دو خطبے ایک خطیب۔۔۔۔ دو جمعے ایک امام۔محمد ابوحمزہ الفیصل( بریڈ فورڈ )

نماز مسلمانوں پر اللہ کا عائد کردہ فرض ہے۔ نماز اللہ کا عطا کر دہ تحفہ ہے۔ نماز اللہ سے مانگنے کا ذریعہ ہے۔ نماز اللہ سے بات کرنے کا طریقہ ہے۔ نماز رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز قیامت کے دن پہلا حساب ہے۔ نماز میں جو کامیاب ہوا وہ جنت کا حقدار۔ نماز میں جو نا کام رہا وہ ایندھن نار۔

نماز خالصتاً اللہ کی عبادت ہے۔ نماز شب و روز میں پانچ مرتبہ فرض ہے۔ نفلی نماز کا کوئی خاص عدد مقرر نہیں ۔ موقع و مناسبت کے لحاظ سے نفلی نماز کے مختلف نام وارد ہوئے ہیں۔ جیسے چاشت کی نماز، استخارہ کی نماز، نماز تسبیح، نماز حاجت، تو بہ کی نماز، تہجد کی نماز، تراویح کی نماز ، بارش کیلئے نماز ، چاند یا سورج گرہن کی نماز ۔ الغرض انسان اپنی اپنی ضرورت کے مطابق نماز کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔

ہر نماز کیلئے اپنے اپنے اوقات اور اصول و ضوابط طے ہیں۔ فرض نماز با جماعت جبکہ نفلی نماز انفرادی حیثیت میں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ کسی معقول عذر کی بنا پر اگر کسی کی فرض نماز رہ جائے تو اسے قضاء کی شکل میں ادا کیا جاتا ہے۔

اگر کسی نے وقت پر نماز با جماعت یا اکیلے ادا کر لی ہوتو کیا وہ دوبارہ اُسے پڑھ سکتا ہے۔ انفرادی طور پر تو وہ ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ ایک نماز ایک دفعہ ہی ادا کی جاتی ہے جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ ایک دن میں ( وہی ) نماز دو مرتبہ نہیں پڑھی جاتی۔ البتہ اگر اسے موقع میسر آئے یا کوئی سبب بنے تو وہ جماعت کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے۔ اس کو فقہاء نے نماز دہرانے کے باب میں بیان کیا ہے۔

اس کا حوالہ ہم امام محمد بن رشد القرطبی کی کتاب بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد سے دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: بشر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ

جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے کہا: تمہیں کیا ہے کہ تم نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ جواب دیا ضرور یا رسول ﷺ، لیکن میں نے گھر پر نماز پڑھ لی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا:

اگر تم (مسجد میں) آؤ تو لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرو اگر چہ تم پہلے بھی ادا کر چکے ہو۔

بظاہر یہ واقعہ خود بشر کا ہے یا اُن کے والد کا۔ علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نماز دوبارہ ادا کی جاسکتی ہے۔

اس سلسلہ میں دوسری روایت ہم مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی کتاب اتحاف الکرام سے پیش کرتے ہیں۔ مولانا موصوف ﷫ نے یہ کتاب حافظ ابن حجر العسقلانی کی کتاب بلوغ المرام کی شرح میں لکھی ہے۔

وہ لکھتے ہیں :

سیدنا یزد بن اسود یان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو دو ایسے آدمیوں پر نظر پڑی جنہوں نے نماز ( آپ کے ساتھ ) نہیں پڑھی تھی۔ آپﷺ نے دونوں کو اپنے پاس بلوایا۔ دونوں آپﷺ کی خدمت میں حاضر کئے گئے تو (خوف کے مارے) اُن کے شانے کانپ رہے تھے۔ آپﷺ نے دریافت فرمایا:

تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا؟“ دونوں نے عرض کیا :

ہم اپنے گھروں پر نماز پڑھ چکے ہیں۔

آپﷺ نےفرمایا: ”ایسا مت کرو۔ اگر تم اپنے گھروں پر نماز پڑھ چکے ہو پھر تم امام کو پالو اور امام نے ابھی نماز نہ پڑھی ہو تو اُس کے ساتھ نماز پڑھو۔ یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی ۔‘‘ (مسند احمد؛ جامع ترمذی؛ صحیح ابن حبان)

ہمارے خیال میں اس واقعہ میں مزید بہت سے ابواب بیان کئے جاسکتے ہیں جیسے گھر پر نماز پڑھنا، پھر نماز کے بعد مسجد میں آنے کی ضرورت وغیرہ لیکن ہم اسے مضمون کی مناسبت سے نماز دہرائے جانے تک محدودر کھتے ہیں۔

دوسرا باب فقہاء نے یہ وضع کیا کہ امام کو مقتدیوں کا خیال کرتے ہوئے نماز کی قراءت میں تخفیف کرنا چاہیئے ۔ اس سلسلہ میں بھی دور واتیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

ایک کو ہم مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫ کی کتاب اتحاف الکرام شرح بلوغ المرام سے پیش کرتے ہیں:

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ

سیدنا معاذ نے اپنے مقدیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی۔ انہوں نے قراءت لمبی کر دی۔ نبی ﷺنے فرمایا : اے معاذ! کیا تو نمازیوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ جب تو لوگوں کو امامت کرائے تو وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا جیسی سورتیں پڑھنی چاہئیں۔ (صحیح بخاری؛ صحیح مسلم)

اس روایت میں واضح نہیں آیا، سیدنا معاذ پہلے اپنی نماز ادا کر چکے تھے یا یہی ان کی پہلی نماز تھی۔

اس حدیث کی روشنی میں فقہاء کا کہنا ہے کہ کوئی اپنی نماز پہلے ادا کر چکے تو وہ ان لوگوں کو نماز کی جماعت پڑھا سکتا ہے، جنہوں نے ابھی فرض نماز ادانہ کی ہو۔ اس صورت میں امام کی نفل نماز ہوگی اور مقتدیوں کی فرض۔

یمن کے قاضی اور چیف جسٹس امام علی بن محمد شوکانی﷫ جن کا کوئی 2 سو سال پہلے انتقال ہوا ہے وہ اس واقعے کو اپنی کتاب نیل الاوطار میں دو روایتوں سے قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں:

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل نبی کریمﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کرتے۔ پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ کر جاتے تو انہیں باجماعت نماز پڑھاتے ۔ (متفق علیہ)

دوسری روایت کو وہ امام احمد ﷫ بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن رفاعہ کا کہنا ہے کہ بنی سلمہ کا ایک شخص نبی کریم ﷺکی خدمت میں آیا اور کہا کہ معاذ ہمیں رات گئے جب ہم سوچکے ہوتے ہیں، نماز کیلئے بلاتے ہیں اور لمبی قراءت کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے کاموں کیلئے بھی جانا ہوتا ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے معاذ کو کہا کہ اے معاذ فتنہ نہ ڈالو، یا تم میرے ساتھ نماز ادا کرو یا پھر اپنی قوم پر تخفیف کرو۔

امام شوکانی﷫ اِس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

امام طحاوی﷫ کا خیال ہے کہ نبی کریمﷺ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ معاذ یا تم میرے ساتھ نماز پڑھو اور پھر اپنی قوم کے ساتھ نہ پڑھو۔ یا پھر اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھاؤ اور میرے ساتھ نہ پڑھو۔

امام طحاوی﷫ کی یہ بات مسئلے کو اور بھی واضح کرتی ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل کا دوبارہ اپنے محلے کی مسجد میں جماعت کرانا مخصوص حالات کی وجہ سے تھا اور اس میں بھی نبی کریمﷺنے کڑی شرط عائد کی تھی۔

بلکہ امام طحاوی﷫ کی اس بات کا سہارا لیتے ہوئے اگر اجازت ہو تو ہم کہ سکتے ہیں کہ گویا سیدنا معاذ کو کہا جارہا ہو کہ اگر یہی قراءت کا مزا لینا ہے تو ہمارے ساتھ ہی نماز ادا کرو۔ ورنہ عوام الناس کو حالات کے مطابق ہلکی نماز پڑھاؤ۔ لوگوں میں کمزور ، ضعیف اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔

تیسرا باب جو فقہاء قائم کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ کیا کوئی امام کی اقتداء سے نماز کو توڑ کر الگ اپنی نماز ادا کر سکتا ہے۔ اس کیلئے بھی سیدنا معاذ بن جبل کے واقعہ کو بطور دلیل پیش کیا جاتا۔

ہمارے مطالعے میں کہیں کسی امام نے اس بات پر بحث نہیں کی کہ آیا کوئی امام ایک ہی نماز کی ایک سے زائد امامت کرا سکتا ہے۔ بالخصوص جمعے کی نماز کو دہرانے پر توکسی امام نے کچھ نہیں کہا۔ ہاں اگر جمعے کی نماز کوبھی عام نمازوں پر قیاس کیا جائے تو پھر امام احمد سعید بن حزم الاندلسی نے اپنی کتاب المحلی بالآثار میں یہ بات لکھی ہے کہ امام کیلئے جائز ہے کہ وہ ایک ہی نماز متعدد مساجد میں پڑھائے۔ پہلی اُس کیلئے فرض ہوگی جبکہ باقی تمام نفلی ہوں گی ۔

البتہ امام ابن حزم﷫ نے اپنے ہی اصول کے برعکس اپنے اس قول کے حق میں کوئی دلیل پیش نہیں کی ہے۔

ممکن ہے وہ بھی سیدنا معاذ بن جبل کے واقعے کو ہی بنیاد بنا کر یہ بات کرتے ہوں۔

پھر اگر امام ابن حزم﷫ کی بات کو درست مان کر دلیل پیش کی جائے تو پھر ایک ہی امام کا اپنی ہی مسجد میں دو دو جماعتیں کرانے میں کیا ممانعت ہوگی۔ بالخصوص جمعے کی نماز جس کیلئے ویسے بھی آجکل ایک ’’ٹرینڈ‘‘ سا بنا ہوا ہے کہ جمعے کی دود و جماعتیں کرائی جاتی ہیں۔

ایسا واقعہ حالیہ دنوں میں ہمارے شہر بریڈ فورڈ میں پیش آیا جب ایک امام نے بلا ضرورت شہر کی دو مختلف مسجدوں میں جمعے کی امامت کے فرائض انجام دئیے ہیں۔

ہمارا نہیں خیال کہ انہیں امام ابن حزم﷫ کے اس فتوے سے واقفیت تھی یا نہیں۔ لیکن امام ابن حزم﷫ نے مسئلہ ہی حل کر دیا کہ اگر مسجد تنگی دامن کی شکایت کر رہی ہو تو ایک ہی مسجد میں دو مختلف اوقات میں ایک ہی امام جمعہ کے فرائض ادا کر سکتا ہے۔

اگر امام ابن حزم﷫ کی اِس بات میں وزن نہیں ہے تو پھر ایک امام کے دو جمعے ادا کرانا بھی قیاس اور سنت سے دور اور اتباع نفس اور بدعت کے زیادہ قریب ہو گا۔ لہٰذا آج اکیسویں صدی کے برطانوی علماء اسلام کو اس پر اجتہاد کے ذریعے کوئی فتوی صادر کرنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق، وما علینا الا البلاغ ، واللہ اعلم بالصواب

٭٭٭

الله کا سب سے مضبوط قلعہ

شیخ الاسلام ابن قیم ﷫فرماتے ہیں :

فإن الطاعة حصن الله الأعظم، من دخله كان من الآمنين من عقوبات الدنيا والآخرة

’’بے شک اطاعتِ الٰہی الله رب العزت کا سب سے بڑا قلعہ ہے جو اس میں داخل ہو گیا وہ دنیا و آخرت کے مصائب سے بچ جانے والوں میں سے ہو جائے گا۔‘‘(الجواب الکافی : 75)

امام ابن تیمیہ ﷫ فرماتے ہیں:

”سب سے زیادہ جو چیز عقل وروح کو تقویت بخشتی، جسم کی حفاظت کرتی اور خوش بختی کی ضمانت بنتی ہے وہ کثرت کے ساتھ کتاب اللہ کی تلاوت کرنا ہے۔‘‘

(مجموع الفتاوی :7؍493)

٭٭٭

تبصرہ کریں