فہم توحید (قسط3)- ڈاکٹر حافظ طاہر اسلام عسکری

شرک کی سنگینی اور اس کی سزا

سطورِ ذیل میں اس امر پر بحث کی گئی ہے کہ شرک کس قدر سنگین جرم ہے اور اس کے مرتکب کی کیا سزا ہے؟

1۔جو شرک سے توبہ کیے بغیر مر گیا، خدا اُس کی بخشش نہیں فرمائے گا۔ اِس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا‎﴾ (سورة النساء: 48)

’’اللّٰہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں، وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔‘‘

2۔شرک کا مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج ہےاور اُس کی جان و مال مباح ہے۔ اس کی دلیل قرآن کریم کی درج ذیل آیت مبارکہ میں موجود ہے:

﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ ﴾ (سورة التوبۃ: 5)

’’پس جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو، جہاں پاؤ اور انھیں پکڑو اور گھیرو۔‘‘

3۔ مشرک کا کوئی عمل بارگاہِ ایزدی میں مقبول نہیں؛ اگر اُس نے کوئی نیک عمل کیا ہوگا تو شرک سے وہ ضایع اور برباد ہو جائے گا۔ اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿ وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَنْثُورًا﴾(سورة الفرقان: 23)

’’اور جو کچھ بھی اِن کا کیا دھرا ہے، اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اُڑا دیں گے۔‘‘

نیز فرمایا:

﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (سورۃ الزمر : 65)

’’تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیا کے طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمھارا عمل ضایع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے۔‘‘

4۔مشرک پر جنت حرام ہے اور وہ دائمی جہنمی ہے۔ اس کی دلیل خدا وندِ عالم کا یہ فرمان ہے:

﴿لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ﴾

’’جس نے اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا، اُس پر اللّٰہ تعالیٰ نے جنت حرام کر دی اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔‘‘ (سورۃ المائدہ: 72)

نواقض اسلام

نواقض اسلام سے مراد وہ امور ہیں جو اسلام کو نقصان پہنچاتے اور اسے باطل کر دیتے ہیں۔ ان کی تعداد کافی زیادہ ہے لیکن سب سے خطرناک اور زیادہ تر وقوع پذیر ہونے والے یہ دس ہیں:

1۔ عبادتِ الٰہی میں شرک؛ غیر اللّٰہ کے لیے جانور ذبح کرنا بھی اِسی میں شامل ہے، جیسے کوئی شخص کسی جن یا صاحبِ قبر کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرے۔ اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا﴾(سورة النساء: 116)

’’اللّٰہ اِس بات کو نہیں بخشے گا کہ اُس کا شریک ٹھہرایا جائے؛ اِس کے سوا جو کچھ ہے، اُس کو جس کے لیے چاہے گا، بخش دے گا۔‘‘

2۔ جو شخص اللّٰہ رب العزت اور اپنے مابین واسطے تلاش کرتا، اُنہیں پکارتا، اُن سے سوال کرتا اور اُن پر بھروسا اور توکل کرتا ہے، وہ بالا جماع کافر ہے۔

3۔ جو مشرکوں کو کافر قرار نہیں دیتا، یا اُن کے کفر میں شک کرتا ہے، یا اُن کے عقیدہ و مذہب کو درست سمجھتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے۔

4۔ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ رسولِ معظم ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی ہدایت و رہ نمائی آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت سے زیادہ کامل ہے؛ یا کسی اور کا فیصلہ آپ ﷺ کے فیصلے سے بہتر ہے جیسا کہ بعض لوگ طاغوتوں کے فیصلوں کو آپ ﷺ کے احکامات پر ترجیح دیتے ہیں، تو وہ کافر ہے۔

 طاغوت کا انکار

طاغوت کی تعریف

لغت کی رُو سے لفظِ طاغوت،طغیان سے نکلا ہے جس کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔

شرعی اعتبار سے ہر وہ معبود، متبوع یا مُطاع چیز جسے انسان اُس کی حد سے بڑھا دے، طاغوت ہے۔

طاغوت کا کفر و انکار لازم ہے

اللّٰہ رب العزت نے انسان پر جو چیز سب سے پہلے فرض کی ہے، وہ یہ ہے کہ طاغوت کا انکار کیا جائے اور خدا پر ایمان لایا جائے۔ اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:

﴿ وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ﴾(سورة النحل: 36)

’’اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول اِس دعوت کے ساتھ بھیجا کہ اللّٰہ ہی کی بندگی کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘

طاغوت سے کفر کیسے ہوگا؟

اس کے لیے لازم ہے کہ

ا۔غیر اللّٰہ کی عبادت کے باطل ہونے کا اعتقاد رکھا جائے، اُسے ترک کر دیا جائے اور اُس سے اظہارِ بعض و نفرت کیا جائے۔

ب۔طاغوت کے ساتھیوں اور پیروکاروں کو کافر قرار دیا جائے اور اُن سے عداوت و دشمنی رکھی جائے۔

طاغوتوں کے سردار اور لیڈر

طاغوت بہت سے ہیں لیکن ان کے سر غنے پانچ ہیں:

1۔ابلیسِ ملعون۔

2۔جسے اللّٰہ تعالیٰ کے سوا پوجا جائے اور وہ اس پر راضی ہو۔

3۔جو لوگوں کو اپنی پر ستش کی دعوت دے۔

4۔ جو علم غیب میں سے کسی چیز کے جاننے کا دعویٰ کرے۔

5۔ جو خدا وند ِعالم کی نازل کردہ شریعت کے علاوہ کسی اور شے کی بنیاد پر فیصلے کرے۔

اصولِ ثلاثہ(تین بنیادی اصول)

عقیدہ کے تین اہم اصول درج ذیل ہیں:

1۔انسان کا اپنے رب کو پہچاننا۔

2۔ بندےکا اپنے دین کی معرفت حاصل کرنا۔

3۔ آدمی کو اپنے نبی سیدنا محمد ﷺ کی پہچان ہونا۔

قبرمیں بھی یہی تین سوال پوچھے جائیں گے۔ ان کی توضیح حسب ذیل ہے:

اصل اول: معرفتِ رب

اس باب میں درج ذیل مسائل قابل توجہ ہیں:

1۔بلا شبہ اللّٰہ تعالیٰ ہی ہمارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں سے ہماری اور تمام جہانوں کی پرورش اور نگہِ داشت فرمائی۔

2۔ اللّٰہ عزوجل ہی معبودِ حقیقی ہے؛ اُس کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں۔

3۔ ہم نے اپنے رب کو اُس کی مخلوقات اور عظیم نشانیوں کے ذریعے پہچانا۔

رات، دن ، چاند اور سورج وغیرہ اس کی آیات اور نشانیاں ہیں۔

اور اس کی مخلوقات میں سات آسمان، سات زمینیں اور وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو ان دونو کے اندر موجود ہیں، یا ان کے مابین پائی جاتی ہیں۔

اصل دوم:معرفتِ دین

اس سلسلے میں نکاتِ ذیل لائق غور ہیں:

1۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس کے سوااللّٰہ تعالیٰ کوئی اور دین قبول نہ فرمائےگا۔

2۔ اسلام کے معنی یہ ہیں کہ عقیدۂ توحید کو اپناتے ہوئے بارگاہِ ایزدی میں خود سپردگی کا اظہار کیا جائے؛ اطاعتِ خداوندی کے ذریعے شیوۂ تسلیم ورضا اختیار کیا جائے اور شرک اور اہلِ شرک سے بے زاری اور لا تعلقی کا اعلان کیا جائے۔

3۔دین کے تین مراتب و مدارج ہیں اور وہ ہیں: اسلام، ایمان اور احسان۔

اصل سوم: پیغمبر خدا محمد مصطفیٰ ﷺ کی معرفت

اس اصول کے تحت اہم مسائل درج ذیل ہیں:

1۔اسم و نسب

آنحضرت ﷺ کا نام و نسب یہ ہے: محمد بن عبداللّٰہ بن عبدالمطلب بن ہاشم۔ آپ ﷺ کا تعلق عرب کے قبیلۂ قریش سے ہے اور عرب سیدنا اسماعیل بن ابراہیم الخلیلؑ کی اولاد ہیں۔

2۔عمر مبارک

رسول معظم ﷺ کی کل عمر مبارک تریسٹھ (63) برس تھی۔ ان میں سے چالیس سال نبوت سے پہلے بسر ہوئے اور تئیس برس آپ ﷺ نے نبی اور رسول کی حیثیت سے گزارے۔

3۔نبوت و رسالت

آنحضرت ﷺ پہلی وحی “إقرأ” کے ذریعے نبی بنائے گئے اور سورۃ المدثر نازل فرما کر آپ ﷺ کو شرفِ رسالت سے نوازا گیا۔

4۔وطن اور جاے ہجرت

رسول اللّٰہ ﷺ کا آبائی وطن مکہ مکرمہ تھا؛ بعد ازاں آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی جسے اُس زمانے میں یثرب کہا جاتا تھا۔

5۔موضوع دعوت

اللّٰہ تعالیٰ نے جنابِ رسالت مآبﷺ کو شرک سے ڈرانے اور توحید کی طرف بلانے کے لیے معبوث فرمایا اور یہی آپ ﷺ کی دعوت کا موضوع تھا۔

کفر

تعریف

لغت کی رُو سے’کفر’ کے معنی چھپانے اور ڈھانکنے کے ہیں۔

شرعی پہلو سے اِس کا مفہوم ہے: اسلام کے منافی اور متضاد رویہ۔

اقسام

کفر کی دو قسمیں ہیں:

1۔کفر اکبر 2۔کفر اصغر

ان کی تفصیل درج ذیل ہے:

1۔ کفر اکبر

اس میں درج ذیل مطالب ہیں:

ا۔تعریف: اس سے مراد ہے: اللّٰہ اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان نہ لانا، برابر ہے کہ اس کے ساتھ تکذیب شامل ہو یا نہ ہو؛ یعنی دونو صورتوں میں کفر اکبر ہوگا۔

ب۔حکم: کفر اکبر انسان کو دین و ملت سے خارج کر دیتا ہے۔

ج۔اقسام: کفر اکبر پانچ قسموں میں منقسم ہے:

1۔کفر تکذیب

اس کی دلیل خدا وندِ عالم کا یہ فرمان ہے:

﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُ ۚ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ‎﴾(سورة العنکبوت: 68)

’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللّٰہ پر جھوٹ باندھے، یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے پاس آچکا ہے؛ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں ہوگا۔‘‘

2۔کفر انکار و استکبار

یعنی انسان خدا اور اس کے احکا مات کی تصدیق تو کرتا ہو لیکن سر کشی اور انکار کی روش اپناتے ہوئے شریعت کو حقارت سے رَد کر دے۔ اس کی دلیل اللّٰہ عزوجل کا یہ ارشاد ہے:﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾

’’اور (یاد کرو) جب کہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے (نہ کیا)؛ اُس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے بن گیا۔‘‘(سورة البقرہ:34)

کفر شک یا کفرظن

اس کی دلیل درج ذیل قرآنی آیات مبارکہ ہیں:

﴿وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا 0‏ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِنْهَا مُنْقَلَبًا 0‏ قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا ‎0‏ لَٰكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا﴾ (سورة الکہف: 38- 35)

’’پھر وہ اپنی جنت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا: میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی؛ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شا ن دار جگہ پاؤں گا۔ اس کے ہم سایے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا: کیا تو کفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑ ا کیا؛ رہا میں، تو میرا رب تو وہی اللّٰہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘

4کفر اعراض

اس کی دلیل باری تعالیٰ کا یہ ارشاد ِمبارک ہے:

﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنْذِرُوا مُعْرِضُونَ﴾

’’ اور یہ کافر لوگ اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے اِن کو خبردار کیاگیا ہے۔‘‘(سورة الأ حقاف: 3)

5۔کفر نفاق

اس کی دلیل اللّٰہ تعالیٰ رب العزت کا یہ فرمان عالی شان ہے:

﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ﴾(سورة المنافقون: 3)

’’یہ اس سبب سے ہے کہ یہ پہلے ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا، تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی؛ پس یہ سمجھنے سے عاری ہوگئے ہیں۔‘‘

کفر اصغر

اس سے متعلق درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:

الف۔تعریف: ہر وہ معصیت اور نا فرمانی کفر اصغر ہے جسے شریعت میں کفر کہا گیا ہے، بہ شر طے کہ وہ کفر اکبر کی حد تک نہ پہنچتی ہو۔

ب۔حکم: یہ حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں شامل ہے لیکن اس کا مرتکب ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتابل کہ مسلمان ہی رہتا ہے۔

ج۔مثالیں: کفر اصغر کی مثالیں درج ذیل ہیں:

1۔کفر نعمت

اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ﴾ ’’لیکن اس نے اللّٰہ تعالیٰ کے نعمتوں کا کفر ان شروع کر دیا۔‘‘ (سورة النمل: 112)

2۔مسلمان سے قتال

ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے جنگ اور قتال کرنا بھی کفر اصغر میں شامل ہے۔پیغمبرِ اعظم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

«سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ»

’’مسلمان کو گالی دینا فسق اور نا فرمانی ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:48،صحیح مسلم:64)

3۔دوسروں کے نسب میں طعن

4۔ میت پر ماتم کرنا

ان دونو کی دلیل جناب رسول اللّٰہ ﷺ کا یہ فرمان ہے: «اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ، الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ»(صحیح مسلم:67)

’’لوگوں میں دو باتیں ایسی ہیں جو کفر ہیں: ایک نسب میں طعن کرنا اور دوسری میت پر بین کرنا۔‘‘

نفاق

نفاق اعتقادی

اس میں درج ذیل مطالب ہیں:

ا۔تعریف: یہ نفاقِ اکبر ہے؛ جس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص ظاہری طور پر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے لیکن دل میں کفر چھپا کر رکھے۔

ب۔حکم:یہ نفاق انسان کو دین سے بالکلیہ خارج کر دیتا ہے او ر اس کا مرتکب جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا۔

ج۔اقسام: اعتقادی نفاق چھے اقسام پر مشتمل ہے:

1۔تکذیبِ رسول ﷺ۔

2۔شریعتِ پیغمبر ﷺ کے کچھ اجزا کو جھٹلانا۔

3۔ رسول اکرم ﷺ سے بغض رکھنا۔

4۔شریعت محمد ﷺ کے بعض حصوں سے بغض و نفرت رکھنا۔

5۔دین نبی ﷺ کو نقصان پہنچنے پر اظہارِ مسرت کرنا۔

6۔حضرت محمدﷺ کے دین و مذہب کی مدد و نصرت کو نا پسند جاننا۔

نفاق عملی

اس میں درج ذیل امور قابل غور ہیں:

ا۔تعریف

دل میں ایمان و ایقان کے ہوتے ہوئے منافقوں کے اعمال و خصائل میں سے کسی خصلت یا عمل کا ارتکاب، نفاقِ عملی کہلاتا ہے۔

ب۔حکم

اس سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج تو نہیں ہوتا لیکن یہ نصوصِ شریعت کی رُو سے حرام اور کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ اس کے مر تکب میں ایمان و نفاق مجمتع ہوتے ہیں مگر جب کوئی شخص کثرت سے منافقوں کی خصلتیں اپنا لیتا ہے، تو وہ پکا منافق ہو جاتا ہے۔

ج: مثالیں

1۔امانت میں خیانت کرنا۔

2۔گفت گو میں جھوٹ بولنا۔

3۔ عہد شکنی کرنا۔

4۔لڑائی جھگڑے میں گالی گلوچ کرنا۔

5۔ وعدہ خلافی کرنا۔

دلیل:

« أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا، اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ» (صحیح بخاری: 34؛ صحیح مسلم :58)

’’جس شخص میں چار صفات ہوں، وہ پکا منافق ہے اور جس کے اندر ان سے ایک آدھ ہو، اُس میں گویا نفاق کی ایک آدھ خصلت موجود ہے، یہاں تک وہ اسے چھوڑ دے:1۔جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔2۔بات کرے تو جھوٹ بولے۔3۔عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔ 4۔ جب لڑائی جھگڑا ہو جائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔ ‘‘

6۔مسجد میں باجماعت نماز پڑ ھنے سے سستی اور لاپرواہی بر تنا بھی نفاقِ عملی میں شامل ہے۔

قرآن شریف میں ہے:

﴿ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ ﴾

’’اور جب یہ (منافق) نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں۔‘‘ (سورة النساء: 142)

7۔نیک اعمال میں دکھاوا کرنا بھی عملی نفاق ہی کی ایک صورت ہے۔ اللّٰہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ﴾(سورۃ النساء: 142)

’’محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر۔‘‘

٭٭٭

خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔ سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرمﷺ نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ سیدہ رقیہ حبشہ ہجرت فرماگئے، جب سیدہ رقیہ کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی سیدہ ام کلثوم کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں