یورپ میں اسلامی تشخص کو لاحق خطرات۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

یورپ میں آباد مسلم کمیونٹی کی تاریخ گذشتہ نصف صدی سے زائد مدت پر محیط ہے۔ جنگ عظیم دوم کے خاتمہ کے بعد برصغیر پاک وہند، شمال افریقہ، الجزائر، مراکش، تیونس وغیرہ سے ہزاروں کی تعداد میں لائے جانے والے مسلمانوں نےبرطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی مردہ صنعتوں کو اپنی سخت محنت اور جانفشان ی کے ذریعہ زندگی دی اور ان ملکوں کو ان کی تہذیب وتمدن سمیت دیوالیہ ہونے سے بچایا، انہی مسلمانوں کی تیسری نسل یہاں پروان چڑھ چکی ہے۔ الحمد للہ، یہ اَمر نہایت خوش آئند ہے کہ ہزارہا بگاڑ کے باوجود مسلمان کمیونٹی کا اپنے دین ومذہب کے ساتھ رشتہ نہ صرف استوار رہا ہے، بلکہ روز بروز اس رشتہ میں مضبوطی آ رہی ہے اور غالباً یہی وہ بات ہے جو یورپین اقوام کےلیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ چنانچہ گذشتہ ربع صدی میں ایسی نسل پرست تحریکوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ جن کا مرکزی ایجنڈا اسلام اور مسلم مخالفت ہے، اس سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ اس قسم کی تنظیمیں یورپ کے مختلف ممالک سویڈن، آسٹریا، ہالینڈ اور ڈنمارک میں سیاسی سطح پر اپنے وجود کو منوا چکی ہیں اور ہر ملکی انتخابات میں ان کے ووٹرز میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس کی واضح مثال فرانس میں منعقدہ حالیہ صدارتی انتخابات ہیں، ان انتخابات کے فائنل راؤنڈ میں آنے والی دو پارٹیاں تھیں، پہلی حکمران پارٹی ہے جس کا صدر امانویل میکرون ہے، جو گذشتہ میعاد میں بھی صدر مملکت رہ چکا ہے، دوسری پارٹی دائیں بازو کی نسل پرست تنظیم ہے۔ مارین لی بین اس کی صدر ہیں، یہ وہ پارٹی ہے۔ چند سال قبل جس کی حمایت کرنے والوں کی تعداد دس فی صد سے تجاوز نہیں کر پائی تھی اور آج وہ ملک کی ایک ہم سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر آئی ہے۔

حالیہ انتخابات کے دوران بحث ومباحثہ میں ان دونوں پارٹیوں کی لسٹ میں اسلام اور مسلمانوں کا موضوع سرفہرست رہا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدارتی انتخابات میں مسلمانوں کا رول کلیدی ہوتا تو ہے، مگر اس شکل میں کہ جو امیدوار جس قدر مقامی مسلمانوں پر مذہبی پابندی عائد کرنے اور مختلف حیلوں بہانوں سے ان کی دینی شناخت کو ختم کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے، اسی قدر اس کی کامیابی کے امکانات روشن سے روشن تر ہوتے چلے جاتے ہیں، مگر صد حیف مقامی مسلمانوں کو ایسا کوئی پلیٹ فارم میسر نہیں جہاں سے وہ اپنے مؤقف کو بیان کر سکیں۔ اپنے لباس، طرز زندگی اور اشیاء خورد ونوش میں اسلام کے تصور کو کھول کر بیان کر سکیں جبکہ فرانس فخریہ طور پر اپنے آپ کو ایسی جمہوریت قرار دیتا ہے جس میں جمہوری اقدار، آزادی رائے، مساوات اور بھائی چارگی کو فوقیت حاصل ہے، اس کی وجہ یہ نہیں کہ فرانس میں مسلمان قلیل تعداد میں ہیں، فرانس میں مسلمانوں کی تعداد محتاط اندازے کے مطابق چھ سے سات ملین بتلائی جاتی ہے جو کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے، اس کے باوجود مسلمانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے۔

بہر حال نتائج کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے صدر میکرون نے دائیں بازو کی نسل پرست جماعت پر کامیابی حاصل کر لی۔ مگر اس کا معنیٰ یہ نہیں کہ نسل پرست پارٹی ناکام ہو چکی ہے، کیونکہ گذشتہ انتخابات کے نتائج کے مقابلے میں اس دفعہ اس پارٹی نے توقع سے کہیں زیادہ ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر آنے میں کامیابی حاصل کر لی، اس حوالے سے نتائج آنے کے فوری بعد پارٹی کی خاتون صدر کا یہ بیان قابل غور ہے۔

وہ کہتی ہے کہ ہماری آئیڈیالوجی جس پر ہمارا کامل یقین ہے، اب اپنی شہرت اور مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ جو کہ ہمارے لیے ایک عظیم کامیابی ہے، تاریخ نے ثابت کر دیا کہ جو لوگ ہمارا نام ونشان مٹانے کی آرزو کر رہے تھے، وہ سراسر غلطی پر تھے، کھیل ابھی ختم نہیں۔

دوسری جانب نسل پرست پارٹی کی ناکامی اور ری پبلکن پارٹی کی کامیابی سے یہ سمجھ لینا کہ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت سراسر کم فہمی ہو گی۔

کیونکہ مارین لی پین ہو یا میکرون، دونوں بھی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اس کا اندازہ دوران انتخابات مختلف صدارتی امیدواروں کے درمیان بحث ومباحثہ میں کی جانے والی گفتگو سے لگایا جا سکتا ہے، چنانچہ جہاں نسل پرست پارٹی کی لیڈر ہر جگہ کہتی رہی کہ وہ اسلامی آئیڈیالوجی کی سخت مخالف ہے، اقتدار حاصل کرنے پر فرانس میں اس آئیڈیالوجی کی ترویج اور اس کی فنڈنگ پر مکمل پابندی لگائی جائے گی، فرانس کی سرزمین پر رہنے کا حق صرف فرانسیسی افراد کو حاصل ہے، لہٰذا فرانسیسی شہریت نہ رکھنے والوں کو اس سرزمین پر رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں، ہم ہر اس تنظیم پر پابندی لگا دیں گے جو اسلامی نظریات کی ترویج میں مشغول پائی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔

تو دوسری جانب ری پبلکن پارٹی کے کامیاب صدارتی امیدوار میکرون صرف کہنے کے قائل نہیں بلکہ وہ عمل کر کے دکھاتے ہیں۔ چنانچہ اپنی پہلی میعاد کے دورِ صدارت میں اس کی حکومت کے ایماء پر جمہوری اقدار کا تحفظ و احترام کے ٹائٹل کے تحت اور علیحدگی پسند اسلام کے خلاف قانون سازی کی گئی اور پھر اس قانون کی آڑ لے کر فرانس کی تمام مساجد اور دینی تنظیموں کی نشاطات اور ان کے دفاتر کو کڑی نگرانی میں رکھ دیا گیا۔ اس طرح اپنی تنظیموں کو ملنے والی فنڈنگ کو بھی سخت چیکنگ کے مراحل سے گذارا جائے گا، مسلمان فیملیز پر اپنے بچوں کے لیے ہوم اسکولنگ جیسی سہولت کو مختلف کڑی شرائط کے تحت کر دیا اور اسی قانون کے تحت گذشتہ سال 21 مساجد بند کر دی گئیں، اور اب حلال ذبیحہ اور مسلمان بچوں کو اسلامی نام محمد یا احمد سے موسوم کرنے پر پابندی اس پارٹی کے زیر غور ہے، جس کو ہم ری پبلکن پارٹی تصور کرتے ہیں۔ اس پارٹی کے وزیر اعظم نے گذشتہ سال مسلمانوں کو ایک ایسی ناپاک قوت قرار دیا تھا جو فرانسیسی معاشرے اور ماحول کو اندرونی طور پر گندہ کر رہی ہے۔

بہر حال اس وقت یورپ میں آئے دن مسلمان اپنی بقا کی نہیں بلکہ اپنی دینی شناخت کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں، فرانس ہی نہیں دیگر یورپین ملکوں میں مختلف تحدیدات اور پابندیوں کے ذریعے انہیں دین اسلام سے علیحدہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں، ان حالات میں امت کی اپنی قیادت کو سوچنا ہو گا کہ کس طرح مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔

٭٭٭٭

تبصرہ کریں