یورپ میں اسلاموفوبیا کی بڑھتی لہریں(اداریہ) محمد حفیظ اللہ خان المدنی

اس وقت عالمی میڈیا پر انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے شہ سرخیوں میں جگہ پانے والے ممالک میں چین سرفہرست ہے۔ جس نے مقامی مسلمانوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، جب کہ دیکھا جائے تو انسانی حقوق خصوصاً مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کے تعلق سے تشویشناک صورتحال چین یا برما تک محدود نہیں، بلکہ یورپ میں آباد مسلمان بھی کم وبیش اسلاموفوبیا کی شکل میں اس جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔

مگر بھلا ہو عالمی میڈیا کی دورخی پالیسی کا، کہ وہ یورپ کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات کو چنداں اہمیت نہیں دیتا یا عمداً ایسی خبروں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ فرانس ہی کو لیجیے، موجودہ حکومت نے مقامی مسلمانوں کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ مسلمانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی غرض سے نت نئے قوانین متعارف کیے جا رہے ہیں۔

آئے دن حکومتی اعلیٰ عہدیداران کے نسل پرستی پر مبنی بیانات عوام الناس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بغض وعداوت کو ہوا دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ فرانس وہ ملک ہے جس کو یہ زعم ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ، جمہوری اقدار کے احترام اور قانون کی بالادستی کو عملی شکل دینے میں اس کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے۔ دوسری جانب یہی ملک اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں اسلامی تقدس کی دھجیاں اڑا کر اینٹی مسلم گروپس کو تقویت پہنچا رہا ہے۔

معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں، بلکہ عملی اقدامات اس کے مذموم ارادوں کو واضح کر رہے رہیں۔

چنانچہ گزشتہ چند ماہ میں کئی ایک حیلے اور بہانوں سے مساجد اور اسلامی اسکولز کو تالے لگائے جا چکے ہیں ۔

مسلمانوں خصوصاً مساجد کمیٹیوں کے ارکان کو مزعومہ جمہوری انداز پر مبنی اس منشور کے مطابق مساجد اور مدارس کے نظام کو تشکیل دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس کی متعدد شقیں سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ اور اس سے انکار کو قانون شکنی اور انتہا پسندی پر محمول کیا جا رہا ہے۔

یہ وہ منشور ہے جس میں نسلی اور مذہبی امتیاز برتتے ہوئے صرف مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے مثلاً اس منشور کی رو سے مسلمان والدین اپنے بچوں کو ہوم ایجوکیشن دینے سے محروم کر دیے جائیں گے جبکہ قانون ماں باپ کو چند ایک شرائط کی تکمیل پر اپنے بچوں کو اسکول کے بجائے گھر پر تعلیم دینے کا اختیار دیتا ہے، مسلمان خاتون صنفی بنیاد پر اپنے لیے لیڈی ڈاکٹر کا انتخاب نہیں کر سکے گی۔ ترکی، تیونس، مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والے علماء مسجد میں امامت وخطابت کا فریضہ انجام نہیں دے سکتے۔ اس حوالے سے فرانس میں موجودہ 300 ائمہ مساجد کو ملک بدر کیے جانے والوں کی لسٹ پر رکھا جا چکا ہے۔ پبلک مقامات میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں پر اسکارف کا پہننا ممنوع، بچوں کو اسکول چھوڑنے اور اسکول سے لینے والی نیز بچوں کے حوالے سے کسی استفسار کی غرض سے اسکول کی عمارت میں داخل ہونے والی ماؤں پر اسکارف کا پہننا ممنوع، پرستی اور عصبیت پر مبنی ان جیسے قوانین کی ایک لمبی لسٹ ہے۔ جن کے ذریعہ مسلمانوں کی نئی نسل میں جمہوری اقدار کے نام پر بے دینی، بے راہ روی اور لادینیت کے جراثیم کی افزائش مقصود ہے۔ یہ صورت حال صرف فرانس کی حد تک محدود نہیں، بلکہ اسلاموفوبیا کی زہرناکی یورپ کے کئی اور ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ چنانچہ ایک ماہ قبل سوئزرلینڈ کی حکومت کی جانب سے عوامی ریفرنڈم کے بعد برقعہ اور نقاب پر پابندی لگا دی گئی۔

برقعہ اور نقاب کے خلاف عوامی ریفرنڈم کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوئزرلینڈ میں مسلمانوں کے خلاف فضا کو کس قدر مسموم کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ سال ہالینڈ میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی جانب سے Burqa Ban کی تحریک چلائی گئی اور حکومت نے ان کے دباؤ میں آ کر ملک میں نقاب پر پابندی لگا دی اور قانون کی خلاف ورزی پر 150 ڈالر جرمانے کا بھی اعلان کر دیا۔

چند ماہ قبل یونان میں عیسائی طبقہ کے اعلیٰ ترین ذمہ دار آرچ بشپ نے اسلام کو آسمانی دین ماننے سے انکار کر دیا اور برملا اسلام کو ایک سیاسی تحریک قرار دیتے ہوئے اس کو ماننے والوں کو جنگجو قوم کہہ دیا اس کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے انسانیت کے حق میں کسی بھی فائدے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح آئے دن جرمنی، سویڈن، ڈنمارک میں مساجد پر اشرار کے حملوں میں اضافہ معمول کی کارروائی بنتا جا رہا ہے۔

الغرض یورپ میں مسلمانوں کے خلاف اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا سیلاب قرون وسطی کی تلخ یادوں کو تازہ کر رہا ہے۔ جب یورپ میں یہ کہاوت زبان زد خاص وعام تھی کہ ’’ تمہارے یورپین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو۔‘‘

افسوسناک امر یہ ہے کہ یورپ کی مسلم قیادت ان تمام تلخ حقائق کا صحیح ادراک کرنے سے ابھی تک قاصر ہے۔ خطرات سر پر منڈ لا رہے ہیں۔ مگر ہماری مسلم قیادت سمجھتی ہے کہ یورپ میں اسلام آزاد ہے، علامہ اقبال نے کسی وقت ہند کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ

مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت                                                                                                                                                      ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!

آج یہ شعر ہم پر پوری طرح صادق آ رہا ہے۔

یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ اس وقت مسلمان اور مساجد یورپ کا جزء لاینفک بن چکے ہیں یعنی مساجد بھی رہیں گی اور مسلمان بھی، مگر جس رفتار سے یورپ میں مسلمانوں کی نئی نسل کے اسلام سے اٹوٹ رشتہ کو کمزور کرنے کی کوششیں جار ہی ہیں، عین ممکن ہے کہ مساجد رہیں گی مگر ویران، مسلمان بھی رہیں گے مگر اسلام سے نالاں، ان پر یورپین یا لبرل اسلام کو تھوپ دیا جائے گا۔

لہٰذا کیایہ دانش مندی نہیں کہ آنےوالے فتنوں کا سدباب کرنے کے لیے ابھی منصوبہ بندی کر لی جائے۔ بیدار قومیں صرف محض حال میں نہیں جیتیں بلکہ ان کے پیش نظر ہمیشہ ایک محفوظ مستقبل کی تشکیل بھی ہوتی ہے۔

ہِندی اِسلام

ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت                                                                                 وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد

وحدت کی حفاظت نہیں بے قُوّتِ بازو                                                                                آتی نہیں کچھ کام یہاں عقلِ خدا داد

اے مردِ خدا! تجھ کو وہ قُوّت نہیں حاصل                                                                                 جا بیٹھ کسی غار میں اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نومیدیِ جاوید                                                                                 جس کا یہ تصّوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

مُلّا کو جو ہے ہِند میں سجدے کی اجازت                                                                                 ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد!

تبصرہ کریں