دعا۔۔۔ اہمیت، فوائد، شرائط اور آداب۔ فضیلۃ الشیخ علی بن عبد الرحمٰن الحذیفی

آپﷺ نے بدر کے موقع پر دعا کرتے ہوئے بہت ہی الحاح اور اصرار کے ساتھ دعا فرمائی تھی، یہاں  تک کہ آپ کی چادر گر گئی تو ابو بکر﷜ نے آپ کو پکڑ کر  تسلی دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے آپ نے کافی اصرار کر لیا ہے،  اللہ تعالیٰ آپ سے کیا ہوا وعدہ ضرور پورا فرمائے گا۔‘‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابو بکر! خوش ہو جاؤ، یہ جبرائیل﷤ ہیں جو فرشتوں کو ترتیب دے رہے ہیں اور جبرائیل کے اگلے دانتوں پر غبار چڑھی ہوئی، اس سے پہلے کسی بھی نبی کے ساتھ فرشتوں نے لڑائی میں براہِ راست حصہ نہیں لیا، آپﷺ کے مقام ومرتبے، اللہ تعالیٰ پر آپ کے کامل اعتماد اور صحابہ کرام﷢ کے مخلص ہونے کی وجہ سے یہ بلند مقام آپ کو دیا گیا۔ حق کے غلبے اور باطل کے مٹانے کی دعا کرنا حقیقت میں اللہ، کتاب اللہ، رسول اللہ اورمسلم حکمرانوں سمیت تمام مسلمانوں کی بھی خیرخواہی ہے، دعا سے بے رغبتی وہی شخص کرتا ہے جو دنیا وآخرت میں اپنا نصیب کھونا چاہتا  ہے، نیز اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے  اپنی ذمہ داری سے کوتاہی  برت رہا ہے، ایک حدیث میں ہے:

’’ جو شخص مسلمانوں کے معاملات کی پرواہ نہیں کرتا وہ مسلمانوں میں سے نہیں۔‘‘ اگر ہم دعا کے مثبت نتائج، اثرات، برکات، خیروبھلائی جمع کرنے لگیں تو بہت وقت درکار ہو گا، اس لیے جو ہم نے بیان کر دیا ہے وہی کافی ہے۔ دعا کی کچھ شرائط اور آداب ہیں: چنانچہ دعا کی شرائط  میں حلال کھانا پینا اور پہننا  شامل ہے، جیسے کہ نبی ﷺ نے سعد بن ابی وقاص﷜  سے  فرمایا تھا: ’’ سعد! اپنا کھانا پاکیزہ رکھو، تمہاری دعا قبول کی جائے گی۔‘‘ اسی طرح دعا کی شرط ہے کہ انسان سنت پرکار بند ہو، اللہ تعالیٰ کے احکامات کوبجا لائے اور ممنوعات سے بچے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ﴾

’’اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں کہہ دیجیے کہ میں قریب ہی ہوں، جب کوئی دعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں، لہٰذا انہیں چاہیے کہ میرے احکامات بجا لائیں اور مجھ پر اعتماد رکھیں تاکہ وہ ہدایت پا جائیں۔‘‘ (البقرۃ: 186)

اور اسی طرح فرمایا: ﴿وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُم مِّن فَضْلِهِ ۚ﴾

’’ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ ا ن کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے انہیں زیادہ بھی دیتا ہے۔‘‘ (الشوریٰ: 26)

لیکن مظلوم کی بد دعا اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے، چاہے وہ کافر یا بدعتی ہی کیوں نہ ہو۔

دعا کی یہ بھی شرط ہے کہ اس میں اخلاص، حاضر قلبی، اللہ تعالیٰ کے سامنے الحاح اور سچے دل کے ساتھ التجائیں کی جائیں، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَادْعُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾

’’اللہ کے لیے  عبادت خالص کرتے ہوئے اللہ کو ہی پکارو  چاہے یہ کافروں کے لیے ناگوار ہو۔‘‘ (غافر: 14)

اور ایک حدیث میں ہے کہ

’’ اللہ تعالیٰ کسی ایسے دل سے دعا قبول نہیں فرماتا  جو سہو و لہو میں مبتلا ہو۔‘‘ اسی طرح یہ بھی دعا  کی شرط ہے کہ گناہ اور قطع رحمی کی دعا نہ کی جائے اور دعا میں حد سے تجاوز نہ ہو۔ دعا کی قبولیت کے اسباب میں یہ شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوب حمدوثنا بیان کی جائے اور نبی ﷺ پر درود وسلام پڑھیں، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا:  ’’یا  رسول اللہ! میں تجھ سے اپنی گواہی کا واسطہ دیتے ہوئے سوال کرتا ہوں کہ تو ہی مبعود برحق ہے، تیرےسوا  کوئی معبود نہیں، تو ہی یکتا اور بے نیاز ہے، اس سے کوئی پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا ہے اور اس کا کوئی ہم سر نہیں ہے۔‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا: تو نے اللہ تعالیٰ کے اس نام سے مانگا ہے جب بھی اس نام سے مانگا جائے تو وہ قبول فرماتا ہے۔‘‘

امام ابو داؤد﷫، امام ترمذی﷫ نے اسے روایت کیا ہے اور امام ترمذی﷫ نے حسن کہا ہے، امام ابن ماجہ، امام ابن حبان اور امام حاکم﷭ نے سیدنا بریدہ﷜ سے اسے بیان کیا ہے اور فضالہ بن عبید ﷜ کہتے ہیں کہ

’’ ایک بار رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی داخل ہوا اور نماز پڑھتے ہوئے کہنے لگا:  ’’یا اللہ! مجھے معاف کر دے، مجھ پر رحم فرما۔‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’نماز پڑھنے والے! تم نے جلد بازی سے کام لیا ہے، جب تم نماز پڑھو اور تشہد میں بیٹھو  تو اللہ کی شایان شان  حمد وثنا بیان کرو اور پھر مجھ پر درود بھیجو، اس کے بعد دعا کرو۔‘‘ امام احمد، امام ابو داؤد اور امام  ترمذی﷭ نے اسے روایت کیا ہے اور امام ترمذی﷫ نے اسے حسن کہا ہے۔ اور ایک حدیث  میں ہے کہ

’’دعا آسمان اور  زمین کے درمیان معلق رہتی ہے جب تک نبی ﷺ پر درود نہ پڑھا جائے۔‘‘ دعا کے آداب اور قبولیت کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ قبولیت کے لیے جلد بازی نہ کرے، بلکہ دعا کرتا   رہے اور صبر سے کام لے چنانچہ حدیث میں  ہے کہ ’’ تمہاری دعا اس وقت تک قبول  کی جاتی ہے جب تک جلد بازی نہ کرے اور کہے: ’’ دعا تو بہت کی لیکن قبول ہی نہیں ہوتی۔‘‘

بخاری ومسلم نے اسے ابو ہریرہ﷜ سے بیان کیا ہے ۔ لہٰذا دائمی طور پر  دعا کرتے  رہنے سے آخر کار دعا قبول ہو جاتی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ

’’روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کوئی بھی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا کر دیتا ہے یا اس کےبدلے میں کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے بشرطیکہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔‘‘ یہ بات سن کر ایک شخص نے کہا: ’’پھر تو  ہم بہت زیادہ دعائیں مانگیں گے!‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تمہیں اس سے بھی زیادہ دے گا۔‘‘ ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے، نیز حاکم نے اسے ابو سعید ﷜ سے بیان کرتے ہوئے یہ بھی اضافہ نقل کیا ہے کہ ’’ یا اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو (آخرت کے لیے)  ذخیرہ فرما لیتا ہے۔‘‘ مسلمان کو قبولیت دعا کے اوقات تلاش کرنے چاہییں، چنانچہ رسول اللہﷺ سے عرض کیا گیا: ’’کون سی دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟‘‘ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’رات کے آخری حصے میں اور فرض نمازوں کے آخر میں۔‘‘ امام ترمذی﷫ نے ابو امامہ﷜ سے روایت کرتے ہوئے حسن قرار دیا ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ ’’ ہمارا پروردگار رات کی آخری تہائی میں آسمان دنیا تک نازل ہو کر فرماتا ہے: ’’کوئی دعا کرنے والا ہے، میں اس کی دعا قبول کروں، کوئی سوال ہے میں اسے عطا کروں، کوئی  بخشنے والا ہے میں اسے بخش دوں۔‘‘

امام بخاری﷫ وامام مسلم﷫  نے اسے سیدنا ابو ہریرہ﷜   سے روایت کیا ہے۔ اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد  نہیں کی جاتی، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ’’ اپنے رب کے قریب ترین بندہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لیے سجدے میں کثرت سے دعائیں کرو۔‘‘ امام مسلم﷫ نے اسے سیدنا ابو ہریرہ﷜ سے روایت کیا ہے۔ کعبہ کو دیکھتے ہوئے، بارش نازل ہوتے وقت، مشکل کے وقت، ختم قرآن کے بعد، صدقہ کے بعد بھی دعا قبول ہوتی ہے۔ ایسے شخص کی سعادت مندی  اور کامیابی کے کیا ہی کہنے  جس کا دل اللہ تعالیٰ  کی جانب متوجہ رہتا ہے، اسی سے دعائیں مانگتا ہے اور اُمید رکھتا ہے، اسی پر توکل وبھروسہ  رکھتا ہے اور مدد مانگتا ہے اور وہ شخص کتنا ہی  بدبخت اور شرک وکفر میں مبتلا ہےجو مزاروں اور قبر والوں سے مدد مانگے، یا انبیائے کرام﷩ سے مدد مانگے، یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر  اولیاء کو پکارے، اپنی حاجت روائی اور فریاد رسی کے لیے فرشتوں اور نبیوں سے درخواست کرے، حالانکہ انبیائے کرام﷩ لوگوں کو یہی دعوت دینے کے لیے آئے تھے، صرف ایک اللہ کو پکارو، عبادت صرف اللہ کی کرو، ہمیں وہی عمل کرنےکی تلقین کی گئی جو اولیاء کرتے تھے نیز ان سے محبت کا حکم بھی دیا گیا ہے، لیکن ان سے دعائیں مانگنا منع ہے۔

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا﴾

’’بے شک مساجد اللہ کے لیے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔‘‘  (الجن: 18)

اسی طرح اللہ کا فرمان ہے:

﴿قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا ﴾

’’آپ کہہ دیں کہ میں صرف اپنے رب کو ہی پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘ (الجن: 20)

غائب یا فوت  شدگان کوئی بھی دعا کا جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے، کیونکہ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے کہ 

’’ اسی کو پکارنا برحق ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ انہیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ انہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنے ہاتھ اس لیے پھیلائے کہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ پانی کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ کافروں کی دعائیں صرف گمراہی میں ہیں۔‘‘ (الرعد: 14)

اسی طرح فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’اس شخص سے سے زیادہ گمراہ کون ہو سکتا ہے جو اللہ کو چھوڑ کر قیامت تک جواب نہ دینے والوں کو پکارے، بلکہ وہ ان کی پکار سے غافل بھی ہوں۔‘‘  (سورۃ الاحقاف:5)  

’’اور جب لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا تو وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور وہ (معبود باطلہ) ان کی عبادت کا یکسر انکار کر دیں گے۔‘‘ (الاحقاف: 5۔6)

اللہ تعالیٰ نے اپنے افعال کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا:’’ وہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور آفتاب وماہتاب کو اسی نے مسخر کیا، ہر ایک میعاد معین پر چل رہا ہے، یہی ہے اللہ تم سب کا پالنے والا اسی کی سلطنت ہے، جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو وہ  تو کجھور کی گٹھلی کے چھلکے کے بھی مالک نہیں۔ ‘‘ (فاطر:13)

اگر تم انہیں پکارو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر (بالفرض) سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے شریک اس شرک کا صاف انکار کر دیں گے۔ آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دے گا۔ (فاطر: 13۔ 14) اللہ تعالیٰ نے کسی سے بھی دعا مانگنے کی اجازت نہیں دی، چاہے وہ کتنا ہی مقرب کیوں نہ ہو، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔‘‘ (المائدہ: 72)

اسی طرح فرمایا: ’’کوئی فرشتوں اور نبیوں کو رب ماننے کا حکم نہیں دے سکتا، کیا وہ تمہیں مسلمان بننے کے بعد کفر کا حکم دینا چاہتا ہے؟‘‘ (آل عمران: 80) اور ایک حدیث میں ہے کہ  ’’ جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ وہ غیر اللہ کو پکارتا  تھا تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ امام بخاری﷫ نے اس حدیث کو ابن مسعود﷜ سے روایت کیا ہے۔

مسلمانو! یہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث تمہارے سامنے بیان کر رہی ہیں کہ ’’دعا عبادت ہی ہے۔‘‘  اور دعا صرف  اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہیے، جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو دعا میں شریک کرتا ہے، تو وہ شرک اکبر میں ملوث ہے۔ گمراہی اور شرک میں کوئی کسی کی اندھی تقلید اور گمراہ لوگوں کی پیروی سے ہی پیدا ہوا، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:  ’’کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا (زقوم) کا درخت۔ جسے ہم نے ظالموں کے لیے ایک آزمائش  بنا دیا۔   بے شک وہ درخت جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔ جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہوتے ہیں۔ وہ ان کو کھا کر  اپنے پیٹ بھریں گے۔ پھر اس پر گرم کھولتا ہوا پانی پلایا  جائے گا ۔ پھر انہیں دوزخ کی طرف لوٹنا ہو گا۔ انہوں نے اپنے آباؤ واجداد کو گمراہ ہی پایا ۔ تو وہ انہی کے نشان قدم پر دوڑ تے  رہے۔ (الصافات: 62۔70)

فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ

’’ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ انداز میں پکارو، بے شک وہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔  زمین میں خوشحالی کے بعد فساد بپامت کرو، امید اور خوف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو ہی  پکارو، بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہے۔‘‘  (الاعراف: 55۔56)

اللہ تعالیٰ میرے اور آپ سب کے لیے قرآن کریم کو خیر وبرکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے اور ہمیں سید المرسلینﷺ کی سیرت وٹھوس  احکامات پر چلنے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے گناہوں کی بخشش مانگو۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہی رحمٰن و رحیم اور عزیز وحکیم ہے، اس کے اچھے نام اور اعلیٰ صفات ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبودِ برحق نہیں وہ اکیلا ہے، وہی بلند وبالا ہے، میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے پیارے نبی اور سربراہﷺ اس کے بندے اور چنیدہ  رسول ہیں، یا اللہ! اپنے بندے و رسول محمد، ان کی آل اور  متقی صحابہ کرام﷢ پر رحمت، سلامتی اور برکتیں نازل فرما۔

حمد وصلاۃ کے بعد: تقویٰ الٰہی اختیار کرو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے امور سنوار دے گا اور تمہیں حال و استقبال میں کامیاب ہونے والوں سے بنا  دے گا۔

اللہ کےبندو! اللہ کی جانب متوجہ رہو، ہمیشہ صرف اسی سے دعا ئیں مانگو، کیونکہ اس سے مانگنے والا کبھی نامراد نہیں ہوا،اس  سے امید رکھنے والا کبھی محروم نہیں رہا۔ سیدنا عمر﷜ کہتے ہیں کہ ’’ میں دعا کی قبولیت کے لیے پریشان نہیں ہوتا، بلکہ میں دعا مانگنے کی توفیق ملنے کی تمنا کرتا ہوں، کیونکہ جب مجھے دعا کی توفیق  مل گئی  تو قبولیت کی ضمانت اللہ تعالیٰ نے دی ہوئی ہے:  ’’ انسان کو ہر وقت نت نئی ضرورت کا سامنا ہوتا ہے بسا اوقات ایک ہی لمحے میں کئی ضروریات ہوتی ہیں، چنانچہ ہر انسان اپنے علم کے مطابق اللہ  تعالیٰ سے خیر مانگے، اسلام کی وجہ سے جن مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے ان کے لیے دعائیں کرے اور اپنے علم کے مطابق بری چیزوں سے پناہ چاہے۔ مانگنے کی سب سے بڑی چیز رضائے الٰہی اورجنت ہے، نیز جہنم اور جہنم کی طرف لے جانے والے اعمال سے پناہ مانگنا سب سے بڑی پناہ مانگنے کی چیزیں ہیں۔ مسلمان کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ سے الحاح کے ساتھ مانگے، کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی،کریم، حمید اور عظیم سخی ہونے کے ساتھ ساتھ قادر مطلق بھی ہے۔

حدیث قدسی میں  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’ میرے بندو! اگرابتدا  سے  لے کر انتہا تک، جن ہوں یا انسان سب کے سب ایک ہی میدان میں جمع ہو کر مجھ مانگنے لگیں تو میں ہر ایک کو اس کی ضرورت بھی دے دوں تو اس سے میرے خزانوں میں اتنی ہی کمی آئے گی جتنی سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے آتی ہے۔‘‘ امام مسلم﷫ نے اسے ابو ذر ﷜   روایت کیا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ سے  نہ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوتا ہے۔‘‘ مستحب میں ہے کہ نبی کریمﷺ سے منقول جامع دعائیں مانگی جائیں، جیسے کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ (البقرۃ: 201)

’’ہمارے پروردگار ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ  کےعذاب سے بچا۔‘‘  

آپﷺ عام طور پر یہی دعا کثرت سے فرماتے تھے۔ اسی طرح حدیث نبوی میں ہے کہ ’’ یا اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے قول وفعل کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے جہنم اور اس کے  قریب کرنے والے ہر قول وعمل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ سے حسن خاتمہ کی دعا بھی کرے۔

اللہ کے بندو!  ﴿إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾  ’’یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود وسلام پڑھو۔‘‘ (الاحزاب: 56)

اور آپﷺ کا فرمان ہے کہ ’’ جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔‘‘ اس لیے سید الاولین والآخرین اورامام المرسلین پر درود وسلام پڑھو:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وسلم تسليما كثيرا

یا اللہ! تمام صحابہ کرام﷢ سے راضی ہو جا، یا اللہ! تمام صحابہ کرام﷢ سے راضی ہو جا، یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین ابو بکر، عمر، عثمان، علی اورتمام صحابہ کرام﷢  اور قیامت تک ان کے نقش  قدم پر چلنے والے تمام لوگوں سے راضی ہو جا، یا اللہ! ان کے ساتھ ساتھ اپنی رحمت وکرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا،  یا ارحم الراحمین!

یا اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرما، یا اللہ! کفر اور کافروں کو ذلیل ورسوا فرما اور دین کے دشمنوں کو تباہ وبرباد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل ورسوا فرما، یا رب العالمین ! یا اللہ! دین سے متصادم بدعات کو قیامت تک کے لیے ذلیل ورسوا فرما، یا ذوالجلال والاکرام، یا قوی! یا متین!

یا اللہ! تمام معاملات کا انجام ہمارے لیے بہتر فرما اور ہمیں دنیاوی رسوائی  اور اخروی عذاب سے پناہ عطا فرما۔

یا اللہ! ہمیں ہمارے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے تحفظ عطا فرما۔ یا اللہ! ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان، شیطانی چیلوں، لشکروں اور اس کے ہمنواؤں سے محفوظ فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہم تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتے ہیں، چاہے وہ فوری ملنے والی ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں، اور اسی طرح یا اللہ! ہم ہر قسم کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں چاہے وہ فوری آنے والا ہے یا تاخیر سے، ہمیں اس کے بارے میں علم ہے یا نہیں۔

یا اللہ! ہمیں بارش  عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! ہمیں بارش عطا فرما، یا اللہ! یا ارحم الراحمین! دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں رحم کرنے والے!تیرے ہی ہاتھوں میں خیر وبھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے، یا اللہ! ہمیں فائدہ مند بارش عطا فرما، جو نقصان کی باعث نہ ہو، یا ذوالجلال والاکرام!

یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہماری سرحدوں کی حفاظت فرما، یا اللہ! ہمارے فوجیوں کی  حفاظت فرما، اور ہماری دھرتی کی حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ ! ہمارے ملک کی ہمہ قسم کے نقصانات اور شر سے  حفاظت فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! ہمیں ہر قسم کے شریر کے شر سے  محفوظ فرما،  بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! خادم حرمین شریفین کو تیری مرضی کے کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ!  ان کی تمام تر کاوشیں تیری رضا کےلیے مختص  فرما اور ان کی ہر اچھے کام پر مدد فرما، یا رب العالمین! یا اللہ! انہیں درست فیصلوں کی  توفیق عطا فرما، یا اللہ! یا رب العالمین! ان کے ذریعے اپنے دین کو غالب فرما، ان کے ذریعے اعلائے کلمۃ اللہ فرما، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

یا اللہ! ان کے دونوں نائبوں کو تیری مرضی اور تیری رہنمائی کے مطابق صرف وہی کام کرنے کی توفیق عطا فرما جن میں اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا رب العالمین! بے شک توہر چیز پر  قادر ہے۔

یا اللہ! تمام مسلمان فوت شدگان کی مغفرت فرما،  یااللہ! ان کی قبروں کو منور فرما، ان کی نیکیوں میں اضافہ فرما، ان کے گناہوں سے درگزر فرما۔ یا اللہ! ہمارے تمام امور آسان فرما دے، ہمارےسینوں کو بیماریوں سے پاک فرما دے، اور یا اللہ! اپنی رحمت کے صدقے تمام مسلمان مرد وخواتین اور مومن مرد وخواتین کے معاملات سنوار دے، یا ارحم الراحمین!

یا اللہ! ہمیں دنیا وآخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔

اللہ کے بندو!

 ﴿إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ  يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾

’’اللہ تعالیٰ تمہیں عدل واحسان اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور تمہیں فحاشی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔‘‘ (النحل: 90۔91)

عظمت والے اور جلیل القدر پروردگار کو خوب یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو وہ تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ تعالیٰ کی یاد بہت بڑی عبادت ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے تمام کاموں سے باخبر ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں