فہم توحید (قسط2)۔ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

شرک کی تعریف اور اقسام

تعریفِ شرک

لغوی طور پر اس کے معنی ہیں:

الإشراك والمقارنة

یعنی کسی کی شریک ٹھیرانااور ایک شے کو دوسری سے ملانا۔

شرعی اعتبار سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اُن امور میں غیر اللّٰہ کو اللّٰہ کے برابر قرار دیا جائے جو صرف خداہی کے ساتھ خاص ہیں۔

اقسامِ شرک

اِس کی دو قسمیں ہیں:

1۔شرک اکبر

اِس سے مراد ہر وہ شرک ہے جسے شارع نے مطلق رکھا ہے۔ اس کے ارتکاب سے انسان دین کے دائرے سے نکل جاتا ہے۔

2۔ شرک اصغر

ہر وہ قول یا فعل جس پر کفر یا شرک کا اطلاق شرعاً ثابت ہو اور شرعی دلائل سے یہ معلوم ہو کہ اس کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔

شرک اکبر اور شرک اصغر میں فرق

ذیل کے نقشے سے ان دونو میں فرق سمجھا جا سکتا ہے:

شرک اکبر

1۔یہ انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج کر دیتا ہے۔

2۔اس کا ارتکاب کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

3۔یہ انسان کے تمام اعمال کو ضائع و برباد کر دیتا ہے۔

4۔اس سے خون اور مال مباح ہو جاتا ہے۔

شرک اصغر

1۔یہ دائر ۂ اسلام سے خارج نہیں کرتا۔

2۔ اس کا مرتکب اگر جہنم میں داخل ہوا، تو دائمی طور پر اس میں نہ رہے گا۔

3۔اس سے تمام اعمال ضائع نہیں ہوتے بل کہ ریاکاری (شرکِ اصغر) صرف اسی عمل کو برباد کرتی ہے جس میں یہ موجود ہو۔

4۔ یہ شرک جان و مال کو مباح نہیں کرتا۔

شرکِ اکبر کے اقسام

اس کی چار قسمیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

1۔ دعا اور پکار کا شرک

اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ﴾ (سورۃ العنکبوت 29: 65)

’’پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللّٰہ کو پکارتے ہیں، اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے؛ پس جب ان کو خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو پھر وہ اس کے شریک ٹھیرانے لگتے ہیں۔‘‘

2۔ قصد وارادہ اور نیت کا شرک

اس کی دلیل یہ فرمانِ الہٰی ہے:

﴿ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ 0‏ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورۃ ہود: 15۔16)

’’اور جو دنیا کی زندگی اور اس کے سر و سامان کے طالب ہوتے ہیں، ہم اُن کے اعمال کا بدلہ یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں، جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ بھی نہیں اور جو کچھ انھوں نے اس میں کیا کرایا ہے ، سب ملیا میٹ ہو جائے گا اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘

3۔ اطاعت کا شرک

قرآن شریف کی یہ آیت اس کی دلیل ہے:

﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾(سورۃ التوبۃ: 31)

’’انھوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی، حالا ں کہ ان کو ایک معبود کے سواکسی کی بندگی کا حکم نہیں دیا گیا تھا؛ وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں،پاک ہے وہ اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔‘‘

اس آیت مبارکہ کی تفسیریہ ہے، جس میں کوئی الجھاؤ اور پیچیدگی نہیں، کہ معصیتِ خداوندی میں علما و مشایخ کی اطاعت کی جائے۔ یہاں انھیں پکارنا مراد نہیں ہے۔

چنانچہ سیدنا عدی بن حاتم کے استفسار پر نبی کریم ﷺ نے بھی یہی تشریح فرمائی تھی۔

سیدنا عدی نے عرض کیا تھا کہ ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے؛آ نحضرت ﷺ نے واضح کیا کہ اللّٰہ کی نا فرمانی میں عالموں اور دریشوں کی پیروی ہی درحقیقت اُن کی عبادت ہے۔ (جامع الترمذی، ابواب التفیسر، باب و من تفسیر سورۃ التوبۃ، حدیث 3095)

4۔محبت کاشرک

اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ﴾(سورۃ البقرہ: 165)

’’اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو دوسروں کو بھی اللّٰہ کا شریک بناتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے برابراُن سے محبت کرتے ہیں۔‘‘

شرک اکبر اور شرک اصغر کی مثالیں

شرک اکبر کی مثالیں

شرک اکبر کی دو صورتیں ہیں؛ ان دونو کی الگ الگ مثالیں درج ذیل ہیں:

الف۔ شرک اکبر جلی

غیر اللّٰہ کے لیے ذبح کرنا؛ خدا کے سوا کسی اور کی خاطر نذر ماننا؛ اللّٰہ کے علاوہ کسی اور ہستی سے فریاد رسی چاہنا یا اُسے مدد کے لیے پکارنا۔

ب۔ شرک اکبر خفی

منافقین کا شرک اور ریاکاری؛ اِسی طرح تکلیف ومصیبت کا خوف رکھنا، یعنی اُن امور میں غیر اللّٰہ کا ڈر اور خوف کھانا جن پر سواے خدا کے اور کوئی قدرت نہیں رکھتا۔

شرک اصغر کی مثالیں

اس کی بھی دو قسمیں ہیں:

ا۔ شرک اصغر جلی

غیر اللّٰہ کی قسم کھانا؛ یہ کہنا کہ جو خدا چاہے اور تم چاہو؛ یا یہ کہنا کہ اگر اللّٰہ تعالیٰ اور فلاں نہ ہوتا (تو یوں ہو جاتا)۔

ب۔ شرک اصغر خفی

معمولی ریاکاری؛ بد شگونی لینا یا کسی شے کی نحوست کا اعتقاد رکھنا۔

شرک سے بچنے کی ایک نافع دعا

سیدنا ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللّٰہﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:

أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ، فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ

’’اے لوگو! شرک سے بچو کیو ں کہ یہ چیونٹی کے چلنے کی آواز سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔‘‘

کسی نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ ﷺ! ہم اِس سے کیسے بچ سکتے ہیں، جب کہ یہ چیونٹی کے رینگنے کی آواز سے بھی زیادہ مخفی ہے؟

آپﷺ نے فرمایا کہ تم یوں کہا کرو:

اَللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُ

’’یا اللّٰہ! ہم اِس بات سے تیری پناہ میں آتے ہیں کہ ہم جانتے بو جھتے کسی کو تیرا شریک ٹھہرائیں اور لا علمی میں ہونے والی خطاؤں کی تجھ سے بخشش چاہتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل: 4؍401،محدث البانی﷫ نے اسے حسن قرار دیا ہے۔)

شرک کی تاریخ

بنی آدم کا اصل عقیدہ توحید تھا اور شرک بعد میں مروج ہوا، جیسا کہ ترجمان القرآن سیدنا عبداللّٰہ بن عباس کا قول ہے:

“کَانَ بَیْنَ آدَمَ وَ نُوْح عَشْرَةَ قُرُوْن کُلُّھُمْ عَلَی التَّوْحِیْدِ.”

’’سیدنا آدم اور سیدنا نوح کے مابین دس صدیوں کا زمانہ تھا اور اس سارے عرصے میں لوگ عقیدۂ توحید ہی پر قائم تھے۔‘‘

رُوے زمین پر سب سے پہلا شرک

شرک سب سے پہلے سیدنا نوح کی قوم میں ظہور پذیر ہوا، جب انھوں نے نیک اور صالح لوگوں کے بارے میں غلو کرنا شروع کر دیا اور ان کی تصویریں بنانے لگے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے ساتھ اُن کی بھی عبادت کرنے لگے؛ چناں چہ اللّٰہ تعالیٰ نے سیدنا نوح کو اِن کی طرف رسول بنا کر بھیجا جو اِنھیں توحید کی طرف بلاتے تھے۔

قومِ موسیٰ میں شرک کا ظہور

ان لوگوں میں شرک کا آغاز اس وقت ہوا جب انھوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی۔

نصاریٰ میں شرک کی ابتدا

عیسائیوں میں شرک کا عقیدہ سیدنا عیسیٰ کے آسمان پر آٹھائے جانے کے بعد پیدا ہوا۔ یہ پولس کی کارستانی تھی،جس نے دھوکے اور فریب سے کام لیتے ہوئے ، سیدنا مسیح ؑ پر ایمان لانے کا دعویٰ کیا اور نصاریٰ کے مذہب میں تثلیت،صلیب کی پوجا اور دیگر شرکیہ خرافات کی آمیزش کر دی۔

سر زمین عرب میں شرک کی آمد

یہاں شرک کی آمد عمرو بن لُحی الخزاعی کے ہاتھوں ہوئی جس نے حضرت ابراہیمؑ کے دین کا حلیہ بگاڑ دیا۔ یہ ارضِ حجاز میں بت لے کر آیا اور لوگوں کو ان کی عبادت کا حکم دیا۔

امت محمد ﷺ میں شرک کا آغاز

مسلمانوں میں شرک کی ابتدا چوتھی صدی ہجری کے بعد فاطمیوں نے کی، جب انھوں نے قبروں پر مشاہد(اجتماع گاہوں) کی تعمیر شروع کی؛ اسلام میں مختلف لوگوں کے میلاد منانے کی بدعت ایجاد کر لی اور صالحین کے باب میں غلو اور مبالغہ آمیزی سے کام لینے لگے۔

اسی طرح راہِ صواب سے ہٹا ہوا تصوف بھی امت میں شرک کا ایک اہم سبب ہے جس کی عمارت مختلف سلسلوں کے مشایخ اور بزرگوں کے باب میں غلو پر اساس پذیر ہے۔

تبصرہ کریں