گاہے گاہے باز خواں إیں قصہ پارینہ را ۔ڈھاکہ کا ایک طائرانہ سفر۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

یہ 1966ء کے آغاز کی بات ہے۔

مسلم ایڈ برطانیہ کی رفاہی تنظیموں میں سے ایک مشہور تنظیم ہے جس کا خیراتی، تعلیمی اور امدادی کام دنیا کے کئی ایسے ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جہاں مسلمان معاشی ناآسودگی کا شکار ہیں اور ہنگامی طور پر کسی زمینی یا آسمانی آفت کا سامنا کیے ہوئے ہیں، کام کو مؤثر بنانے کے لیے برطانیہ سے باہر مسلم ایڈ کی 6 شاخیں بوسنیا، کروشیا، جرمنی، سوڈان، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش میں پوری تندہی سے کام کر رہی ہیں۔

عید سے متصل بعد پاکستان کے لیے عازم سفر ہوتے ہوئے پروگرام بنا کہ مسلم ایڈ کی بنگلہ دیش شاخ سے بھی لگے ہاتھوں بالمشافہ تعارف ہو جائے، اس لیے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد ڈھاکہ کے لیے بھی ایک ہفتے کے قیام کے لیے وقت نکال لیا تھا۔

کراچی سے 7 مارچ کو روانگی ٹھہری لیکن اخبارات کے ذریعہ بنگلہ دیش کے سیاسی حالات کی بنا پر متوقع ہڑتالوں اور ہنگاموں کی نوید سنائی دی گئی اور پھر وہاں کے احباب کا بھی محتاط رہنے کا مشورہ اس سفر کو شروع کرنے کے آڑے آ رہا تھا، تشویشناک بات یہ تھی کہ 9 مارچ سے اپوزیشن کی تحریک پر شروع کی جانے والی ہڑتال ہنگاموں اور فساد کے اندیشے سے خالی نہ تھی اور پھر یہ اندیشہ بھی کہ مقامی لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا بھی خطرے کا موجب رہے گا چہ جائیکہ میرے جیسا نَووارد شخص ان خطرات کو خود دعوت دیتا پھرے۔

بہرصورت 6 مارچ کی شام کو لاہور سے اس عزم کے ساتھ روانگی ہوئی کہ 7 مارچ کی صبح طے شدہ پروگرام کے مطابق ڈھاکہ کوچ کر جانا ہے لیکن کراچی پہنچتے ہی ڈھاکہ کی مسلم ایڈ برانچ کے ڈائریکٹر برادر رشید الزمان نے فون پر بتایا کہ حالات اتنے خوش کن نہیں ہیں، اس لیے بہتر یہی ہے کہ سفر کو کچھ دنوں کے لیے مؤخر کر دیا جائے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ 9 مارچ سے طلوع ہونے والی اپوزیشن کی عدم تعاون کی تحریک کس کروٹ بیٹھتی ہے، چنانچہ ارادہ سفر اس وقت ملتوی کرنا پڑا کہ فلائٹ میں پانچ گھنٹے سے کم وقت رہ گیا تھا اور ایک ٹیکسی والے سے فجر سے قبل مجھے ائرپورٹ لے جانے کا معاملہ طے ہو چکا تھا۔

9 مارچ سے اپوزیشن نے حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں ساری ٹرانسپورٹ معطل ہو کے رہ گئی۔ ڈھاکہ اور کئی دوسرے شہروں سے ہنگاموں کی اطلاعات بھی اخباروں کی زینت بننے لگیں۔ پی آئی اے کی چونکہ ہر ہفتے ڈھاکہ کی صرف دو پروازیں تھیں اس لیے طبیعت للچا رہی تھی کہ یہ موقع ضائع نہ کیا جائے اور پھر لندن سے بار بار آنا اتنا آسان بھی نہیں تھا اور ایسے سفر کے لیے وقت نکالنا اور بھی مشکل!!

برادر رشید الزمان سے فون پر بات کی اگر میں ڈھاکہ آؤں تو آیا ائرپورٹ سے شہر پہنچنا اورپھر مسلم ایڈ کے دفاتر تک اپنے آپ کو محدود رکھنا ممکن ہو گا۔ رشید الزماں کے جواب میں احتیاط کا پہلو غالب تھا لیکن یہ امید بھی دلائی گئی تھی کہ ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست کر لیا جائے گا۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر 12 کی سیٹ بک کرا لی لیکن پہلے پروگرام کے تحت واپسی کی تاریخ 14 مارچ ہی کی رکھی کہ کم ازکم ڈھاکہ میں 2 دن گزارنے کا موقع مل جائے گا۔

یہ روئیداد ڈھاکہ ان دو دنوں ہی کی روئیداد ہے۔

کراچی سے تین گھنٹے کی آرام دہ پرواز کے بعد ڈھاکہ کے ’ضیاء انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ پر اترنا ہوا۔ کراچی کے مقابلہ میں یہاں کے انتظامات، صفائی اور آسائشیں فروتر پائیں۔ بیگ لے کر باہر آیا تو برادر رشید دیگر رفقاء کے ساتھ چشم براہ تھے۔

پہلے ہی دن 2 تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔

جیسا کہ کراچی ائرپورٹ کا تجربہ ہے ، کرنسی کا تبادلہ بنک سے بالا بالا بھی کیا جا سکتا ہے، برادر رشید کے توسط سے ایک بنگالی زرفروش سے ایک سو پاؤنڈ بنگالی کرنسی میں تبدیل کرائے جو کہ 6 ہزار ٹکہ سے کچھ زائد تھے۔ یہ ایک معمول کے مطابق سودا تھا، لیکن زرگروں کا پورا گروہ ہمارے گرد اس لالچ میں جمع ہو گیا کہ میں کچھ مزید پاؤنڈ بھی ان سے تبدیل کراؤں۔ اپنے ترجمان کے ذریعہ انہیں بار بار یقین دلایا کہ مجھے مزید پیسوں کی ضرورت نہیں کہ میں کرنسی تبدیل کراؤں لیکن ان کا غول کا غول ہمارا پیچھا کرنے لگا اور ہمیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل نظر آنے لگا۔ پھر جس شخص نے مجھ سے معاملہ کیا تھا، اس نے اصرار کرنا شروع کیا کہ میں اپنے پاؤنڈ واپس لے لوں اور اس کی رقم اسے واپس کر دوں چنانچہ میں نے اس ہجوم نامعقول سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسے رقم واپس کر دی لیکن جب پاؤنڈ گنے گئے تو 20 کم تھے۔ اب میں لاکھ کہوں کہ پوری رقم یعنی 100 پاؤنڈ واپس کرو تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں تم نے اتنی ہی رقم دی ہے۔ یہ بددیانتی دیکھ کر میں نے کہا کہ اچھا! پاؤنڈ اپنے پاس رکھو اور میری تبدیل کردہ کرنسی مجھے واپس کر دو۔ رقم مجھے واپس کر دی گئی لیکن 1 ہزار کا نوٹ کھسکایا جا چکا تھا۔ گویا بجائے 6 ہزار کے مجھے 5 ہزار تھما دیے گئے تھے۔ اب اس صورتحال میں میری شنوائی کرنے والا کوئی نہ تھا، نہ ہی پولیس اور نہ ہی ائرپورٹ کا کوئی اہلکار۔ تماشائیوں کی تعداد بھی ہر لحظہ بڑھ رہی تھی اس لیے چارو ناچار انہی 5 ہزار کو دبوچ کر باہر کی راہ لی کہ مزید کسی اور الجھن کا شکار نہ ہو جائیں۔

دوسرے حادثے کو جاننے سے قبل چند سطور اور صبر فرما لیں۔

اب مسئلہ تھا شہر پہنچنے کا۔ برادر رشید نے بتایا کہ سڑک پر سوائے آٹو رکشہ یا سائیکل رکشہ کے علاوہ اور کوئی سواری دستیاب نہیں، البتہ ایمبولینس کے استعمال کی اجازت ہے، اس لیے کسی مہربان ڈاکٹر کےتوسط سے ایک ایمبولینس حاصل کر لی گئی لیکن پٹرول کم پڑ جانے کی بنا پر یہ سواری بھی آدھا راستہ طے کرنے کے بعد جواب دے گئی۔ چنانچہ ایک نسبۃً بڑے آٹو رکشا سے 4 سو ٹکے پر معاملہ طے ہوا کہ اس کی عقبی نشستوں پر چار پانچ سواریوں کی بیٹھنے کی گنجائش تھی۔

ڈھاکہ شہر کی طرف آٹو رکشہ کا ایک ہجوم رواں دواں تھا۔ خوب گہما گہمی بھی تھی اور کسی متوقع ہنگامے کے اندیشے سے قلبی اضطراب بھی!!

نصف ساعت کے بعد سڑک پر امڈتا ہجوم بھی نظر آیا اور یہ بھی دیکھا کہ رکشے والے واپسی کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ برادرم رشید نے بتایا کہ اس راستے پر جانا خطرے سے خالی نہیں ہے اس لیے متبادل راستہ اختیار کرنا چاہیے جو کہ ڈھاکہ چھاؤنی ہو کر گزرتا ہے۔ چنانچہ رکشے والے نے رخ موڑا اور پھر ریلوے لائن عبور کرتے ہی چھاؤنی کی بیرونی چوکی تک پہنچ گیا، جہاں چوکی پر متعین گاڑد نے رکشہ آگے جانے سے روک دیا۔ برادرم رشید چوکی کے ارباب حل وعقد کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہوئے اور میں آنے جانے والی ٹریفک کو دیکھتا رہا۔

زندگی میں پہلی دفعہ سائیکل رکشہ کو دیکھ رہا ہوں۔ کہیں کوئی منحنی نوجوان اور کہیں کوئی سفید ریش بوڑھا شخص دو دو آدمی بٹھائے رکشہ گھسیٹتا نظر آتا ہے۔ انہیں سائیکل کی گدی پر کم ہی بیٹھنا نصیب ہوتا ہے، رکشہ آگے دوڑانے کے لیے انہیں گدی سے ہٹ کر پیڈل مارنے پر پورا زور لگاتے دیکھا۔

کچھ دیر کے بعد برادر رشید نے آ کر یہ مژدہ سنایا کہ فوجی جوان ایک غیر ملکی مہمان کی مدارات کے طور پر ہمیں گذرنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں، ان کی ایک گاڑی ہمارے پیچھے پیچھے آئے گی اور چھاؤنی کے دوسرے دروازے تک ہماری مشایعت کرے گی۔بالآخر یہ گاڑی آ گئی اور ہمارا رکشہ از سرنو منزل کے لیے روانہ ہوا، چھاؤنی کا علاقہ طے کرنے کے بعد فوجی جوانوں کی گاڑی واپس پلٹ گئی اور ہم منزل سے کچھ اور قریب ہو گئے۔

ان دو دنوں کے لیے میرا ٹھکانہ ’سندربن‘ ہوٹل قرار پایا جو ڈھاکہ کے اچھے ہوٹلوں میں شمار ہوتا ہے۔ ظہرانہ اور سفر کی تھکان اتارنے کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہوا، براردر شید نے مسلم ایڈ کی مشاورتی کمیٹی کے معزز اراکین کو پہلے سے مدعو کر رکھا تھا، جو نامساعد حالات کے باوجود بروقت ہوٹل پہنچ چکے تھے۔ یہ سب یہاں کےمعززین میں سے تھے، جناب شمس الرحمٰن جو مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، ایک دوسرے صاحب بنگلہ دیش نیشنل اسمبلی کے ممبر رہے ہیں، مجیب الرحمٰن صاحب مقامی کالج میں انگریزی زبان اور لٹریچر کے لیکچر ر تھے، ان احباب کے ساتھ ایک طویل مشاورت رہی جس میں مسلم ایڈ کی سرگرمیوں کے علاوہ بنگلہ دیش میں مختلف رفاہی تنظیموں کے کام کی نوعیت اور مقاصد پر بھی سیر حاصل گفتگو رہی۔

عشاء سے قبل جب یہ اجتماع اختتام کو پہنچا تو طے پایا کہ ڈھاکہ کی مشہور زمانہ مسجد ’بیت المکرم‘ کی زیارت کی جائے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہاں سائیکل رکشہ واحد وسیلہ سفر ہے جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی بیٹھنا پڑا۔ ہمارے دوسرے دو ساتھی دوسرے رکشہ پر سوار ہوئے۔ ’بیت المکرم‘ کے راستہ میں ڈھاکہ کی سڑکیں اور عمارات کی دید رہی۔

اول تو رکشاؤں کا وہ ہجوم کہ ٹڈی دل کا ساسماں ہے، رکشہ رکشہ کو کاٹتا ہوا جا رہا ہے، لیکن گھنٹی کی ٹن ٹن ٹکراؤ سے بچاتی ہے، یہ سواری کسی ٹریفک لائن کی مرہون منت نہیں۔ شہر کی بعض سڑکیں تو تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھیں، لیکن رکشہ بان غالباً اندھیرے میں پیڈل چلانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جو علاقہ میں میں نے دیکھا وہ ڈھاکہ کی کوئی اچھی تصویر نہیں پیش کر سکا۔ فقر وفاقہ در و دیوار سے چھلکتا نظر آیا، دیکھا کے خاندان کے خاندان بوریا بستر فٹ پاتھ پر جمائے کھلے آسمان تلے اپنے شب وروز گزار رہے ہیں۔ نہ جانے یہ لوگ حاجات ضروریہ سے کہاں فراغت حاصل کرتےہوں گے!!

بیت المکرم کی چوکور کعبہ نما بلند وبالا عمارت، مرکزی ہال کے سہ اطراف میں وسیع آراستہ پیراستہ باغ، دل کو لبھا گئے۔

رفقاء سفر نے بتایا کہ مسجد سے باہر کی شاہرائیں سیاسی جلسوں اور جلوس کے لیے بکثرت استعمال ہوتی ہیں، ہم بیت المکرم پہنچے تو عشاء کی اقامت ہو رہی تھی، اس لیے مسجد کے مرکزی ہال کی دیوار کے ساتھ ایک شُوتی ریک میں جوتے رکھنے کے بعد جماعت میں شامل ہو گیا۔

نماز سے فراغت کے بعد جوتوں کو غائب پایا اور یہ دوسرا ناخوشگوار واقعہ تھا کہ جو ڈھاکہ آمد کے پہلے دن ہی میرا منتظر تھا۔ میرے ایک رفیق سفر نہ جانے کہاں سے ایک چپل خرید لائے کہ جن کا رات کے وقت دستیاب ہونا ایک غیر معمولی بات تھی، اللہ کا شکر ادا کیا کہ بلاء جوتوں تک محدود رہی اور ہم خیریت سے ہوٹل واپس پہنچ پائے۔

اگلے دن صبح سویرے ہی میری مصروفیات کا آغاز ہو گیا۔

مسلم ایڈ سے وابستہ ایک نوجوان قدوسی صاحب ساڑھے سات بجے میرے منتظر تھے۔ مناسب جانا کہ مسلم ایڈ کے صدر دفتر پہنچنے کے لیے پیدل راستہ اختیار کیا جائے، چنانچہ کئی سڑکیں پھلانگتے ہوئے ہم حبیب اللہ روڈ پہنچے جہاں ایک عمارت مسلم ایڈ کا بورڈ نظر آیا۔

ظہر تک دفتر میں قیام رہا، مسلم ایڈ برطانیہ کے صدر کی حیثیت سے میرا یہ ایک تنظیمی دورہ تھا، میں نے دفتر کے تمام اراکین جن کی تعداد 8 تھی، سے ملاقات کی۔ چند ویڈیوز کی مدد سے مسلم ایڈ کے پنبہ، غازی آباد اور دیگر علاقوں میں رفاہی کام کامشاہدہ کیا۔ خاص طور پر سائیکلون سنٹر بنانے میں اس دفتر کی کاوشوں کو دیکھا اور پھر متعدد فائلوں کی ورق گردانی بھی کی اور جس مقصد کے لیے میں نے یہاں آنے کا بیڑا اٹھایا تھا، اس کی چھان بین کی۔

سفر نامے کی یہ ہلکی پھلکی سطور مسلم ایڈ کے بھاری بھرکم مسائل کا احاطہ کرنے سے قاصر رہیں گی۔اس لیے یہ بیان کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔

ظہر کے بعد میں اپنے ایک پرانے دوست، دار الافتاء (ریاض) کے توسط سے لندن میں سعودی سفارت خانے کی ایک فعال شخصیت جناب عبد اللہ بری کے ہاں مدعو تھا۔

عبد اللہ بری کئی سال سعودی سفارت خانے میں فرسٹ سیکرٹری کی حیثیت سے مقیم رہے، 1976ء میں جب شیخ ابن باز دار الافتاء کے رئیس تھے تو انہوں نے میرے مطالبہ پر مجھے نیروبی سے لندن منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی تھی اور وہاں پہنچنے کے چند ہفتوں بعد ہی شیخ کے ابن عم اور ان کے خاص الخاص سیکرٹری عبد العزیز بن ناصر اپنی فیملی کے ساتھ لندن پہنچے تو وہ مجھے لے کر سفارت خانے آئے۔ عبد اللہ بری سے ملاقات ہوئی، میرا تعارف کرایا کہ میں لندن میں نو وارد ہوں اور دار الافتاء کی جانب سے مبعوث کیا گیا ہوں۔ تو عبد اللہ بری نے اپنی خوشی کا اظہار کیا، خوش آمدید کہا اور یہاں کی مسلم کیمونٹی کے ساتھ رابطے کے لیے مجھے تعاون کرنے کی دعوت دی، اور یوں میرا اور ان کا باہمی تعاون کی بنیاد پر ایک گہرا تعلق قائم ہو گیا، جو ان کے لندن چھوڑنے تک برابر قائم رہا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس سے تعلق سے میں برطانیہ کے طول وعرض کا دورہ کرتا رہا، مساجد اور مدارس اور دیگر دینی مصروفیات کو قائم و دائم رکھنے میں میری سفارشات کو مالی اعانت کے حصول کے لیے قدر ومنزلت سے دیکھا جاتا رہا اور ان اداروں کو سعودی امداد حاصل ہوتی رہی۔ میں نے مساجد و مدارس سے متعلق اپنی ناچیز کاوش کو اپنی کتاب بعنوان ’انگلستان میں اسلام‘ کے اوراق میں محفوظ کر دیا ہے۔

عبد اللہ بری اپنی طویل مدت سفارت پوری کرنے کے بعد نوے کی دہائی کے اوائل میں جدہ لوٹ چکے تھے اور پھر مجھے اطلاع ملی کہ انہیں بحیثیت سفیر بنگلہ دیش میں متعین کر دیا گیا ہے، ایک عرصہ بعد ڈھاکہ میں ان سے ملاقات میرے لیے انتہائی باعث مسرت تھی، میں رکشہ سے سفارت خانہ پہنچا، ایک گارڈ نے بلڈنگ کا آہنی دروازہ کھولا اور مجھے پہلی منزل کے اس خصوصی آفس میں لے گیا جہاں عبد اللہ بری میرے لیے چشم براہ تھے۔ کچھ پرانی یادوں کا تذکرہ ہوا، ڈھاکہ آمد کا پس منظر بتایا اور پھر دو اور سفارت کاروں کی معیت میں ظہرانے سے فارغ ہونے کے بعد سفارت کی گاڑی نے مجھے اس قریب ترین کارنرتک پہنچا دیا جہاں سے رکشہ بآسانی مل سکتا تھا۔ شاید سفارت کی گاڑی ہڑتال اور ہنگاموں کی بنا پر مرکز شہر جانے میں محتاط تھی اور پھر میں مواکھلی ہوتے ہوئے واپس ہوٹل پہنچا۔

عصر کے بعد ایک اور رفاہی تنظیم کے سرکردہ حضرات سے ملاقات ہوئی جن کا تعلق اسلامک بینکنگ سے بھی تھا۔

میرے علم میں تھا کہ میرے ایام مدینہ (1662ء سے 1966ء تک) کے ایک قدیم ساتھی حافظ نثار الدین احمد اب لندن سے منتقل ہو کر ڈھاکہ کے نواح میں ایک تعلیمی ادارے (شاہ ولی اللہ سنٹر) کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے آنے کی اطلاع دی تو وہ بعد از عشاء اپنے صاحبزادے کے ساتھ ملاقات کے لیے تشریف لائے۔

میں جب لندن منتقل ہوا تو یہ حافظ صاحب ہی تھے جنہوں نے لندن ائرپورٹ پر میرا استقبال کیا اور پھر شیفرڈ بش کے علاقہ میں میری عارضی رہائش گاہ کا بندوبست کیا۔ وہ خود بٹیرسی کے علاقہ میں اپنا ایک مرکز قائم کر چکے تھے جہاں میرا بارہا جانا ہوا اور جب شیخ البانی﷫ کا لندن آنا ہوا تو حافظ صاحب نے اپنے فلیٹ میں انہیں مدعو بھی کیا تھا۔

ایک اور رفاہی تنظیم کے سربراہ سید شرف العالم بھی ملاقات کے لیے تشریف لائے،یوں یہ دن اپنی تمام مصروفیات کے ساتھ کے تمام ہوا۔

تیسرے دن میری واپسی تھی۔

رشید الزمان علی الصبح مسلم ایڈ کی منی بس لے کر حاضر ہو گئے تھے۔ ہم فلائٹ سے 6 گھنٹے قبل ہی ائرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے تاکہ ان ہنگامی حالات میں کسی تاخیر کا شکار ہو جائیں تو سفر میں تعطل کا شکار نہ ہوں۔

ائرپورٹ پر ہمیں باہمی تبادلہ خیالات کے لیے اچھا وقت مل گیا۔ کراچی کی پرواز سے عرب اور غیر عرب مسلمانوں پر مشتمل ایک تبلیغی جماعت بھی ہمسفر رہی۔

سوا تین گھنٹے کی یہ فلائٹ تقریباً ایک ہزار میل پر محیط تھی، ہم وسطی ہند اور بھوپال کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے کراچی پہنچے۔ اس مسافت میں بھارت کی حدود سے کراچی تک کا 242 میل کا فاصلہ بھی شامل ہے۔

کراچی میں ایم کیو ایم کے ایک کارکن کے قتل کی بنا پر ہڑتال کا سماں تھا، جس کا فائدہ ٹیکسی برادری نے خوب اٹھایا، اپنی اجرت کو دو آتشہ کر دیا۔

اور پھر کراچی میں ایک دن کے قیام کے بعد واپس لندن کی راہ لی اور یوں پاکستان کا یہ نجی سفر، بنگلہ دیش کے دفتری اور انتظامی امور کے ساتھ ایک یادگار سفر اختیار کر گیا۔

تبصرہ کریں