دین کے حقائق اور الحاد کی گمراہیاں-فضیلۃ الشیخ صالح بن حمید حفظہ اللہ

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے وہ شریکوں اور ہمسروں سے پاک ہے، بیوی اور بچوں سے بالا ہے، اس کی ذات پاک ہے اور اسی کے لیے حمد ہے ۔ اس نے بندوں کو پیدا کیا ان کی طرف رسولوں کو بهیجا، ایمان اور درست عقیدہ کی وضاحت کے لیے ان پر کتابیں اتاریں۔ انہیں کفر کے راستوں اور الحاد کی راہوں سے ڈرایا، میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کی بے پناہ مہربانی، امداد اور خوشبختی پر اس کا شکر بجا لاتا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ایک ایسی گواہی جس سے قیامت کے دن نجات کی امید رکھتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں ہمارے سردار اور نبی محمدﷺ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول، حق و درستی کی راہ کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔ اللہ کا درود و سلام نازل ہو آپ پر، آپ کی مکرم آل پر، صاحبانِ مجد اصحاب پر، تابعین پر اور جو درست طریقے سے ان کی پیروی کریں ان پر اور بہت زیادہ مزید بے شمار سلامتی ہو۔

اما بعد!

اللہ کے بندوں! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور جان لو کہ یہ دنیا بہت زیادہ دھوکہ اور فریب دینے والی ہے۔ نفس برائی کا بہت زیادہ حکم دینے والا ہے۔ شیطان برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے، خسارے کی طرف بلاتا ہے ۔ اس دنیا میں ابن آدم کی آرزو دراز ہے۔ اس میں اس کی عمر تھوڑی ہے جس کی موت آجائے اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے اور اس کے اہل خانہ اسے اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں اس کے حیلے بہانیں ختم ہو جاتے ہیں۔ اعمال بدلہ ہیں، انجام سے ڈرو۔ زمانہ چند لمحے ہے، تم ہوشیار رہو۔ جس کا آج اس کے گزرے ہوئے کل سے بہتر نہ ہو، وہ دھوکہ میں ہے اور جو فائدہ میں نہ ہو وہ نقصان میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا﴾ (سورۃ النساء :77)

’’ آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لیے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ذرہ برابر بھی ستم روا نہ رکھا جائے گا‘‘

مسلمانوں! انسان کو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت اور جسم و روح سے بنی ہوئی خلقت کی وجہ سے نہ کوئی علم مطمئن کر سکتا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی آسائش کافی ہو سکتی ہے بلکہ اس کے اندر بے چینی و بے قراری اور خوف رہتا ہے اور اس کے اندر بے چینی کے بعد سکون، بے قراری کے بعد قرار اور خوف کے بعد امن کی ضرورت پائی جاتی ہے ۔ تمام مخلوقات میں انسان ہی واحد ایسی مخلوق ہے جسے ایسے سہارے کی ضرورت ہے جس پر وہ اعتماد کرسکے، جب اس پر کوئی پریشانی آئے یا کوئی بڑی مصیبت نازل ہو، جب کسی ناپسندیدہ چیز سے اس کا سامنا ہو، جب کوئی امید بر نہ آئے اور جس کا ڈر ہو وہی واقع ہو جائے، اکیلا صرف انسان ہی آغاز و انجام پر غور و فکر کرتا ہے ،کائنات پر غور کرتا ہے واقعات کی توجیہ کرتا ہے۔ اکیلا صرف انسان ہی ان افکار و ادراکات اور اسباب و مسببات کے مطابق موقف اختیار کرتا ہے ۔ انسان کے تمام اجناس میں یہی مشترک دینی فطرت ہے چاہے وہ جتنے تعلیم یافتہ ہوں یا جتنے اَن پڑھ ہوں ۔

اللہ کے بندوں! دین کا جوہر نفسوں میں قائم ہے، کیونکہ وہ بشری فطرت کے جوہر سے منسلک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ روح زمین کی قوموں میں کوئی قوم بغیر دین کے نہیں پائی گئی بلکہ انسان کو غذا اور دوا سے بڑھ کر دین کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو زندگی کے جوہر سے جڑی ہوئی اور راز حیات سے منسلک ہے ۔ کیا عقل مند انسان کی نظر میں یہ بات ہے کہ یہ زندگی صرف یہ ہے کہ ماں کے رحم سے پیدا ہوتے ہیں، زندگی نگلتی ہے اور مٹی ہی انجام ہے۔

ایک ملحد فلسفی کہتا ہے:

’’تمام زمانوں اور شہروں میں عبادت گاہیں کلیسائیں اور مسجدیں اپنی عمارت عظمت اور رونق کے ساتھ اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کو دین کی ضرورت، مضبوط رسی کی ضرورت ہے۔‘‘

ایک دوسرا ملحد کہتا ہے:

’’تاریخ میں بہت سے شہر بغیر قلعے کے پائے گئے ہیں بہت سے شہر بغیر محل کے پائے گئے ہیں بہت سے شہر بغیر اسکولوں کے پائے گئے ہیں لیکن ایسے شہر نہیں پائے گئے جہاں عبادت گاہیں نہ پائی گئی ہوں۔‘‘

مسلمانوں! ہر انسان کے دل میں دین ایک راسخ فطرت ہے جسے اپنے ثبوت کے لیے کسی بہت بڑے مباحثے یا لمبی گفت و شنید کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ بدیہی چیزوں میں سے ہے ۔ انسان عبادت، عقیدہ اور ایمان پر پیدا کیا گیا ہے۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے: ’’ہر نو مولود فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔‘‘

یہاں تک کہ ملحد، یعنی، بے دین بھی یقین اور سکون تلاش کرتا ہے، اونچے مقاصد تلاش کرتا ہے اور یہ سب سوائے صحیح عقیدہ، دین حق اور سچے ایمان کے، کہیں اور نہیں مل سکتا۔ اللہ کے فضل اور احسان سے دین حق وہی ہے، جو کمزوری کے وقت قوت، نا امیدی کے وقت امید، ڈر کے وقت آس، بے چینی کے وقت سکون اور تنگی و پریشانی اور مصیبت کے وقت صبر عطا کرے۔ زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہوگا اور نہ اس میں بلند مقاصد ہوں گے جبکہ دل میں روحانی خلا پایا جائے گا۔ درست دین، اقدار و اخلاق، بلند روایات اور مطمئن زندگی کا سرچشمہ ہے۔ مسلمانوں! خالق کے سلسلے میں بعض عقلوں کا حیرت میں پڑنا کسی دلیل یا علم کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ حیرت جیسا کہ

’’اہل تحقیق و نظر کہتے ہیں ایک عرضہ اور نفسیاتی وسوسہ ہے کوئی علمی و فکری مظاہرہ نہیں ‘‘اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا ۖ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ﴾

(سورۃ الاعراف :198)

’’اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاو تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ بظاہر آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع کچھ نہیں دیکھتے۔‘‘

پتا چلا کہ ان عقلوں کے یہاں حیرت نفسیاتی آفت ہے، کوئی عقلی شبہ نہیں۔

بھائیو! الحاد، یعنی، بے دینی ایمان نہیں، بلکہ ایمان سے محرومی ہے۔ ملحد، اس لئے ملحد ہے کہ اس نے ایمان کے دلائل کو نہیں سمجھا، وہ اس لیے ملحد نہیں کہ وہ ایمان کی نفی پر دلائل رکھتا ہے، اس لیے کہ ملحد کے دل میں جو ہے وہ اللہ پر ایمان کا فقدان ہے نہ یہ کہ ایمان ہے کہ کوئی معبود نہیں، انکار اور شک کرنے والے کا نہ کسی صحیح علم پر مدار ہے اور نہ صریح عقل پر، بلکہ وہ انکاری ہے کہ اس نے دلیلوں کو نہیں سمجھا، اسے اس کی قدرت نہیں کہ وہ اپنے اعتقاد کی دلیل دے سکے، اسی لیے:

’’ ان کے بعض فلاسفہ نے کہا کوئی حقیقی ملحد نہیں پایا جاتا ۔‘‘

بھائیو! ملحد کا ضمیر راحت نہیں پاتا کیونکہ وہ فطرت کے موافق نہیں ہوتا۔ اس کا اندرون مطمٔن نہیں ہوتا اس لیے کہ وہ عقل کے مطابق نہیں ہوتا۔ اس نے واضح چیزوں پر دلیل طلب کی ۔وہ اس کی مانند ہے جو یہ چاہتا ہے کہ سورج کی روشنی کو دیئے سے روشن کرے۔ اس کے نزدیک کسوٹیاں الٹ گئیں، چنانچہ واضح چیزوں کے سلسلے میں اس کی اقل بھٹک گئی وہ معدوم وہم سے چلتا ہے اور وہ موہوم عدم کا لالچ رکھتا ہے۔

امام ابن تیمیہ﷫ کی بات پر غور کرو: ’’ بہت سے ضروری علوم فطری ہیں جب دلیل طلب کرنے والا ان پر دلیل طلب کرے تو دلیل چھپ جاتی ہے اور وہ شک میں پڑ جاتا ہے۔‘‘

مسلمانوں! دل کمزور ہیں، شبہات اچک لینے والے ہیں، خواہشات گمراہ کن ہیں، شہوات و خواہشات، شبہات کا گزرنا آسان کر دیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شہوات و خواہشات، شبہات کو آسانی سے گزارنے والی ہیں۔

مسلمانوں! الحاد، قلبی شک اور فکری انتشار سے بنا ہوا ہے۔ تم انہیں کہتے ہوئے دیکھو گے ہم شک سے چلتے ہیں تاکہ یقین تک پہنچیں۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے کوئی کہے ہم زہر پیتے ہیں تاکہ اس کے بعد دواء کا تجربہ کریں۔

مسلمانوں! عقلوں اور فطرتوں کے لیے اللہ پاک کا وجود، سورج کے ظہور اور دن کی روشنی سے زیادہ واضح ہے اور جو اپنی عقلوں، فطرت میں ایسا نہ دیکھے، اسے اپنی عقلوں، فطرت کو متہم کرنا چاہیے۔ ہر وہ چیز جسے تم اپنی آنکھ سے دیکھتے ہو کان سے سنتے ہو اور عقل سے سمجھتے ہو وہ تمہارے لیے تمہارے رب کے ہونے پر دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أَمْ خُلِقُواْ مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ ٱلْخَٰلِقُونَ﴾(سورۃ الطور :35)

’’ کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہو گئے ہیں یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں۔‘‘

اللہ کو جاننے کا راستہ ضروری ہے اس میں کوئی شک نہیں، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوموں سے کہا کیا آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والے حق تعالیٰ کے بارے میں تمہیں شک ہے؟ سبحان اللہ! اس پر کیسے دلیل طلب کی جاسکتی ہے جو خود ہر چیز پر دلیل ہے۔ اللہ پر دلالت کے لیے مخلوقات کی سانسوں کی تعداد کے برابر راستے ہیں۔ ہر چیز میں اس کی نشانی ہے، جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ایک ہے۔

بھائیوں! ملحد نے اپنے رب کو چھوڑا اور نیچر کی عبادت کی، اللہ کی نافرمانی کی اور انسان کی فرماں برداری کی، شریعت کو چھوڑا اور وہم کی پیروی کی، دین داروں پر اتباع کو معیوب جانا اور وہ خود اہلِ الحاد کے کہے سے لگا رہا، دین میں دل کے مخاطب کیے جانے کو برا جانا اور وہ حیران ہے کہ اس کے دل کو کون مخاطب کر رہا ہے، اس نے اعتماد کا دعویٰ کیا جبکہ بے چینی اس کے دل میں بھری ہوئی ہے، اس کو یقین کا گمان ہے جب کے حیرت اس کے پورے وجود پر مسلط ہے ۔

مسلمانوں! دین کی جہالت، کسی بھی جگہ اورکسی بھی زمانے میں الحاد و بے دینی کی نشونما کے لیے ذرخیز مٹی ہے اور صحیح دین جتنا زیادہ راسخ ہوگا، گمراہی اتنی زیادہ دور ہوگی۔

بھائیوں! حق کو ماننا، نا دلیل کی قوت پر منحصر ہے اور نا دلیل کے واضح ہونے پر، بلکہ وہ تو حقیقت کی طلب اور اس کے حرص میں صدق و سچائی پر منحصر ہے ۔ اسی لیے حقائق کی گفتگو ایسے شخص سے کرنا جو اس کی طلب میں سچا نہ ہو ، بیکار کی محنت ہے ۔ ان تمام باتوں کے بعد۔

اے منکرو! شک کرنے والوں! اور ملحدوں، اگر تم ناشکری کرو تو یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کی ناشکری سے خوش نہیں اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرے گا اور یہ بات ہے کہ جسے اللہ ہی نور نہ دے تو اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی اور جس کو فتنے میں مبتلا کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لیے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

﴿أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ0 أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ 0‏ أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ 0‏ أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ 0‏ أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ ‎0 أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُونَ 0 أَمْ عِندَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ 0 أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ 0‏ أَمْ لَهُمْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ﴾ (سورۃ الطور :34-43)

’’ یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہو گئے ہیں یا خود پیدا کرنے والے ہیں، کیا انہوں نے یہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے؟ بلکہ یہ یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں، کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا ان خزانوں کے یہ داروغا ہیں؟ یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ان کا سننے والا کوئی روشن دلیل پیش کرے۔ کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟ کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے؟ کیا ان کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں؟ کیا ان کے پاس علم غیب ہے، جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟ کیا یہ لوگ کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں؟ تو یقین کرلیں کہ کافر خود ہی اپنی سازشوں کے شکار ہیں۔ کیا اللہ کے سوا ان کا کوئی معبود ہے ، ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے ۔‘‘

اللہ مجھے اور آپ کو اپنی کتاب کے طریقے اور اپنے نبی محمد ﷺ کی سنن سے نفع پہنچائے ۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے لئے، آپ کے لئے اور بقیہ تمام مسلمانوں کے لئے ہر گناہ اور خطا سے مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اس سے مغفرت طلب کرو، بلا شبہ وہ بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے، اس نے اپنی وحی سے نفسوں کو زندہ کیا، اپنی آیتوں سے دلوں کو شفا بخشی، میں اس پاک ذات کی حمد بیان کرتا ہوں اور اس کا شکر بجا لاتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں اسی نے پیدا کیا اور اسی کا حکم چلتا ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کے ذریعے اندھی آنکھوں کو کھولا تو وہ دیکھنے لگے، بہرے کانوں کو کھولا تو وہ سننے لگے اور بند دلوں کو کھولا تو وہ سمجھنے لگے اور اللہ کی اطاعت کے لیے عقلی، قولی اور عملی طور پر رام ہو گئے اور اس کی خوشنودی کی ہموار راہوں پر چلنے لگے۔

درود و سلام اور برکتیں نازل ہوں آپ پر، آپ کے آل و اصحاب پر، درست طریقے سے ان کی پیروی کرنے والوں پر اور بہت زیادہ سلامتی ہو۔

اما بعد! مسلمانوں! انسان سے بہتر اللہ کی کوئی مخلوق نہیں، اللہ نے اسے زندہ جاننے والا، قدرت رکھنے والا، بولنے والا، سننے والا، دیکھنے والا اور عقل والا پیدا کیا۔ جہاں تک ملحدوں کی بات ہے تو انہوں نے انسان کو ربانی تکریم کی عزت سے نکال کر حیوان کے گڑھے تک اور حیوان سے بھی بد درجے تک گرا دیا اور اس سے عقل کی خاصیت چھین لی کہ

انسان اپنی عقل سے ہی شعور اور آزاد ارادہ کے ساتھ تمام مخلوقات سے بلند ہوتا ہے۔ یہ کوئی ظاہری جبلی خصلت نہیں۔ ملحدوں نے انسان سے اپنے لیے کائنات کو مسخر کرنے کی فضیلت چھین لی۔ ملحدوں کے نزدیک ایک انسان خلیہ سے، پھر کیڑے سے اور اس سے بھی کم تر کسی چیز سے گرا ہوا ہے۔ وہ انسان کو صرف کائنات کا ایک ذرہ سمجھتے ہیں۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:

﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا﴾(سورۃ الاسراء :70)

’’ یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خوش کی اور طریقی سواریاں دی اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں دی اور اپنی بہت سے مخلوق پر انہیں فضیلت عطا کی۔‘‘

اور اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے:

﴿وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِّنْهُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ (سورة الجاثیہ:13)

’’ اور آسمان و زمین کے ہر ہر چیز کو بھی اس نے اپنے طرف سے تمہارے لیے تابع کر دیا ہے۔ جو غور کریں یقینااس میں بہت سے نشانیاں پا لیں گے۔‘‘

اللہ تم پر رحم کرے، اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ان کریمانہ آیتوں پر غور کرو آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے ہدایت والوں سے وہی خوبہ آگاہ ہے آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ

اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم راست وہ ہو اللہ تعالیٰ جس کی رہبری فرمائے وہ راہِ راست پر ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے ناممکن ہے کہ

آپ اس کا کوئی کارساز اور رہنما پا سکیں انہیں ہدایت پر لا گہڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اللہ جس کو چاہے بے راہ کر دے اور وہ جس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا دے اور اگر آپ کا رب چاہتا تو روح زمین کے سب کے سب لوگ ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں پر ضبر دستی کرسکتے ہیں یہاں تک کہ

وہ مومن ہی ہو جائیں حالانکہ کسی شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ کا حکم کے بغیر ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے آپ کہہ دیجئے تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانی اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتی یہ باتیں رہیں اور درود و سلام بھیجو ہدیہ کی ہوئی رحمت اور تحفہ دی گئی نعمت تمہیں اپنے نبی محمد رسول اللہﷺ پر کے اس کا حکم تمہارے رب نے اپنے محکم تذیل میں دیا ہے اس نے قریبانہ بات کہی ہے اور وہ اپنی بات میں سچا ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ (سورۃ الأحزاب :56)

’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں اے مؤمنو! تم بھی ان پر رحمت بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔‘‘

اے اللہ درود و سلام اور برکتیں نازل فرما اپنے بندے اور رسول ہمارے نبی محمد مصطفیٰ نبی مجتبیٰﷺ پر آپ کی طیب و طاہر آل پر مومنوں کی مائے ان کی بی بیوں پر اور اے اللہ تو راضی ہو جاؤ ان کے چاروں ہدایت یافتہ خلفہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی سے اور تمام صحابہ سے، تابعین سے اور تاقیامت درست طریقے سے ان کی پیروی کریں اور اپنے عفو و کرم اور احسان و سخا سے ہم سے بہی ،اے اکرم المکریمین۔

اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر ۔ اے اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا کر ،شرک و مشریکین کو رسوا کر سرکشوں ملحدوں اور بقیہ دین و ملت کے تمام دشمنوں کو ناکام و نامراد کر ۔

اے اللہ ہمیں اپنے وطن امنی سے نواز ہمارے سربراہوں اور حکمرانوں کی اصلاح فرما ،اور ہماری سربراہی انہیں بخش جو تجھ سے خوف کہائیں ،تیرا تقوی اختیار کریں تیری خشنودی کی پیروی کریں۔

اے اللہ ہمارے سربراہوں کو اپنی اطاعت سے معزز کر ان کےزریعہ اپنا کلمہ کو بلند کر انہیں اسلام اور مسلمانوں کے کئے باعث مسرت بنا انہیں ان کے ولی عہد ان کے اخوان و اعوان کو اس کی توفیق دیں جو تیری منشاءو مرضی کے مطابق ہوں ۔انہیں بہلائی اور تقوی کی راہ پر چلا۔

اے اللہ مسلمانوں کے حکمرانوں کو اپنی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دیں، انہیں اپنے مومن بندوں کے لئے رحمت بنا اور حق و ہدایت پر انہیں متحد کر دیں۔

اے رب العالمین ہدایت دے مسلمانوں کو اور ایسا سماج مسلمانوں کا بنا دیں جس میں امر بالمعروف ہو رہا ہو۔

اے اللہ جو ہمارے ساتھ اور ہماری کتاب و دین کے ساتھ برائی کا ارادہ رکہتاکریں ہمارے امن کے ساتھ برائی کا ارادہ کریں۔

اے اللہ تو اس کو اسی میں الجھا دیں اور اس کی سازش کو اسی پر لوڈا دیں۔

اے اللہ! ہم ان کے شر سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور ہم تمہیں ان کے مقابلوں میں رکھتیں ہیں۔

اے اللہ مسجد اقصی کو قابضون اور غاسبوں سے آزاد کر۔

اے اللہ اس گھر کی شان بلند کر اس کا مقام اونچا کر اس کی عمارت مضبوط کر اس کو ستونوں کو ثابت کر، اے دعائیں کو سنیں والے۔

اے اللہ سرحدوں پر تعینات سپاہیوں کی ہمارے مدد فرما ۔

اے اللہ ان کی راہیں درست کر ،ان کے نشانے صحیح کر ،ان کی کمر کس دیں ،ان کی عظائم مظبوط کر، ان کے پاوں جمع دیں ،ان کو دل جمعی عطا کر ۔

اے اللہ ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اگر تو ہم پر رحم نہ کریں گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے رہ جائیں گئے۔

اے اللہ ہمیں دنیا میں بہلائی دیں اور آخرت میں بہلائی دیں اور جہنم کے عذاب سے بچا۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ 0‏ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ 0 وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

٭٭٭

تبصرہ کریں