دعوت ولیمہ کیا کب اورکیسے؟۔محمد عبد الہادی العمری

اسلام میں شادی بیاہ کے مسائل کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اس کے متعلق احکام و مسائل نہایت شرح وبسط سے بیان کئے گئے ہیں۔ لڑکے لڑکی کا انتخاب منگنی، عقد نکاح، رخصتی وغیرہ وغیرہ، ان ہی میں دعوت ولیمہ کا مسلم بھی ہے، شادی کی مناسبت سے اسی ایک دعوت کی اہمیت ہے جو دولہا کی جانب سے اس خانہ آبادی کے پُر مسرت موقع پر دی جاتی ہے۔

ولیم یہ دارصل عربی لفظ ’’ولم‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ایسا اجتماع جس میں دوست احباب اکھٹے ہو کر کھانا کھائیں، شادی کی مناسبت سے شوہر اور بیوی کا اجتماع ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ کثرت استعمال کی وجہ سے عقد نکاح کی مناسبت سے دی جانے والی دعوت کو ولیمہ کہہ دیا جاتا ہے، فقہائے کرام کے ساتھ اہل لغت بھی ولیمہ کے اس مفہوم ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں ماہرین لغت کی رائے زیادہ اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ زبان اور اس کے استعال کے متعلق بہتر جانتے ہیں۔ ( المغنی نیل الاوطار، باب الولیمہ)

دعوت ولیمہ کے علاوہ شادی کی مناسبت سے کسی اور دوسری دعوت کی اہمیت نہیں ، عہد نبوی ﷺ اور دورصحابہ جسے خیرالقرون میں سے بہترین زمانہ کہا جاتا ہے، وہاں شادی کا جوطریقہ رائج تھا، وہ یہ کہ رشتہ طے ہوجانے کے بعد بھی کچھ لوگوں کی موجودگی میں عقد نکاح ہو جاتا، پھر دولہا اپنی حیثیت کے مطابق دعوت ولیمہ کا اہتمام کرتا جونکاح کے اعلان اور اظہار مسرت کا بہترین ذریعہ ہے، اس کے علاوہ لڑکی کی طرف سے باقاعدہ دعوت یا بھاری بھرکم برات کاروائی نہیں تھا اور نہ ہی اس کی شرعی حیثیت ہے لیکن ہمارے سماج میں رسم ورواج کی کثرت اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ حقائق دب کر رہ گئے، ان میں ایک سنگین مسئلہ دعوتوں کے سلسلے میں ہونے والی بے اعتدالیوں کا ہے، جیسے کہ دولہا بڑی بات کے ساتھ عقد نکاح کے لیے حاضر ہواس کے لیے دعوت نامے تقسیم کر کے دوست احباب کو مدعو کیا جائے ، دلہن والوں کو پرتکلف دعوت کے لیے مجبور کیا جائے ، حتی کہ مالی طور پر کمزور والدین جو اپنی بیٹی کی شادی دوست احباب سے مالی تعاون اکٹھا کر کے کرتے ہیں وہ بھی اس ضیافت کا اہتمام کرنے پرمجبور ہوتے ہیں، کیونکہ یہ لڑکے والوں کا مطالبہ ہے و ورنہ شادی میں رکاوٹ پیش آئے گی گویا لڑکی والوں کی جانب سے اکثر و بیشتر یہ دعوت جبر واکراہ معاشرتی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ہاں اگر عقدنکاح کی محفل میں شرکت کرنے والوں کی تواضع کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق خوردونوش کے لیے پیش کیا جائے تو ممانعت نہیں، لیکن اس کو شادی کا لازمی حصہ بنالینا اس کی انجام دہی کے لیے پسماندہ خاندانوں کا قرض کے بوجھ یا بھیک کی چکی میں پسنا ضرور غور طلب ہے، اس کی نوعیت بھی جہیز جیسی ہی ہے جو کچھ لوگ مطالبہ کر کے اور کچھ خاموشی سے وصول کرتے ہیں ہندو پاک کے کچھ علماء نے شادی کے دن لڑکی کی طرف سے کھلائے جانے والے کھانے کے خلاف تحریک چلارہی ہے، وہ ایک دعوت کو درست نہیں سمجھتے ہیں کیونکہ عموماً یہ مجبوری یا زبردستی کی دعوت ہوتی ہے۔ ان پسماندہ علاقوں یا گھرانوں کے حالات کا جائزہ لیں تو ان کی اس فہم اور تحریک میں بڑا وزن دکھائی دیتا ہے۔

دیکھئے عہد نبویﷺ کی شادی کی ایک جھلک سیدنا عبد الرحمن بن عوف کا عقدنکاح ہے، جو مدینہ منورہ میں انجام پایا اورخود رسول اللہﷺکو اس کی اطلاع نہیں ہوئی، جب رسول الله ﷺ نے ان کے چہرہ اور اس پر شادی کی علا متیں دیکھیں تو دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے! انہوں نے وضاحت کی کہ میں نے شادی کر لی ہے اس جواب پرآپﷺ نے کسی غصہ یا ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا کہ مجھے دو کیوں نہیں کیا، بلکہ آپﷺ نے دولہا اور دلہن کے حق میں خیر و برکت کی دعا فرمائی ۔ مہر کے تعلق استفسار فرمایا اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے بتایا کھجور کی گٹھلی برابر سونا جو اس زمانہ میں ایک عام اصطلاح تھی۔ پھر آپﷺ نے انہیں دعوت ولیمہ کرنے کی ہدایت کی کہ ایک بکری زبح کر کے کھلا دو۔ اس ضمن میں حدیث شریف یوں مذکور ہے:

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ مَا هَذَا قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

’’سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ”میں نے ایک عورت سے ایک گھٹلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کرلیا ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے، دعوت ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی ہو۔‘‘ (صحیح بخاری:5155؛ صحیح مسلم: 3490)

رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے موقع پر جب سیدہ صفیہ کو ام المؤمنین بنایا، تو صحابہ کرام کو اس وقت اطلاع ہوئی جب انہیں دعوت ولیمہ میں مدعو کیا گیا۔ نہ ہی کوئی بات اور نہ ہی پیشگی ضیافت کا اہتمام ہوا۔ (صحیح بخاری:371 ؛ صحیح مسلم: 3504)

آپﷺ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ کے عقد نکاح کے موقع پر سیدنا علی سے فرمایا:

“إنه لابد للعرس من وليمة.”

’’شادی کی مناسبت سے دولہے کے لیے ولیمہ کا اہتمام ضروری ہے۔‘‘ (صحیح الجامع : 2418؛ صحیح، مسند احمد بن حنبل: 5؍359)

علامہ ابن حجر عسقلانی﷫ نے اس کی سند کو درست قرار دیا۔ ( فتح الباری، کتاب النکاح)

لہٰذا مشہور صحابی سیدنا سعد بن ابی وقاص نے ایک بکرا فراہم کرنے کی ذمہ داری لی اور کچھ انصاری صحابہ نے آٹا وغیرہ کا اہتمام کیا۔ حالانکہ مدینہ منورہ میں یہ بڑی اہم شادی تھی اس میں نبی کریمﷺ نے ضیافت کا اہتمام نہیں فرمایا بلکہ ہونے والے داماد سیدنا علی کوولیمہ کاحکم دیا۔

دعوت ولیمہ کی شرعی حیثیت

ولیمہ کی حیثیت جمہور علماء کے خیال کے مطابق سنت مؤکدہ کی ہے اور بعض علماء نے اسے واجب کہا ہے۔ اس دعوت کے حوالہ سے رسول الله ﷺ کا حکم ، ذاتی فعل اور صحابہ کرام کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ (المغنی مسئلہ نمبر: 1217؛ نیل الاوطار کتاب الولیمہ)

ولیمہ کا وقت

ولیمہ کے وقت میں مناسب گنجائش ہے، عقد نکاح سے لے کر رخصتی اور خلوت صحیحہ کے بعد کبھی بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے، اس کے لیے رخصتی يا خلوت شرط نہیں ہے۔

علامہ ابن حجر عسقلانی ﷫ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرمایا کہ

’’سلف صالحین کے درمیان ولیمہ کے وقت کے متعلق مختلف اقوال پائے جاتے ہیں، عقد نکاح کی مجلس میں یا اس کے بعد یا رخصتی کے موقع پر یا خلوت کے بعد یا عقد نکاح سے خلوت کے بعد تک حسب سہولت اس پرعمل کیا جاسکتا ہے۔‘‘ (فتح الباری، باب الولیمہ: 23)

امام نووی ﷫ نے فرمایا کہ

قاضی عیاض نے مالکیہ کی رائے نقل کی ہے کہ

’’مستحب خلوت کے بعد ہے لیکن عقد نکاح کے بعدی بھی یہ دعوت ہوسکتی ہے۔ ابن جندب نے عقد نکاح کے بعد اور خلوت کے بعد دونوں اوقات کودرست بتایا۔‘‘

امام شوکانی﷫ نے کہا کہ

“إن وقتها موسع من حين العقد.”

’’اس دعوت کے وقت میں گنجائش ہے، یہ عقدنکاح کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ‘‘ (نیل الاوطار، کتاب الولیمہ)

علامہ سید سابق ﷫ نے فرمایا کہ

’’ولیمہ کاوقت عقد نکاح کے موقع پر یا رخصتی کے دن یا خلوت کے بعد ہوتا ہے، اس مسئلہ میں مقامی عادات کے مطابق گنجائش ہے۔‘‘ (فقہ السنہ، باب الولیمہ)

بعض مالکیہ اور شوافع کا نقطۂ نظر ہے کہ

’’اگر نکاح کے فوری بعد رختصی عمل میں آ رہی ہو تو اس وقت ولیمہ زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اعلان نکاح کا یہ مناسب وقت ہے، یعنی خلوت سے قبل۔‘‘ (فتح الباری: 19؍231)

امام صنعانی﷫ نے بھی بعض اہل علم سے ایسا ہی قول نقل کیا ہے۔ (سبل السلام شرح بلوغ المرام: 1؍154)

علامہ الدمیری نے لکھا ہے کہ

’’فقہاء نے اس کے وقت کے مسئلہ پرزیادہ توجہ نہیں دی اور نہ ہی اس کو باقاعدہ موضوع بنایا، اس میں بڑی گنجائش ہے۔‘‘ (انجم الوهاج:7؍393)

علامہ شیخ صالح الفوزان ﷾ ممبرآف سینئر علما کونسل سعودی عرب نے لکھا ہے کہ

’’ولیمہ کے وقت میں بڑی گنجائش ہے، یہ عقد نکاح سے شروع ہو کر شادی کی تقریبات ختم ہونے تک رہتا ہے۔‘‘ (الملخص الفقہی: 2؍364)

مفتی تقی عثانی حنفی ﷾ فرماتے ہیں کہ

’’ولیمہ کا ترجیہی وقت اگرچیکہ خلوت کے بعد کا ہے کیونکہ اس طرح سنت ولیمہ اورسنت وقت دونوں ادا ہوجائیں گے، لیکن فقہاء مختلف اقوال کی بنیاد پرسنت ولیمہ نکاح کے بعد بارخصتی سے قبل یا بعد کسی بھی وقت کر لینے سے ادا ہو جاتی ہے۔‘‘ (فتاویٰ عثمانی: 2؍ حاشیہ 303)

رسول الله ﷺنے خلوت کے بعد ولیمہ فرمایا۔ اس لیے اس کی بلاشہ اہمیت ہے، جیسے ام المومنین سیدہ زینب بنت جحش فرماتی ہیں:

أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنْ الطَّعَامِ

’’نبی کریمﷺ نے میرے ساتھ رخصتی کے بعد لوگوں کو کھانے پر مدعو کیا۔‘‘ (صحیح بخاری: 5166؛ صحیح مسلم: 3506)

لیکن اس واقعہ سے یہ استدلال کہ ولیمہ کا وقت شروع ہی خلوت کے بعد ہوتا ہے، یہ محل نظر ہے اسی لیے معتبر علماء اور فقہاء نے اس کے وقت میں وسعت اور گنجائش بتائی ہے۔ نیز یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اس دور میں شادی کی اطلاع ہی دعوت ولیمہ کے ذریعہ ہوتی تھی،پیشگی یا دوسری دعوت یا دولہا کے ساتھ برات وغیرہ کا رواج ہی نہیں تھا۔ لہذا جو لوگ سیدہ زینب کے واقعہ سے وقت ولیمہ کے لیے استدلال کرتے ہیں، وہ واقعہ کا ایک جز تو لے رہے ہیں اور دوسرے اجزاء نظرانداز کردیتے ہیں جو کہ زیادہ مناسب نہیں اور آج کل بعض علاقوں میں اس مسئلہ کی اہمیت عقدنکاح کے فوری بعد ولیمہ کردیا جائے بڑھ گیا ہے۔ تاکہ غلط رسم ورواج کو ختم کیا جا سکے، کیونکہ اصول فقہ کا ایک مسلمہ قاعده ہے کہ ضرر رساں امور اور ذرائع کوروکنا منافع تلاش کرنے سے بہتر ہے۔

عقد نکاح کے فوری بعداگر رخصتی عمل میں آرہی ہو تو اسی وقت دعوت ولیمہ کا اہتمام کرنے میں کئی فائدے ہیں۔ لڑکی کے والدین اس اضافی بوجھ سے محفوظ رہیں گے اور اکثر مہمانوں کو 2 مرتبہ آمد ورفت کی زحمت سے بھی نجات مل سکے گی اور مزید یہ کہ بعض گھرانے غیرضروری تکلفات اور تصنعات سے بھی بچیں گے وہ اس طرح کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عقد کے موقع پر ہم کھانے کا انتظام نہیں کرتے ، جب کہ دیکھا گیا کہ باقاعدہ اس کا اہتمام ہوتا ہے البتہ مہمانوں کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے کہ عام لوگ جو صرف محفل عقد نکاح اور دعائے خیر میں شمولیت کے بعد واپس چلے جائیں اور خاص مہمان جن کے لیے باقاعدہ طعام کا بندوبست ہوتا ہے انہیں محفل عقد میں روک لیا جاتا ہے کہ عام لوگوں کے جانے کے بعد خاصوں کے لیے کھانے کا انتظام ہے۔ مہمانوں کے درمیان اس خاص وعام کی تفریق سے شکوہ اور شکایات کا دفتر کھل جاتا ہے۔ دعوت ولیمہ کتنے دن تک کی جاسکتی ہے:

دعوت ولیمہ عموماً ایک ہی دن کی جاتی ہے اور ضرورت ہوتو دوسرے، تیسرے دن بھی کی جاسکتی۔

اسی طرح سیدناعلی اور سیدہ فاطمہ کے ولیمہ میں گوشت اور جَو کی روٹی کا اہتمام کیا گیا۔ سیدہ اسماء بنت عمیس نے فرمایا : یہ اس زمانہ کے لحاظ سے بہترین دعوت تھی۔ ( فتح الباری، باب الولیمہ)

اسی طرح سیدناعبدالرحمن بن عوف کو بکری ذبح کر کے ولیمہ کر نے کاحکم دیا گیا: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» ’’ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی کیوں نہ ۔‘‘(صحیح بخاری: 5167؛ صحیح مسلم: 3490)

ولیمہ کی مذکورہ دعوتوں میں فرق اس حالات کے لحاظ سے تھا، جب جو میسر آیا اس سے ضیافت کی گئی۔ لہٰذا دعوت ولیمہ کی کیفیت میں کمی پیشی کی حسب ضرورت گنجائش ہے، علماء اور محدثین نے ام المؤمنین سیدہ زینب بنت جحش کے نکاح کے موقع پر دعوت ولیمہ میں خصوصی اہتمام کا سبب یہ بتایا کہ ان کے ساتھ یہ نکاح عام روش سے ہٹ کر آسمان کی بلندیوں پرانجام پایا۔ آپﷺ کو بذریعہ وحی مطلع کیا گیا، ان کا پہلا نکاح ایک آزاد کردہ غلام کے ساتھ انجام پایا تھا۔ پھر اس نکاح کے ذریعہ زمانہ جاہلیت کی غلط رسم کو ختم کیا گیا کہ منہ بولے بیٹےمتبنی کی مطلقہ سے شادی نہیں کی جاسکتی تھی اس، یہ وقت کے غلط کلچر کے خلاف بڑا جراتمندانہ اقدام تھا، ممکن ہے ان اسباب کے پیش نظر رسول الله ﷺ نے دعوت ولیمہ میں خاص اہتمام فرمایا ہو، مزید یہ کہ اس دعوت میں خیر وبرکت کے خصوصی نظارے دیکھے گئے کہ ایک بکری متعد دلوگوں کی شکم سیری کا سبب بن گئی۔

دعوت میں اخلاقی مروت اور ہمدردی

دعوت ولیمہ دینے اور قبول کرنے کی جہاں تاکید کی گئی ہے، وہیں کچھ آداب بتائے گئے ہیں کہ اس میں معاشرہ کے پسماندہ اور غریب لوگوں کی دلجوئی کا خاص حکم دیا گیا، سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں:

شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ﷺ

’’ولیمہ کا وہ کھانا بدترین کھانا ہے جس میں مالداروں کو مدعو کیا جائے اور محتاجوں کونظرانداز کردیا جائے، جس نے ولیمہ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کی۔‘‘ (صحیح بخاری:5177؛ صحیح ابن حبان: 5305)

رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ ولیمہ کا ایسا کھانا کیا ہی برا ہے جس میں آنے والوں کو روکا جاتا ہے اور آنے والوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ یعنی خوشحال لوگوں کوزور دے کر بلایا جاتاہے اور محتاجوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے، ایک اور حدیث میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا، وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ»

سیدنا ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بدترین کھانا ایسے ولیمے کا کھانا ہے کہ جو اس میں آنا چاہتا ہے اسے روک دیا جاتا ہے اور جو اس میں نہیں آنا چاہتا ہے اسے زپرتی بلایا جاتا ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 3525)

لہٰذا اس مبارک موقع پرمحتاجوں کے ساتھ بے مروتی سخت ناپسندیدہ ہے۔ ایسے ہی فضول خرچی اور اسراف کی ہر جگہ ممانعت ہے، یا اپنی حیثیت سے زیادہ قرض لے کر پُرتکلف دعوت کا اہتمام بھی غیر دانشمندی ہے۔

الله تعالیٰ اس شادی کو خیرو برکت کا ذریعہ بنائے اور ہرقسم کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

٭٭٭

تبصرہ کریں