دنیا کی فریب کاری اور آخرت کی مسرت وشادمانی۔ خطیب: فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمد البدیر حفظہ اللہ

پہلا خطبہ

ہر قسم کی حمدوثنا اس پروردگار کے لیے ہے جس کی تعریف کرنے سے منہ کو تازگی اور رونق نصیب ہوتی ہے، اس کی عظمت وجلال کے سامنے سب کی پیشانیاں جھکی ہوئی ہیں، ہر طرح سے کامل واکمل اور شامل واشمل حمدوثنا کے لائق وہی پروردگار ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک کےسوا کوئی الٰہ نہیں، جو وہ بنا دے، اسے کوئی گرا نہیں سکتا، جسے وہ گرا دے اسے کوئی اٹھا نہیں سکتا، جسے وہ نواز دے اسےکوئی روک نہیں سکتا اور جو وہ فیصلہ فرما دے اسے کوئی رد نہیں کر سکتا۔

میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے پیارے سردار نبی حضرتِ محمدﷺ اللہ کے بندے اور چنیدہ رسول ہیں:

صلى الإله وكل عبد صالح            والطيبون على السراج الواضح

المصطفى خير الأنام محمد              الطاهر العلم الضياء اللائح

زينُ الأنام المصطفى عَلَم الهدى        الصادق البَرّ التقي الناصح

صلى عليه الله ما هبَّ الصَّبا          وتجاوبت وِرقُ الحَمام النائح

اللہ تعالی ، ہر نیک وصالح بندہ اور طیب وطاہر فرشتے حضرت محمد ﷺ پر درود وصلوات بھیجتے ہیں ، وہ ایسے پیغمبر ہیں جو چراغِ ہدایت ، اللہ کی چنیدہ وپسندیدہ اور پاک وپاکیزہ ہستی ، بہترین مخلوق ، چمکتی ہوئی روشن نشانی، لوگوں کی زینت، منتخب شدہ ، عَلمِ ہدایت کے علمبردار، صادق و نیکو کار، پرہیزگار اور دوسروں کے خیر خواہ ہیں۔جب تک باد صبا چلتی رہے گی اور کبوتر اپنی آواز کے ساتھ درختوں کے پتوں سے گفتگو کرتے رہیں گے ، اللہ تعالی ان پر صلوات بھیجتا رہے گا۔

اے اللہ! نبی کریمﷺ پر، ان کی آل اولاد اور تمام صحابہ کرام پر اپنی رحمت اور سلامتی نازل فرما اور قیامت تک انہیں بلاتعطل رحمت وسلامتی نصیب ہوتی رہے۔

ازاں بعد، اے مسلمانو! اللہ کی خوشنودی والے کام کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو، یہی اصل تقویٰ ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُون ﴾(آلِ عِمْرَانَ: 102)

’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو ۔‘‘

برادران اسلام! دنیا تو وقتی ساز وسامان اور طمع ولالچ کی جگہ ہے، یہاں کا سب کچھ مصنوعی اور بناوٹی ہے اور ایسی بے وقعت چیزوں سے دھوکہ کھانے والا کوئی احمق ہی ہو سکتا ہے:

أحلام نَوْم أو كظل زائل                إن اللبيب بمثلها لا يخدع

’’دنیا تو حالت نیند میں آئے ہوے خواب یا پھر ڈھلتے سائے کی مانند ہے ، عقل مند انسان ایسی بے وقعت چیزوں سے دھوکہ نہیں کھاتا۔‘‘

اليوم عندكَ دَلُّها وحديثُها                      وغدًا لغيرك كفُّها والمعصم

’’اس دنیا کی ادائیں اور باتیں اگر آج تمہارا مَن لُبھا رہی ہیں تو اس حقیقت کو مت بھولو کہ کل کلاں اس کی کلائی اور ہتھیلی کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کافروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے:

﴿وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ﴾ (سورۃ الانعام: 130)

’’آج دنیا کی زندگی نے اِن لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔‘‘

مزید فرمایا:

﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى﴾ (سورۃ الاعلیٰ: 16-17)

’’ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو ، حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔‘‘

سیدنا عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں:

“إن الدنيا عُجِّلت لنا، وإن الآخرة نُعتت لنا، وزُويت عنا، فأخَذْنا بالعاجل وتركنا الآجِلَ-” ( زاد المسير فی علم التفسیر:4؍433 )

’’ ہمیں دنیا جلد دے دی گئی ، آخرت کی صفات اور خوبیاں ہم سے بیان کرکے اسے ہم سے دوری پہ رکھا گیا ، اور (ہم اتنے نادان نکلے کہ ) ہم نے دنیا کا دامن پکڑ لیا اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے۔‘‘

دنیا بے وقعت اور جلد ملنے والی چیز، اس کی چمک دمک سراب کی مانند آنکھوں کا دھوکہ ہے، یہ پلک جھپکتے گزر جائے گی، اس میں جو کچھ بھی ہے وہ فانی اور بتدریج ختم ہو جانے والا ہے، دنیوی چیزوں کی تعداد اور ان کی مدت زیادہ ہو جائے تب بھی انہیں فنا ہونا ہے، انسان ہر وقت موت کی دھار اور اس کے تیر کے نشانے پر ہے۔ عقل مند وہ ہے جو مقررہ وقت کے ختم ہو جانے، موت کی آغوش میں چلے جانےیا فرصت کے لمحات ختم ہو جانے سے پہلے پہلے خود کو موت کے لیے تیار کر لے لیکن فریب خوردہ اور بیوقوف انسان اس تلخ حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے، وہ اپنا وقت ضائع کرتا رہتا ہے، انجام کی پرواہ کیے بغیر وہ غفلت کا شکار رہتا ہے اور مال و دولت کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی دوڑ اور فخر وغرور نے اسے تباہ وبرباد کر دیا ہے:

جهولٌ ليس تنهاه النواهي                ولا تلقاه إلا وَهْو ساهي

يُسَرّ بيومه لعبًا ولهوًا                          ولا يدري وفي غده الدواهي

’’یہ ایسا نادان ہے کہ اللہ کے احکامات اور منہیات کے باوجود یہ حرام سے باز نہیں رہ پاتا ، جب بھی تم اسے دیکھو گے تو اسے غافل ولاپروا ہی پاؤ گے ، وہ اپنے آج کے کھیل تماشے اور لہو ولعب میں ایسا خوش ہے کہ اسے معلوم ہی نہیں کہ آنے والے کل میں اسے کتنی بڑی مصیبتوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ‘‘

برادران اسلام! عین ممکن ہے کہ انسان کو وصیت کرنے کی مہلت ہی نہ ملے اور وہ موت کی آغوش میں پہنچ جائے اور حالت غفلت میں ہی وہ اس دنیا سے کوچ کر جائے، لوگ اس کی وفات کی اطلاع دے رہے ہوں جبکہ جانے والے کی حالت یہ ہو کہ وہ لوگوں کو عام استعمال کی چیزیں تک نہ دیتا تھا۔ بعید نہیں ہے کہ اس کی موت کا وقت قریب آ جائے اور اسے داعی اجل کو اس حال میں لبیک کہنا پڑے کہ اس نے لوگوں کے حقوق ادا کیے اور نہ ہی علم پھیلانے میں کوئی کردار ادا کیا، کوئی نہر کھدوائی اور نہ ہی کنواں کھدوایا، اس نے کسی شجرکاری میں حصہ لیا اور نہ ہی کسی مسجد کی تعمیر میں اس نے حصہ ملایا، نہ ہی اس نے کوئی مصحف وقف کیا اور نہ ہی کوئی ایسا وقف پیچھے چھوڑا کہ جس کا ثواب اسے ملتا رہے، یہ سب اس کی فکر کی کجی اور منصوبہ بندی کی کمزوری کے سبب ہوا۔

چنانچہ اے وہ شخص جو اپنے متعلق بھی کنجوسی کا شکار ہے اور آخرت کے لیے زادِ راہ ساتھ نہیں لے رہا! تو جو مال جمع کر رہا ہے وہ تو دوسروں کے لیے ہے ( اس حقیقت کو جان کر بھی) تو اس میں سے راہِ خیر میں خرچ نہیں کر رہا اور نہ ہی سفر آخرت کے لیے اس مال میں سے زادِ راہ ساتھ لے رہا ہے، غور کر اور اس بات کی فکر کر کہ تیری زندگی ختم ہونے کو ہے، اس لیے اپنے مال میں سے اپنی اگلی زندگی کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور بھیج لو، تاکہ وہاں تمہیں اس کا فائدہ ہو سکے۔

سیدنا عبد اللہ بن شِخّیر بیان کرتے ہیں کہ

أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ قَالَ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي قَالَ وَهَلْ لَكَ يَا ابْنَ آدَمَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ (صحيح مسلم:2958)

’’میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ(سورت) أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ تلاوت فرمارہے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابن آدم کہتا ہے میرا مال، میرا مال۔‘‘ فرمایا: ’’آدم کے بیٹے!تیرے مال میں سے تیرے لیے صرف وہی ہے جو تم نے کھا کرفنا کردیا،یا پہن کر پُرانا کردیا،یا صدقہ کرکے آگے بھیج دیا۔‘‘

اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ، قَالَ: «فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ» ( صحیح بخاری: 6442 )

’’تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کے بجائے اپنے وارث کا مال زیادہ محبوب ہو؟‘‘ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ ! ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ہی مال محبوب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر اس کا مال تو وہی ہے جو اس نے آگے بھیج دیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ (اپنے) پیچھے چھوڑ کر چلا گیا۔‘‘

أبقيت مالكَ ميراثًا لوارثه                فليتَ شِعري ما أبقى لكَ المالُ

القومُ بعدَك في حال تسرُّهم                فكيف بعدَهُمُ دارت بكَ الحالُ

ملُّوا البكاءَ فما يبكيكَ من أحدٍ       واستحكَم القيلُ في الميراث والقالُ

’’تم نے جو مال ومتاع اپنے وارثوں کے لیے بچا رکھا ہے، کاش تمہیں معلوم ہو جائے کہ اس طرح تو تم نے اپنے لیے کچھ بھی نہیں بچایا ۔تیرے بعد تیرے وارثوں کی حالت تو بہتر اور خوشحال ہو جائے گی لیکن جو حالات تجھ پر بیتیں گے اس کے متعلق تم نے کبھی سوچا؟وہ کچھ دیر کے لیے تجھے رو کر تھک ہار جائیں گے، اس کے بعد مال وراثت کی تقسیم میں وہ ایسے مصروف ہوں گے کہ تیری خاطر رونے والا کوئی نہیں رہے گا۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ کنجوس آدمی کا مال یا تو وارث لے جاتے ہیں، یا وہ حوادثِ زمانہ کا شکار ہو جاتا ہے یا پھر بے مقصد پڑا رہتا ہے:

يُفني البخيلُ بجمع المال مدَّتَه                 وللحوادث والوراث ما يدع

كدودة القزِّ ما تَبنِيه يُهلِكها               وغيرُها بالذي تبنيه ينتفع

’’کنجوس آدمی اپنا سارا وقت مال ودولت اکٹھی کرنے میں برباد کر دیتا ہے ، جبکہ وہ جو کچھ جمع کر رہا ہے وہ وارثوں اور حادثات کے کام آئے گا۔بالکل ریشم کے کیڑے کی طرح کہ وہ ریشم بنا کر خود تو ہلاک ہو جاتا ہے جبکہ اس کے بنائے ہوے ریشم سے فائدہ کوئی دوسرا اٹھاتا ہے۔‘‘

اللہ کے بندو! اپنی آنکھ سے پہلے اپنے دل سے دیکھو، اس دن کو ذہن میں رکھو جب تم اس دنیا سے کوچ کر رہے ہو گے، ان لوگوں کو یاد کرو جو آج تک اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور کتنے لوگ نئے پیدا ہوئے لیکن بالآخر انہیں بھی رختِ سفر باندھنا ہے، تیرے کتنے ہمسائے یہ دنیا چھوڑ گئے، چنانچہ اپنی موت کا وقت آنے سے پہلے پہلے نیکی کا بیج بولے اور اچھے اعمال کی شجرکاری کر لے، بہترین عمل تو وہ ہے جو تو اپنے ہاتھوں سے اور اپنی نگرانی میں کروا لے، لیکن جو کام تم نے کسی وکیل یا دوسرے شخص کے ذمے لگا دیا کہ وہ تیری وفات کے بعد اسے انجام دے دے، تو تمہیں کیا معلوم کہ جسے تم نے وصیت کی ہے وہ تمہاری وصیت پوری بھی کرے گا یا نہیں؟ ہو سکتا ہے کہ وہ تمہاری وصیت کو تبدیل کر ڈالے یا پھر اسے بہت زیادہ مؤخر اور لیٹ کر دے۔

اے اللہ! ہمیں غفلت سے بیدار کر دے، تباہی کے راستے سے ہمیں بچا لے اور ہمارے گناہوں کو مٹا دے۔

میں نے جو کہنا تھا کہہ لیا، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، بلاشبہ وہ توبہ مانگنے والوں کو بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

ہر قسم کی حمدوثنا اس پروردگار کے لیے ہے جو پناہ کے طالب کو اپنے لطف وکرم کی پناہ میں لے لیتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہ اپنے فضل وکرم سے ایسے ایسے مریضوں کو شفا عطا فرماتا ہے جنہیں دنیا والے لاعلاج قرار دے چکے ہوتے ہیں۔ میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے پیارے سردار نبی حضرت محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ جو بھی ان کی اتباع کرے گا وہ ہدایت پائے گا اور ان کی نافرمانی کرنے والا ذلت ورسوائی اور تباہی وبربادی کا شکار ہوگا۔ نبی کریمﷺ پر، ان کی آل اولاد اور تمام صحابہ کرام پر اللہ تعالیٰ کی دائمی رحمتیں اور ابدی سلامتی نازل ہو۔

ازاں بعد، اے مسلمانو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور یاد رکھو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اس کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (سورۃ التوبہ: 119)

’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔‘‘

اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں سستی کرنے والے اے غافل انسان! اللہ تعالیٰ نے تجھے ہر طرح کا رزق عطا کر رکھا ہے اور تجھ پر اس نے اپنے انعامات کی بارش برسائی ہوئی ہے، تو بتا تو سہی کہ تو کب تک توبہ و استغفار کو مؤخر کیے رکھے گا؟

کیا تو اس وقت توبہ کرے گا جب دنیا سے تیرا تعلق ٹوٹ چکاہو گا اور تجھے اپنی آنکھوں کے سامنے آخرت نظر آ رہی ہو گی اور تو لقمۂ اجل بن چکا ہو گا اور حسرت وندامت نے تجھے ہر طرف سے گھیر رکھا ہو گا اور تو اپنے پروردگار سے درخواست کر رہا ہو گا کہ وہ تجھے ایک دفعہ پھر سے دنیا میں بھیج دے، تاکہ تو اپنے برے اعمال کی اصلاح کر سکے، مظلوموں سے معافی مانگ سکے، جن پر تو نے جبر کیا ان سے معذرت کر سکے، جن کا مال تو نے ہڑپ کیا ان کا مال واپس کر سکے اور جن کے حقوق کو پامال کیا انہیں ان کا حق دے سکے؟! تو یہ مہلت مانگے گا لیکن ہرگز ہرگز تجھے یہ فرصت نہیں دی جائے گی۔ اگر واقعتاً تم اپنے اوپر ترس کھانے اور صحیح معنوں میں اللہ سے ڈرنے والے ہو تو ابھی سے اپنی کمی کوتاہی کو دور کر لو، گناہوں اور خطاؤں سے خود کو بچا لو، حرام سے بچتے ہوئے حلال پر اکتفا کرو، حقداروں کے حق ادا کرو، لوگوں کا قرض واپس کرو، نیکی کے جو مواقع ضائع ہو چکے یا جن گناہوں کا تم نے ارتکاب کیا اس پر ندامت کا اظہار کرو، فرصت کے لمحات ختم ہونے سے پہلے پہلے سابقہ سستی وکاہلی کا ازالہ کر لو، موت سے قبل اپنے پروردگارکی طرف رجوع کرو، اس پروردگار کے قریب ہونے کی کوشش کرو جس نے تمہیں بڑے خوبصورت انداز میں پیدا فرمایا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو، کیونکہ گناہوں کی معافی مانگنے والا ایسے ہو جاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔

اے اللہ! ہمیں اپنی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرما اور ہماری عاجزی ومسکینی پر رحم فرما، اے اللہ! ہمیں اپنی طرف رغبت کرنے والا اور اپنے اوپر توکل کرنے والا بنا دے۔

ساری مخلوقات کےہادی وشافع، سیدنا محمد مصطفیٰﷺ پر درود وسلام بھیجو، کیونکہ ان پر ایک مرتبہ درود پڑھنے سے اللہ کی دس رحمتیں نصیب ہوتی ہیں۔

اے اللہ! اپنے بندے اور رسول حضرت محمدﷺ پر رحمت اور سلامتی نازل فرما۔ اے اللہ ، اے کریم رب العالمین! نبی کریمﷺ کی آل اولاد اور تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا اور ان پاکباز ہستیوں کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا۔

٭٭٭

 

تبصرہ کریں