دکنی تہذیب وثقافت دنیا کی منفرد تہذیب ہے۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

دکنی تہذیب و ثقافت دنیا کی منفر د تہذیب ہے، مولانا محمد عبدالہادی العمری کا دکن برٹش کمیونٹی کے زیر اہتمام چیف گیسٹ کی حیثیت سے خطاب۔ مورخہ 4 مئی کو دکن برٹش کمیونٹی کے زیر اہتمام کلوش بل کونسل، کلوش بل کمیونٹی ہال میں حیدر آبادیوں کی عید ملاپ پارٹی منعقد ہوئی، جس میں دوسو سے زیادہ مہمانوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کے چیف گیسٹ برطانیہ کے معروف عالم دین مولانا محمد عبد الہادی العمری المدنی تھے۔ بچوں کی تلاوت قرآن حکیم سے اس تقریب کا آغاز ہوا، بعد ازاں مہمان خصوصی مولانا محمد عبد الہادی العمری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلاوت قرآن حکیم سے اس تقریب کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ ہمارا حقیقی کلچر ہے، اس تقریب کے آرگنا ئز رز مبارکبا د کے مستحق ہیں، اب آئیے حیدر آبادیوں کی کچھ خصوصیات کی طرف ایک نوجوان سے اس ملک میں ملاقات ہوئی، میں نے علیک سلیک کے بعد ان سے پوچھا کہ

آپ کا تعلق کہاں سے ہے؟ انہوں نے کہا:

حیدر آباد دکن سے، میں نے کہا ٹو اِن تھری کا کیا مطلب ہے؟

انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم، میں نے کہا:

تم حیدر آبادی نہیں ہو۔ انہوں نے کہا:

ہاں حیدر آباد شہر سے نہیں ہوں، حیدر آباد کے قریب ایک ضلع میں رہتا ہوں، میں نے کہا:

اب آپ کی چوری پکڑی گئی ٹو ان تھری کا مطلب یہ ہے کہ حیدر آبا دمیں تین آدمی ہوٹل میں داخل ہوں تو ہوٹل والےسے کہتے ہیں، دو کپ چائے لاؤ ،ہوٹل میں کام کرنے والا بغیر کہے دو کپ چائے کے ساتھ ایک خالی پیالی لا کر رکھ دیتاہے، یہ ہے دو کپ چائے کو تین کپ چائے بنانا ۔اسی طرح اگر دو شخص ہوں تو ٹو اِن وَن ایک کپ میں دو کپ بنانا۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ

بخل سے کام لیا جاتا ہے بلکہ بار بار چائے پینے کا رواج ہے، اس لئے فل کپ پینا پسند نہیں کرتے ہیں۔

ہماری اماں مجھ سے یہ کہتی تھیں کہ

بیٹے فلاں جگہ جانا ہے، رکشہ چکا کر لاؤ، آج کی نئی نسل کیلئے چکا کر لاؤ کا مطلب سمجھنا مشکل ہے، کر لاؤ کا مطلب یہ تھا کہ کم سے کم میں Bargaining کر کے لاؤ، ساتھ ہی ایک شرط یہ ہوتی کہ پردہ والا رکشہ لاؤ وہ گھر پر آنے کے بعد رکشہ کے سامنے پر وہ لگاتا اور خود چند قدم آگے ہٹ جاتا تا کہ خواتین رکشہ میں بیٹھ جائیں اور رکشہ والے کی نظر ان خواتین پر نہ پڑے اور منزل پر پہنچ کر رکشہ والا چند قدم آگے ٹھہر جاتا تا کہ سواریاں رکشہ سے اتر جائیں اور رکشہ والے کی نظر ان خواتین پر نہ پڑے۔

حیدر آباد کی تاریخی مسجد مکہ مسجد میں حفظ قرآن کا مدرسہ تھا اور جو بھی بچہ حافظ بنتا تو نواب آف حیدر آباد کی طرف سے اس حافظ کو خلعت شاہی عطا کیا جا تا، قرآن حکیم کے حافظ کے لئے یہ ایک اعزاز تھا۔ نظام حیدر آباد کے پوتے مکرم جاہ جوا کثر دیگر ملکوں میں رہتے تھے گزشتہ چند سال قبل وہ ترکی میں وفات پاگئے اور حیدر آباد کی تاریخی مکہ مسجد میں حیدر آباد کے سابق بادشاہوں کی صف میں دفنائے گئے، ان کی دعوت پر مجھے حیدر آبا د کنگ کوٹھی جانا پڑا۔

اتفاق سے دیگر مدعوحضرات بھی تھے ان میں حیدر آباد کے ایک پیر ومرشد بھی تھے، وہ جب ان کی کوٹھی میں پہنچے تو فرشی سلام شروع کر دیئے۔ فرشی سلام کا مطلب ہے کہ بہت دور سے پرنس کو سلام کرتے جائیں اور جھکتے جائیں۔

ایسا معلوم ہوتا کہ وہ ان تک پہنچتے پہنچتے ان کے چرنوں میں گر پڑیں گے۔ ہم قرآن وحدیث پر عمل کرنے والے ایسے عرشی اور فرشی سلام کرنے والوں سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ہمیں وہ سلام کافی ہے جو ہمارے نبی مکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو سکھایا تھا۔ جو قیامت تک باقی رہے گا۔

در اصل جن لوگوں کو ایسے لوگوں سے کچھ مفاد وابستہ ہوتا ہے وہ بادشاہوں اور رائل فیملی کو خوش کرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں ۔

الحمد للہ، اللہ نے مجھے اس سلام سے بچالیا اور جب شاہی محفل میں پہنچے، تو مکرم جاہ سے کچھ بات چیت کا موقع ملا۔ تو میں نے ان کے دادا جان کی اسلامی خدمات کے کچھ واقعات سنائے تو انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھے وہ باتیں بتائی ہیں جن سے میں خود واقف نہیں تھا۔

دراصل ایسے بڑے لوگوں کا جو حاشیہ ہوتا ہے انہیں وہی سناتا ہے جو وہ پسند کرتے ہیں، جن سے انہیں دنیوی مفاد وابستہ ہوتا ہے اور ایک صحیح العقیدہ کیلئے رسم و رواج کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر وہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوں تو ۔ قرآن حکیم کی خدمت کے سلسلہ میں حیدر آباد دکن کا کارنامہ یہ ہے کہ

پہلا با قاعدہ قرآن حکیم کا انگریزی ترجمہ ڈا کٹر محمد پکتھال نے کیا۔

در اصل حیدر آباد کے ایک سکول میں وہ ملازمت کیلئے آئے مگر نظام حیدر آبا د نے انہیں قرآن حکیم کے انگریزی ترجمہ پر مامور کر دیا اور اس اعزاز کیساتھ اس خدمت کیلئے بڑی ہی اچھی تنخواہ دی جاتی تھی، تاکہ وہ مکمل آرام کے ساتھ قرآن کی یہ خدمت انجام دیں۔

چنانچہ وہ تین سال میں یہ ترجمہ مکمل کئے اور اسی اثناء میں وہ مصر کا سفر بھی کئے سرکاری اخراجات پر ۔ جب قرآن حکیم کا ذکر خیر آیا ہے تو ایک اور حقیقت بھی سن لیجئے۔

حیدر آباد دکن کے ایک سکالر ڈاکٹر حمید اللہ تھے جو عثمانیہ یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر تھے وہ اعلیٰ تعلیم کیلئے فرانس گئے اور ایک سال میں دو یو نیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کئے۔

جرمنی زبان میں اور فرنچ میں بلکہ فرنچ زبان میں انہوں نے قرآن حکیم کا ترجمہ بھی کیا۔ چونکہ عثمانیہ یو نیورسٹی میں ڈاکٹر انجینئر نگ وغیرہ کی اردو زبان میں تعلیم ہوتی تھی اس لئے یونیورسٹی کے احاطہ میں دار الترجمہ کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ انگریزی Terminology اصطلاحات کو اردو میں منتقل کیا جائے۔ الحمد للہ، یہ دنیا کا واحد کار نامہ ہے ،اردو زبان کو اتنا رچ کر دیا گیا کہ وہ انگریزی کی محتاج نہیں ہے۔

درالترجمہ کے سارے اخراجات شاہی خزانے سے دیئے جاتے تھے اور تنخواہیں بھی ان کی بڑی اطمینان بخش ہوتیں تا کہ وہ اطمینان سے یہ خدمات انجام دے سکیں۔

اس تقریب کے ایک آرگنائزر ناظر علی خان نے میرے تعارف میں کہا کہ برطانیہ اور دیگر علاقوں میں مسجد میں تعمیر کیں، میں نے اپنی زبان اور قلم کوحرکت دی ہے جو ان مساجد کی تعمیر کا سبب بنیں ۔ مساجد بنانے کا ذکر آیا تو سن لیجئے۔ لندن میں ریجنٹ پارک میں برطانیہ کی سب سے بڑی مسجد نواب میر عثمان علی خان نے بنائی ہے (اور انگلینڈ ووکنگ میں جو مسجد ہے وہ بیگم شاہجہاں والیہ بھوپال انڈیا نے تعمیر کرائی ہے )

ڈاکٹر عبدالرب ثاقب نے کہا کہ

اگر وقت ہوتا تو مولانا محمد عبدا لہادی العمری اور بھی خوبیوں کا تذکرہ کرتے۔ ان میں ایک اہم بات حیدر آباد میں برقع کی ہے یعنی حیدر آباد دکن کا کلچر ہے۔

بلا استثناء مسلک خواہ بریلوی ہوں کہ دیوبندی، جماعت اسلامی ہوں کہ جماعت تبلیغی، سلفی ہوں کہ اہل حدیث بلکہ شیعہ ہوں کہ سنی سب ہی خواتین برقع کا استعمال کرتی ہیں۔

یہ وہ اچھی چیز ہے کہ ان پر عمل پیرار ہیں اگر وقت ہوتا تو مولانا عبدالہادی العمری وہ خصوصیات بھی ذکر کرتے جن کا تعلق حیدر آباد سے ہے مگر وہ عمل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کو چھوڑنے سے متعلق ہیں۔شاید وہ آئندہ کسی تقریب میں ان خامیوں اور غلط چیزوں کا ذکر کریں ۔

آخر میں مولانا نے کہا کہ

اہل حیدر آبا دصرف شیروانی، بریانی، بگھارے، بیگن اور ڈبل کے میٹھے اور پان تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھیں، بلکہ بڑے بڑے اور اچھے کام بھی کریں، جو حیدر آبادی اکابرین نے کیا ہے۔

مولانا اس تقریب میں خود شیروانی زیب تن کئے ہوئے تھے اور اس دعوت میں بریانی اور دیگر لوازمات بھی موجود تھے۔

ڈاکٹر عبدالرب ثاقب نے چند نظمیں سنائیں اور عید اور فلسطین پر بھی اپنی نظم سنائی جملہ منتظمین اور آرگنائزرز نے بحسن و خوبی چھے بجے سے گیارہ بجے تک اس تقریب کو دلچسپ بنائے رکھا۔

اللہ کریم ان تمام میز بانوں مہمانوں اور خواتین و حضرات کو جزائے خیر عطا فر مائے۔

اللہ کریم چیف گیسٹ مولانا محمد عبدالہادی العمری کو عافیت والی لمبی عمر عطا فرمائے ،تا کہ بار بار ان سے ایسی اہم باتیں سن سکیں اور اپنے علم میں اضافہ کر سکیں۔ آمین یارب العالمین ۔ پھر ملیں گے اگر خد الائے ۔

٭٭٭

امام اہلسنت احمد بن حنبل ﷫ نے فرمایا:

’’جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو نبیﷺکے صحابہ کو برا کہتا ہے تو اسکے اسلام پرتہمت لگاؤ۔‘‘

( مناقب احمد لابن الجوَزی: ص 160وسندہ صحيح، تاریخ دمشق:62؍144)

٭٭٭

سیدنا علی نے سوال کیا! بتاؤ نبیﷺ کے بعد افضل کون ہے؟کہا: آپ۔فرمایا: نہیں سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر (احمد: 1؍ 106)

٭٭٭

امام مسروق﷫ تابعی فرماتے ہیں:

سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر کی محبت، اور انکی فضیلت جاننا، سنت میں سے ہے۔

(مصنف ابن أبی شیبہ :32600)

٭٭٭

سیدنا علی فرماتے ہیں کہ

” سیدنا ابو بکر وسیدنا عمر کی محبت ایمان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر ہے ۔“

( رجال کشی :ص 283، مطبوعہ بیروت لبنان )

٭٭٭

تبصرہ کریں