دعا کے اثرات، فوائد اور برکات۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی ( امام مسجد نبوی )

مترجم: مولانا ہاشم یزمانی ، مولانا محمد اجمل بھٹی

ہر قسم کی حمد و ثناء کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جو زمین و آسمان کا رب ہے۔ وہی دعائیں سننے والا اور انعام و احسان کرنے والا ہے، وہی ہے جو مصائب و مشکلات کو رفع کرتا ہے۔ میں اپنے رب کی حمد کرتا اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں، اسی کی طرف رجوع کرتا اور اسی سے مغفرت کا خواستگار ہوتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں وہ عزت و کبریائی والا ہے، میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے پیارے سردار نبی حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے بڑی ہی روشن اور کامل شریعت عطا کر کے مبعوث فرمایا ہے۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول حضرت محمد ﷺ پر رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرما۔ اسی طرح آپ ﷺ کی آل اور ہر نیک عمل کی طرف سبقت لے جانے والے صحابہ کرام پر بھی اپنی رحمت و برکت نازل فرما۔

اما بعد، اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے کما حقہ ڈرتے رہو، تقویٰ اختیار کرنے والے شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں خیر و بھلائی عطا کرتا ہےاور تقویٰ سے روگردانی کرنے والا شخص اگرچہ دنیاوی مال و متاع بے شمار میسر رکھتا ہو، لیکن انجام کار کے اعتبار سے بدبخت ہی رہتا ہے۔

اے مسلمانو! دنیا اور آخرت کی سعادت و خوش بختی کے اسباب و وسائل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اسی طرح اس نے بدبختی کا سبب بننے والے اعمال کو بھی خوب وضاحت سے بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ جو شخص خير و فلاح کے اسباب اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دنیا بھی سدھار دیتا ہے اور اسے آخرت میں بھی، اتنا شاندار نتیجہ نصیب ہو گا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نعمت بھرے باغات میں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اسے بدرجہ اتم حاصل ہو گی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ﴾

’’نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘ (سورة الرحمن:60)

دوسری طرف برائی کے اسباب اپنانے والے شخص کو اس دنیا میں بھی اس کی سزا بھگتنا پڑے گی اور مرنے کے بعد بھی اس کا وبال اس پر ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

﴿لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا﴾

’’انجام نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلہ میں اپنے لیے کوئی حامی و مدد گار نہ پاسکے گا۔‘‘ (سورة النساء:123)

آگاہ رہیے! خیر و برکت، نیکی، اصلاح، نیک اعمال کے تسلسل، اچانک مصیبتوں اور حادثات سے بچاؤ اور نازل شدہ تکالیف و آلام کو رفع کرنے کے اسباب میں سے ایک اہم ترین سبب یہ ہے کہ مکمل اخلاص، حضورِ قلبی اور عاجزی و انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے گڑا گڑا کر دعا کی جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو دعا بہت پسند ہے اور اس نے خود ہی اس کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ ہر طرح کے حالات میں د عا کا فائدہ مسلمہ ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾

’’تمہارا رب کہتا ہے ، مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔‘‘(سورة غافر:60)

دعا بھی عبادت کی ایک قسم ہے، سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی میں حدیث ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ ’’دعا عین عبادت ہے۔‘‘ امام ترمذی﷫نے اس حدیث کو ’’حسن صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔ اسی طرح جامع ترمذی میں سیدنا ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ہاں دعا کا مقام و مرتبہ سب سے زیادہ ہے۔‘‘ امام حاکم﷫نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

ہر وقت اور ہر حال میں دعا کرنے کی بہت زیادہ ترغیب دلائی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کا ثواب اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم کر رکھا ہے۔

دعا انسان کی دینی دنیوی، زندگی اور موت کی تمام کامیابیوں کا بہترین ذریعہ ہے۔ دعا کے بے شمار اور عظیم فوائد کے پیش نظر ہی اللہ تعالیٰ نے فرض عبادات میں دعاؤں کو پڑھنا واجب یا مستحب قرار دیا ہے۔

اس میں اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر رحمت و شفقت، فضل اور احسان واضح طور پر عیاں ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ان اسباب کے بارے میں تعلیمات نہ دیتا تو ہم اپنی عقل و دانست سے یہ اسباب اختیار نہ کر سکتے تھے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُوا أَنتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ﴾

’’تمہیں وہ کچھ سکھا دیا گیا ہے جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔‘‘ (سورۃ الانعام:91)

ہر قسم کی بابرکت حمد وثناء اور تعریف و تمجید کے لائق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اپنی پسند اور رضا کے شایانِ شان ہر قسم کی حمد و ثناء اور بابرکات کلمات کا حق دار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

عصرِ حاضر میں تو بالخصوص دعا کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، کیونکہ نت نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں، تباہ کن حادثات اور مصائب نے مسلمانوں کو پریشان کر رکھا ہے اور ایسے ایسے بدعتی فرقوں نے جنم لے لیا ہے کہ جو مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لوگوں کا ناحق خون بہانا اور ان کے مال ہڑپ کرنا ان کی عادت بن چکی ہے۔ علم اور اہل علم سے بے رخی ان کی سَرِشت میں ہے اور جہالت و گمراہی پر مبنی فتوے دے کر لوگوں کو گمراہ کرنا ان کا وتیرہ ہے۔

دشمنانِ اسلام نے دین حنیف کے خلاف اتحاد کر لیا ہے، اہل ایمان کے خلاف ان کی سازشیں عروج پر ہیں، جبکہ مسلمانوں کی باہمی کیفیت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے تعاون سے کنارہ کشی اور اختلاف و افتراق کا شکار ہیں، امت مسلمہ کے بہت سارے افراد جلا وطنی کی صعوبتوں سے دو چار ہیں۔ ان پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ اپنی فراخی کے باوجود ان پر زمین تنگ ہو چکی ہے اور انہیں طرح طرح کے نقصانات کا سامنا ہے۔ ان تمام حالات میں تو دعا کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، کیونکہ تعصب اور فرقہ پرستی کی آگ نے مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور مختلف فتنے معاشرے کو اپنے مضبوط پنجوں میں جکڑ چکے ہیں۔ جو لوگ مصیبت او رسخت حالات میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے گڑگڑاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہے، سیدنا آدم اور اماں جی حواء علیہما السلام کا قول اللہ تعالیٰ نے نقل فرمایا ہے:

﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾

’’اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (سورۃ الاعراف:23)

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ١٥٥‏ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ١٥٦‏ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾

’’اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان ومال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے ،اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ ’’ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔انہیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:157-155)

سیدنا یونس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ فَنَادَىٰ فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾

’’آخر کو اُس نے تاریکیوں میں پکارا، ’’نہیں ہے کوئی معبود مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قصور کیا۔‘‘ (سورۃ الانبیاء:87)

مسند احمد اور جامع ترمذی میں سیدنا سعد بن ابی وقاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں سیدنا یونس نے جو دعا کی تھی، ان کلمات کے ذریعے سے اگر کوئی بھی مسلمان اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ (امام حاکم﷫ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔)

نبی کریم ﷺ نے جب بنو ثقیف قبیلے کو اسلام کی دعوت دی تو ان بدبختوں نے آپﷺ کی دعوت کو ٹھکرا دیا، آپ ﷺ پر اتنی سنگ باری کی کہ آپ ﷺکی ایڑیاں مبارک لہو لہان ہو گئیں، چنانچہ آپ ﷺنے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے جو جملے ارشاد فرمائے، وہ کچھ یوں تھے :

’’اے اللہ! اپنی کمزوری ، بے کسی اور لوگوں کے ہاں اپنی کم مائیگی کا شکوہ میں تجھ سے ہی کرتا ہوں۔ اے ارحم الراحمین! تو مجھے کس کے سپرد کر رہا ہے؟ کسی ترش رو دور والے کے حوالے کرے گا یا حملہ آور دشمن کے سپرد ؟ اگر تو مجھ پر ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی چیز کی پروا نہیں ہے، تیری عافیت میرے لیے سب سے وسیع اور کشادہ چیز ہے، تیرے چہرے کے نور نے سارے اندھیرے ختم کر دئیے ہیں اور دنیا و آخرت کی بھلائی کا مدار اسی پر ہے، میں تیرےچہرے کے اسی نور کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ مجھے تیرا غصہ یا ناراضگی پہنچے، میں تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں، یہاں تک کہ تو راضی ہو جائے، برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف تو ہی بخشتا ہے۔‘‘

اگر مشکلات اور مصائب کو دور کرنے میں کوئی ناکام رہے تو کم از کم دعا کے ذریعے ان مصائب کی سختی کی شدت کو کم تو کیا جا سکتا ہے، صحیح ابن حبان میں سیدنا ثوبان کی حدیث ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’دعا میں اتنی طاقت ہے کہ یہ تقدیر کو بھی بدل سکتی ہے، نیکی سے انسان کی عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اپنے گناہ کی بدولت انسان کو رزق سے محرومی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔‘‘ امام حاکم﷫ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔

جامع ترمذی اور مستدرک حاکم میں سیدنا عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’پہلے سے اتری مصیبتیں ہوں یا آئندہ آنے والی آفت ہو، ہردو حالتوں میں دعا بڑی ہی فائدہ مند ہوتی ہے، چنانچہ اے اللہ کے بندو! دعا کیا کرو۔‘‘

بخاری اور مسلم میں سیدنا ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بارے میں میرا بندہ جیسا گمان کرتا ہے، مجھے ویسا ہی پاتا ہے، جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو مجھے اپنے ساتھ پاتا ہے۔‘‘

دعا کی یہی فضیلت کافی ہے کہ دعا کرنے والے کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔ مصائب ، فتنوں اور مشکلات کے وقت بھی جو لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ﴾

’’ اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔‘‘ (سورۃ المومنون:76)

اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَىٰ أُمَمٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَخَذْنَاهُم بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ ٤٢‏ فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾

’’تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں ۔پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔‘‘ (سورۃ الانعام:42-43)

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یوں ارشاد فرمایا:

﴿وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ﴾

’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں۔‘‘ (سورۃ الاعراف:94)

مشکل حالات کے باوجود دعا ترک کرنے کا مطلب ہے کہ انسان گناہوں پر اصرار کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی گرفت کو کوئی وقعت نہیں دے رہا، جبکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: ﴿ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ ’’درحقیقت تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘ (سورۃ البروج:12)

نیز فرمایا:

﴿وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ﴾ ’’اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے۔‘‘ (سورۃ ھود:102)

خیر و برکات کے حصول ،دعا کرنے والے اور معاشرے کو برائی اور نقصان سے بچانے کا بہترین ذریعہ دعا ہی ہے۔

نازل شدہ مصیبت اور مشکلات سے نکلنے کا سب سے زبردست ذریعہ دعا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ٨٣‏ فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ ۖ وَآتَيْنَاهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَذِكْرَىٰ لِلْعَابِدِينَ﴾

’’ اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایّوب کو دی تھی یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے، ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔‘‘(سورۃ الانبیاء:83-84)

اسی طرح اللہ کا تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ﴾

’’کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے۔‘‘ (سورۃ النمل:62)

یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں کر سکتا۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

﴿قُلْ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾

’’صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کو ن ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا، گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟ ‘‘ (سورۃ الانعام:63)

تمام معاملات کی اصلاح احوال کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کریں، اپنی ضروریات اور حاجات اسی کے سامنے پیش کرے، اپنی ہر ضرورت کا اسی سے سوال کرے اور یاد رہنا چاہیے کہ انسان کی سب سے بڑی مطلوبہ ترین چیز جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہے۔

صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر سے روایت ہے، حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے ان کے جنہیں میں ہدایت عطا کروں، چنانچہ مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت عطا کروں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے ان کے جنہیں میں کھلا دوں، چنانچہ تم مجھ سے کھانا طلب کیا کرو، میں تمہیں کھانا عطا کروں گا۔ اے میرے بندو! تم سب لباس سے محروم ہو سوائے ان کے جنہیں میں لباس عطا کر دوں، چنانچہ تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں پہننے کے لیے لباس عطا کروں گا۔ اے میرے بندو! تم دن رات غلطیاں کرتے ہو اور میں سارے گناہ معاف کر دیتا ہوں، چنانچہ مجھ سے مغفرت طلب کیا کرو تاکہ میں تمہیں بخش دوں۔‘‘

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے فرماتا ہے کہ، ہدایت، کھانے، لباس اور مغفرت کا سوال تم مجھ سے ہی کرو۔‘‘

اے اللہ! ہمیں ہدایت عطا فرما، ہمیں کھانا نصیب فرما، ہمیں لباس عطا فرما اور اے ارحم الراحمین، ہمیں بخش دے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان کو اپنی ضرورت کی ہر چیز اپنے رب سے ہی مانگنی چاہیے یہاں تک کہ وہ اپنے جوتے کا تسمہ اور کھانے کا نمک بھی اللہ تعالیٰ سے مانگے۔

کتنی ہی دعائیں ہیں کہ جنہوں نے تاریخ انسانی کو برائی سے اچھائی اور خوب سے خوب تر کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ سیدنا ابراہیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾

’’اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھا ئیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:129)

مسند احمد میں سیدنا ابو امامہ کی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا: ’’آپ کے نبوت والے معاملے کا آغاز کیسے ہوا؟ آپ ﷺ نے فرمايا: ’’میں اپنے باپ سیدنا ابراہیم کی دعا اور سیدنا عیسیٰ کی خوش خبری کا نتیجہ ہوں اور میری والدہ ماجدہ نے خواب دیکھا کہ ان سے ایسا نور پھوٹا کہ جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے ۔‘‘

سیدنا نوح کی دعا توحید پرستوں اور ایمان والوں کے لیے باعث خیر و نجات جبکہ مشرکین کے لیے باعث شر اور ہلاکت تھی۔ آخری زمانے میں جب سیدنا عیسیٰ اور ان کے ساتھی کوہِ طور پر گھیر لیے جائیں گے۔ تب سیدنا عیسیٰ اللہ تعالیٰ سے جو دعا فرمائیں گے وہ دعا مسلمانوں کے لیے نصرت و مدد کا ذریعہ جبکہ ٹڈیوں کی طرح پھیلے ہوئے یاجوج ماجوج کے لیے تباہی اور بربادی کا سبب ہو گی۔ اپنی خلقت اور عادات کے لحاظ سے یاجوج و ماجوج بدترین مخلوق ہے اور سب سے زیادہ فساد پھیلانے والی طاقتور اور سرکش جماعت ہے۔

صحیح مسلم میں سیدنا نواس بن سمعان کی روایت ہے کہ جب سیدنا عیسیٰ کے ہاتھوں دجال ہلاک ہو چکا ہو گا جو کہ زمین میں فساد بپا کیے ہوئے ہو گا، تب، ’’اللہ سیدنا عیسیٰ کی طرف وحی فرمائے گا کہ میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے کہ ان سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے، چنانچہ میرے بندوں کو بحفاظت طور پہاڑ پر جمع کر لیں، اور اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو بھیجے گا کہ وہ ہر بلند جگہ سے دوڑتے ہوئے اتریں گے۔ چنانچہ ان کا پہلا قافلہ بحیرۃ طبریہ (جھیل گَنَیسرت) سے گزرتے ہوئے اس کا سارا پانی پی جائے گا اور بعد والا قافلہ اس سمندر سے گزرتے ہوئے کہے گا کہ لگتا ہے یہاں کبھی پانی ہوتا ہو گا، اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی طور پر گھرے ہوں گے، نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ان کے ہاں ایک بیل کی سری، موجودہ دور کے ایک سو دینار سے زیادہ بہتر قرار پائے گی، چنانچہ ان مشکل حالات میں سیدنا عیسیٰ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے اور اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایسے کیڑے ڈال دے گا کہ وہ یکبارگی مرجائیں گے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی نیچے زمین پر اتر آئیں گے اور یاجوج و ماجوج کی سڑانڈ، بدبو اور تعفن سے زمین اٹی پڑی ہو گی اور ان کی لاشیں ایسے بکھری ہوں گی کہ بالشت بھر زمین بھی خالی نہیں ملے گی۔ یہ کیفیت دیکھ کر اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی دوبارہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ خراسانی اونٹوں کی گردنوں جتنے بڑے پرندے بھیجے گا جو یا جوج ماجوج کے مردہ جسموں کو اٹھاکر جہاں اللہ چاہے گا پھینک دیں گے۔‘‘

میدانِ بدر میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺاور آپ ﷺکے صحابہ نے جس عاجزی اور انکساری سے اللہ سےد عا مانگی تھی، اس نے ہمیشہ کے لیے اسلام کو نصرت جبکہ کفر کو دائمی رسوائی اور شکست عطا کی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾

’’اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔‘‘ (سورۃ الانفال:9)

میدانِ بدر میں آپ ﷺنے اللہ تعالیٰ سے اتنی گڑگڑا کر دعا مانگی کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک سرک گئی، اسی حالت میں پیچھے سیدنا ابوبکر نے لپٹ کر فرمایا: اے اللہ کے رسول! اب بس کیجئے، اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺنے جس انداز میں دعا فرمائی ہے، اب اللہ آپ کو بالیقین فتح نصیب فرمائے گا۔‘‘ چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا: ’’ابوبکر خوش ہو جائو، دیکھو کہ جبریل امین آئے ہیں اور فرشتوں کی باقاعدہ صف بندی کر رہے ہیں اور ان کے سامنے والے دانتوں پر گرد چمک رہی ہے۔‘‘

آپ ﷺ سے قبل کسی بھی نبی کے شانہ بشانہ کبھی فرشتوں نے جہاد میں حصہ نہیں لیا، آپ ﷺکے فضل و کمال، قوتِ یقین اور مضبوط توکل اور آپﷺ کے صحابہ کرام کے کمال اخلاص کی بدولت یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے صرف رسول اللہﷺ ہی کو عطا فرمایا۔

حق کی نصرت اور باطل کی بربادی کی دعا کرنا ایک طرح سے اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، رسول، ائمہ اسلام اور عوام الناس سے خیر خواہی ہی ہے۔ دعاء سے بے رغبتی اور اسے ترک کرنے والا انسان دنیا اور آخرت میں گھاٹے میں رہے گا اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اس کی جو ذمہ داری تھی، اس نے وہ بھی نہیں نبھائی۔ حدیث شریف میں آتا ہے: ’’جو شخص مسلمانوں کے معاملات کو اہمیت نہیں دیتا، وہ ان میں سے نہیں ہے۔‘‘دعا کے اثرات، فوائد، برکات اور پاکیزہ نتائج کو اگر ہم شمار کرتے جائیں تو بات بہت طویل ہو جائے گی، لہٰذا چند اشارے ہی کافی ہیں۔

دعاء کی کچھ شروط اور آداب بھی ہیں، دعا کی شرطوں میں سے ایک شرط ہے کہ دعا کرنیوالے کا کھانا اور اس کا لباس حلال کی کمائی سے ہو، کیونکہ نبی ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے فرمایا تھا: ’’اے سعد! اپنے کھانے کو پاکیزہ بنا لے، تیری دعا کو شرف قبولیت سے نوازا جائے گا ۔

اور قبولیت دعا کی شرطوں میں سے ایک شرط سنت نبوی سے پختہ وابستگی ہے اور اوامر الٰہی پر عمل کر کے منع کردہ کاموں سے اجتناب کر کے احکامات الٰہی کی پابندی کرنا بھی قبولیت دعا کی شروط میں شامل ہے کیونکہ جو بندہ حکم الٰہی کو تسلیم کر لے اللہ اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے:

﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾

’’اور اے نبی(ﷺ)، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنہیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:186)

اور فرمایا:

﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ وَالْكَافِرُونَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ﴾

’’وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔‘‘ (سورۃ الشوریٰ:26)

اور مظلوم انسان کافر ہو یا نافرمان بدعتی، اس کی دعا بھی قبول کیجاتی ہے۔ قبولیت دعا کی شروط میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ دعا کرنیوالے کا دل اخلاص سے لبریز ہو اور دعا پوری طرح دل سے کی جائے ،دعا میں شوق، رغبت اور اللہ سے سچی التجاء بھی شامل ہو۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿فَادْعُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾

’’(پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘ (سورۃ غافر:14)

حدیث نبوی ہے کہ اللہ تعالیٰ بے توجہ، لاپروا اور غافل دل کی دعا قبول نہیں فرماتا۔قبولیت دعا کی شرائط میں یہ بھی ہے کہ دعا گناہ، قطع رحمی اور ظلم و زیادتی پر مشتمل نہ ہو۔

دعا کی قبولیت کےا سباب میں سے ایک سبب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعریفیں اس کے اسمائے حسنی اور عالی صفات کے ساتھ کی جائیں اور نبی ﷺپر درود و سلام بھیجا جائے۔ امام ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور امام حاکم﷫ نے سیدنا بریدہ کی روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺنے ایک آدمی کو دعا کرتے ہوئے سنا جو کہہ رہا تھا۔ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اللہ ہے تیرے سو کوئی معبودِ برحق نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز جس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی والدین اور جس کی کوئی بھی برابری کرنے والا نہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے اسم اعظم کے ذریعے سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو وہ عطاء کر دیتا ہے اور دعا کی جائے تو دعا قبول فرماتا ہے۔

امام احمد، امام ابوداؤد اور امام ترمذی﷭ نے حضرت فضالۃ بن عبید کی روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺتشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا اور دعا کی کہ ’’اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحمت نازل فرما، نبی ﷺ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا تو نے جلد بازی سے کام لیا۔ جب تو نماز پڑھنے لگے تو اللہ کی حمد و ثناء بیان کر اور مجھ پر درود بھیج پھر اللہ سے دعا کر۔ ‘‘

ایک اور حدیث کے الفاظ ہیں، جب تک نبی ﷺ پر درود و نہ پڑھا جائے بندے کی دعا زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے ۔

دعاء کے آداب اور قبولیت کی شرائط میں یہ بھی ہے کہ بندہ دعاء قبول ہونے کی جلدی نہ کرے بلکہ صبر سے کام لے مسلسل دعاء کرتا رہے کیونکہ بخاری و مسلم نے سیدنا ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے کہ جب تک تم میں سے کوئی شخص دعا میں جلد بازی نہ کرے اور یہ نہ کہے کہ میں نے دعا تو مانگی مگر قبول نہیں ہوئی تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔

ہمیشہ دعا کرنے سے بھی دعا قبول ہو جاتی ہے ترمذی کی حدیث ہے کہ سطح زمین پر جب کوئی مسلم بندہ دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتا ہے یا پھر اس دعاء کے بقدر اس سے مصیبت ٹل جاتی ہے۔ جب تک بندہ گناہ یا قطع رحمی والی دعا نہ کرے۔ ایک آدمی نے کہا، پھر تو ہم اور زیادہ دعا کریں گے۔ آپﷺ نے فرمايا: ’’الله تعالیٰ تمہیں مزید نوازے گا۔‘‘

امام حاکم﷫ نے سیدنا ابو سعید کی روایت نقل کی ہے کہ ’’بندے کی دعا کے بقدر اس کیلئے آخرت میں اجر ذخیرہ کر دیا جاتا ہے۔ ‘‘

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ قبولیت دعا کے اوقات تلاش کرے کیونکہ ترمذی نے سیدنا ابو امامہ کی حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا کہ کون سی دعا زیادہ قبول کی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمايا: ’’رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے بعد کی گئی دعا قبول کی جاتی ہے۔‘‘

صحیح بخاری و صحیح مسلم نے سیدنا ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’رات کے آخری حصے میں ہمارا رب کریم آسمان دنیا پر آتا ہے اور فرماتا ہے، ہے کوئی دعا کرنیوالا جس کی میں دعا قبول کروں، ہے کوئی سوالی جسے میں عطا کروں، ہے کوئی بخشش کا طلبگار میں اسے بخش دوں۔‘‘

اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی، امام مسلم ﷫ نے سيدنا ابوہریرہ کی حدیث نقل کی ہے، آپﷺنے فرمایا: ’’حالت سجدہ میں بندہ اپنے رب کے قریب ترین ہوتا ہے، اسی لیے کثرت سے دعا کیا کرو۔‘‘

بیت اللہ کی زیارت، بارش کے نزول، پریشان حال کی، قرآن مجید کی تلاوت کی تکمیل اور صدقہ کرنے کے بعد بھی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

جس آدمی کا دل اللہ کا فرماں بردار ہے، وہ آدمی کتنا ہی باسعادت، کامیاب اور کس قدر اجر وثواب کا حامل ہے۔ کیونکہ ایسا آدمی اللہ سے دعا بھی کرتا ہے پر امید بھی رہتا ہے اسی پر بھروسہ کرتا ہے اور اسی سے ہی مدد کا طلبگار رہتا ہے اور مکمل خضوع اور دلی لگن سے اللہ سے دعا کرتا ہے اور جو آدمی قبروں اور ان میں دفن شدہ بندوں سے دعا کرے، یا پھر انبیاء کرام اور اولیاء سے دعا مانگے یا اللہ کے سو اکسی اور کو پکارے، یا کسی مقرب فرشتے کو اپنا حاجت روا جانے، یا پھر کسی نبی کو اپنا مشکل کشا سمجھے تو وہ بہت بڑا شرک و کفر کرتے ہوئے بدبختی میں بڑھ رہا ہے،کیونکہ انبیاء کرام تو یہ دعوت دیتے رہے کہ دعا صرف اللہ سے ہی کرو اور محض اسی کی ہی عبادت کرو۔

ہمارے لیے فرمان الٰہی یہ ہے کہ ہم نے اپنے اعمال ایسے درست کریں جیسے اولیاء کرام نے کیے اور ان سے محبت کرتے ہوئے ان کی اقتداء کریں لیکن اولیاء کرام سے دعا مانگنے سے ہمیں منع کر دیا گیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾

’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘ (سورۃ الجن:18)

اور فرمایا:

﴿ قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا﴾

’’اے نبی(ﷺ)، کہو کہ میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘ (سورۃ الجن:20)

غائب اور فوت شدگان میں سے کوئی بھی دعا قبول کرنے کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ قبولیت دعا کی طاقت صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:

﴿لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ﴾

’’اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف! ‘‘ (سورۃ الرعد:14)

اور فرمایا:

﴿ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ٥‏ وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ﴾

’’ آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں۔اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے۔‘‘(سورۃ الاحقاف:6-5)

اور اللہ تعالیٰ نے اپنے افعال اور تدابیر کے متعلق فرمایا:

﴿يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ١٣‏ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ﴾

’’وہ دن کے اندر رات کو اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے چاند اور سورج کو اُس نے مسخر کر رکھا ہے یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے اُسے چھوڑ کر جن دوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پرکاہ کے مالک بھی نہیں ہیں ۔انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔‘‘(سورۃ فاطر:13-14)

اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی سے بھی دعا کرنے کی اجازت نہیں دی، خواہ وہ کوئی کتنا ہی اللہ کا مقرب کیوں نہ ہو۔ ارشادِ ربانی ہے:

﴿ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾

’’ مسیح نے کہا تھا کہ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی‘‘ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔‘‘ (سورۃ المائدۃ:72)

اور فرمایا: ﴿وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾

’’ وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (سورۃ آل عمران: 80)

امام بخاری﷫ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود کی روایت نقل کی ہے۔ آپﷺنے فرمایا: ’’جو حالت شرک میں فوت ہوا وہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘

اے مسلمان! قرآن مجید اور احادیث رسول وضاحت کرتے ہیں کہ دعا ایک عبادت ہے اور یہ عبادت صرف اللہ کی ہی کی جانی چاہیے۔ یہ بندوں پر اللہ کا حق ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کیلئے کریں۔ جس نے دعا میں اللہ کا کسی کو شریک ٹھہرایا اس نے شرک اکبر کا ارتکاب کیا۔ یاد رکھو! شرک اور کفر میں کسی کی بھی تقلید نہ کرو کیونکہ اولادِ آدم نے شرک اور کفر کا ارتکاب دیکھا دیکھی ہی کیا ہے۔

فرمانِ الٰہی ہے:

﴿ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ ٦٢‏ إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ ٦٣‏ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ ٦٤‏ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ ٦٥‏ فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ٦٦‏ ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ ٦٧‏ ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ ٦٨‏ إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ ٦٩‏ فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ﴾ ’’

بولو، یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟ ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے۔ اُس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔جہنم کے لوگ اُسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے۔پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ملے گا۔ اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا ۔اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے۔‘‘ (سورۃ الصافات:62-70)

ارشادِ ربانی ہے:

﴿ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ٥٥‏ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ﴾

’’ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ، یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔‘‘ (سورۃ الاعراف:55-56)

اللہ تعالیٰ قرآن عظیم کو میرے اور تمہارے لیے ذریعہ برکت بنائے۔ اس کی آیات اور بامقصد ذکر سے مجھے اور تم سب کو مستفید فرمائے۔ اسی گفتگو پر اکتفاء کرتا ہوں۔ اپنے لیے، تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کیلئے ہر گناہ کی اللہ عظیم سے بخشش کا طلبگار ہوں۔ اسی سے بخشش مانگووہی بخشنے والا مہربان ہے۔

دوسرا خطبہ:

تمام تعریفیں رحمن و رحیم، عزیز و حکیم اللہ کیلئے ہیں۔ اسی کے اسمائے حسنی ہیں اور روہی بلند و بالا صفات کا حامل ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں وہی اعلیٰ اور بلند ترین ذات ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے نبی سیدنا محمد ﷺ الله كے بندے اور منتخب رسول ه ہیں۔ اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد، اس کی اولاد اور صاحبِ تقویٰ صحابہ کرام پر رحمت، سلامتی اور برکت نازل فرما۔

اما بعد! تقویٰ الٰہی اختیار کر لو وہ تمہارے اعمال درست فرما دے گا اور حال و مستقبل میں تمہیں کامیابی نصیب فرمائے گا۔

بندگانِ الٰہی! اللہ کی طرف رغبت رکھنے والے اور ہمیشہ اس سے دعا مانگنے والے بن جاؤ، دعا کرنیوالے کو کبھی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اور جو اللہ سے امیدیں وابستہ کر لے وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میرے بندے کا میرے بارے میں جیسا گمان ہوتا ہے، وہ مجھے ویسا ہی پاتا ہے۔‘‘سیدنا عمر فرمایا کرتے تھے: ’’مجھے دعا کی قبولیت کی فکر لاحق نہیں ہوتی بلکہ مجھے تو یہ فکر ہوتی ہے کہ دعا کی توفیق مل جائے۔ چنانچہ دعا کی توفیق مل گئی تو اللہ تعالیٰ اسے قبول بھی فرما لے گا۔‘‘

ہر انسان کی نت نئی ضروریات ہوتی ہیں، ہر انسان اپنے رب سے بھلائی کا سوال کرے اور ہر بدی سے اللہ کی پناہ طلب کرے۔ عظیم ترین دعا اللہ کی رضا مندی اور حصول جنت کی دعا ہے اور عظیم ترین پناہ جہنم سے پناہ ہے۔

مسلمان کو چاہیے کہ اپنی ہر ضرورت کے وقت رب سے التجا کرے کیونکہ اللہ ہی غنی، لائق تعریف اور باعزت، سخی، عظمت اور قدرت والا رب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حدیث قدسی میں فرمایا:

’’ اے میرے بندے ! اگر تمہارا پہلا اور آخری آدمی، تمام انسان اور جن ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب بیک وقت مجھ سے سوال کریں اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق عطا کردوں تو اس سے میرے خزانوں میں صرف اتنی کمی آئے گی جتنی سوئی کو سمندر میں ڈالنے سے سمندر کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ‘‘

حدیث نبوی میں ہے:

’’جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے۔‘‘

اور مستحب یہ ہے کہ مسلمان نبی ﷺ سے منقول جامع دعائیں کرے، جیسے فرمانِ الٰہی ہے:

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ۔‘‘(البقرۃ:201)

اور نبیﷺاکثر یہی دعا مانگا کرتے تھے ۔ یا جیسے یہ دعا ہے ، اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب لے جانے والے ہر قول و عمل کا سوال کرتا ہوں۔ جہنم اور اس کے قریب لے جانے والے ہر قول و عمل سے پناہ طلب کرتا ہوں۔

بندگانِ خدا!

﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾

’’اللہ اور اس کے ملائکہ نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔’’(الاحزاب:56)

نبی ﷺنے فرمايا: جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرما دیتا ہے۔ اسی لیے سید الاولین والآخرین اور امام المرسلین پر درود و سلام بھیجو۔ اے اللہ! محمد ﷺاور آلِ محمدﷺ پر رحمت برسا جيسی رحمت تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر نازل فرمائی۔ تو ہی لائقِ تعریف بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺاور آل محمدﷺ پر برکت نازل فرما جیسی برکت تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر نازل فرمائی۔ تو ہی لائق تعریف بزرگی والا ہے۔

اے اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا، ہدایت یافتہ ائمہ ، خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان، علی سے راضی ہو جا۔ یہ ایسی شخصیات تھیں جو سچائی پر گامزن رہ کر اس کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اے اللہ! تمام صحابہ کرام سے راضی ہو جا۔ تابعین سے راضی ہو جا اور تاقیامت ان کے نقش قدم پر چلنے والوں سے راضی ہو جا۔ اے ارحم الراحمین! اپنے فضل و کرم اور احسان سے ان کے ساتھ ساتھ ہم سے بھی راضی ہو جا۔

’’اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔‘‘(سورة البقرۃ:201)

﴿ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ٩٠ ‏ وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۚ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾

’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔‘‘

(سورة النحل:90-91)

تبصرہ کریں