہہ رہا ہوں؍ کہہ رہی ہوں) کہہ کر احرام باندھیں اور 2 رکعت نماز ادا کریں، اگر حج قران اور افراد سے ہوں تو آپ کا احرام باقی رہے گا۔ لہٰذا اسی احرام سے حج مکمل کریں گے۔ ( اس دوران آپ چاہیں تو غسل کر سکتے ہیں، احرام دھو سکتے ہیں اور احرام کی چادریں بدل سکتے ہیں) اب لبیک پکارتے ہوئے منیٰ کو روانہ ہوں، منیٰ پہنچنے کے بعد ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور دوسرے دن ذی الحجہ کی فجر، یہ پانچ نمازیں وہاں ادا کریں۔ (صحیح مسلم)

9 ذی الحجہ کو میدان عرفات پہنچنے کے بعد امام حج کا خطبہ سنیں اور ظہر و عصر کی دو نمازیں باجماعت جمع تقدیم اور قصر کے ساتھ ظہر کے وقت ادا کی جائیں گی اس کے بعد جبل الرحمہ اس کے آس پاس حسب سہولت اپنے اپنے خیموں میں ذکر و اذکار اور دعاؤں میں مشغول رہیں۔ غروب آفتاب کے بعد عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں ، وہاں پہنچ کر عشاء کے وقت مغرب اور عشاء کی نماز جمع تاخیر اور قصر کے ساتھ ادا کریں، وتر ادا کرنے کے بعد رات وہاں آرام کریں ، ان نمازوں کے پہلے یا بعد کوئی سنت اور نفل نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ اس رات آرام کرنا مسنون ہے، بعض لوگ اس کو لیلتہ القدر کی طرح جاگ کر گزارتے ہیں جو سنت کے خلاف ہے۔ ( تعلیم الاسلام تالیف مولانا مختار احمد ندوی، الدار السلفیہ ممبئی)

10ذی الحجہ کو اول وقت نماز فجر ادا کرنے کے بعد یہاں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں جنہیں مشعر الحرام کہا جاتا ہے۔ ان پر دیر تک دعائیں مانگیں، یہ قبولیت دعا کا مقام ہے۔ طلوع آفتاب کے بعد یہاں سے منیٰ روانہ ہوں ،منی جاتے ہوئے 70 کنکریاں چن لیں، کنکریاں درمیانی سائز کی یعنی چنے کے برابر ہوں اور زوال کے بعد جمرہ کبری (بڑے شیطان) کو سات کنکریاں ماریں، کنکریاں مارتے وقت اللہ اکبر کہیں، ایک ایک کنکری اللہ اکبر کہتے ہوئے ماریں، کمزور بیمار و ضعیف خواتین اور بچے ہوں تو ان کی طرف سے کنکریاں دوسرے مار سکتے ہیں، اس کے بعد حج تمتع اور قران والے اپنی قربانی ذبح کریں، حج افراد کرنے والوں پر قربانی نہیں ہے۔ آج کل سعودی حکومت کی طرف سے قربانی کی جاتی ہے اور وہ گوشت دنیا بھر کے غریب مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس لیے ان کے ذریعہ سے قربانی کرانا بھی مفید ہے تا کہ گوشت ضائع نہ ہو اور غریبوں کے کام آئے ، اس کے بعد سر کے بال پورے منڈوا دیں یا پورے کتر وا دیں اور اپنا احرام کھول کر سلے ہوئے کپڑے پہن لیں اور ممکن ہو تو آج ہی خانہ کعبہ جا کر طواف زیارت اور صفا و مروہ کی سعی کریں۔ اگر آج ممکن نہ ہو تو دوسرے یا تیسرےدن بھی طواف زیارت اور سعی کر سکتے ہیں۔ 10 ذی الحجہ سے 13؍ ذی الحجہ تک منیٰ میں قیام کرنا افضل ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا تھا مگر 12؍ ذی الحجہ کو چاہیں تو رخصت ہو سکتے ہیں، اسی رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریباً سارے معلمین و مطوفین سارے حجاج کو وہاں سے نکال کر اپنا کام ہلکا کر لیتے ہیں جتنے دن بھی وہاں قیام ہو پانچوں نمازیں مسجد خیف میں یا اپنے اپنے خیموں میں باجماعت ادا کرتے رہیں، 11؍ ذی الحجہ کو زوال سے پہلے تینوں جمرات (شیطانوں) کو سات سات کنکریاں ماریں، پہلے چھوٹے شیطان کو ، پھر درمیانی اور بڑے کو، اسی طرح 12 اور 13 ذی الحجہ کو تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماریں، اگر 13 ذی الحجہ کو منی میں ٹھہریں تو کنکریاں ماریں، اگر 12 ذی الحجہ کو منیٰ سے رخصت ہو جائیں تو 13 ذی الحجہ والی کنکریاں 12 ذی الحجہ کو ڈبل نہ ماریں یعنی اگر 12 کو رخصت ہوں تو 49 کنکریاں ہوں گی اور 13 تاریخ کو رخصت ہوں تو 70ہے۔

کنکریاں مزدلفہ سے لینا ضروری نہیں ہے ۔ منیٰ سے بھی لے سکتے ہیں، کنکریوں کو دھونا بھی فعل عبث ہے۔

حج سے فارغ ہو کر حاجی جب سفر کا ارادہ کرے تو اسے طواف وداع (رخصتی کا طواف ) کرنا چاہیے۔ (مسلم) نا بالغ بچے حج کر سکتے ہیں، اگر بالکل عقل و تمیز سے عاری ہوں تو ان کے ولی (والدین یا ذمہ داروں) کو حج کے تمام ارکان ادا کرنے ہوں گے، ان کاثواب ان کے والدین کو بھی ملے گا اور بچوں پر سے فرض حج ساقط نہیں ہوگا بلکہ بالغ ہونے کے بعد بشرط استطاعت انہیں یہ فرض حج ادا کرنا ہوگا۔ (مسلم) عورتیں مردوں کی طرف سے اور مرد عورتوں کی طرف سے حج بدل کر سکتے ہیں، معذور ، ضعیف یا بیمار لوگوں کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ حج بدل کرنے والے خود اپنا حج کر چکے ہوں۔ (مسلم)

کسی نے عمرہ یا حج کی نذر مانی ہو اور زندگی میں وہ نذر پوری نہ کر سکا ہو تو میت کے ورثاء رشتہ دار اس نذر کو پوری کریں، اگر اس کے لیے میت کے ترکہ سے بھی اس کے اخراجات نکالنے پڑیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ (بخاری و مسلم)

اسی طرح اگر کسی نے استطاعت کے باوجود زندگی میں حج نہ کیا ہو تو اس کی وفات کے بعد اس کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ اگر کسی خاتون کو عمرہ کے احرام باندھنے سے قبل حیض شروع ہو جائے تو ایسی خاتون غسل کر کے عمرہ اور حج کے ارکان ادا کرے، سوائے کعبۃ اللہ کے طواف اور نماز کے ، جب وہ حیض سے فارغ ہو تو ایک طواف اور سعی کر لے۔ یہ طواف وسعی عمرہ اور حج کے لیے کافی ہو جائیں گے ۔ اور اگر درمیان عمرہ یا حج حیض شروع ہو تو بھی اسی طرح کریں۔ یعنی طواف وسعی اور نمازیں ترک کر دیں۔ بقیہ حج کے سارے مناسک ادا کریں اور پاک ہونے کے بعد طواف وسعی کرلیں۔ مدینہ منورہ کا سفر اور مسجد نبوی کی زیارت حج کا رکن نہیں ہے مگر مسجد نبوی میں ایک نماز ادا کرنا ایک ہزار نمازوں کے برابر ثواب ہے۔ (مسند احمد )

اسی لیے وہاں کا سفر اور مسجد نبوی کی زیارت اور روضۃ الرسول ﷺ پر صلوٰۃ وسلام پڑھنا چاہیے۔ خصوصاً جنہیں مکہ مدینہ سعودی عرب یا قرب وجوار کے علاقوں کے علاوہ دنیا کے دور دراز کے ملکوں سے زندگی میں ایک بار یا کبھی کبھار آنے کا موقع ملتا ہے ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ مدینہ منورہ کا سفر کریں اور مسجد نبوی کی زیارت کر لیں۔ کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسجد الحرام (خانہ کعبہ ) مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ بیت المقدس) ان تینوں مساجد کے لیے ثواب کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور مسجد یا مقام کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں