دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟ جمیل اختر

یہ مسئلہ انتہائی اَہم اور اکثر وبیشتر لوگوں سے سننے میں آیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بکثرت دعا کرتے ہیں لیکن ان کی دعا قبول نہیں ہوتی! آخر وجہ کیا ہے کہ لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی؟

یوں تو اس کی متعدد وجوہات ہیں لیکن بنیادی وجہ یہ ہے کہ دعا کرنےوالا مسنون طریقے سے دعا نہیں مانگتا اور دعا کی قبولیت کی وہ شرائط، جن کا دھیان رکھنا ضروری ہے، ان کا اپنی دعا میں اہتمام نہیں کرتا۔ جس طرح ایک حکیم کسی مریض کو دوا دیتا ہے اور اس کے ساتھ کئی چیزوں سے احتیاط، اجتناب اور پرہیز بھی تجویز کرتا ہے کہ اگر مریض ان پر عمل کرے گا تو تندرست ہو جائے گا لیکن اگروہ مریض ان تدابیر وتجاویز پر عمل نہ کرے اور جتنی چاہے دوا استعمال کرتا رہے تو وہ دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ اِلا یہ کہ ان احتیاطوں اور تدابیر پر عمل نہ کر لے جو حکیم نے اسے بتائی ہیں۔ دعا کی قبولیت کی بھی اسی طرح چند شرائط ہیں جو قرآن وسنت سے حاصل ہوتی ہیں، جب تک ان شرائط پر عمل کرتے ہوئے دعا نہ کی جائے، دعا قبول نہ ہو گی۔ ۔۔وہ شرائط بالاختصار درج ذیل ہیں:

دعا کی شرائط وضوابط

1۔ اخلاص

دعا کی قبولیت کے لیے سب سے اہم اور ضروری شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والا اللہ تعالیٰ کو اپنا حقیقی معبود سمجھتے ہوئے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرے، غیر اللہ سے دعا نہ کرے۔ اللہ کے دَر کے علاوہ اور دَر  پر اپنی جھولی نہ پھیلائے۔ خالقِ حقیقی  کو چھوڑ کر مخلوق کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے۔  جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَادْعُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾

’’ تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو۔‘‘ (غافر: 14)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اخلاص قبولیتِ دعا کی لازمی شرط ہے۔‘‘ (فتح الباری: 11؍95)

2۔ حرام سے اجتناب

کسی شخص کا کوئی نیک عمل اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک کہ وہ حرام کاری اور حرام خوری سے مکمل اجتناب  نہ کرے لیکن اگر وہ حرام کا کھائے، حرام پیے، حرام کا پہنے تو اس شخص کے نیک اعمال ہرگز شرفِ قبولیت حاصل نہیں کر سکتے اور چونکہ دعا بھی ایک نیک عمل ہے، اس لیے یہ بھی اسی صورت میں قبول ہو گی، جب دعا کرنے والا ہر حرام کام سے اجتناب کرے۔ بصورتِ دیگر اس کی دعا ہرگز قبولیت کے لائق نہیں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’ایک آدمی  لمبا سفرطے کرتا ہے، اس کی حالت یہ ہے کہ اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں، چہرہ خاک آلود  ہے اور وہ (بیت اللہ پہنچ کر) ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے: یا رب! یا رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور حرام سے اس کی پرورش ہوئی تو پھر اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو کیسے قبول کرے۔‘‘ (صحیح مسلم: 1015)

3۔ توبہ

اگر دعا کرنے والا دعا کرے اور ساتھ گناہ والے کام بھی کرتا رہے یا ان سے توبہ  نہ کرے تو ایسے شخص کی دعا بارگاہِ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے، توبہ اور استغفار کرے جیسا کہ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:

﴿وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَىٰ قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِينَ﴾

’’اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو،  تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت بڑھا دے اور تم گناہ گار ہو کر روگردانی نہ کرو۔‘‘ (ہود: 52)

4۔ عاجزی وانکساری

دعا میں عاجزی وانکساری اختیار کرنے کا حکم قرآن مجید میں اس طرح دیا گیا کہ

﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾

(الاعراف: 55)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ  کے حضور خوب عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے۔

5۔ دعا کے اندر زیادتی نہ کی جائے

اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی زیادتی وتجاوز سے منع فرمایا ہے، بالخصوص دعا میں زیادتی سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً﴾

 (الاعراف: 55)

’’تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو، گڑ گڑا  کر اور چپکے چپکے بھی۔واقعی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو حد سے  نکل جائیں۔ ‘‘

دعا میں زیادتی کی کئی صورتیں ہیں مثلاً حرام اور ممنوع چیزوں کے لیے دعا کرنا یا ہمیشگی  کی زندگی کی دعا کرنا یا بلاوجہ کسی کے لیے بری دعا کرنا، اسی طرح کی تمام زیادیتوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

6۔ معلق دعا نہ کی جائے

معلق  دعا سے مراد  وہ دعا ہے جس میں دعا اس طرح کی جائے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے عطا کر دے اور اگر چاہتا ہےتو بخش دے۔ اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ یا اللہ اگر  تو بخشنا نہیں چاہتا تو نہ بخش۔ اگر عطا نہیں کرنا چاہتا توعطا نہ کر۔۔۔ تیری مرضی! حالانکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«لاَ يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ المَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ»

’’ تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ نہ  کہے کہ یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما بلکہ پورے عزم سے دعا کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا۔‘‘ (صحیح بخاری: 6339؛ صحیح مسلم: 2678)

7۔ غفلت اور سستی نہ دکھائی جائے

دعا مانگنے میں کسی قسم کی سستی نہیں برتنی چاہیے بلکہ پورے دھیان، توجہ اور چستی کے ساتھ دعا مانگنی چاہیے اور دعا مانگنے والے کا ذہن دعا کے اندر مشغول ہونا چاہیے، نیز اس پر کسی قسم کی سستی (خیالات یا نیند وغیرہ) نہیں ہونی چاہیے۔ کیونکہ دعا کرنے والا اگر سستی میں مبتلا ہو گا یا غفلت کا شکار ہو گا تو اس کی دعا قبول نہیں ہو گی۔ اس لیے نبیﷺ نے  فرمایا:

«ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لَاهٍ»

 ’’ اللہ سے اس یقین کے ساتھ دعا مانگو کہ دعا ضرور قبول ہو گی اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی غافل اور لاپرواہ دل سے نکلی  دعا کو قبول نہیں فرماتے۔‘‘ (جامع ترمذی: 3479؛ السلسلۃ الصحیحہ: 2؍143)

دعا کے آداب

مذکورہ بالا شرائط ایسی ہیں جنہیں دعا میں ملحوظ خاطررکھنا از بس ضروری ہے جبکہ ان کے علاوہ بعض  آداب ایسے ہیں کہ اگر دعا کرنے والا ان کا بھی اہتمام کرے تو پھر اس کی دعا شرفِ قبولیت حاصل کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ان مستحب آداب میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

1۔ دعا سے پہلے طہارت (پاکیزگی)

دعا کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ظاہری (باوضو) اور باطنی (استغفار) طہارت حاصل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ قبولیت دعا میں وضو کے مستحب ہونے کی دلیل ابو عامر رضی اللہ عنہ کی شہادت اور  نبی اکرمﷺ سے ان کے استغفار والے قصے میں موجود ہے کہ جب نبی اکرمﷺ کو ان کی شہادت کی خبر پہنچی اور ان کے لیے استغفار کی درخواست کی گئی تو آپﷺ نے پانی منگوایا پھر آپﷺ نے وضو کر کے دعا فرمائی۔ (صحیح بخاری: 4323)

لیکن یاد رہے کہ دعا سے پہلے وضو ہونا ضروری نہیں کیونکہ نبی اکرمﷺ نے ہر دعا وضو کے ساتھ نہیں مانگی بلکہ کئی دعائیں آپﷺ نے بغیر وضو کے مانگی ہیں۔

2۔ حمدوثنا اور آنحضرتﷺ پر درود

دعا مانگنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی جائے اور بعد میں آنحضرتﷺ پر درود بھیجا جائے اور اس کے بعد اپنی حاجت کاسوال کیا جائے۔ یہ ترتیب مستحب ہے جیسا کہ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہےکہ  ’’ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو نماز میں دعا کرتے ہوئے سنا مگر اس نے آپﷺ پر درود نہ بھیجا تو آپﷺ نے فرمایا:  «عجل هذا» ’’اس نے جلدی کی۔‘‘ پھر اسے بلا کر اوردوسرے لوگوں کو بھی فرمایا کہ

« إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَمْجِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ»

’’ جب تم میں سے کوئی دعا مانگے تو پہلے حمدوثنا  کرے  پھر نبی اکرمﷺ پر درود بھیجے پھر جو وہ چاہے دعا کرے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1481، وسندہ صحیح، صحیح الجامع:1/ 238)

3۔افضل حالت اور افضل مقام پر دعا

دعا کی قبولیت کے لیے یہ بھی مستحب ہے کہ انسان افضل حالت میں اور افضل جگہ پر دعا کرے۔ افضل حالت سے مراد یہ ہے کہ دعا مانگتے ہوئے انسان کی حالت افضل ہو۔ مثلاً سجدے اور رکوع کی حالت۔ جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا:

’’خبردار! میں تمہیں رکوع وسجود میں تلاوتِ قرآن سے منع کرتا ہوں، لہٰذا رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں دعا کا اہتمام کرو کیونکہ سجدے میں دعا کی قبولیت کا امکان ہے۔‘‘ (صحیح مسلم: 479)

افضل جگہ سے مراد یہ ہے کہ جس جگہ پر انسان دعا کر رہا ہے وہ دوسری جگہوں سے افضل ہو مثلاً حرمین شریفین (بیت اللہ ومسجدنبوی)، مساجد، مکہ مکرمہ وغیرہ۔ یہ ایسے مقامات ہیں جن میں دوسری جگہوں کی نسبت دعا جلد قبول ہونے کا امکان ہوتا ہے، حتیٰ کہ مشرکین مکہ بھی اس بات کے قائل تھے کہ مکہ کے اندر دعا جلد قبول ہوتی ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

’’ جب کفار نے نبی اکرمﷺ کی پشت پر حالت ِ نماز  میں اوجھ ڈالی تو (نبی کریمﷺ نے ان پر بد دعا کی اور) ان پر نبی اکرمﷺکی بد دعا گراں گزری کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ شہر مستجاب الدعوات ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 240)

4۔ افضل وقت میں دعا

جس طرح قبولیتِ دعا کے لیے افضل حالت اور افضل جگہ کا ہونا مستحب ہے، اسی طرح افضل وقت میں دعا کرنا بھی مستحب ہے جیسے عرفہ کے دن یا رمضان المبارکے مہینے میں دعا کرنا اور اس میں  بھی بالخصوص آخری دس دن اور ان دس دنوں میں بھی طاق راتیں اور شبِ قدرزیادہ افضل ہیں۔ اسی طرح سحری کا وقت، جمعہ کا دن، اذان اور اقامت کا درمیانی وقت بھی افضل اوقات میں شامل ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ»

 ’’ اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔‘‘ (مسند احمد: 2؍155؛ سنن ترمذی: 212)

5۔ گریہ زاری اور تکرار کے ساتھ دعا کرنا

اس کامطلب یہ ہے کہ گڑا گڑاتے ہوئے اور بار بار دہراتے ہوئے دعا کرنا۔

جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا»

’’ اللہ کے رسول ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ تین تین مرتبہ دعا کی جائے اور تین تین  مرتبہ استغفار کیا جائے۔‘‘ (سنن ابو داؤد: 1524، ضعیف عند الالبانی)

6۔ اسمائے حسنیٰ اور نیک اعمال کا وسیلہ

مستحب آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دعا کرنے والا اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام لے کر دعا کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلِلَّـهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا﴾

(سورة الاعراف: 180)

’’ اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں تو ان ناموں کے ساتھ اللہ ہی کو پکارا کرو۔‘‘

اسی طرح دعا کرنے والے کو چاہیے کہ اپنے نیک اعمال کا وسیلہ پیش کرے کہ اے اللہ! میں نے محض تیری رضا کی خاطر فلاں فلاں نیک کام کیا، اے اللہ! مجھے بخش دے۔ ۔۔ اے میری مصیبت دور فرما۔۔۔۔ اے اللہ ! میرے حال پر رحم فرما۔

7۔ جلد بازی سے پرہیز

بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ دعا کرنے والا ان شرائط کو مدنظر رکھ کر دعا کرتا ہے لیکن پھر بھی اس کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ایسے دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ مایوس ہو کر جلد بازی میں اپنی دعا کو  چھوڑ نہ دے بلکہ  دعا مانگتا رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَا أَوْ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي»

’’بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے۔‘‘

پوچھا گیا : یا رسول اللہﷺ! جلد بازی کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ بندے کا اس طرح کہنا کہ میں نے  دعا کی، پھر دعا کی، لیکن وہ قبول  نہیں ہوئی۔ پھر وہ دل برداشتہ ہو کر دعا کو چھوڑ دے۔ (یہ جلد بازی ہے۔)‘‘

 (صحیح بخاری: 6340؛ صحیح مسلم: 2735)

قبولیت دعا کی مختلف صورتیں

یاد رہے کہ ہر انسان کی ایسی دعا  جو مذکورہ شرائط وآداب کے مطابق کی جائے، وہ  قبول ضرور ہوتی ہے۔  کیونکہ یہ  اللہ کا وعدہ ہے کہ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾

’’اور تمہارےر ب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔‘‘

لیکن دعا کی قبولیت کی تین مختلف صورتیں ہیں جیسا کہ  حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلَا قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ بِهَا إِحْدَى ثَلَاثٍ: إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَ لَهُ دَعْوَتَهُ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِمَّا أَنْ يَصْرِفَ عنهُ من السُّوءِ مثلَهَا قَالُوْا إذن نُكْثِرَ قال اللهُ أكثَرُ»

’’جب بھی کوئی مسلمان ایسی دعا کرے جس میں گناہ یا صلہ رحمی نہ ہو، تو اللہ رب العزت تین باتوں میں سے ایک ضرور اسے  نوازتے ہیں، یا تو اس کی دعا کو قبول فرما لیتے ہیں یا اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتے ہیں اور یا  اس جیسی کوئی برائی اس سے ٹال دیتے  ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر تو ہم بکثرت دعا   کریں گے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ بخشنے  (عطا کرنے) والا ہے۔‘‘ (مسند احمد: 3/18)

اس حدیث سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان دعا کے مذکورہ بالا آداب وضوابط اور شروط وقواعد کو مد نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور دست سوال دراز کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ سائل کو اس کے سوال ومطالبہ سے نواز دے اس کی دعا قبول کی جاتی  ہے اور عموماً اسے ہی مقبول دعا کیا خیال جاتا ہے۔

اس صورت کی مزید دو حالتیں ہیں، ایک  تو یہ کہ ادھر دعا کی جائے اور ادھر  اسے فوراً قبول کر  لیا جائے جس طرح حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ  سے  طلبِ اولاد کی دعا کی:

﴿رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً﴾  (سورۃ آل عمران: 38)

’’ اے میرے رب! مجھے تو  اپنے پاس سے اچھی اولاد عطا فرما۔‘‘

تو اللہ  تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی اور فرشتوں کے ذریعے انہیں باخبر کیا کہ

﴿ أَنَّ اللَّـهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ﴾

’’یقیناً اللہ تعالیٰ آپ کوحضرت یحییٰ (بیٹے) کی  خوشخبری دیتے ہیں۔‘‘

دعا میں قبولیتِ دعا  کی دوسری  حالت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دعا طویل  عرصہ  کے بعد قبول ہو جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی:

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا﴾

(سورة البقره: 129)

’’اے ہمارے رب! ان میں سے رسول بھیج۔‘‘ جبکہ ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا سینکڑوں برس کے بعد قبول ہوئی اور ابراہیم نے جس رسول  کی بعثت کی دعا فرمائی، وہ آنحضرتﷺ کی صورت میں قبول ہوئی۔  جیسا کہ آنحضرتﷺ ہی فرماتے ہیں۔

(الفتح الربانی: 20/181)

’’میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کا خواب ہوں۔‘‘

جبکہ اس کے علاوہ بھی قبولیت کی دو صورتیں ہیں جنہیں لوگ’ قبولِ دعا‘ کی فہرست میں شامل نہیں سمجھتے، یعنی سائل کی دعا دنیا میں تو پوری نہیں ہوئی، البتہ اس دعا کو روزِ قیامت اجر وثواب بنا کر سائل کے نامۂ اعمال میں شامل کر دیا جائے گا یا بسا اوقات اس دعا کی برکت سے سائل وداعی سے کسی آنے والی  مصیبت کو ٹال دیا جاتا ہے جس کا اندازہ  دعا کرنے والے کو نہیں ہو   پاتا اور وہ یہی سمجھتا کہ شاید اس کی دعا قبول نہیں ہوئی جبکہ اس کی دعا بارگاہِ خداوندی میں قبول ہوتی ہے مگر اس قبولیت کی صورت ہمارے خیالات سے کہیں  بالاہوتی ہے۔

بعض اوقات دعا کی  جو صورت ہمارے سامنے ہے، اللہ اس سے بہتر صورت میں اس کی تکمیل کر دیتے ہیں  اور وہی  ہمارے حالات کے زیادہ موافق ومناسب ہوتی ہے، تو یہ بھی قبولتِ دعا کی ایک صورت ہے۔ اس میں بعض اوقات تاخیر ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم اس قبولیتِ دعا کو بظاہر اپنے لیے اچھا خیال نہیں کرتے لیکن وسیع تناظر میں یا دور اندیشی کے طور پر وہی بات ہمارے حق میں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔  الغرض آداب وشروطِ دعا کو مدنظر رکھتے ہوئے دعا مانگی جائے تو وہ کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں