فہم توحید (قسط2)۔ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں

دلیل

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ (سورۃ آل عمران: 18)

’’اللّٰہ تعالیٰ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور ( یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے۔ وہ انصاف پر قائم ہے؛ اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔‘‘

نیز خدا وندِ عالم کا فرمان ہے:

﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (سورۃ محمد: 19)

’’پس اے نبی ﷺ !خوب جان لو کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔‘‘

‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ کا مفہوم

‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ کے معنی ہیں:

لَا مَعْبُوْدَ بِحَقًّ اِلَّا اللّٰہ

یعنی: ’’اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘

چند باطل معانی

‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ کے کچھ ایسے مفاہیم بھی بیان کیے جاتے ہیں جو قطعی طور پر باطل ہیں، مثلاً:

1۔لَا مَعْبُوْدَ اِلَّا اللّٰہ، یعنی اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔

لیکن یہ درست نہیں ہے کیوں کہ اس کا مفہوم یہ نکلے گا کہ ہر معبود اللّٰہ ہے، خواہ وہ معبودِ بر حق ہو یا معبودِ باطل ۔

2۔لَاخَالِقَ اِلَّا اللّٰہ، یعنی خدا کے سوا کوئی خا لق نہیں۔

یہ اس کے مفہوم کا ایک جُز تو ہے لیکن اصل مقصود نہیں کیوں کہ اگر ‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ سے یہی مراد ہوتی تو رسول اکرم ﷺ کی قوم کے مابین جھگڑا کیوں ہوتا؟ اِس لیے کہ وہ لوگ بھی خدا کے خالق ہونے کے اقراری تھے۔

3۔لَا حَاکِمِیَّةَ اِلَّا اللّٰہ،یعنی حق حاکمیت خدا کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔

یہ بھی اس کے مطلب کا محض ایک حصہ ہے لیکن صرف اتنا تسلیم کر لینا توحید کے لیے کافی ہے اور نہ ہی حقیقی طور پر مطلوب ہے۔ اِس لیے کہ اگر خدا کو حاکمیت میں یکتا اور منفرد تو تسلیم کر لیا جائے لیکن پوجا و پرستش کسی اور کی جائے تو توحید ثابت نہ ہوگی۔

ارکانِ ‘لا الٰہ الا اللّٰہ’

1۔نفی(لَا اِلٰہ)

اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کے سوا ہر اُس شے کی عبادت کی نفی کر دی جا ئے جس کی پرستش کی جارہی ہے۔

2۔اِثبات(الا اللّٰہ)

یعنی عبادت کا اثبات صرف خداے واحد کے لیے کیا جائے جس کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔

دلیل

اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ﴾’’تو جس نے طاغوت کا انکار کیا۔‘‘یہ نفی ہے۔

﴿وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ﴾ ’’اور اللّٰہ پر ایما ن لایا‘‘، یہ اثبات ہے۔

﴿فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ﴾ (سورۃ البقرہ: 256)

’’اُس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا۔‘‘

نیز خدا وند قدوس نے فرمایا:

﴿‏ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ﴾(سورۃ الزخرف: 26)

’’اور (یاد کرو) جب کہ ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں ان چیزوں سے باکل بری ہوں جن کو تم پوجتے ہو۔‘‘ یہ نفی ہے۔

﴿إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي﴾’’میں صرف اُسی کو پوچتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا۔‘‘ یہ اِثبات ہے۔

﴿فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ﴾ (سورۃ الزحرف: 27)

’’بےشک وہی میری رہ نمائی فرمائے گا۔‘‘

انسان کو ‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ کہنا کب فائدہ دے گا؟

1۔جب وہ اس کے مفہوم و مراد سے باخبر ہو۔

2۔اِس کے تقاضے کے مطابق عمل پیرا ہو۔

اس کا تقاضا یہ ہے کہ اللّٰہ عزوجل کے علاوہ ہر ایک کی عبادت ترک کر دی جائے اور صرف اُسی کی بندگی کی جائے۔

 لا الٰہ الا اللّٰہ کے شرائط

اجمالی تذکرہ

‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ کہنے والے کو یہ کلمہ اس وقت تک کوئی فائدہ نہ دے گا، جب تک وہ اس کی شرائط کو پورا نہ کر دے۔

یہ شرطیں آٹھ ہیں:

1۔علم، جو کہ جہالت کے منافی ہے۔

2۔یقین، جو کہ شک کی ضد ہے۔

3۔اخلاص، جو کہ شرک کے منافی ہے۔

4۔صدق و سچائی، جو کہ جھوٹ اور کذب کی ضد ہے۔

5۔محبت، جو کہ بغض و نفرت کے برعکس ہے۔

6۔انقیاد و اطاعت ، جو کہ ترک یعنی اطاعت سے دست کش ہونے کے منافی ہے۔

7۔قبول، جو کہ رَد کرنے کی ضد ہے۔

8۔ہر اُس شے کا انکار، جس کے خدا کے سوا عبادت کی جارہی ہے۔

مذکورہ شرائط کے جامع اشعار

عِلْمٌ یَّقِیْنٌ وَّاِخْلَاصٌ وَّصِدْقُكَ مَعَ

مُحِبً وَّ انْقِیَاد وَّ القَبُوْلِ لَھَا

’’لا الٰہ الا اللّٰہ کے نافع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تم یہ کلمہ علم، یقین، اخلاص اور صدقِ دل سے کہو؛ نیز یہ بھی لازم ہے کہ اس کے ساتھ محبت و اطاعت اور اسے قبول کرنے کا جذبہ ہو۔‘‘

وَزِدْ ثَامِنُھَا الْکُفْرَانُ مِنْكَ بِمَا

سِوَی الْإِالَهِ مِنَ الْأَوْثَانِ قَدْ أُلِّھَا

’’پھر اس میں آٹھویں چیز کا بھی اضافہ کر لو کہ تم ہر اُس شے کا انکار کرو گے، جسے خدا کے سوابت بنا کر پوجا جا رہا ہے۔‘‘

شرائطِ بالا کی تفصیل

اب مندرجہ بالا شرطوں کا مفصل تذکرہ کیا جاتا ہے:

1۔علم منافیِ جہالت

معنی و مفہوم: اس سے مراد یہ ہے کہ نفی اور اثبات کے پہلو سے ‘ لا الٰہ الا اللّٰہ” کے مفہوم کا علم ہونا چاہیے۔

دلیل:اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ (سورۃ محمد: 19)

’’تو جان رکھو کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔‘‘

2۔یقین منافیِ شک

معنی و مفہوم: اس کا مطلب یہ ہے کہ ‘لا الٰہ الا اللّٰہ’ کہنے والے کو اس بات کا پختہ یقین ہو کہ صرف اللّٰہ عزوجل ہی معبود برحق ہے۔

دلیل: خدا وند عالم فرماتا ہے:

﴿ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ﴾

(سورۃ الحجرات: 15)

’’مومن تو بس وہی ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ اور اُس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہیں پڑے اور جنھوں نے اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللّٰہ کی راہ میں جہاد کیا؛ یہی لوگ سچے ہیں۔‘‘

3۔اخلاص منافیِ شرک

معنی ٰو مفہوم: اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت کی تمام قسمیں صرف خدا تعالیٰ کے لیے خالص کر دی جائیں اور کوئی عبادت بھی غیر اللّٰہ کے لیے بجا نہ لائی جائے۔

دلیل: اللّٰہ عزوجل کا فرمانِ عالی شان ہے:

﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾(سورۃ البینہ: 5)

’’اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لیے خالص کر کے، بالکل یک سُو ہو کر۔‘‘

4۔صدق منافیِ کذب

معنی و مفہوم: اس سے مراد یہ ہے کہ کلمۂ توحید کہنے والا اپنے اِس قول میں سچا ہو اور اس کے دل و زبان میں موافقت اور ہم آہنگی پائی جائے۔

دلیل: ارشادِ ربانی ہے:

﴿الم 0 أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ﴾ (سورۃ العنکبوت: 1۔2)

’’ا،ل،م؛ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ہم ایمان لائے، اور ان کو آزمایا نہ جائے گا، حالاں کہ ہم ان سب لوگوں کی آزمایش کر چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟!‘‘

5۔محبت منافیِ بغض

معنیٰ و مفہوم: اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ کلمہ کہنے والا اللّٰہ تعالیٰ اور جناب رسول اللّٰہ ﷺ سے محبت رکھتا ہو؛ نیز وہ اِس کلمے اور اس کے مراد و معنی کو بھی محبوب جانتا ہو۔

دلیل: اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ۗ﴾ (سورۃ البقرہ: 165)

’’اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا کے ہم سر ٹھہراتے ہیں جن سے وہ اسی طرح محبت کرتے ہیں جس طرح خدا سے محبت کرنی چاہیے؛ لیکن جو (خدا پر) ایمان رکھتے ہیں، وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔‘‘

6۔انقیاد منافیِ شرک

معنی و مفہوم: اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کی عبادت کی جائے؛ اُس کی شریعت کی پابندی کی جائے؛ اُس پر ایمان لایا جائے اور اس کے برحق ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔

دلیل: اللّٰہ عزوجل کا فرمانِ عالی شان ہے:

﴿وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ﴾ (سورۃ الزمر: 54)

’’اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اس کے مطیع بن جاؤ۔‘‘

7۔قبول منافیِ رد

معنی و مفہوم: اس کے معنی یہ ہیں کہ کلمۂ توحید اور اس کے معانی و مفاہیم کو قبول کیا جائے؛ یعنی عبادت کو باری تعالیٰ کے لیے خالص کر دیا جائے اور اس کے ماسوا ہر ایک کی عبادت ترک کر دی جائے۔

دلیل: ارشادِ خداوندی ہے:

﴿ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ 0‏ وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ﴾(سورۃ الصافات: 35۔36)

’’ان کا حال یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ خدا کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے ، تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے اور کہتے تھے: ’’کیا ہم ایک شاعر دیوانہ کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟‘‘

8۔ معبودانِ باطلہ کا انکار

یعنی ہر اُس ہستی کا انکار، جس کی خدا کے علاوہ عباد ت کی جاتی ہے۔

معنیٰ و مفہوم: اس سے مراد یہ ہے کہ غیر اللّٰہ کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کیا جائے اور اس کے باطل ہونے کا عقیدہ رکھا جائے۔

دلیل: اللّٰہ رب العزت فرماتا ہے:

﴿فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ﴾ (سورۃ البقرہ: 256)

’’جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللّٰہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا۔‘‘

محمد ﷺ اللّٰہ کے رسول ہیں

اقرارِ توحید کے بعد رسالتِ محمدی کی شہادت بھی ضروری ہے۔

دلیلِ رسالت

اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾ (سورۃ البقرۃ: 128)

’’دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے؛ تمھارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے؛ تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے اور ایمان والوں کے لیے وہ رحیم اور شفیق ہے۔‘‘

نیز خدا وند قدوس نے فرمایا:

﴿وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ﴾ (سورةالمنافقون: 1)

’’اور اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم بے شک اُس کے رسول ہو۔‘‘

شہادتِ رسالت کا مفہوم

رسالت کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے اقرار کرتے ہوئے تہِ دل سے اِس امر کی قطعی و یقینی تصدیق کی جائے کہ محمد ﷺ خدا کے بندے ہیں اور اس کی جانب سے تمام انسانوں اور جنوں کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

ارکان

رسالتِ محمدی کی شہادت کے دور کن ہیں:

1۔اعترافِ رسالت

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے رسول ہونے کا اقرار کیا جائے۔ اس کی دلیل اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

﴿مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ﴾(سورة الفتح: 29)

“محمد ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔”

2۔اثباتِ عبودیت

یعنی آپ ﷺ کو خدا کا عبد( بندہ) تسلیم کیا جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے اعلیٰ و اشرف مقامات کا تذکرہ کرتے ہوئے نبی مکرم ﷺ کو عبودیت کے لقب سے نوازا ہے۔ انھی میں سے ایک مقام وہ ہے جہاں آپ ﷺ کے اپنے رب کو پکارنے کا ذکر ہے۔ اللّٰہ رب العزت فرماتا ہے:

﴿وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا ﴾(سورة الجن: 19)

’’اور یہ کہ جب اللّٰہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہو ا تو لوگ اُس پے ٹوٹ پڑنے کو تیار ہوگئے۔‘‘

پس آپ ﷺ رسول ہیں جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا؛ اور خدا کے عبد ہیں جن کی پرستش نہیں کی جا سکتی ۔

شہادتِ رسالت کےشرائط اور تقاضے

حضرت رسول اللّٰہ ﷺ کی رسالت کی گواہی کے تقاضے اور شرطیں چار ہیں:

1۔آپ ﷺ نے جو خبر دی ہے، اس میں آپ ﷺ کی تصدیق کی جائے۔

2۔آپ ﷺ کے حکم کی اطاعت کی جائے۔

3۔ جن امور سے آپ ﷺ نے منع فرمایا اور سختی سے روکا ہے، اُن سے اجتناب کیا جائے۔

4۔ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت صرف آپ ﷺ ہی کے مقرر کردہ طریقے پر کی جائے؛ یعنی عبادتِ رب میں شریعتِ محمد ﷺ کی پابندی کی جائے۔

٭٭٭

جمعہ کے دن ذکر اور دعا

امام نووی رحمہ اللّٰہ کا قول ہے کہ

’’جان لیجیے کہ جو اذکار عام دنوں میں کیے جاتے ہیں، وہ جمعہ کے دن بھی کیے جائیں گے. اس دن میں دیگر ایام کی نسبت کثرت ذکر زیادہ مستحب ہے. جمعہ کے روز رسول اللّٰہ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے. اسی طرح جمعہ کے پورے دن میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک زیادہ سے زیادہ دعا کرنا چاہیے کہ قبولیت کی گھڑی نصیب ہو سکے۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں