عید میلاد النبیﷺایک مطالعاتی جائزہ۔ الشیخ جمشید سلطان عوان

الحمدُ للہ والصلاة والسلامُ علیٰ رسول اللہ وعلیٰ آله وصحبه وأزواجه و من والاه وبعدُ،

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ﴾

’’مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے،اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں ،یہی درست دین ہے،تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پرظلم نہ کرو،اورتم تمام مشرکوں سےجہادکروجیسےکہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں، اور جان رکھوکہ اللہ تعالیٰ متقیوں کےساتھ ہے۔‏‘‘ (سورۃ التوبہ:36)

اس سے معلوم ہوا کہ سال میں بارہ مہینے مقرر کئے گئے ہیں ان میں تیسرا مہینہ ربیع الاول کا مہینہ ہے۔

چنانچہ ماہ ’’ربیع الاول ‘‘ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے ، جِس کے بارے میں قُرآن و سُنّت میں ایسی کوئی فضلیت نہیں ملتی جیسی رمضان کے مہینہ کی یا ذوالحج کے مہینہ کی ہے ۔

لیکن ہمارے معاشرے میں اِس مہینہ کو بہت ہی زیادہ فضلیت والا مہینہ جانا جاتا ہے اور اِس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اِس ماہ کی بارہ تاریخ کو رسول اللہﷺ کی پیدائش ہوئی تھی ، اور پھر اِس تاریخ کو عید کے طور پرمنایا جاتا ہے ، اور جو کچھ’’ عید میلاد النبی ‘‘منانے کے لئے کیا جاتا ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ، مسلمانوں کا ایک مخصوص فرقہ اس پر بے وجہ کے دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے۔عید میلاد النبی کو عید ثالث کا نام بھی دیا جاتا ہے،سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اِس عید میلاد کی اپنی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اور اِس میں کئے جانے والے کاموں کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ عام آدمی بھی جانتا ہے کہ عید کےدن میں اختلاف نہیں ہوتا۔ مثلاً عید الفطر یکم شوال کو ہوتی ہے، کبھی کسی نے نہیں کہا کہ اس مرتبہ عید 5 شوال کو ہوگی یا 28 رمضان کو ہوگی، ایسے ہی عید الاضحیٰ 10 ذوالحج کو ہوتی ہے، کبھی کسی نے نہیں کہا کہ اس مرتبہ عیدالاضحیٰ 4 یا 5 ذوالحج کو منائيں گے۔ اس لیے کہ ان عیدوں کا اسلام نے ایک دن متعین فرمایا ہے۔ شروع اسلام سے لےکر آج تک ان میں اختلاف نہیں ہوا، اختلاف اس میں ہوتا ہے جسے بعد میں لوگ اپنی طرف سے شروع کردیں، اوراللہ اور اس کے رسول ﷺ نےوہ دن مقرر نہیں کیا ہوتا یہی حال اس من گھڑت عید میلاد کا ہے کہ انسان شش و پنج میں پڑجاتا ہے کہ وہ اگر اسے عید سمجھ لے تو کس دن منائے!

اس اختلاف کو ہم آپ کے سامنے مختصر ا ً ذکر کرتے ہیں آپ غور فرمائیے ہرگروہ کے نزدیک رسولِ اکرمﷺ کی پیدائیش کاایک علیحدہ دن ہے۔

1۔ پہلا قول : 5 ربیع الاول

امیر الدین نے “سیرت طیبہ” میں لکھا ہے ’’قول مختار یہ ہے کہ 5 ربیع الاول کو آپ ﷺ پیدا ہوئے۔‘‘ (سیرت طیبہ، ص:76)

2۔دوسرا قول : 8 ربیع الاول

حافظ ابن قیم ﷫ متوفی 751ھ نے لکھا ہے کہ

’’ جمہور اہلِ علم کا قول یہ ہے کہ 8 ربیع الاول کو رسولِ اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔‘‘ (زادلمعاد ج، ص:68)

امام ابن کثیر ﷫فرماتے ہیں کہ

امام مالک ، امام زہری ، امام ابن حزم حافظ محمد بن موسیٰ الخوارزمی﷭کی رائے ہے کہ

’’ولادت رسولﷺ 8 ربیع الاول کو ہوئی۔ اور ابو خطاب دحیہ نے اپنی کتاب ’’التنویر فی المولد البشیر ‘‘ میں اسی رائے کو راجح کہا ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ: 3؍375)

امام ابن جوزی ﷫نے ذکر کیا ہے کہ

احمد بن البراء نے کہا کہ: رسول اللہﷺ پیر کے دن 8ربیع الاول کو پیداہوئے۔ (المنتظم فی تاريخ الأمم والملوك)

4۔ تیسرا قول: 9 ربیع الاوّل

برصغیر میں اکثر سیرت نگاروں نے 9 ربیع الاول کویوم ولادت قرار دیا ہے۔ چند ایک حوالہ جات پیش خدمت ہیں:

سلیمان منصور پوری لکھتے ہیں ’’ہمارے نبی ﷺموسم بہار، دو شنبہ کے دن 9 ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔‘‘ (الرحیق المختوم (اردو) :ص83)

علامہ صفی الرحمن مبارکپوری نے اپنی مشہور کتاب ’’الرحیق المختوم ‘‘ میں بھی9ربیع الاول کی تاکید کی ہے اور کہا کہ

محمود پاشا فلکی کی تحقیق بھی یہی ہے ۔ (الرحیق المختوم (اردو) ص83)

اکبر نجیب آبادی لکھتے ہیں:

’’9 ربیع اول 571ء بروز سوموار از صبح صادق اور قبل طلوع آفتاب آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے۔‘‘ (تاریخ اسلام، اکبر نجیب آبادی: 1؍72)

معین الدین ندوی کہتے ہیں:

’’عبداللہ کی وفات کے چند مہینوں بعد عین موسم بہار اپریل 571ء، 9 ربیع الاول کو عبداللہ کے گھر فرزند تولد ہوا۔ بوڑھے اور زخم خوردہ عبدالمطلب پوتے کی پیدائش کی خبر سن کر گھر آئے اور نومولود کو خانہ کعبہ لےجا کر اس کے لیے دعا مانگی۔ (تاریخ اسلام، معین الدین ندوی: ص25)

• احناف میں سے زاہد الکوثری اور ابو الحسن ندوی نے بھی ولادت رسول ﷺ کی تاریخ 9 ربیع الاول لکھی ہے ۔

•چودھری افضل حق:

20 اپریل 571ء مطابق 9 ربیع الاول دوشنبہ کی مبارک صبح قدسی آسمان پر جگہ جگہ سرگوشیوں میں مصروف تھے کہ آج دعائے خلیل اور نویدمسیحا مجسم بن کر دنیا میں ظاہر ہوگی۔ (محبوب خدا: ص20)

•اسی طرح ابوالکلام آزاد نے “رسول حرمت” اور ڈاکٹر اسرار احمد نے “رسول کامل” صفحہ 23 اور حفظ الرحمن سوہیاروی نے قصص القرآن جلد 4 میں 9 ربیع الاول کو پیدائش کا دن قرار دیا ہے۔

4۔ چوتھاقول: 10 ربیع الاوّل

• ابن سعد نے لکھا ہے کہ :ماہ ربیع الاول کی 10 راتیں گذریں تھیں کہ دوشنبہ کے دن رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ (الطبقات الکبری لابن سعد: ص82)

5۔ پانچواں قول: 12 ربیع الاوّل

اور جن مورخین نے نبی ﷺ کی تاریخ ولادت12 ربیع الاول کو راجح کہا ہے ان کی تفصیل درج ذیل ہے :

علامہ ابن کثیر﷫ لکھتے ہیں کہ

ابن اسحق اور ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں لکھا ہے کہ ابن عباس سے روایت ہے کہ آپﷺعام الفیل میں12 ربیع الاول کو پیر کے دن پیدا ہوئے۔’’مزید کہا کہ یہی جمہور اہل علم کے یہاں بھی مشہور ہے ،و اللہ اعلم۔‘‘ (البدايۃ والنہایہ: 3؍ 375)

•محمود احمد رضوی نے لکھا ہے:

’’ واقعہ فیل کے پچپن روز کے بعد 12 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571ء کو رسول ﷺ کی ولادت ہوئی۔‘‘ (دین مصطفیٰ ص:84)

•پیر کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:

’’ 12 ربیع الاول کو رسول ﷺ رونق افروز گیتی ہوئے۔‘‘ (ضیاء القرآن: 5؍665)

12 ربیع الاول کی صبح صادق کے وقت مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کی ولادت ہوئی۔ (تبرکات صدر الافضل، ص:199)

6۔ چھٹا قول: 10 محرّم

جبکہ شیخ عبد القادر الجیلانی رحمہ اللہ نے آپ ﷺ کی پیدائش کی تاریخ10 محرم الحرام لکھی ہے ۔ (غنیۃ الطالبین : 2 ؍121)

مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر میلاد کا دن منانا عبادت ہوتا یا کم از کم جائز ہی ہوتا تو مؤرخین اور علماء اہل سنت کا اس میں اتنا اختلاف نہ ہوتا اور اگر فرضاً مان بھی لیا جائے کہ آپ ﷺ کی ولادت کی تاریخ12ربیع الاول ہی ہو جبکہ اس میں مؤرخین کا شدید اختلاف ہے،تو یہ بھی معلو م ہونا چاہئے کہ :

یہی تاریخ آپﷺکی “تاریخِ وفات”بھی ہے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ملاحظہ فرمائیں:

تاریخ وفاتِ رسولﷺ !

امام طبری﷫ نے لکھا ہے کہ

امام واقدی﷫ اور امام جعفر﷫ نے فرمایا کہ آپ ﷺ12ربیع الاول کو وفات فرماگئے ۔ (تاريخ الطبری: 3؍200)

امام ابن جوزی﷫ فرماتے ہیں :

آپ ﷺ12ربیع الاول پیر کے دن دوپہر وفات پا گئے ۔ (المنتظم في تاريخ الأمم والملوك : 4؍40)

اسی طرح سیدنا ابن عباس اور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے بھی اسی تاریخ کی توثیق ہوتی ہے۔ (الطبقات الكبرىٰ:2؍202)

لہٰذا مسلمان اس دن جشن یا عید کس طرح مناسکتے ہیں؟

اگر کوئی انسان کسی تاریخ کو پیدا ہو اہو، اور اسی تاریخ پر اس کی وفات ہوئی ہو تواس دن سوگ منایا جائے گا نہ کہ خوشی !

جس دن آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس دن کو تو صحابہ نے اپنی زندگی کا المناک دن سمجھا ہے ۔

جیسا کہ بخاری شریف میں آتا ہے :

سیدنا عمر بن خطاب کا موقف :

سیدناعروہ بن زبیر ،سیدہ عائشہ زوجہ محترمہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ جب رسول اکرمﷺ نے وفات پائی تو سیدنا ابوبکر مقام سخ میں تھے۔

(راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ سخ مدینہ کے بالائی حصہ میں ایک مقام ہے)

سیدناعمر یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوئے کہ واللہ، رسول اللہﷺ کی وفات نہیں ہوئی۔ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ سیدنا عمر فرماتے تھے واللہ ،میرے دل میں بھی یہی تھا کہ یقینا ًاللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اٹھائے گا اور آپ ﷺچند لوگوں کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالیں گے،

اتنے میں سیدنا ابوبکر آ گئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ انور کھولا آپ ﷺ کا بوسہ لیا اور فرمایا: ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں آپ ﷺ حیات و ممات میں پاکیزہ ہیں اُس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے وہ آپ کو دو موتوں کا مزہ کبھی نہیں چکھائے گا (یہ کہہ کر) پھر اس کے بعد باہر آ گئے اور عمر سےفرمایا:

اے قسم کھانے والے صبر کرو ۔جب سیدنا ابوبکر باتیں کرنے لگے توسیدنا عمر بیٹھ گئے۔ پھرسیدنا ابوبکر نےاللہ کی حمد و ثناء بیان کی اور کہا خبردار ہو جاؤ جو لوگ محمد ﷺ کی عبادت کرتے تھے تو ان کو معلوم ہو کہ آپ کا انتقال ہو گیاہے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں وہ مطمئن رہیں کہ اُن کا رب زندہ ہے جس کو کبھی موت نہیں آئے گی اور(قرٓن کریم کی آیت دلیل کے طور پر بیان فرمائی) فرمایا:اللہ کا ارشاد ہے کہ

’’ آپ ﷺ یقینا مر جائیں گے اور یہ لوگ بھی مر جائیں گے اور محمد ﷺ تو ایک رسول ہیں۔

آپﷺ سے پیشتر بھی بہت سے رسول گزر چکے اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو کیا تم مرتد ہو جاؤ گے؟ اور جو شخص مرتد ہو جائے گا وہ خدا تعالیٰ کو ہرگز کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا اور اللہ تعالیٰ شکر گزار لوگوں کو اچھا بدلہ دے گا۔‘‘ سب لوگ (یہ سن کر) بے اختیار رونے لگے۔

سیدنا انس بن مالک فرماتے ہیں کہ

’’جس دن رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اس دن سے زیادہ قبیح اور تاریک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ (دارمی ، مشکوۃ: 2؍540)

تو اس دن کو تو صحابہ کرام نے تاریک دن سے تشبیہ دی ہے ۔

ابن الحاج کہتے ہیں :

میرے تعجب کی تو حد ہی نہیں کہ کیسے یہ لوگ ’’ میلاد ‘‘مناتے ہیں اور اس میں نغمے گاتے اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اسے میلاد مصطفیٰ ﷺسمجھتے ہیں جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اسی مہینہ مبارکہ میں آپﷺ اپنے کریم رب کی طرف تشریف لے گئے تھے اور امت کواچانک دھچکہ لگا اور اُ ن پر عظیم مصیبت آن پڑی جس کی کوئی مثال نہیں ،ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر انسان کے دل میں اس دن غم کی سی کیفیت ہونی چاہئے اور اُسے رونا چاہیے، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس دن بہت سے عجیب قسم کے رقص اور کھیل تماشہ برپا کئے جاتے ہیں اور نبی ﷺ کے فراق میں نہ ہی کوئی غم کرتا ہے اور نہ ہی روتا ہے۔ (المدخل لابن الحاج :2؍ 15)

میلادالنبی ﷺ کے نام پر جشن و عید کی ابتداء

عہد ِنبوی ﷺ عہدِصحابہ ،نیزتابعین عظام ﷭ اوران کے بعدکے ادوارمیں ”عید میلاد”کاکوئی تصورنہیں تھا، رسول اللہ ﷺ خود 63 سا ل کم و بیش حیات رہے اور سب سے آخری صحابیِ رسول نے 93ھ میں وفات پائی اور ان 143 سال میں کسی سے بھی 12ربیع الاول کو عید منانا ثابت نہیں۔

کیا صحابہ کرام ، تابعین و تبع تابعین و ائمہ کرام﷭ کو رسول اللہﷺ کی ولادت کی خوشی نہیں تھی ؟

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ بدعت بہت بعدمیں ایجادہوئی یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کاانکارمیلاد منانے والے بھی نہیں کرسکتے ۔

لہٰذاجب یہ بات مسلم ہے کہ اس عمل کی ایجاد بعد میں ہوئی توہمیں یہ ضرور پتہ لگاناچاہئے کہ اس کی ایجاد کب ہوئی ؟اور اسے ایجاد کرنے والے کون لوگ تھے ؟

اس سلسلے میں جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ اس بدعت کی ایجاد فاطمی دور(362ھ تا 567ھ )کے دوران ہوئی۔

اور اسے ایجاد کرنے والے بھی فاطمی خلفاء ہی تھے، اہل السنہ کے ائمہ نہیں۔

علامہ مقریزی لکھتے ہیں:

فاطمی خلفاء کے یہاں سال بھرمیں کئی طرح کے جشن اورمحفلوں کاانعقاد ہوتاتھااوروہ یہ ہیں :

سال کے اختتام کاجشن ،نئے سال کاجشن،یوم عاشوراء کاجشن،اورمیلاد النبی ﷺ کاجشن۔ (الخطط المقریزیہ: 1؍495)

یہی بات علامہ احمد قلشقندی ﷫ نے بھی لکھی ہے ۔ (صبح الأعشی : 3؍498،499)

مولاناسید سلیمان ندوی ﷫ لکھتے ہیں :

”اسلام میں میلاد کی مجلسو ں کارواج غالباًچوتھی صدی سے ہوا۔ (سیرة النبی : 3؍664)

مذکورہ حوالوں سے معلوم ہواکہ

”عید میلاد” فاطمی دور(362ھ تا 567ھ کے درمیان ) میں ایجاد ہوئی اور اسے ایجاد کرنے والے فاطمی خلفاء ہی تھے ۔ (البدع الحولیہ: ص137 تا151۔ اردو مترجم ’’ اسلام مہینوں کی بدعات‘‘)

فاطمی خلفاء کی حقیقت

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس بدعت کوایجاد کرنے والے فاطمی خلفاء کون تھے ؟

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ فاطمی خلفاء، آپ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ کی نسل سے ہرگز نہیں تھے بلکہ یہ اپنی نسبت تو سیدہ فاطمہ کی طرف کرتے تھے تاکہ لوگوں کو اہلِ بیت کا نام لیکر دھوکے میں مبتلا کیا جاسکے اور در حقیقت یہ لوگ یہودیوں اورمجوسیوں کی نسل سےتھے اور اسلام کے کٹر دشمن تھے ،انہوں نے اسلام کومٹانے کے لئے اسلام کالبادہ اوڑھ لیااور سراسر جھوٹ اور فریب کا سہارالیتے ہوئے اپنے آپ کوفاطمی النسل ظاہر کیا،لیکن علماء ِوقت نے ان کے اس جھوٹ کاپردہ چاک کردیااور صاف اعلان کردیاکہ یہ لوگ فاطمی النسل ہرگز نہیں ہیں ۔

چنانچہ علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں:

”واہل العلم بالأنساب من المحققین ینکرون دعواہ فی النسب”علم انساب کے ماہرین علماء نے ان کے فاطمی النسل ہونے کے دعوی کی تردید کی ہے۔ (وفیات الأعیان: 3 ؍117، 118)

بلکہ 402ھ میں تو اہلِ سنت کے اکابرکی ایک میٹینگ ہوئی جس میں چوٹی کے محدثین ،فقہاء،قاضیان اور دیگر بزرگان نے شرکت کی اور سب نے متفقہ طور پریہ فیصلہ دیا کہ

خود کوفاطمی النسل ظاہرکرنے والے خلفاء جھوٹے اورمکار ہیں اہل ِبیت سے ان کاکوئی تعلق نہیں ہے ،پھرعلماء کے اس متفقہ فیصلہ کوتحریری شکل میں لکھاگیااورتمام حاضرین نے اس پردستخط کئے۔ (البدایہ و النھایہ: 11؍360،361، اور اس کا اردو ترجمہ تاریخ ابن کثیر: 11؍779 ،780)

علماء کی اس متفقہ تحریر میں فاطمیوں کی حقیقت ان الفاظ میں واضح کی گئی ہے :

”مصر کایہ بادشاہ حاکم اوراس کے تمام اگلے سربراہان، کافر،فاجر،فاسق،ملحد، زندیق،فرقہ معطلہ سے تعلق رکھنے والے ، اسلام کے منکر اورمذہب مجوسیت اور ثنویت (بت پرستی) کے معتقد تھے۔ان تمام لوگو ں نے حدود شرعیہ کوبے کارکردیاتھاحرام کاریوں کو مباح کردیاتھا،مسلمانوں کاخون بے دردی سے بہایا، انبیاء کرام﷩ کو گالیاں دیں، اسلاف پرلعنتیں بھیجیں ،خدائی کے دعوے کئے یہ ساری باتیں 402ھ میں ہرطبقہ کے بے شمارآدمیوں کی موجودگی میں لکھی گئی ہیں۔۔۔اور بہت سے لوگو ں نے اس میں دستخط کئے ہیں اسی پر بس نہیں بلکہ بعض علماء نے اپنی بعض کتابوں میں ان کے کفروفسق پرخصوصی بحث کی ہے مثلاً :

امام غزالی﷫ نے اپنی کتاب ’فضائح الباطنیہ‘میں ایک خصوصی بحث کرتے ہوئے انہیں خالص کافر قرار دیا۔ (فضائح الباطنیہ : 1؍37)

بلکہ بعض علماء نے توان کے خلاف مستقل کتاب لکھ ڈالی ہے مثلاً: امام قاضی ابوبکر الباقلانی﷫نے کتاب لکھی اور اس میں ثابت کیاکہ فاطمی مجوسیوں کی اولاد ہیں اور ان کامذہب یہودونصاری کے مذہب سے بھی بدتر ہے۔ (کشف الا ستار و ہتک الاستار(مزید دیکھئے کتاب البدایہ و النہایہ: 15؍537۔ 540)

یہ توعلماء اہل سنت کافیصلہ ہے ،لطف تو یہ ہے کہ وہ معتزلہ اور شیعہ جوسیدناعلی سےافضل کسی کو نہیں سمجھتے انہوں نے بھی فاطمیوں کوکافر اورمنافق قرار دیاہے۔ (مجموع فتاوی ابن تیمیہ: 35؍129)

الغرض یہ کہ جمہور امت نے انہیں کافروفاسق قرار دیاہے۔

علامہ ابن تیمیہ ﷫ لکھتے ہیں:

’’ اسی طرح فاطمیوں کانسب بھی جھوٹا ہے اوریہ بات سب کومعلوم ہے کہ جمہور امت فاطمیوں کے نسب کوغلط قراردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ مجوسیوں یا یہودیوں کی اولاد ہیں ،یہ بات مشہور ومعروف ہے اس کی گواہی حنفیہ، مالکیہ ،شافعیہ،حنابلہ،اہل حدیث، اہل کلام کے علماء،نسب کے ماہرین اورعوام وخواص سب دیتے ہیں۔‘‘ (مجموع فتاوی ابن تیمیہ: 35؍ 128)

مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ’عید میلاد‘ کی ایجاد کرنے والے مسلمان نہ تھے بلکہ یہ یہودیوں اور مجوسیوں کی ایجاد ہے انہوں نے گہری سازش کر کے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور اپنی حقیقت چھپانے اور عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے خود کوفاطمی النسل کہااور اپنے اس دعوی کو مضبوط بنانے کے لئے محبّت کے نام پر ’عیدِ میلاد‘ کی رسم ایجاد کی ، تاکہ لوگوں کویقین ہوجائے کہ واقعی یہ لوگ اہل ِبیت میں سے ہیں ۔

مسلمانوں میں اس بدعت کارواج

فاطمی دور کے مسلمانوں نے فاطمیوں کی ایجادکردہ بدعت کوقبول نہیں کیااور یہ بدعت صرف فاطمی خلفاء ہی تک محدود رہی ۔لیکن تقریباًدوسوسال کے بعد”عمربن محمد” نام کاایک مُلا اورمجہول الحال شخص ظاہر ہوااور اس نے اس فاطمی بدعت کی تجدیدکی اور ”ابوسعید الملک المعظم مظفرالدین بن زین الدین کوکبوری”نامی بادشاہ جوایک عیّاش اوربداخلاق بادشاہ تھا اورلہولعب، گانے ،باجےکی محافل میں مشغول رہنا اس کا مشغلہ تھا،بلکہ وہ صرف نچاتا ہی نہیں ، خودبھی ناچتا تھا،اس بداخلاق بادشاہ نے اس بدعت کومسلمانوں میں رائج کیا۔ (تاریخ مرآة الزمان، وفیات الأعیان بحوالہ تاریخ میلاد: ص25،26)

اس کے بعد ”ابو الخطاب بن دحیہ” نامی ایک کذاب اور بددماغ شخص نے بادشاہ کوخوش کرنے کے لئے اس موضوع پرایک کتاب لکھ ڈالی ،پوری دنیامیں اس موضوع پریہ پہلی کتاب ہے اس مؤلف کو تمام ائمہ کرام نے متفقہ طور پر کذاب (حد سے زیادہ جھوٹا) کہا ہے ۔

ابن نجار کہتے ہیں:

’’تمام لوگوں کااس بات پراتفاق ہے کہ ابن دحیہ جھوٹااور حدیثیں گھڑنے والاہے اوریہ اس شخص سے روایت سننے کادعوی کرتا جس سے اس نے ہر گز نہیں سنا اور اس شخص سے ملاقات کادعوی کرتا جس سے وہ ہرگز نہیں ملا۔‘‘ (لسان المیزان: 4؍295)

اور حافظ ابن حجر﷫ اس کے بارےمیں محدثین کافیصلہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ابن دحیہ ائمہ اورسلف کی شان میں گستاخی کرنے والا تھا، یہ بدزبان ،احمق اوربڑامتکبر تھا۔‘‘ (لسان المیزان: 4؍296)

اورحافظ سیوطی﷫ لکھتے ہیں:

”ابن دحیہ اپنی عقل سے فتوی دے دیتاپھراس کی دلیل تلاش کرنے لگ جاتااورجب اسے کوئی دلیل نہ ملتی تو اپنی طرف سے حدیث گھڑ کے پیش کر دیتا، مغرب کی نماز میں قصر کرنے کی حدیث اسی نے گھڑی ہے۔‘‘ (تدریب الراوی: 1؍286)

قارئین کرام!

یہ ہے ”جشن و عید میلاد” کی تاریخ :

جو فاطمیوں کے دور کی ایجاد ہے، اور اسے مسلمانوں میں رائج کرنے والے عیاش ،فاسق و فاجر ،گانے، باجے و شراب کے رسیا ،انتہائی بداخلاق حکمران تھے، اور اس سے متعلّقہ روایات کو گھڑنے والےراوی، ائمہ کرام و محدّثین کے نزدیک انتہائی جھوٹے ، کذّاب اور وضاع تھے ا ور اسے مسلمانوں میں ترویج دینے والےنام نہاد وحکمرانوں کا قرب رکھنے والےمُلا تھے ،اگر کوئی بھی صرف انہی باتوں پرغور کرلے تووہ یقینا ًیہی فیصلہ کرے گاکہ اسلام میں اس عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور سب سے بڑھ کر اگر اس عمل کا تعلق اللہ یا اُس کے رسول ﷺکی محبّت سے ہوتا تو وہ اصحابِ محمد رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہوں نے اپنی جانوں کو اللہ اور اُس کے رسولﷺکے لیے قربان کردیا ، وہ کم از ایک مرتبہ تو علی الاعلان یا خفیہ کبھی بھی میلادِ مصطفی ﷺ کے موقع پر جشن مناتے ، جلسہ جلوس نکالتے ، تقاریب منعقد کرتے ، ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے وغیرہ وغیرہ جس کا ثبوت کوئی بھی کسی بھی معتبر حدیث و تاریخ کی کتاب میں صحیح سند سے ثابت شدہ روایت میں نہیں دکھا سکتا۔

’عید میلاد ‘ کی شرعی حیثیت

قرآن و حدیث کی رو سے اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ ”عیدمیلاد” بدعات میں سے ایک بدترین بدعت ہے ،بہت سارے لوگوں کویہ غلط فہمی ہے کہ قران وحدیث میں اگرعید میلاد کاحکم نہیں ہے تو اس کی ممانعت بھی نہیں ہے ،حالانکہ یہ غلط خیال ہے کیونکہ عید میلاد کی ممانعت اور اس کابطلان قرا ن وحدیث دونوں میں موجودہے لیکن قران وحدیث کی یہ دلائل دیکھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ

قران وحدیث میں بعض چیزوں کوعام طورپرباطل قرار دیاگیاہے اورکسی خاص چیز کانام نہیں لیاگیاہے۔ لہٰذا یہاں یہ نہیں سمجھناچاہئے کی اس کی ممانعت قرآن وحدیث میں نہیں ہے ،مثال کے طور پر پوری امت کے نزدیک کافرقراردئے گئے ”مرزاغلام احمدقادیانی ”کانام قران وحدیث میں کہیں نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود پوری امت کامانناہے کہ قران وحدیث کی روسے قادیانی کی نبوت باطل ہے ،کیونکہ قرآن میں جویہ کہاگیاکہ

آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں یعنی آپﷺ کے بعد جوبھی نبوت کادعوی کرے گااس کی نبوت باطل ہے تواس بطلان میں قادیانی کی نبوت بھی شامل ہے ۔

اسی طرح حدیث میں آپ ﷺ کاارشاد ہے کہ

میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا یعنی آپﷺکے بعد جوبھی نبوت کادعوی کرے گااس کی نبوت باطل ہے تواس بطلان میں قادیانی کی نبوت بھی شامل ہے۔ٹھیک اسی طرح عید میلاد بھی قرآن وحدیث کی رو سے باطل ہے ۔

چنانچہ فرمان باری تعالی ہے کہ

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾

(سورۃ المائدة : 3)

’’آج میں نے تمہارادین مکمل کردیا۔‘‘

یعنی اب اگرکوئی دین میں کسی نئی چیز کادعوی کرے گاتو وہ باطل ہے ،عید میلاد بھی دین میں نئی چیزہے لہٰذاقرآن کی اس آیت کی روشنی میں باطل ہے۔

اسی طرح سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:

’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے‘‘(یعنی اُس کا وہ عمل بھی اور وہ خود بھی مردود ہیں۔) (صحیح بخاری: 2518)

اور عید میلادبھی دین میں نئی چیز ہے لہٰذا اس حدیث کی روشنی میں باطل ہے ۔

نیز اللہ تعالیٰ کایہ بھی ارشاد ہے کہ

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ﴾ (سورۃ الحجرات : 1)

’’اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے آگے مت بڑھو۔‘‘

یعنی دین میں جس عمل کاحکم اللہ اور اس کے رسولﷺ نہ دیں اسے مت کرو،اورجو دینی عمل خود پیغمبرﷺ نے نہیں کیا وہ تم بھی نہ کرو،عیدمیلاد منانے کاحکم نہ اللہ نے دیااور نہ ہی اس کے رسول ﷺنے، اور یہ عمل بھی اللہ کے رسولﷺ نے نہیں کیا۔ لہٰذاقرآن کی اس آیت کی رو سے بھی عیدمیلاد کی ممانعت واضح ہوتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ پس جو شخص تم میں سے میرے بعد زندہ رہے گا تو عنقریب وہ بہت زیادہ اختلافات دیکھے گا پس تم پر لازم ہے کہ تم میری سنت اور خلفائے راشدین جو کہ ہدایت یافتہ ہیں کی سنت کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور اسے نواجذ (ڈاڑھوں) سے محفوظ پکڑ کر رکھو اور دین میں نئے امور نکالنے سے بچتے رہو کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے۔‘‘ (سنن ابوداؤد: 1198)

یعنی دین میں جس عمل کاحکم نہ ہواسے مت کرو۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ عید میلاد قران وحدیث کی روشنی میں باطل اور ممنوع ہے ۔لہٰذا اب یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ عید میلاد منانے کاحکم نہیں ہے تواس سے منع بھی نہیں کیاگیاہے کیونکہ قران و حدیث سے اس کابطلان اوراس کی ممانعت گذشتہ سطور میں واضح کردی گئی ہے ۔

واضح رہے کہ جہاں تک رسول اکرم ﷺ سے محبت کاتعلق ہے تو اس سے کسی کوانکار نہیں ،بلکہ حدیث رسو ل ﷺ کے مطابق ہماراعقیدہ تویہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ اللہ کے رسول ﷺ اس کے نزدیک تمام چیزوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں ،لیکن محبت کاطریقہ بھی کتاب وسنت اور عمل صحابہ سے ثابت ہوناچاہئے ۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ صحابہ سب سے زیادہ اللہ کے نبی ﷺ سے محبت کرنے والے اور آپ ﷺ کی اتباع اور سنت کو جاننے میں سب سے زیادہ حریص تھے اور اس محبت اور حرص سنت کے باوجود تاریخ میں ان سے اور ان کے بعد والے اچھے دور (قرون الفاضلہ ) میں سے کسی سے میلا د منانے کا ایک واقعہ بھی ثابت نہیں جو اس کے جائز ہونے پر دلالت کرے۔بلکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت تو ان کی سنت سے محبت کے ساتھ لازم وملزوم ہے۔

چناچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ﴾

اگر وہ تم جیسا یعنی (صحابہ جیسا)ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منہ موڑیں تو وہ صریح اختلاف میں ہیں۔ ‘‘(سورة البقرة : 137)

ایک اور فرمان ہے:

﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

(سورۃ النور : 63)

’’سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔‘‘

ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کیا ہے سیدنا عمر نے پوچھا کہ پیر کے دن اور جمعرات کے دن کا روزہ رکھنا کیسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس دن (یعنی پیر کے دن) میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر قرآن نازل کیا گیا۔ (یعنی شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھنا پسندیدہ ہے، جوکہ ایک مسنون عبادت ہے۔) (سنن ابوداؤد: 2426)

یہ بھی جان لیں کہ رسول اللہ ﷺہر پیر کے دن کا روزہ دو وجوہات کی بناء پر رکھتے:

ایک وجہ یہ کہ آپ ﷺ اس دن پیدا ہوئے اور دوسرا اسی دن آ پﷺپر قرآن نازل کیاگیا اور یہ روزہ 12ربیع الاول کو نہیں رکھتے تھے بلکہ ہر پیر (سوموار ) کو رکھتے تھے ،یہ تھا رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ا و رسنت جبکہ آج کا میلاد!کیا کوئی روزہ رکھتا ہے؟یہاں تو قسم قسم کے کھانے اور طعام و شراباور مختلف انواع و اقسام کی ڈشز کا اہتمام کیا جاتا ہے کیا یہ آپ ﷺ کی اطاعت ہے یا مخالفت ؟یہ محبت ہے یا۔۔۔؟رسول اللہ ﷺاپنے ولادت کے دن اپنے رب کے لئے بھوکے پیاسے رہیں اورمیلاد منانے والے ؟

بدعتِ میلاد پر چند اہم اقوالِ سلف

شیخ عبد الرحمن مغربی حنفی اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں کہ

محفل میلادا منعقد کرنا بدعت ہے ۔رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین اور ائمہ کرام نے نہ تو ایسا کرنے کو فرمایا اور نہ خود ایسا کیا ۔‘‘ (اللجنہ لاہل السنہ: ص 177)

امام ابو عبد اللہ ابن الحاض مالکی ﷫ اپنی کتاب ’’مدخل ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ

’’ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو جو محفل میؒد قائم ہوتی ہے باوجود اس کے کہ یہ بذات خود بدعت ہے مگر اس میں بھی لوگوں نے خرافات و محرمات کا بہت اضافہ کر رکھا ہے کہیں سماع ہے کہیں غزل و نعتوں سے محفل کو آراستہ کیا جاتا ہے ۔بغیر فرش و فروش ودیگر اسباب زیب و زینت ،آرائش و شرینی اور جھاڑ و فانوس تہ یہ محض پھیکی بلکہ ناروا سمجھی جاتی ہے ۔ اسراف و فضول خرچی تو اسکی اول شرط ہے جب تک من گھڑت قصہ جات و بے سرو پا حکایات کا تذکرہ نہ ہو تو مجلس ہرگز بارونق نہیں ہوتی ۔پھر اس پر طرہ یہ کہ کی اس محفل کو کار خیر اور موجب برکت سمجھا جاتا ہے ’’افسوس صد افسوس !‘‘

علامہ تاج الدین الفاکہانی مالکی اپنے رسالہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ

’’اس محفل میلاد کا قرآن و حدیث و امت محمدیہ کے ائمہ سے تو ہر گز کچھ پتہ نہیں چلتا ہاں شہوت پرست اور اکل و شرب کا الو سیدھا کرنے والوں کی یہ ایجاد البتہ ضرور ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا لازم وضروری ہے ۔‘‘

امام ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد المجید مالکی اپنی کتاب ’’تکملۃ التفسیر ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ

’’ماہ ربیع الاول میں جو محفل مولد قائم ہوتی ہیں علماء کو اس کی خوب زور سے تردید کرنی چاہئے۔‘‘

علامہ محمد بن ابی بکر محرومی مالکی اپنی کتاب ’’البدع والحوادث ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ

ہمارے زمانے میں بعض لالچی اور دنیادار مولوی میلاد کے نام سے ایک محفل قائم کرتے ہیں یہ نہایت ہی گندی رسم اور تباہ کن بدعت ہے گزشتہ امتوں کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ایسی ہی بدعتیں ہیں اور یہ امت بھی احداث بدعت میں تباہ ہوگی ۔‘‘

علامہ ابو الحسن علی بن فضل مقدسی مالکی اپنی کتاب ’’جامع المسائل ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ

“محفل میلاد کا احداث تو قرون ثلاثہ کے بعد ہوا ہے سلف الصالحین سے اس کا جواز ہرگز ثابت نہیں پس ہم پر سلف صالحین کی اقتداء لازم ہے ۔ احداث وبدعت کی کچھ ضرورت نہیں ہے ۔‘‘

علامہ علاؤالدین بن اسمعیل الشافعی﷫ اپنی کتاب ’’البعث و النشور ‘‘ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ

’’ محفل میلاد قائم کرنے والوں کی خوب تردید ہونی چاہئے۔‘‘

امام نصیر الدین الشافعی﷫ نے فرمایا کہ

محفل میلاد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ سلف الصالحین سے ایسا منقول نہیں ہے بلکہ یہ عمل قرون ثلاثہ کے بعد برے زمانے میں ہوا۔‘‘ (اللجنہ لاہل السنہ: ص 177)

علامہ حسن بن علی کتاب’’ طریقہ السنہ ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ

جاہل صوفیوں نے ماہ ربیع الاول میں عید میلاد نکالی ہے شریعت میں اسکا کچھ اصل نہیں ہے بلکہ یہ بدعت ہے۔ ‘‘ (اللجنہ لاہل السنہ: ص177)

علامہ ابن الحاج المالکی فرماتے ہیں کہ

’’ ان تمام بدعت میں سے جن لوگوں نے عقیدتا ً بڑی عبادت اور دین کی واضح علامت سمجھ کر ایجاد کیا ہے ۔ ان میں عید میلاد النبی ﷺ بھی ہے جو وہ ماہ ربیع ا لاول میں مناتے ہیں حالانکہ وہ بہت سی بدعات ومحرمات پر مشتمل ہے ۔‘‘

علامہ احمد بن محمد مصری المالکی اپنی کتاب ’’القول المعتمد ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ

چاروں مذاہب کے علماء اس عید میلاد کی مذمت پر متفق ہیں۔ ‘‘ ( اللجنہ لاہل السنہ: ص178)

علامہ احمد بن حسن اپنے ملفوظات میں حافظ ابوبکر عبدا لغنی بغدادی حنفی کے فتاوی سے ناقل ہیں کہ

محفل میلاد کا جواز جب سلف الصالح سے ثابت ہی نہیں تو پھر ہم سلف الصالح سے بڑھ کر تو نہیں کہ خیر وبرکت کے لئے جمع ہوکر محفل میلاد قائم کریں ۔‘‘

امام ربانی مجدد الف الثانی شیخ احمد سرہندی اپنے مکتوبات کے 223 ویں مکتوبات میں مرزا حسام الدین احمد کے مراسلہ کا جواب فرماتے ہیں کہ

’’آپ کو لکھا جاچکا ہے کہ سماع کے منع ہونے کا معاملہ میلاد کے منع ہونے کو بھی شامل ہے جو نعتیہ قصیدوں اور غیر نعتیہ شعروں کے پڑھنے سے مراد ہے ۔ اگر بالفرض سیدناذیشان قدس سرہ اس وقت دنیا میں زندہ ہوتے اور یہ مجلس و اجتماع ان کی موجودگی میں منعقد ہوتی تو آیاآپ ﷺ اس اجتماع کو پسند کرتے ؟ فقیر کا یقین ہے کہ آپ ﷺ قدس سرہ ہرگز اس امر کو پسند نہ فرماتے بلکہ انکار کرتے ۔‘‘ ( مکتوبات:273)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں کہ

دیگر بدعات کی طرح محفل میلاد بھی صریح بدعت ہے اس کے موجدوں نے عیسائیوں کی چال پر میلاد عیسی کی طرح اپنے نبی سے محبت ظاہر کرتے ہوئے آپ ﷺ کی محفل مولد قائم کردی حالانکہ علماء کو آپ ﷺ کی تاریخ ولادت بھی یقینی طور پر معلوم نہیں پھر اس محفل کا سلف الصالح سے بھی کچھ ثبوت نہیں ملتا اگر یہ کار خیر ہوتی تو ضرور علمائے سلف اسے قائم کرتے کیونکہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی محبت میں ہم لوگوں سے بڑھ کر حصہ لیتے تھے پس جب اس محفل کا سلف الصالحین سے بھی کچھ ثبوت نہیں ملتا تو پھر اس کے احداث کی کچھ بھی ضرورت نہیں۔ (اقتضاء صراط مستقیم: ص 234)

فرقہ بریلویہ کے مولولی عبد السمیع رامپوری خلیفہ مولوی احمد رضاخان بریلوی لکھتے ہیں کہ

’’یہ سامان فرحت و سرور اور وہ بھی مخصوص مہینے ربیع الاول کے ساتھ اور اس میں خاص وہی بارہواں دن میلاد شریف کا متعین کرنا بعد میں ہوا یعنی چھٹی صدی کے آخر میں۔ ‘‘ ( انوار ساطعہ : ص 159)

محمد الصالحی الشامی جو السيوطی کے شاگرد تھے اورامام السخاوی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں لکھا ہے کہ

’’میلاد منانا قرونِ ثلاثہ (ابتدائی تین صدیاں) میں کسی بھی سلف سے منقول نہیں بلکہ یہ اس کے بعد شروع ہوا۔‘‘ (سبل الہدی و لارشاد فی سیرۃ خیر العباد: 1؍439)

اور اسی طرح ملا علی القاری الحنفی نے بھی اپنی کتاب ’’المورد الروی فی المولد النبوی‘‘ میں لکھا ہے ۔ (المورد الروی فی المولد النبوی: ص 24)

حرف آخر !

علامہ تاج الدین عمر بن علی فاکہانی مالکی رحمہ اللہ سے میلاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو جواب میں آپ نے فرمایا:

مجھے اس میلاد کی کوئی اصل(دلیل) کتاب و سنت میں نہیں ملتی اور علماء امت میں سے کسی کا اس پر عمل منقول نہیں ہے جو دین کے رہنما اور سلف متقدمین کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں بلکہ یہ بدعت ہے جس کو اہل باطل نے نکالا ہے اور ،جس کی طرف پیٹ کے پجاریوں نے اہتمام کیا ہے ،اس کی دلیل یہ ہے کہ جب ہم اس پر شریعت کے پانچوں احکام کو تطبیق دیتے ہیں تو یہ واجب ہے یا مندوب ہے، مباح ہے یا مکروہ ہے یا حرام ہے ،واجب تویہ باالجماع نہیں ہے ۔ اور نہ مندوب ہے۔ وہ اس لئے کہ مندوب کی حقیقت یہ ہے کہ’’ شریعت اس کو طلب کرے ،اور اس کو ترک کرنے پر گناہ نہ ہو۔‘‘ اور اس کی نہ شریعت نے اجازت دی نہ صحابہ نےاس پر عمل کیا اور نہ تابعین نے اور نہ علمائے با عمل نے ،اور نہ اس کا مباح ہونا ممکن ہے ،کیونکہ دین میں نئی بات داخل کرنا بالاجماع مباح نہیں ہے ،تو اب مکروہ یا حرام ہونے کے علاوہ کوئی اور صورت باقی نہ رہی ۔‘‘

حرف آخر یہ کہ

ہم اللہ کے پیارےر سولﷺ سے محبت کرتے ہیں تو صرف ان اعمال کو بجالائیں جو ہم سے شریعت نےطلب کئے ہیں تو محبت کا دعویٰ سچ ہوجائےگا،جیسے اللہ تعالی کافرمان ہے:

﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ 0 قُلْ أَطِيعُوا اللَّـهَ وَالرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ﴾(سورۃ آل عمران : 31۔32)

’’کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بےشک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

سب سے بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے۔ سب سے بری چیز (دین میں) نئی چیز پیدا کرنا ہے اور ہر نئی چیز بدعت ہے ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائے گی۔‘‘ ( المورد الروی فی المولد النبوی: ص 24)

ایک اور حدیث میں آپ ﷺنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا :

’’بلاشبہ اس امت کی عافیت اس کے شروع میں ہے اور اس کے آخر میں شدید مصیبتیں ہیں اور ایسے کام ہوں گے اگر تم انہیں دیکھ لو توتم انکار کردو گے۔‘‘ (سنن نسائی: 1581)

الّٰلهم أرنا الحق حقا وارزقنا إتباعه وأرنا الباطل باطلا و ارزقانا إجتنابه.

و صلی اللہ تعالی علی خیر خلقه محمد ﷺ و علی أله و أصحابه أجمعین

٭٭٭

تبصرہ کریں