نرم دم گفتگو گرم دم جستجو ڈاکٹر وی عبد الرحیم- مولانا محمد عبد الہادی العمری

1978ء کی بات ہے۔ شہرۂ آفاق درسگاہ مدینہ یونیورسٹی میں ہمارا پہلا تعلیمی سال تھا، آڈیٹیوریم ہال میں طلبہ اور شیوخ کی بڑی تعداد جمع تھی۔ آج کا محاضرہ، لیکچر ڈاکٹر ف عبد الرحیم ﷫ دینے والے تھے۔ مختلف مشاہیر علم کے متنوع عنوانات پر لیکچرز اس ہال میں منعقد ہوا کرتے تھے، آج کے لیکچر کا عنوان ’الدخیل فی اللغۃ العربیۃ‘ عربی زبان میں غیر عربی الفاظ کی درآمد نہایت علمی اور تحقیقی موضوع پر ڈاکٹر عبد الرحیم نے اس انداز سے اظہار خیال کیا کہ طلبہ اور شیوخ بڑی دلچسپی سے سنتے رہے۔

اہل علم کے اجتماع کی گفتگو عوامی دروس سے بہت مختلف ہوتی ہے، اس علمی اور تحقیقی مقالہ کے اختتام پر دعائیہ کلمات کہتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عربی زبان کے حوالے سے میری ان خدمات کو فہم قرآن وحدیث کا ذریعہ بنائے۔ شاید یہ قبولیت کا وقت ہی رہا ہو گا کہ آپ کے سینکڑوں شاگرد اطراف عالم میں دعوت دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ان میں بیشتر اپنے اپنے علاقوں میں شائقین کو اسلامی تعلیمات سے قریب لانے کے لیے عربی زبان بھی سکھاتے ہیں اور اس کے لیے آپ کی ہی تصنیف ’دروس اللغۃ العربیۃ‘ کو تدریس کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یہ انتہائی مفید کتاب ہے۔ عربی لغت پر مہارت خصوصاً اس زبان میں درآمدہ الفاظ کے متعلق آپ سند کی حیثیت رکھتے تھے۔ اس مہارت کے لیے مختلف زبانوں پر عبور لازمی ہے۔ یہ معلوم کیا جائے کہ کس لفظ کی اصل کیا ہے اور وہ عربی مبین میں کیسے داخل ہوا، اس کے لیے ایک خاص ذوق کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ بہت سوں کو اپنی مادری زبان پر بھی اس حیثیت سے عبور نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب کئی زبانوں کے ماہر تھے۔ ہم طلبہ کے درمیان عربی زبان کے حوالہ سے گفتگو ہوتی تو عموماً ڈاکٹر صاحب ہی کا حوالہ دیا جاتا کہ آپ سے رجوع کر لیا جائے یا کوئی کہہ دیتا کہ ڈاکٹر ف کی تحقیق کے مطابق اس کی اصل یہ ہے، حالانکہ عرب ممالک سے آنے والے کثیر تعداد میں اساتذہ وہاں تھے، کسی غیر عربی شخص کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات تھی کہ ٹملنا ڈو کے ایک ٹاؤن و انمباڑی کے سپوت کا عرب شیوخ بھی اس مسئلہ میں حوالہ دیں، ویسے یہ حقیقت ہے کہ قیام مدینہ منورہ کے دوران بڑے نامور اساتذہ کو صاحب کمال لوگوں کی صلاحیتوں کا کھلے الفاظ میں اعتراف کرتے ہوئے ہم نے سنا، یعنی اعتراف حق کو وہاں کے پروفیسرز، علماء اور شیوخ عار نہیں سمجھتے۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں زیر تعلیم نوے فی صد طلبہ غیر ملکی ہوتے ہیں جو دنیا کے تقریباً ایک سو ممالک سے وہاں پہنچتے ہیں، ان میں ایک بڑی تعدادایسے طلبہ کی ہوتی ہے، جن کی عربی زبان قدرے کمزور ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے اصل کورس میں داخلہ کے لیے عربی میں دسترس ضروری ہے، اس لیے انہیں شعبۃ اللغۃ العربیہ میں ایک ، دو سال گزارنے ہوتے ہیں، تاکہ ان کی زبان یونیورسٹی کے مطلوبہ معیار کے مطابق درست ہو جائے، اس اہم شعبہ کے عرصہ تک مدیر ڈاکٹر صاحب ہی تھے، یوں ایسے نَو وارد طلبہ کو آپ کی شاگردی کا براہ راست موقع ملتا، پھر یہ رشتہ اتنا مضبوط ہو جاتا کہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد جب وہ اپنے اپنے وطن لوٹتے وہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے ساتھ عربی زبان کی تعلیم پر بھی توجہ دیتے اور اس کے لیے عموماًآپ ہی کی تصنیف ’دروس اللغۃ العربیہ‘ کو بنیاد بناتے۔ سن 80 کی دہائی میں جامعہ اسلامیہ کی جانب سے عربی زبان کی تعلیم کا ایک جامع پروگرام بنایا گیا، سالانہ چھٹیوں کے موقع پر مختلف اساتذہ کئی ممالک بھیجے جاتے رہے۔ دو تین ہفتوں کے قیام کے دوران وہاں کے باذوق طلبہ ان سے خوب مستفید ہوتے، یہ دورے عربی زبان کے علاوہ دینی تعلیمات کی اشاعت کا ذریعہ ثابت ہوتے، شیوخ مدینہ کی آمد کی مناسبت سے مختلف دینی دروس اور اصلاحی پروگرامز بھی منعقد ہوا کرتے، ڈاکٹر ف کئی مرتبہ یورپ، کینیڈا کا سفر کر چکے ہیں، وہاں آج بھی ان کی شاگردوں کی بڑی تعداد اپنے محسن ومربی کی وفات پر اشکبار ہے۔

میں 1980ء کی سالانہ چھٹیوں میں حیدر آباد آیا ہوا تھا، اطلاع ملی کہ مدینہ یونیورسٹی کے دو اساتذہ حیدر آباد دکن کی لائبریریوں سے استفادہ کے لیے تشریف لائے ہوئے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب جیبوں میں چھوڑیئے گھروں میں بھی فون کی سہولت کم ہی ہوتی تھی، یہ دونوں بزرگ ہمارے گھر تشریف لے آئے، میں گھر پر نہیں تھا، والد گرامی اور برادر اکبر مولانا عبد الرحمٰن ندوی نے استقبال کیا ، کافی دیر غریب خانہ پر بیٹھے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہے، بھائی صاحب جو کہ ندوی اور عربی ادب میں ایم او ایل ہیں، وہ خود ہی شیخ ڈاکٹر ربیع بن ہادی المدخلی سے ہم کلام تھے اور والد صاحب ڈاکٹر ف عبد الرحیم کے ساتھ جب میں گھر پہنچا تو کیفیت یہ تھی کہ

ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے

کہے دیتی ہے شوخی نقش پاکی

بشیر باغ میں واقع ایک ہوٹل میں ان کا قیام تھا، تقریباً 10 روز شہر کی قدیم لائبریریوں کی خاک چھانتے رہے، ان دونوں بزرگوں کے ساتھ اخیر تک میں شامل رہا، اس وقت جامعہ اسلامیہ کی طرف سے یہ پروگرام ترتیب دیا گیا تھا کہ دنیا بھر کی لائبریریوں میں پائی جانے والی نایاب اسلامی کتب خصوصاً مخطوطات جمع کر کے یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں محفوظ کیے جائیں، بعد میں یہ سلسلہ حکومت سعودی عرب کی زیر نگرانی چلتا رہا، تاکہ یہ علمی ذخیرہ ضائع ہونے سے بچ جائے، اس علمی نعمت کا وافر ذخیرہ حیدر آبادی کتب خانوں میں موجود تھا، اس کا اندازہ راقم کو بھی اس دورہ میں ہوا کہ حیدر آباد کے علم دوست احباب نے اس علمی ذخیرہ اور نایاب کتب کو جمع کرنے میں کتنی جانفشانی سےکام لیا اور کس قدر دولت خرچ کی، اس سلسلہ میں لوگ آصفیہ لائبر یری کو جانتے ہیں، بلاشک وشبہہ اس عظیم لائبریری میں نہایت قیمتی ذخیرہ تھا جو کہ اب گردش ایام کی نذر ہو رہا ہے، اس کے علاوہ اور بھی مختلف کتب خانوں میں بڑا ذخیرہ تھا جس سے خود اکثر حیدر آبادی بھی ناواقف تھے لیکن افسوس کہ اس علمی اور تحقیقی ذخیرہ کا ایک بڑا حصہ بے توجہی کی نذر ہو گیا۔

کتابوں کی تلاش کے دوران ہمیں روضۃ الحدیث کا پتہ چلا ، سعید آباد کے عقبی حصہ رین بازار میں یہ لائبریری واقع ہے، اس کے نام ہی سے اس کے مؤسس کے حسن ذوق کا پتہ چلتا ہے، تلاش بسیار کے بعد اس سے وابستہ ایک صاحب کا علم ہوا، ان کے دولت کدہ پر جب ہم تینوں پہنچے، صاحب خانہ بھی خوش گوار حیرت میں پڑ گئے، کیا اس لائبریری میں ایسی کتابیں ہیں جن کی تلاش میں یہ ہستیاں مدینہ منورہ سے تشریف لے آئی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر ان کی ساری گفتگو کا نکتہ یہ تھا کہ آپ حضرات سرکاری طور پر کوشش کر کے یہ جگہ میرے نام واگزار کروائیے، میں اس میں موجود کتابوں کی دیکھ ریکھ کا حق ادا کروں گا۔ اس لائبریری میں مو جود بعض کتب کی فہرست کسی قدیم مجلہ میں شائع ہوئی تھی، موصوف کے پاس مجلہ کا ایک نسخہ تھا، ہم نے بڑی منت سماجت کی کہ اس فہرست کی کاپی ہی ہمیں دے دیں تاکہ ہم جائزہ لے سکیں کہ اس میں ہمارے ذوق کی بھی کچھ کتابیں ہیں، لیکن وہ فہرست دکھانے کے لیے بھی تیار نہیں تھے، وہ اپنا ہی نکتہ پر زور انداز میں پیش کرتے رہے، اس در سے ناکامی ہوئی تو ہم نے وقف بورڈ کا رخ کیا، اللہ بھلا کرے، اس وقت کے ذمہ داروں کا، انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے استقبال کیا کہ ایک اہم وفد کتابوں کی تلاش میں ہمارے دفتر آیا ہے، ورنہ اکثر لوگ مال وزر کے سلسلہ میں اس ادارہ کا رخ کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اس علمی ذخیرہ سے ناواقف ہیں، پھر انہوں نے صورتحال سے آگاہ کیا کہ روضۃ الحدیث کے مالک انتقال کر گئے، وہ لاولد تھے، اس لائبر یری کے ساتھ کافی جگہ ہے، اس پر مختلف لوگوں نے قبضہ کرنےکی کوشش کی اور ہر مدعی اپنی نسبت مرحوم سے جوڑ رہا ہے، اس لیے اس جگہ کو وقف بورڈ نے سیل کر دیا، فیصلہ ہونے تک ۔ رہا اس کی لائبر یری اور اس میں موجود کتابیں تو ہمیں بھی اندازہ نہیں اور نہ ہی ان دعودیداروں کو اس کا علم ہو گا شاید۔وہ لوگ علمی ذوق کے بھی نہیں، ہر ایک کی نظر مادی فائدہ کی طرف ہے، بہی خواہان دین وملت نے جگر سوزی سے یہ ذخیرہ جمع کر کے وقف کیا اور بعد میں آنے والوں نے بےدردی سے ہڑپ کیا۔ لہٰذا ہماری درخواست پر متعلقہ احباب نے باہمی مشورہ کر کے ہمارے لیے لائبریری کھولنے کا مژدہ سنایا کہ آپ اطمینان سے اس علمی ذخیرہ سے استفادہ کر سکتے ہیں، وقف بورڈ کے ذمہ داروں کا اس ہمدردی اور علم دوستی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم بورڈ کے ممبر کے ساتھ جگہ پر پہنچے، مکتبہ ہال نما کمرہ میں تھا، درو دیوار اور الماریوں پر اٹی ہوئی گردو غبار اور مکڑی کے جالوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ مدت سے کسی کا ادھر گزر نہیں ہوا، شاید دعویداران کی توجہ مادی چیزوں کی طرف ہی رہی ہو کہ کس کے حصہ میں کتنی زمین اور کتنے پلاٹس آئیں گے۔ اس علمی ذخیرہ کو کوڑے دان کی نذر کر دیا گیا، عموماً اوقاف کی مادی اور معنوی دولت کے ساتھ ایسے ہی ہوا، ہم نے ضروری صفائی کے بعد کتابوں کا جائزہ لیا، کچھ تو دیمک چاٹ چکی تھی، کچھ قابل مطالعہ اور کچھ صحیح سلامت تھیں۔ ہم نے طے کیا کہ کتابیں لائبریری سے باہر نہیں لے جائیں گے یہیں ان کی فوٹو ما ئیکرو فلم کا بندوبست کریں گے ، اس قسم کی کتب کی مائیکرو فلم کے لیے مطلوبہ ماہرین شہر مدراس میں تھے۔ انہیں طلب کیا گیا،وہ اپنے سامان کے ساتھ تیسرے دن پہنچے، دونوں شیوخ فہرست بناتے رہے اور فلمنگ کا کام چلتا رہا ، ایک ہفتہ صبح سے شام تک یہی کام ہوتا رہا، پھر ساری کتابیں امانتداری کے ساتھ الماریوں میں رکھ کر چابی وقف بورڈ کے عملہ کو شکریہ کے ساتھ لوٹا دی گئی، ہمیں اس علمی ذخیرہ سے کام تھا،جائیداد کا ہمیں نہیں معلوم کہ کون وارث قرار پایا،یا یہ امانت کسی کے سپرد کی گئی، شاید وہ کتابیں بھی مرور ایام کی نذر ہو چکی ہوں گی۔ لیکن الحمدللہ مکتبہ کی چند کتابوں کی مائیکرو فلم مدینہ یونیورسٹی کی لائبریری میں محفوظ ہوگی اورطلبہ اس ذخیرہ سے مستفید ہو رہے ہوں گے ، اسی وادی میں مسجد روضۃ الحدیث ہے، کام کے دوران جمعہ آ گیا، ہم نے طے کیا کہ نماز جمعہ یہیں ادا کی جائے تاکہ وقت بچایا جا سکے مسجد کمیٹی کے ایک ذمہ دار سے ڈاکٹر شیخ ربیع بن ھا دی۔ المدخلی پروفیسر مدینہ یونیورسٹی کا تعارف کروا کر خطبہ جمعہ کی اجازت لی گئی۔ شیخ ڈاکٹر فا پر زور دے رہے تھے کہ آپ یہ ذمہ داری اردو میں نبھا سکتے ہیں لوگ زیادہ مستفید ہوں گے لیکن ڈاکٹر عبد الرحیم ممبر و محراب سے زیادہ قلم وقرطاس کے آدمی تھے،انہوں نے شیخ ربیع کو مقامی حالات اور مصلحتوں کی نشاندھی کر کے خطبہ کے لیے آمادہ کر لیا، شیخ المدخلی نے خطبہ ارشا د فرمایا ، عام نمازیوں کے لیے آج کےخطبہ میں کچھ جدت دکھائی دی، یہاں خطبہ سے پہلے اور نماز کے بعد کچھ باتیں مروج تھیں، جو آج نہیں ہوئیں لیکن شیخ کے تعارف کے بعد کسی نے ان سے سوال یا اعتراض نہیں کیا۔کیونکہ وہ مدینہ منورہ سے تشریف لائے تھے، البتہ کچھ لوگوں کے لیے ہم سوالیہ نشان بن گئے کہ یہ لوگ قبروں میں گھرے کمرے میں کونسا چلہ کاٹ رہے ہیں۔

با ذوق محبان علم نے کتابوں کی کھوج میں کس کس در کے چکر لگائے، لیکن بعد میں آنے والوں نے ان کی مساعی جمیلہ کوکس بے دردی سے پامال کیا۔

مشہور زمانہ محقق ڈاکٹر حمید اللہ ﷫ کے آبائی کتب خانہ مکتبہ سعیدیہ معظم جاہی مارکیٹ بھی جانا ہوا، یہاں بڑی حدتک کتابیں الماریوں میں محفوظ تھیں، لیکن مکتبہ کے منتطمین کی گفتگو اور تلخ و تندجملوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ مختلف زائرین اور وفود اس مکتبہ سے استفاده تو کرتے رہے لیکن متعلقین کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا ، اس کا ایک سبب یہ بھی ہوگا کہ لوگ ہر عربی شخص کی بابت اندازه شاید پٹرول ڈالر سے ہی لگایا کرتے جبکہ اس راہ کے بہت سے مسافروں کی دولت ڈالر یاریا نہیں ان کا علم اور تحقیقی کاوشیں ہوتی ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بیشتر سرمایہ داروں کی جولان گاہ نہ علمی مکتبات ہیں نہ ہی وہ ان کا رخ کرتے ہیں، افسوس کہ اس اہم مکتبہ کا ایک حصہ فسادات کی آگ میں جل گیا۔

1984 ء کے اواخر کی بات ہے کہ پیریس کی جامع مسجد میں میری ڈاکٹر حمید اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی، وہاں ان کا فرانسیسی زبان میں بہت ہی علمی اور تحقیقی درس ہوا کرتا تھا، میں جب مسجد پہنچا، درس کا وقت قریب تھا۔ ڈاکٹر صاحب شیروانی نما طویل کوٹ میں ملبوس سر پر محمد کیپ مارٹ سے ملتی جلتی ٹوپی پہنے بہت ہی دبلے پتلے شخص تھے، جن سے مشرف بملاقات ہونے کے اہل علم متمنی رہا کرتے، سلام دعا کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنے مکتبہ کے اسی حادثہ کے متعلق مجھ سے دریافت کیا، اس حادثہ کی خبر ابھی تازہ تھی، موصوف کو اپنی کتابوں کی اخیر تک فکر رہی، محبان علم کے نزدیک کتابوں کی کیا اہمیت ہوتی ہے، اس کا اندازہ اسی میدان کے لوگ لگا سکتے ہیں، ورنہ اوروں کے لیے تو یہ ذخیرہ بوسیدہ کاغذات اور قدیم جلدوں کا ڈھیر لگتا ہے۔ ڈاکٹر حمیداللہ مدینہ یونیورسٹی کے آغاز میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے لیکچرز دیا کرتے تھے۔

دائرۃ المعارف جو عثمانیہ یونیورسٹی کے احاطہ میں ہے وہاں بھی گئے، دنیائے عرب سے آنے والے اہل علم کے لیے شہر حیدر آباد میں اس کی

حیثیت مرکزی ہے، یہاں تحقیق اور نشر و اشاعت کا کام اس دور میں ہوا، جب بیشتر دنیا غفلت کا شکار تھی، ایک مرتبہ مدینہ یونیورسٹی میں ایک نامی گرامی پروفیسر جن کا تعلق شام سے تھا، اپنے لیکچر کے دوران ہندوستان کے علمی مراکز اور کتب خانوں کےتذکرہ میں دائرۃ المعارف کی کچھ مشہور شخصیات کے احوال بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے یہ منظر دیکھا ہے کہ یہاں اہل علم سائیکل خود چلاتے ہوئے دفتر پہنچتے ہیں اور دن بھر تحقیقی اور علمی کام کر کے سائیکل پر سوار واپس ہوتے ہیں ، ان گرامی قدر شخصیات کی آمد و رفت کا تذکرہ کرتے ہوئے ، اس جملہ پر شامی پروفیسر نے اتنا زور دیا کہ کلاس میں بیٹھے بہت سے خوشحال طلبہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

کہ کیا یہ ممکن ہے اتنی مشہور شخصیات کی ایسی بے قدری یا کسر نفسی۔ کیونکہ ہم جس جگہ یہ لیکچر سن رہے تھے، وہاں اس مرتبہ کے لوگوں کے لئےآرام دہ چمچاتی کاریں، ماہر ڈرائیور اور پرسکون زندگی کے لیے بہت سی مراعات حاصل ہوتی ہیں، جبکہ ہندو پاک میں ایسی بہت سی نامور ہستیاں زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم تھیں۔

ایک دن کچھ فرصت ملی، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہلکی پھلکی تفریح کا پروگرام بنا کر باغ عامہ چل پڑے ، قیام حیدر آباد میں یہی چند گھنٹے فراغت کے میسر آئے تھے، حیدر آباد کا نہرو زو وسیع رقبہ میں پھیلا متعدد حیوانات اور پرندوں کے لیے مشہور ہے، ڈاکٹر ف کی لسانی مہارت کا وہاں دریا ابل رہا تھا، مختلف جانوروں کے مختلف زبانوں میں نام اور ان کے متعلق برمحل اشعار ، ضرب الامثال اور محاورے سناتے رہے ، اور ہم دونوں محظوظ ہوتے رہے، ویسے ڈاکٹر صاحب کم گو تھے ، مجلس میں عموماً سننے کو بولنے پر ترجیح دیا کرتے، شاید حدیث پر عمل کرتے: ” من صمت نجا ” ’’جس نے خاموشی اختیار کی وہ نجات پایا۔‘‘ لیکن خلاف عادت آج خوب گفتگو فرماتے رہے، اس تفریحی پروگرام میں ادبی معلومات کا ہی غلبہ رہا ۔

ڈاکٹر صاحب کے ایک رشتہ دار جنہیں وہ ماموں جی کہہ کر مخاطب ہو رہے تھے۔ مشہور محلہ مشیر آباد میں مقیم تھے، اس محلہ میں کئی مدراسی تاجران چرم آباد ہیں، ہمیں عشائیہ پر مدعو کیا ، ڈاکٹر صاحب کھانے پینے میں بہت پر ہیز گار تھے۔ دعوت تو قبول کرلی،ساتھ ہی میزبان کو اپنے ذوق سے بھی آگاہ کر دیا۔ نتیجہ میں حیدر آباد کے روایتی دستر خواں کے بجائے یہ دعوت شیر از لگ رہی تھی، اس سادگی پر میزبان کچھ شرمندگی کا اظہار کر رہے تھے ، ڈاکٹر صاحب نے اطمینان دلاتے ہوئے کہا کہ دعوت کا مقصد متنوع کھانوں سے دستر خوان کو سجانا نہیں، مہمان کی ضرورت کو مقدم رکھنا ہے، تاہم زندہ دلان حیدر آباد کے لیے اس اصول پر عمل درآمد ایک چیلنج سے کم نہیں۔ ڈاکٹر صاحب مسجد نبوی کے ایک مخصوص زاویہ ساعۃ عربیہ کے روبرو یومیہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرتے، یہی جگہ مختلف طلبہ کے لیے میٹنگ پوائنٹ کی حیثیت رکھتی تھی، نمازیں کہیں بھی ادا کی جائیں، ہماری کوشش ہوتی کہ مغرب بعد کچھ دیر کے لیے ادھر کا رخ کر لیا کریں، اکثر احباب سے یہیں ملاقاتیں ہو جاتیں۔ ڈاکٹر صاحب کے اطراف ملاقاتی بھی اسی وقت جمع ہوا کرتے۔

مدینہ منورہ میں عمری طلبہ کے اکثر اجتماعات میں ڈاکٹر صاحب شریک رہتے، مختلف نسبتوں کے سبب موصوف کو بھی جامعہ دار السلام عمر آباد کے منتسبین ہی میں شمار کیا جاتا۔

ذمہ داران جامعہ محترم کا کا محمد عمر ﷫ اور محترم مولانا کا کا سعید احمد عمری تشریف لاتے تو کم از کم ایک نشست فارغین عمر آباد کے ساتھ ضرور ہوتی، اس میں ڈا کٹر صا جب بھی شریک ہوتے اور طلبہ کو پند و نصائح سے نوازتے۔

میرےسفر برطانیہ کی اطلاع پہلے موصوف ہی کو ہوئی ، یہاں کے حالات سے متعلق ابتدائی معلومات ان ہی سے مجھے حاصل ہوئیں،ان کا مشورہ ایک ایسے میگزین کے اجراء کا تھا جو محاسن اسلام اس اسلوب میں پیش کرے کہ جدید تعلیم یافتہ اس سے مستفید ہو سکیں جس میں کسی مسلک کے بجائے خدمت اسلام کی چھاپ نمایاں ہو، پتہ نہیں ہمارا صراط مستقیم ڈاکٹر صاحب کی خواہش پر کس حد تک اتر سكا۔ الحمدللہ برطانیہ سے نکلنے والایہ واحد اردو پرچہ ہے جو تقریباً پینتالیس سال سے شائع ہو رہا ہے۔ دو سال قبل ہی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان‎ کے گھر پر فاضل دوست ڈاکٹر ابوعمر پرویز عمری کے ہمراہ ملاقات ہوئی۔جو اس وقت اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کی تیاری کے آخری مراحل میں تھے، تاریخ ہند کے ایک اہم حصہ پر انہوں نے ریسرچ مکمل کر کے کامیابی اور نیک نامی کے ساتھ انڈیا واپس پہنچے ہیں، ڈاکٹر ف صاحب قرآن پرنٹگ پریس جو اشاعت قرآن مجید کا دنیا بھر میں سب سے بڑا مرکز ہے، اس کے ذریعہ ابھی تک 76 زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ تیار کر کے کروڑوں کاپیاں دنیا بھر میں بھر میں مفت تقسیم کی گئی ہیں ، یہ حکومت سعودی عرب کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ڈاکٹر صاحب شعبۂ ترجمہ کے مدیر تھے۔

موصوف اپنی مصروفیات نمٹا کر گھر پہنچے تھے، دن بھر کی تکان اور پیرانہ سالی کا ضعف ہو ید ا تھا، اس کے باوجود اخیر تک اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے، ہمارے ساتھ بڑی اپنائیت سے گفتگو کی اور چند قدیم احباب کی خیریت دریافت کی۔

اس موقع پر اپنی کتاب مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے اس کے انگریزی ترجمہ کا ایک نسخہ عنایت فرمایا، یہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔

19 اکتوبر 2023 ء جمعرات کی شام ان کی وفات کی اطلاع ملی۔ مدینہ منورہ میں موجود احباب سے کچھ ہی دیر میں تصدیق ہوگئی۔ دوسرے دن نماز جمعہ کے بعد مسجد نبوی میں لاکھوں افراد نے نماز جنازہ ادا کی اور جنت البقیع میں تدفین عمل میں آئی ۔

وانمباڑی جو صوبہ ٹملناڈو کا ایک مختصر ٹاؤن ہے یہاں اپنے نام سے پہلے علاقہ کا نام لکھنے کا رواج ہے۔ اسی نسبت سے ڈاکٹر صاحب نام کے شروع میں وی (V) لکھا کرتے جو و انمباڑی کا پہلا لفظ ہے۔ Vaniyambadi ، یہ وی جب عرب دنیا میں پہنچا توف ہوا، جدید عربی میں وی کے تلفظ کے لیے تین نقطوں کے ساتھ ف لکھنے کا رواج چل پڑا تھا جسے نیقیا NIVEA کے لئے لکھا جاتا ، ڈاکٹر صاحب جو کہ عربی زبان میں نئے الفاظ کے ماہر تھے ۔ انہوں نے ف لکھنا شروع کیا،، بتدریج تین نقطے گویا ایک ہی نقطہ میں مدغم ہو گئے، ف پھر یہ لفظ نام کے لاحقہ کے طور پر اتنا مشہور ہوا کہ عرف عام میں خصوصا طلبہ اور پروفیسرز صرف دکتور فا کہنے ہی پر اکتفاء کر لیاکرتے۔گویا یہ لفظ وی کا معرب ہے اور آپ کی اسی سے شہرت ہوئی۔ و انمباڑی میں 7 ؍مئی 1933 ء آپ کی پیدائش ہوئی، مدر اس یو نیور سٹی سے ایم اے انگریزی اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے عربی ادب میں ایم اےکر کے اپنے علاقہ ہی کی اسلامیہ کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے، لیکن جلد ہی علم کی جستجو میں ازیر یو نیورسٹی پہنچے وہاں سے عربی لغت میں معرکۃ الاراء مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ قدردان علم نے اعتراف کیا کہ اس مقالہ کا معیار ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے اعلیٰ تھا، سوڈان کی ام درمان یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں مختصر عرصہ کے لئے خدمات انجام دی، پھر شہرۂ آفاق یونیورسٹی مدینہ منورہ انہیں خصوصی طور پر مدعو کر کے شعبۃ اللغۃ العربیۃ كا مدیر بنا دیا گیا۔

جہاں تقریبا پچیس سال خدمات انجام دیتے رہے، اس عرصہ میں مختلف طلبہ کے ایم اے اور پی ایچ ڈی کے گائیڈ اور مناقش بھی مقرر ہوتے رہے۔ یونیورسٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد کنگ فہد قرآنی پرنٹنگ پریس مجمع الملک فہد لطباعۃ القرآن الکریم میں شعبہ ترجمہ کے مدیر مقرر ہوئے،تو حیات مستعار کے آخرتک تقریباً بیس سال اشاعت قرآن مجید کی یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔ یوں ڈاکٹر صاحب کی خواہش کہ میری عربی خدمات کو اللہ تعالیٰ فہم قرآن وسنت کا ذریعہ بنائے، پوری ہوئی۔

دنیا بھر میں پھیلے سینکڑوں شاگرد اور ہزاروں عقیدت مند دعا گو ہیں کہ الله تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں جگہ عطا کر دے ، بشری لغزشوں سے درگزر کا معاملہ فرمائے۔ آمین

تبصرہ کریں