دینی تعلیم کی اہمیت و فضیلت۔ حافظ محسن انصاری

دینی علم کی اہمیت و فضیلت کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر امام الانبیاء محمد رسول اللہﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ﴾(سورة طہ: 114)

’’اے پیغمبر! آپ اپنے رب سے سے یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب! تو میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘

٭نبی کریم ﷺ کو علم عطا کرکے بطور احسان ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

﴿وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَاهُ نُورًا نَهْدِي بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ﴾ (سورۃ الشورى: 52)

’’اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح (علم) کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقیناً سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

٭ ﴿وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا﴾ (سورۃ النساء: 113)

’’اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب اور حکمت (کتاب و سنت) اتاری ہے اور تجھے وہ (علم) سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے۔‘‘

٭ نبی کریم ﷺ کی طرف پہلی وحی بھی علم کے حوالے سے ہی کی گئی کہ:

﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ 0 خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ 0 اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ0 اَلَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ 0 عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ 0﴾ (سورة العلق: 1-5)

’’( اے پیغمبر!) اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے (ساری کائنات) کو پیدا کیا۔اس نے انسان کو ایک جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔وہ جس نے (انسان کو علم) قلم کے ساتھ سکھایا۔اس نے انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘

٭ صبح فجر کے بعد نبی کریم ﷺ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا

’’اے اللہ! میں تجھ سے فائدے والے علم کا سوال کرتا ہوں۔۔‘‘ (سنن ابن ماجہ: 925)

بلکہ آپ ﷺ نے حکم دیتے ہوئے فرمایا: سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا،وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ یعنی تم بھی اللہ سے علم نافع کا سوال کرو اور جو علم نافع نہ ہو اس سے پناہ طلب کرو ۔(سنن ابن ماجہ: 3843)

٭ نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَاجَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا

’’خبردار بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم مجھے سکھایا ہے، وہ میں تمہیں بھی سکھا دوں، جس سے تم لا علم تھے۔‘‘ (صحيح مسلم: 2865)

اور فرمایا کہ

إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ بِمَنْزِلَةِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ

’’میں تمہارے والد کی طرح ہوں کیونکہ تمہیں علم سکھاتا ہوں۔‘‘ (سنن ابوداؤد)

٭ اللہ تعالی نے ابو البشر سیدنا آدم کی فرشتوں پر فضیلت قائم کرنے کے لیے پہلے انہیں علم سکھایا:

﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلَاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ﴾ (سورۃ البقرة: 31)

’’اور (اللہ تعالیٰ نے) آدم کو سب کے سب نام سکھلا دیے، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا، پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ، اگر تم سچے ہو ۔‘‘

٭ سیدنا موسیٰ کلیم اللہ کو جب خبر ہوئی کہ اس دنیا میں ان سے بھی بڑھ کر کوئی علم والا (خضر ) بھی موجود ہے تو کہنے لگے: أَيْ رَبِّ، كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَيْهِ؟ اے میرے رب! میں ان تک کیسے پہنچوں؟ (صحيح بخاری: 4727)

٭ سیدنا یوسف کو حسن و جمال کی وجہ سے قید میں جانا پڑا، لیکن پھر علمی دولت کی بنیاد پر مصر کے بادشاہ بن گئے۔

٭ انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس پر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان دینی علم ہی ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی سے پہلے دینی علم کا ذکر فرمایا:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

﴿اَلرَّحْمَنُ 0 عَلَّمَ الْقُرْآنَ 0 خَلَقَ الْإِنْسَانَ0 عَلَّمَهُ الْبَيَانَ﴾ (سورة الرحمان)

’’رحمن، جس نے قرآن سکھایا، انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔‘‘

٭ اللہ تعالیٰ نے علم کو ایمان سے بھی مقدم رکھا ہے، کیونکہ صحیح، سچے اور پکے ایمان کی معرفت شرعی علم کے بغیر ممکن ہی نہیں:

﴿وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھیں علم اور ایمان دیا گیا کہیں گے کہ بلا شبہ یقیناً تم اللہ کی کتاب میں اٹھائے جانے کے دن تک ٹھہرے رہے، سو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے اور لیکن تم نہیں جانتے تھے۔‘‘(سورة الروم: 56)

امام بخاری ﷫ نے اس طرح باب قائم کیا ہے: بَابٌ: الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ﴾ فَبَدَأَ بِالْعِلْمِ.

’’یعنی قول اور عمل سے پہلے علم حاصل کرنا ہے، دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے کلمہ توحید اختیار کرنے سے پہلے علم کا حکم فرمایا ہے یعنی علم ہر چیز سے پہلے یعنی مقدم ہے۔‘‘

٭ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے یہ حکم دیا ہے کہ

﴿مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَـٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ﴾ (سورۃ آل عمرن : 79)

’’کسی بشر کا کبھی حق نہیں کہ اللہ اسے کتاب اور حکم اور نبوت دے، پھر وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ اور لیکن (پیغمبر یہی کہیں گے کہ ربانی یعنی) رب والے بنو، اس لیے کہ تم کتاب سکھایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم پڑھا کرتے تھے۔‘‘

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:كُونُوا رَبَّانِيِّينَ حُلَمَاءَ فُقَهَاءَ، وَيُقَالُ: الرَّبَّانِيُّ الَّذِي يُرَبِّي النَّاسَ بِصِغَارِ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهِ. (علقه البخاري كِتَابٌ: الْعِلْمُ بَابٌ: الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ)

’’سیدنا علی اور سیدنا ابن عباس ، قتادہ، حسن، سعید بن جبیر، مجاہد اور ابن قتیبہ ﷭فرماتے ہیں کہ ربانی بننے کا مطلب یہ ہے کہ حکمت بھرے عالم اور فقیہ بن کر لوگوں کی تربیت کرو ۔ (تفسير ابن کثير؛ تفسير بغوی؛ تفسير الطبری: 3؍233؛ زاد المسير: 1؍413؛ فتح الباری: 1؍160، 161)

٭ دینی علم حاصل کرنے کی خاطر مؤمنوں پر جہاد کے حکم میں بھی تخفیف کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾ (سورۃ التوبہ: 122)

’’اور ممکن نہیں کہ مومن سب کے سب (جہاد کے لیے) نکل جائیں، سو ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ کیوں نہ نکلیں، تاکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم کو ڈرائیں، جب ان کی طرف واپس جائیں، تاکہ وہ بچ جائیں۔‘‘

٭ مطلق طور پر علم کی فضیلت کے لیے علماء نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے کلب معلم (سدھائے اور سکھائے ہوئے کتے) کو غیر معلم (بغیر سدھائے اور بغیر پڑھائے) کتے پر فوقیت دی ہے کہ سدھائے ہوئے کتے کا شکار حلال ہے، جبکہ بغیر سدھائے کتے کا شکار حرام ہے:

﴿يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ ﴾ (سورۃ المائدة: 4)

’’(اے پیغمبر!) تجھ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے؟ کہہ دے تمھارے لیے (سب) پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں اور (وہ شکار بھی حلال ہے جو) شکاری جانوروں (کتوں) میں سے جو تم نے (سکھائے پڑھائے) سدھائے ہیں، (جنہیں تم) شکاری بنانے والے ہو، انھیں اس میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے تو اس میں سے کھاؤ جو وہ تمہاری خاطر روک رکھیں۔‘‘

٭ گھر میں پالتو کتا رکھنے کی سخت وعید آئی ہے کہ روزانہ دو قیراط عمل کے کم کیے جاتے ہیں، لیکن اگر شکار، مال متاع اور کھیتی باڑی کی چوکیداری کے لیے سدھائے اور سکھائے ہوئے کتے رکھے جائیں تو اس کی اجازت دی گئی ہے۔ (صحيح مسلم : 1575)

٭ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا ؛ سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ؛ إِلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَحَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ»(صحيح مسلم : 2699)

’’جو شخص علم حاصل کرنے والے راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے، اور جو لوگ اللہ کے کسی گھر میں بیٹھ کر اس کی کتاب پڑھتے، پڑھاتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوکر انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے معزز فرشتوں کے سامنے کرتا ہے۔‘‘

٭ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ جس انسان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کا علم اور سمجھ عطا فرماتا ہے ۔‘‘ (صحيح بخاری: 71)

٭ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ : تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا (صحيح بخاری: 3493؛ صحيح مسلم: 2637 )

’’نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں کو (نیکی اور برائی میں) زمین سے نکلنے والی سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح پاؤ گے، جو لوگ زمانہ جاہلیت میں اچھی اور نیک صفات کے مالک تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی اچھی، بہترین اور نیک صفات والے ہی ہونگے پر شرط یہ ہے کہ وہ دین کا علم اور سمجھ حاصل کریں ۔‘‘

٭ علم اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے جو ہر صورت انسان کے لیے فائدہ مند ہے اور جہالت بڑا عذاب ہے جو ہر لحاظ سے بہت بڑا نقصان ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

«إِنَّمَا الدُّنْيَا لِأَرْبَعَةِ نَفَرٍ ؛ عَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَعِلْمًا، فَهُوَ يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَيَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَيَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا، فَهَذَا بِأَفْضَلِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ عِلْمًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ مَالًا، فَهُوَ صَادِقُ النِّيَّةِ، يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ، فَأَجْرُهُمَا سَوَاءٌ، وَعَبْدٍ رَزَقَهُ اللَّهُ مَالًا وَلَمْ يَرْزُقْهُ عِلْمًا، فَهُوَ يَخْبِطُ فِي مَالِهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ، لَا يَتَّقِي فِيهِ رَبَّهُ، وَلَا يَصِلُ فِيهِ رَحِمَهُ، وَلَا يَعْلَمُ لِلَّهِ فِيهِ حَقًّا، فَهَذَا بِأَخْبَثِ الْمَنَازِلِ، وَعَبْدٍ لَمْ يَرْزُقْهُ اللَّهُ مَالًا وَلَا عِلْمًا، فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أَنَّ لِي مَالًا لَعَمِلْتُ فِيهِ بِعَمَلِ فُلَانٍ فَهُوَ بِنِيَّتِهِ فَوِزْرُهُمَا سَوَاءٌ.» (جامع ترمذي، ابواب الزهد: 2325)

’’دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے:

1۔ ایک وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ نے علم اور مال دونوں عطا فرمائے ہیں، وہ مال کمانے اور خرچ کرنے میں اللہ کا خوف رکھتا ہے، اس مال سے صلہ رحمی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتا ہے، ایسے انسان کا درجہ سب سے بلند ہے۔

2۔ دوسرا وہ انسان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم تو عطا فرمایا ہے لیکن مال و دولت سے نہیں نوازا، لیکن پھر بھی اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ تعالیٰ مجھے بھی مال عطا کرے اور میں بھی پہلے انسان کی طرح نیک کاموں میں خرچ کروں، اس انسان کو اس کی نیت کے مطابق پہلے افضل شخص کے برابر ہی بدلہ ملے گا۔

3۔ تیسرا وہ انسان جسے علم عطا نہیں کیا گیا مگر مال و دولت سے نوازا گیا ہے، وہ نہ تو صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتا ہے، نہ ہی مال کمانے اور خرچ کرنے میں اللہ تعالیٰ کا خوف کرتا ہے، یہ سب سے بدتر درجے کا ہے۔

4۔چوتھا وہ شخص جس کے پاس نہ ہی علم ہے اور نہ مال، مگر وہ کہتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی اس (تیسرے نمبر) والے کی طرح اپنا مال (برے اور بدتر کاموں میں) خرچ کرتا، تو ان دونوں کا گناہ اور عذاب برابر ہے اور ایک ہی درجے کے کمینے ہیں۔

٭ عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : مَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ، فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا، وَسَقَوْا، وَزَرَعُوا، وَأَصَابَتْ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ، وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ

(صحيح بخاری:79؛صحيح مسلم: 2282)

’’سیدنا ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جس علم و ہدایت کے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال زبردست بارش کی سی ہے جو زمین پر ( خوب ) برسے۔ (1) تو بعض زمین جو صاف ہوتی ہے وہ پانی کو پی لیتی ہے اور بہت بہت سبزہ اور گھاس اگاتی ہے۔ (2) اور بعض زمین جو سخت ہوتی ہے وہ پانی کو روک لیتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ لوگوں ( اور تمام جانوروں) کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے سیراب ہوتے ہیں اور سیراب کرتے ہیں۔ (3) اور کچھ زمین کے بعض خطوں پر پانی پڑتا ہے جو بالکل چٹیل میدان ہوتے ہیں۔ نہ پانی روکتے ہیں اور نہ ہی سبزہ اگاتے ہیں۔

تو یہ (پہلی اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے جو دین میں سمجھ پیدا کرے اور نفع دے اس چیز کے ساتھ جس کے ساتھ میں مبعوث کیا گیا ہوں۔ اس نے علم دین سیکھا اور سکھایا اور اس شخص کی مثال ہے۔

اور (تیسری مثال اس شخص کی ہے) جس نے سر نہیں اٹھایا ( یعنی توجہ نہیں کی ) اور جو ہدایت دے کر میں بھیجا گیا ہوں اسے قبول نہیں کیا۔‘‘

٭ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ : ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَجُلَانِ : أَحَدُهُمَا عَابِدٌ، وَالْآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : إِنَّ اللَّهَ، وَمَلَائِكَتَهُ، وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرَضِينَ، حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ ؛ لَيُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ (جامع ترمذی: 2685)

’’سیدنا ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو لوگوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عالم اور دوسرا عابد (عبادت گذار) ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ایک عام آدمی پر ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں سمندر میں خیر وبرکت اور بخشش کی دعائیں کرتی ہیں اس (عالم) شخص کے لیے جو لوگوں کو نیکی وبھلائی کی تعلیم دیتاہے۔‘‘

٭ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ : مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (سنن ابن ماجہ: 227)

’’سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: جو شخص میری اس مسجد کی طرف بھلائی (قرآن و حدیث کا علم) سیکھنے یا سکھانے کی نیت سے آتا ہے تو وہ (مقام، مرتبے اور ثواب کے اعتبار سے) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد (فوجی) کی طرح ہے۔‘‘

٭ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ حَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بُرْدٍ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بطالبِ الْعِلْمِ، طَالِبُ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ وَتُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ، فَمَا جِئْتَ تَطْلُبُ؟ ، قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا نَزَالُ نُسَافِرُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَأَفْتِنَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ: ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ(ﺃ‍ﺧ‍‍ﺮ‍ﺟ‍‍ﻪ‍ الطبرانى فى الكبير: (8/54 ‍ﺭ‍ﻗ‍‍ﻢ‍ 7347) قال الهيثمى: (1/131) : رجاله الصحيح، السلسلة الصحيحه: 3397، صحيح الترغيب والترهيب: 71)

’’سیدنا صفوان بن عسال نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں آپ کے پاس علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ طالب علم کے لیے خوش آمدید ہو! طالب علم کو فرشتے اپنے پروں سے ڈھانپتے ہیں اور ان پر سایہ کرتے ہیں اور پھر ایک دوسرے پر سوار ہو کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں، وہ یہ عمل اس علم سے محبت کی وجہ سے کرتے ہیں جو بھی اسے حاصل کر رہے ہیں۔‘‘

٭ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ : نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ ؛ فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ (سنن ابوداؤد: 3660)

’’اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو ترو تازہ (پر رونق اور شاداب) رکھے جو ہم سے حدیث سنے، اس کو یاد کرے اور پھر آگے دوسروں تک پہنچا دے، کیونکہ کتنے ہی علم اور فقہ حاصل کرنے والے دوسرے ایسے لوگوں تک علم پہنچاتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ فقیہ ہوتے ہیں اور کتنے ہی علم اور فقہ حاصل کرنے والے خود فقیہ نہیں ہوتے ۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ

بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً

’’جسے ایک آیت (حدیث یا دین کا کوئی مسئلہ) بھی معلوم ہو وہ میری طرف سے دوسروں تک پہنچا دے۔‘‘ (صحيح بخاری: 3461)

اس لیے کہ اس کا بڑا اجر و ثواب ہے، آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے:

مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ

’’جو شخص کسی انسان کی خیر و بھلائی کے کسی کی طرف رہنمائی کرتا ہے تو اسے بھی عمل کرنے والے کے برابر اجر و ثواب ملتا ہے ۔‘‘ (صحيح مسلم : 1893)

٭ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا- وفي رواية- رَجُلٍ عَلَّمَهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ، فَقَالَ : لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ، فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ(صحيح بخاری: 1409 5026)

’’حسد (رشک) کرنا صرف دو لوگوں پر جائز ہوسکتا ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (قرآن و حدیث کے علم) سے نوازا ہو اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور دوسروں کو بھی (وہ علم) سکھاتا ہو۔‘‘

٭ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ : صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ ( صحيح مسلم: 1631 ؛ جامع ترمذی: 1376)

’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بند کردیا جاتا ہے، مگر تین اعمال فوت ہونے کے بعد بھی جاری رہتے ہیں: 1۔ اس کی طرف سے جاری کردہ کوئی صدقہ۔ 2۔ایسا علم کہ اس کے مرنے کے بعد بھی لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ 3۔اس کی وہ نیک اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کریں۔‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ .(سنن ابن ماجہ: 1631)

٭ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: أَلَا إِنَّ الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ،مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا ذِكْرُ اللَّهِ، وَمَا وَالَاهُ، وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ. (جامع ترمذی: 2322؛ سنن ابن ماجہ: 4112)

’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس پر لعنت کی گئی ہے، سوائے اللہ کے ذکر کے اور جو کچھ اس کے ساتھ ملا ہوا ہو، اور دینی علم سکھانے والے (عالم) اور علم سیکھنے والے (طالب علم) کے۔‘‘

٭ قارئین کرام! قرآن اور حدیث میں وارد ان فضیلتوں کو حاصل کرنے اور وعیدوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنا تعلق دینی اداروں سے جوڑیں اور اس میں مزید مضبوطی لائیں، ہر سال ماہ شوال میں دینی مدارس میں نئے سال کے داخلے شروع ہوتے ہیں ، آئیں خود بھی فائدہ حاصل کریں اور اپنی آل و اولاد کو بھی ان اداروں میں داخل کرائیں اور اپنی آخرت کے لیے ذخیرہ بنائیں ۔

علم کے متعلق چند ضعیف اور موضوع روایات

ذیل میں اس موضوع کے متعلق بطور تنبیہ چند ضعیف اور موضوع روایات لکھی جاتی ہیں تاکہ عام خطیب اور عوام الناس ایسی روایات بیان کرنے سے محفوظ رہیں۔

(1) عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ : كُنَّا نَأْتِي أَبَا سَعِيدٍ ، فَيَقُولُ : مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّ رِجَالًا يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرَضِينَ ؛يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا أَتَوْكُمْ، فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا. (جامع ترمذی؛ سنن ابن ماجہ)

وضاحت: یہ روایت سخت ضعیف بلکہ موضوع ہے، اس میں راوی ابو ھارون العبدی سخت ضعیف، مجروح اور کذاب ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوۃ المصابيح لشيخنا الحافظ زبير علی زئی ﷫ رقم الحديث: 215)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ ، فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا. (جامع ترمذی؛ ابن ماجہ)

وضاحت: اس کا راوی ابراہیم بن فضل المخزومی ابو اسحاق المدنی منکر الحدیث اور متروک ہے (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 216 وضعفه الشيخ الالبانی ﷫ فی تحقيق مشکواة المصابيح)

(3) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ ( سنن ابن ماجہ)

وضاحت: یہ روایت موضوع، من گھڑت ہے۔ (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 217 ضعيف الترغيب والترهيب: 66)

(4) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌعَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ. (رواه ابن ماجة وروي البيهقي فى شعب الإيمان إلى قوله مسلم وقال: هذا حديث متنه مشهور وإسناده ضعيف و قدر روي من أوجه كلها ضعيف.(مشكوٰة)

وضاحت: روایت کا راوی قاری ابو عمر حفص بن سلیمان الاسدی حدیث میں سخت ضعیف اور مجروح ہے۔ (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 218)

نوٹ: امام البانی ﷫ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

نوٹ: اطلبوا العلم ولوا بالصين یعنی علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین تک جانا پڑے اس روایت کو شیخ البانی﷫ نے باطل قرار دیا ہے۔ (سلسلہ ضعیفہ: 416)

مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ؛ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ. (جامع ترمذی؛ سنن ابن ماجہ)

وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے۔ (اضواء المصابيح بتحقيق مشکواة المصابيح: 225226)

نوٹ: امام ناصر الدين البانی﷫ نے مختلف ضعیف روایات کو جمع کرکے اس کو حسن قرار دیا ہے۔

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً : يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ ؛ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے۔ (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 246)

أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ، فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ (سنن الدارمی)

وضاحت: ضعیف ہے، مرسل ہونے کے ساتھ ساتھ راوی نصر بن القاسم، محمد بن اسماعیل اور عمرو بن کثیر تینوں مجہول ہیں (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 249 السلسة الضعيفة تحت حديث: 3804)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ : إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ : هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ،…. فَجَلَسَ مَعَهُمْ.(سنن ابن ماجہ؛ سنن الدارمی)

وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے۔ (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 257 ؛سلسہ ضعیفہ: 11)

عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا.(سنن الدارمی)

وضاحت: یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ ابن جریج نے سیدنا ابن عباس کو نہیں پایا اور حفص بن غیاص مدلس ہے اور “عن“ سے روایت کر رہے ہیں۔ (اضواء المصابيح بتحقيق مشکوة المصابيح: 256 وضعفہ الشيخ الالبانی مشكاة المصابيح )

10۔ عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى، علماؤهم شر من تحت أديم السماء، من عندهم تخرج الفتنة، وفيهم تعود (رواه البيهقی في شعب الإيمان مشکوة المصابيح: 276)

وضاحت: اس کی سند موقوفا اور مرفوعا دونوں طرح ضعیف ہے، راوی عبداللہ بن دکین اور بشر بن الولید ضعیف ہیں۔

٭٭٭

شہادتِ سیدنا عثمان رضي الله عنه

مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ﷺ کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔اور اسی طرح غزوۂ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی۔ جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ ﷺنے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺنے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا ۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔ سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں۔‘‘ تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم ، فارس ، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا ۔نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’ اے عثمان! اللہ تعالیٰ تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ ‘‘ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعۃ المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔

تبصرہ کریں