فہم توحید (قسط1)-ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام

توحید کی تعریف

لغوی تعریف

ازروے لغت’توحید’ وَحد یُو حِد'(باب تفعیل) سے مصدر ہے ۔ تَوَحُدُ الشَیءِ کے معنی ہیں: کسی چیز کو ایک بنانا، یکتا قرار دینا اور یک جا کرنا۔

مثال

جب آپ کہتے ہیں کہ گھر سے سواے محمد کےا ور کوئی نہیں نکلا تو آپ گھر سے نکلنے کے بارے میں محمد کو اکیلا اور یکتا قرار دیتے ہیں؛ یعنی صرف وہی نکلا اور کوئی نہیں۔

اسی طرح جب آپ یہ کہیں کہ مجلس سے کوئی کھڑانہ ہو ا سواے خالد کے، تو اس صورت میں آپ نے مجلس سے اٹھنے اور کھڑا ہونے میں خالد کو تنہا اور منفرد قرار دیا۔

شرعی تعریف

اصطلاح ِ شریعت میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کو درج ذیل امور میں منفرد اور یکتا ماننا توحید کہلاتا ہے:

1۔ربوبیت 2۔الوہیت اور3۔اسما و صفات

توحید کے اقسام

توحید تین قسموں میں منقسم ہے:

1۔توحید ربوبیت 2۔ توحید الوہیت

3۔توحید اسما و صفات

اب ان میں سے ہر قسم کی تعریف مع دلیل پیش خدمت ہے:

توحید کی نوع

توحید ربو بیت کی تعریف

اللّٰہ عزوجل کی تخلیق، مُلک(بادشاہت) اور تدبیر میں منفرد اور یکتا ماننا؛ یا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کو اس کے افعال میں منفرد اور یکتا تسلیم کرنا۔ ) اللّٰہ تعالیٰ کے افعال کی مثالیں: پیدا کرنا، رزق دینا، زندہ کرنا، موت دینا، بارش برسانا، سبزہ اور شجر اُگانا وغیرہ۔

دلیل

﴿وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ﴾ (سورم الاعراف 7: 54)

’’آگاہ رہو،خلق اور اَمراُسی کے لیے خاص ہے۔‘‘

﴿وَإِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ﴾ (سورۃ النور: 42)

’’آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللّٰہ ہی کے لیے ہے۔ ‘‘

﴿قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ یونس: 31)

’’اِن سے پوچھو: کون تم کو آسمان اور زمین میں رزق دیتا ہے؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؛ کون بے جان میں سے جا ن دار اور جان دار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اس نظمِ عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللّٰہ! کہو: پھر تم ( حقیقت کے خلاف چلنے سے) پر ہیز نہیں کرتے؟‘‘

توحیدِ الوہیت (اسے توحید ِعبادت بھی کہا جاتا ہے۔)

بندے کے تمام افعالِ عبادت کو اللّٰہ تعالیٰ کے لیے خاص کیا جائے؛ مثلاً: نماز، روزہ، حج، توکل، نذر، خوف، امید اور محبت وغیرہ۔

دلیل

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾ (سورۃ الذاریات: 56)

’’ اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری بندگی کریں۔ ‘‘

﴿وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا﴾

’’ اور اللّٰہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ ‘‘(سورۃ النساء: 36)

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾ (سورۃ الا نبیاء: 25)

’’ ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا، اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔ ‘‘

توحید اسماو صفات

اس سے مرا د یہ ہے کہ اللّٰہ رب العزت کو ان تمام صفاتِ کمال اور اوصافِ جلال سے متصف مانا جائے جو خود اُس نے یا اُس کے رسول ﷺ نے اُس کے لیے بیان فرمائے ہیں اور اِس باب میں کسی قسم کی تکییف و تمثیل اور تحریف و تعطیل سے کام نہ لیا جائے۔

(تکییف یہ ہے کہ صفاتِ الٰہیہ کی کیفیت بیان کی جائے، مثلاً یہ کہ وہ عرش پر کس طرح مستوی ہے۔ تمثیل سے مراد یہ ہے کہ صفاتِ باری تعالیٰ کو مخلوق کے صفات کے مثل قرار دیا جائے۔ تحریفکا مطلب یہ ہے کہ خداے تعالیٰ کے صفات کا مفہوم بدل دیا جائے؛ مثلاً غضبِ الہٰی کے معنی ارادہ انتقام کے لیے جائیں۔ تعطیل صفاتِ خداوندی کے انکار کو کہتے ہیں؛ یعنی اللّٰہ عزوجل کو صفات سے عاری قرار دینا۔ (مترجم) ‘‘

دلیل

﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (سورۃ الشوریٰ: 11)

’’ اُس کی مانند کوئی شے بھی نہیں، اور وہی سننے اور دیکھنے والا ہے۔ ‘‘

﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورۃ الا عراف:180)

’’ اللّٰہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اُس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو؛ اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اُس کی صفات کے باب میں کج روی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، عن قریب اس کا بدلہ پائیں گے۔”

چند اہم فوائد

1۔توحید کی مذکورہ بالا تینوں قسمیں باہم لازم و ملزوم ہیں، کوئی قسم بھی دوسری سے الگ اور جدا نہیں ہو سکتی؛ لہٰذا جو شخص توحید کی کسی ایک قسم کو مانتا ہے اور کسی ایک کا بھی انکار کر دیتا ہے، اُسے موحد قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

2۔آپ کو جاننا چاہیے کہ جن کفار سے رسول معظم ﷺ نے جنگ کی، وہ توحید ربوبیت کے اقراری تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہی خالق و رازق ہے؛ زندگی اور موت اُسی کے ہاتھ میں ہے؛ وہی نفع و نقصان کا مالک ہے اور وہی تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے؛ لیکن ان کے باوجود اُنھیں مسلمان قرار نہیں دیا گیا۔ اس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَنْ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴾ (سورۃ یونس: 31)

’’اِن سے پوچھو کون تم کو آسمان اور زمین میں رزق دیتا ہے؟یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؛ کون بے جان میں سے جان دار اور جان دار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اس نظم عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللّٰہ؛ کہو پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پر ہیز نہیں کرتے ؟‘‘

توحیدِ الوہیت ہی پیغمبروں کی دعوت کا اصل موضوع ہے کیوں کہ یہی وہ اساس ہے جس پر اعمال کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ جب تک یہ کامل طور پر موجود نہ ہو، اعمال کا کوئی فائدہ نہیں؛ اس لیے جب عقیدۂ توحید ثابت نہ ہوگا، تو اس اعتقاد کی ضد یعنی شرک پایا جائے گا۔ انبیاے کرام ؑ اور اُن کی امتوں کے مابین تنازع اور جھگڑے کا مرکز و محور یہی توحیدِ الوہیت تھی؛ لہٰذا اِس کی طرف بہ طور خاص متوجہ ہونا چاہیے، نیز اس کے مسائل کی تحقیق اور اس کے اصولوں کو سمجھنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

توحید کی اہمیت و فضیلت

1۔توحید: اسلام کا رکنِ عظیم

ارکانِ اسلام میں عقیدۂ توحید کو اہم ترین مقام حاصل ہے۔ یہ دین کے عظیم ستونوں میں سب سے بڑا ستون ہے۔ کوئی شخص دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا تا آ ں کہ وہ توحید کی گواہی دے، خدا کی عبادت کا اقرار کرے اور خدا کے سوا ہر شے کی عبادت کا نفی کر دے۔

رسول اللّٰہ ﷺ کا فرما ن عالی شان ہے:

«بُنِیَ الْاِسْلَامٌ عَلٰی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللّٰہ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہ، وَ إِقَامِ الصَّلاةِ وَاِیْتَاءِ الزَّکاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ» (صحیح بخاری: 8؛ صحیح مسلم : 16)

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اِس بات کی گواہی دینا کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا ئی مستحقِ عبادت نہیں اور محمد ﷺ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکات ادا کرنا، اور حج ادا کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘

2۔توحید: اہم ترین اور اولین فریضہ

عقیدۂ توحید اپنے عظیم مقام و مرتبے اور انتہائی اہمیت کی وجہ سے تمام اعمال پر مقدم اور تمام ضروی امور پر سبقت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے اسی کی دعوت دی جاتی ہے؛ نبی مکرم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:

«وَإِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَلْیَکُن أَوَّلَ، مَاتَدْعُوْھُم إِلَیه شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وفی رواية: إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ» (صحیح بخاری: 1458،2448،4347 ،7372؛ صحیح مسلم: 19)

’’تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو؛ تم اُنھیں سب سے پہلے اس بات کی گواہی کی طرف دعوت دینا کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبودِ (برحق) نہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ تم اُنھیں سب سے پہلے اس بات کی دعوت دینا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کر لیں۔‘‘

3۔توحید کے بغیر عبادات ناقابلِ قبول

توحید عبادت کے صحیح ہونے کی بنیادی ترین شرط اور اس کی قبولیت کی اساس ہے؛ جیسے طہارت کے بغیر نماز کو نماز قرار نہیں دیا جا سکتا، ایسے ہی عبادت اُس وقت تک عبادت کہلانے کی مستحق نہیں، جب تک اس کے ساتھ توحید نہ ہو۔ جس طرح طہارت میں حدث (ہوا خارج ہونے) سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، بعینہ اسی طرح اعتقاد و عمل میں شرک کی آمیزش سے عبادت فساد کاشکار ہو جاتی ہے۔ تو حید نہ ہو تو عبادت شرک بن جاتی ہے؛ شرک عمل کو فاسد اور تباہ و برباد کر دیتا ہے اور اِس کا مرتکب ہمیشہ کے لیے دوزخ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔

4۔توحید: دنیا و آخرت میں باعث ِامن و ہدایت

توحید دنیا اور آخرت میں امن اور ہدایت کا ذریعہ ہے؛اِس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ﴾

’’حقیقت میں تو امن اُنھی کے لیے ہے، اور راہِ راست پر وہی ہیں ،جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا۔‘‘ (سورۃ الانعام: 82)

یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے وضاحت فرمائی ہے۔(صحیح بخاری: 4629)

امام ابن کثیر اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

’’مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے عبادت کو خداے وحدہ لا شریک کے لیے خالص کر دیا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا، یہی لوگ روزِ قیامت امن میں ہوں گے اور دنیا و آخرت میں ہدایت سے سر فراز کیے جائیں گے۔‘‘

پس جو شخص کامل توحید پر کار بند رہتا ہے، اُسی کو مکمل امن اور کامل ہدایت نصیب ہوتی ہے اور وہی بلا عذاب جنت میں داخل ہوگا۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم اور توحید حقیقی عدل ہے۔

5۔توحید: جنت میں داخلے اور جہنم سے نجات کا سبب

رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ»

(صحیح بخاری:3435؛ صحیح مسلم: 28)

’’جو شخص اس بات کو گواہی دے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں؛ وہ یکتا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں؛ اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؛ اور عیسیٰ علیہ السلام بھی اللّٰہ کے بندے، اور اُس کے رسول اور اُس کا کلمہ ہیں جو اُس نے سیدہ مریم ؑ کی طرف ڈالا تھا اور وہ اسی کی بھیجی ہوئی روح ہیں؛ اور یہ کہ جنت برحق ہے اور جہنم (بھی) برحق ہے، تو ایسے شخص کو اللّٰہ تعالیٰ (بہ ہر حال) جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اُس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔‘‘

نیز آں حضرت ﷺ کا ارشاد ہے:

«فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ»

(صحیح بخاری:425؛6423؛ صحیح مسلم)

’’جو شخص محض رضاے الہٰی کی خاطر’لا الٰہ الا اللّٰہ’ کا اقرار کرے، اللّٰہ تعالیٰ اُس پر دوزخ حرام کر دیتا ہے۔‘‘

6۔توحید: دینا و آخرت کی پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ

علامہ حافظ ابن قیم فرماتے ہیں:

“التَّوحيدُ مَفزَعُ أعدائِه وأوليائِه”

’’توحید خدا کے دشمنوں اور دوستوں ہر دو کے لیے مصیبت کے وقت جاے پناہ ہے۔‘‘

الف:دشمنوں کے لیے تو اس طرح کہ اس کے ذریعے وہ دنیا کی مشکلات و مصائب سے نجات پاتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے:

فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ڬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَ (العنکبوت 29:65)

’’جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللّٰہ کے لیے خالص کر کے اُس سے دعا مانگے ہیں؛ پھر جب وہ اُنھیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکا یک یہ شرک کرنے لگتے ہیں۔‘‘

ب: اور خدا کے دوستوں کا معاملہ یہ ہے کہ باری تعالیٰ عقیدۂ توحید کی برکت سے انھیں دنیا و آخرت کے رنج و ملال اور پر یشانیوں سے چھٹکارا دیتا ہے۔ اپنے بندوں کے باب میں خدا کی یہی سنت ہے؛ پس مصائب دنیا کو دور کرنے اور ان سے خلاصی دلانے میں توحید کی مثل کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دعاے کرب توحید پر مبنی ہے اور سیدنا ذوالنون (یونس ) کی دعا بھی توحید ہی پر مشتمل تھی۔ مصیبت میں مبتلا جو شخص بھی یہ دعا کرتا ہے، باری تعالیٰ اُسے لازماً اس مشکل اور تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔

انسان کو عظیم مصائب اور جا ں کاہ مشقتوں میں مبتلا کرنے کا سبب سواے شرک کے اور کچھ نہیں اور ان سے نجات اور خلاصی کا ذریعہ توحید کے علاوہ اور کوئی نہیں؛ پس توحید مخلوق کی جاے پناہ ہے، یہی اس کا ملجا و ماویٰ ہے اور یہی اس کی حفاظت اور امداد کی ضامن ہے۔

7۔توحید: تخلیق جن و انس کی اصل حکمت

اللّٰہ عزوجل کا ارشاد ہے:

﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ﴾ (سورۃ الذاریات: 56)

’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری بندگی کریں۔‘‘

یہاں ‘ليَعْبُدُوْنِ’ کے معنی ہیں: ‘لِیُوَحِّدُوْن’ یعنی وہ مجھے ہر اعتبار سے یکتا اور منفرد تسلیم کریں۔

اس سے معلوم ہوا کہ رسولوں کی بعثت ، کتبِ سماویہ کے نزول، شریعتوں کے مقرر کرنے اور مخلوق کو وجود بخشنے کا مقصد اِس کے سوا کچھ نہیں کہ توحیدِ الٰہی کا اقرار کیا جائے اور صرف اُسی کی پرستش کی جائے۔

تبصرہ کریں