دورِ حاضر میں فتنوں کی معرفت اور ان کے تدارک میں علماء اور طلباء کی ذمے داریاں

الحمد لله رب العالمين و الصلوة والسلام على أشرف الأنبياء و المرسلين، وعلى آله و أصحابه و أتباعه إلى يوم الدين.

اہل علم کے لئے انتہائی ناگزیر ہے کہ معاشرے میں دعوت دین کے حوالے سے اپنی ذمے داریوں کو پہچانیں اور عوامی ودینی حلقوں میں جو خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں ان کی اصلاح کیلئے اہم کردار ادا کریں۔

آج جن لوگوں کے پاس اقتدار اور اختیار ہے اگر وہ دعوت دین کی ذمے داریوں سے کنارہ کش ہو رہے ہیں تو آج دینی جماعتوں اور تعلیمی اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس خلا کو پر کریں اور ان ذمے داریوں کو پورا کیا جائے جو اسلام کی طرف سے ہم پر عائد ہوتی ہیں۔

مندرجہ بالا موضوع کی تفہیم کیلئے ہم اس کو مختلف حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں، تاکہ اچھی طرح سے اس موضوع کا احاطہ ہو سکے اور بہ آسانی بات سمجھ میں بھی آ جائے۔

1۔دور حاضر

اس عنوان سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ موجودہ حالات میں ہم نے کیا کردار ادا کرنا ہے؟ اس فریضے سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں حالات کا پورا ادراک ہو، ہم عوام سے تعلق رکھیں، معاشرے کے اندر رہن سہن سیکھیں اور ان خرابیوں پر نظر رکھیں جو معاشرے میں پیدا ہو کر عوام کو دین سے دور کر رہی ہیں۔

آج اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ دین بس یہی ہے کہ خود اپنا عمل کرو اور اپنے آپ کو گھر تک محدود رکھو تو پھر اسے علم اور دین سے اپنی وابستگی کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔ اور اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم انبیاء کے وارث ہیں اور ہم اس بات کے بھی دعویدار ہیں کہ علم کو عبادت پر اس لئے فضیلت حاصل ہے کہ عبادت کا نفع ایک فرد تک محدود رہتا ہے اور علم کا نفع افراد اور عوام تک متعدی ہوتا ہے تو پھر ہم عوام اور معاشرے سے الگ تھلگ رہ کر کسی طور اپنی ذمے داریوں کا حق ادا نہیں کر سکتے۔

2۔فتنوں کی معرفت

اس حوالے سے ہمیں وہ حدیث یاد رکھنی چاہیے جو فتنوں کی معرفت اور علم کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں:

كان الناس يسألون رسول الله ﷺ عن الخير وكنت أساله عن الشر مخافة أن يدركني

’’دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ ﷺ سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔‘‘ (صحیح بخاری:3606)

اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ فتنوں سے بچاؤ کیلئے ان کی معرفت اور حقیقت کا علم ہونا ضروری ہے۔ اور صحابہ کے ہاں تو یہ موضوع عام طور پر زیر بحث رہتا تھا۔ سیدنا حذیفہ ہی بیان کرتے ہیں:

“قالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عنْه: أيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسولِ اللَّهِ ﷺ عَنِ الفِتْنَةِ؟ قالَ: قُلتُ: أنا أحْفَظُهُ كما قالَ، قالَ: إنَّكَ عليه لَجَرِيءٌ”

’’سیدنا عمر نے کہا: تم میں سے کس شخص کو رسول کریم ﷺ کی وہ حدیث یاد ہے جو آپ ﷺ نے فتنے کے سلسلے میں ارشاد فرمائی تھی؟ میں نے کہا کہ مجھے یاد ہے اور بالکل اسی طرح یاد ہے جس طرح آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی۔ سیدنا عمر نے کہا: تم اس(فتنوں کی معرفت)میں بہت دلیر ہو۔‘‘ (صحیح بخاری:3586)

ان نصوص سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان فتنوں کی معرفت کس قدر ضروری ہے کہ ان کی پہچان کے بغیر ہم اپنے بچاؤ کا سامان نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

أَتاني هَواها قَبلَ أَن أَعرِفِ الهَوى

فَصادَفَ قَلباً خالِياً فَتَمَكَّنا

’’ دل اس کی معرفت سے خالی تھا، وہ خیال دل میں آیا اور جاگزیں ہو گیا اور میں اس کو روک بھی نہ سکا۔‘‘

فتنوں کا تذکرہ

ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ آج کون سے فتنے ہیں جو عوام اور خواص کی دنیا و آخرت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں اور معاشرے میں دینی لہر کو کمزور سے کمزور تر کرتے جا رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک بنیادی بات یاد رکھنی چاہیے کہ فکری اعتبار سے دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے:

1۔ خدا کا انکار، آسمانی شریعتوں کا انکار، انبیا، کتابوں اور آخرت کا انکار، الغرض یہ لوگ کسی چیز کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

2۔ پہلے گروہ کے برعکس دوسرا فریق اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والا اور اسلام کے عقائد کی دعوت دینے والا ہے۔

ان دونوں گروہوں میں پہلے گروہ کا مقصد اسلامی عقائد میں تشکیک اور لوگوں میں شبہات پیدا کرنا ہے اور یہی جڑ ہے جو باقی تمام فتنوں کو پروان چڑھا رہی ہے۔

فتنوں کی معرفت کیلئے مصادر و مراجع

فتنوں کی تاریخ اور ابتدا و ارتقا انتہائی تفصیل طلب موضوع ہے، لیکن اس حوالے سے چند بنیادی امور اور کتب کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ جن کے ذریعے سے ان فتنوں کی معرفت اور ان کے سد باب کا علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔

الحاد کا فتنہ

اسلامی عقائد پر تشکیک کا فتنہ دن بہ دن بڑھتا چلا جا رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں بنیادی عہدوں پر براجمان لوگ اور معاشرے میں ذرائع ابلاغ کی سارے وسائل پر آج اکثریت ان لوگوں کی قابض ہے جو اس فتنے کا شکار ہیں۔

الحاد اور تشکیک کے فتنے کی معرفت کیلئے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے:

1۔ اساسیات اسلام، مولانا حنیف ندوی﷫ (اس کتاب میں اسلام کے بنیادی عقائد کا تعارف،اور اس پر وارد ہونے والے اشکالات کا علمی،عقلی،نقلی اور سائنسی اعتبار سے جواب دیا گیا ہے۔)

2۔ الوحی المحمدی ، علامہ رشید رضا ( یہ مصر کے عالم دین تھے۔)

ان کتب میں الحاد اور تشکیک کے فتنے کا تعارف اور ملحدین کے اعتراضات کے جوابات دیے گئے ہیں۔

معاشرے میں موجود فتنے اور ان کا سدباب

الحاد کا فتنہ آج ہمارے عوامی حتی کہ دینی حلقوں میں بھی چار قسم کے گروہوں کے کندھوں پر سوار ہو کر لوگوں کو دین سے دور کر رہا ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ چار کندھے بھی الحاد کو ان گروہوں نے مہیا کیے ہیں جو اپنی نسبت اسلام کی طرف رکھنے والے ہیں۔وہ چار گروہ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔قادیانیت

ایک تو یہ فتنہ اپنی خامیاں اور برائیاں بھی معاشرے مین پھیلا رہا ہے اور ساتھ ہی الحاد کا بھی دست وبازو بن کر عوام کو دین و آخرت سے دور کر رہا ہے۔

آپ اس بات پر حیران ہوں گے کہ قادیانیت کے بنیادی عقائد میں خدا کا انکار شامل نہیں ہے لیکن یہ فتنہ ہر اس قوت کو اپنا کندھا مہیا کرتا ہے جو ایک مسلمان کا خدا، رسول،آخرت اور قرآن و حدیث پر ایمان کو کمزور کرنے والا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مسلمان براہ راست قادیانیت کو قبول کرنے سے انکار کر چکے تو اب یہ لوگ الحاد کا سہارا لے رہے ہیں تا کہ عوام کا اسلام سے تعلق کمزور ہو تو یہ لوگ عوام میں اپنا مذہب پیش کریں اور اس کی ترویج کریں۔

قادیانیت کے فتنے کا مقابلہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم اس کی تاریخ سے واقف ہوں، اس کی نشوونما کے اسباب اور ابتدائی حالات کے متعلق جانکاری رکھتے ہوں اور اس کے بعد اس مذہب کے دلائل اور علمی بنیادوں پر ہم ان کے شبہات سے اچھی طرح سے واقفیت رکھتے ہوں۔

ان معلومات کے حصول کیلئے مندرجہ ذیل کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے:

1۔قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ، پروفیسر الیاس برنی (اگر کوئی عالم یا طالب علم حتی کہ عام شخص بھی اس کو سمجھ کر پڑھ لے تو قادیانی فتنے کو نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ اچھی طرح سے اس کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔)

2۔ محمدیہ پاکٹ بک، مولانا عبداللہ معمار ﷫ (اس میں قادیانیت کے تمام دلائل کا قرآن و حدیث اور قادیانی مذہب کی بنیادی کتابوں سے رد کیا گیا ہے۔)

3۔احتساب قادیانیت (عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کی طرف سے ساٹھ جلدوں میں تمام علمائے اسلام کا لٹریچر جمع کیا گیا ہے جو انھوں نے قادیانیت کے رد پر لکھا تھا۔)

4۔محاسبہ قادیانیت (14 جلدوں میں علمائے کرام کی کتب کو جمع کیا گیا ہے۔)

5۔ تحریک ختم نبوت، ڈاکٹر بہاؤ الدین (یہ 60 جلدوں سے بھی زائد ہے جس میں رد قادیانیت پر تمام علماء کے علمی ذخیرے کو جمع کیا گیا ہے۔)

فتنہ قادیانیت کے حوالے سے دو علماء کے علمی ذخیرہ کو اچھی طرح پڑھنا چاہیے اور ان کو حرز جاں بنانا چاہیے:

1۔مولانا محمد حسین بٹالوی ﷫، یہ و شخصیت ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مرزا قادیانی کا براہِ راست مقابلہ کیا، اس کے ساتھ مناظرہ کیا اور انہوں نے ’اشاعۃ السنۃ‘ کے نام سے ایک مستقل رسالہ نکالا تھا جس کا موضوع ہی ’مرزا قادیانی کی تردید‘ ہوا کرتا تھا، مولانا صاحب نے قادیانیت کے رد میں جتنا بھی مواد لکھا تھا وہ ’’محاسبہ قادیانیت کی جلد نمبر 9، 10، 11‘‘ میں شائع ہو چکا ہے۔

2۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫، یہ دوسری شخصیت ہیں جنہوں نے قادیانیت کی تردید میں بے مثال علمی ذخیرہ رقم کیا، ان کی ’ 33‘ کتابوں کو ’احتساب قادیانیت والے مجموعہ کی جلد نمبر 8 ،9‘ میں شائع کیا گیا ہے۔

ان علماء کی کتابیں پڑھنے سے دو فائدے حاصل ہوتے ہیں:

1۔ ان کی کتب سے علمی دلائل ملتے ہیں۔

2۔ دوسرا یہ وہ علماء ہیں کہ جنہوں نے براہ راست قادیانی مذہب کے بانی اور اس کے ابتدائی لوگوں کا مقابلہ کیا اور اسی دور میں ان کو ناکام کیا۔

تو یہ قادیانی فتنہ وہ پہلا عنصر ہے جس کے کندھے پر سوار ہو کر الحاد اور تشکیک کا مرض اسلامی معاشرے میں پھیلتا جا رہا ہے۔

2۔رافضیت

یہ لوگ بھی خدا، رسول اور آخرت کے انکاری نہیں ہیں لیکن اسی مقصد سے یہ الحاد کے یمین و یسار بنے ہوئے ہیں، تاکہ اسی بہانے یہ لوگ عوام میں اپنے فاسد عقائد پھیلا سکیں۔

رافضیت کے حوالے سے دو باتوں کا سمجھنا بہت ضروری ہے:

پہلی یہ کہ اصل رافضیت کیا ہے…؟

اور دوسری بات یہ کہ موجودہ دور میں اس کی جدید صورت کونسی ہے۔۔۔؟

1۔اصل رافضیت: وہی ہے کہ یہ لوگ قرآن میں بھی تشکیک اور صحابہ کی بھی تکفیر کرتے ہیں۔ اس پر علماء نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن اگر ہر عالم دین اور طالب علم اس رافضیت کو سمجھنے کیلئے صرف ایک کتاب کو صحیح سمجھ کر پڑھ لے تو نہ صرف اس کی حقیقت سے آگاہی حاصل کر لے گا بلکہ اس کا مقابلہ بھی کر سکے گا، اور وہ کتاب ’شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫‘ کی ’منہاج السنۃ النبویۃ فی نقض كلام الشيعۃ والقدريۃ‘ہے، اس کتاب میں فتنہ رافضیت کی علمی دلائل کے ساتھ الزامی،عقلی،نقلی ہر لحاظ سے تردید کی گئی ہے۔ یہ کتاب ہر طالب علم کے زیر مطالعہ ہونی چاہیے تاکہ وہ باطل سوچ و فکر کا رد کر سکے۔

2۔جدید رافضیت: اس کو پھیلانے کیلئے یہ حربہ استعمال کیا گیا ہے کہ اہل سنت کی طرف منسوب ایسے افراد پیدا ہوئے جو قرآن میں تشکیک یا اس کا انکار نہیں کرتے ہیں،نہ ہی صحابہ کی تکفیر کرتے ہیں بلکہ عوام کے سامنے صحابہ کا احترام بجا لاتے ہیں، لیکن صحابہ کے درمیان ہونے والے مشاجرات اور اختلافات کی آڑ لے کر کچھ صحابہ کا احترام بیان کرتے ہیں اور کئی صحابہ پر طعن،تشنیع،تنقید اور تبراء کرتے ہیں،اس سے مقصود یہ ہے کہ رافضیت کیلئے وہ سہولت کاری کی جا سکے کہ جن کی بنیاد پر مسلمانوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس دور میں اس فتنے کا بانی ’فیصل آباد کا اسحاق جہالوی‘ تھا اور آج اس کا پیروکار ’مرزا علی محمد جہلمی‘ ہے، اس فتنے کا مقابلہ کرنے کیلئے دو کتابیں لازمی پڑھنی چاہئیں:

1۔ مقام صحابہ، مولانا ارشاد الحق اثری ﷾(اگر ایک مسلمان یہ کتاب پڑھ لے اور عوام میں اس کی اشاعت کرے یا اس سے حاصل شدہ مباحث کو پھیلانے میں محنت کرے تو یہ جدید رافضیت کا فتنہ اپنی موت آپ مر سکتا ہے۔)

2۔ فضائلِ صحابہ و اہل بیت اور مسائل محرم الحرام، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷫ (اس جدید رافضیت نے واقعہ کربلا کی آڑ لے کر صحابہ کرام کی توہین پر مبنی جو افکار معاشرے میں پھیلائے ہیں،اس کتاب میں اچھی طرح سے ان کا سدباب کیا گیا ہے اور اس کتاب کی سب بڑی خوبی یہ ہے کہ ’14 اکابر علمائے اہلحدیث‘ نے اس کتاب کی تصدیق کی ہے کہ یہ سلفی منہج پر لکھی گئی ہے۔

3۔انکار حدیث

یہ تیسرا گروہ ہے جو عصر حاضر میں الحاد کو اپنا کندھا فراہم کر رہا ہے۔ پہلے پہل تو یہ فتنہ یوں تھا کہ ’صرف قرآن ہی دین ہے حدیث کا دین سے کئی تعلق نہیں‘ اور یہ نظریہ سر سید ،عبداللہ چکڑالوی اور غلام احمد پرویز نے شروع کیا تھا۔ لیکن جب اہل علم نے ان لوگوں کی تردید کی اور ان کے افکار و نظریات کا علمی رد کیا تو اب یہ لوگ جدید صورت میں اپنے افکار کے داعی بنے بیٹھے ہیں، اور وہ یوں کہ اب یہ لوگ حدیث کو بہ ظاہر تسلیم تو کرتے ہیں لیکن احادیث کو قبول کرنے کے جو تقاضے ہیں ان کا انکار کرتے ہیں، اور اس کیلئے وہ احادیث پر طرح طرح کے اعتراضات وشبہات وارد کرتے ہیں۔

موجودہ دور میں ’جاوید احمد غامدی‘ اس فتنے کا علم لہرائے ہوئے ہے، اور اس کے پیروکار بھی اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ وہ اس بات کا دعویدار بھی ہے کہ وہ حدیث کو حجت مانتا ہے، لیکن اپنی کتاب ’میزان‘ میں صاف لکھتا ہے کہ ’حدیث سے کوئی عقیدہ وعمل ثابت نہیں ہوتا۔‘ (میزان: 58)

اب ذرا خود ہی اندازہ کریں کہ یہ حدیث کی حجیت کا اقرار ہے یا انکار ؟

حجیت حدیث کے حوالے سے چند کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے:

1۔ حجیت حدیث ، مولانا اسماعیل سلفی ﷫ ( اس کتاب میں اس فتنے کی قدیم اور جدید دونوں صورتوں کا رد کیا گیا ہے۔ اب یہ کتاب مزید اضافوں کے ساتھ ’مقالات حدیث‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔)

2۔دوام حدیث، امام محمد گوندلوی ﷫

3۔آئینہ پرویزیت، مولانا عبد الرحمن کیلانی ﷫

4۔بدعتی گروہ

یہ چوتھا عنصر ہے جو الحاد کو اپنا کندھا مہیا کیے ہوئے ہے، کیونکہ ایل بدعت جب دین کا مسخ شدہ تصور لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو ایک عقل مند انسان دین ہی سے منحرف ہو جاتا ہے کہ یہ کیسا دین ہے جو اس طرح کی غیر فطری رسومات کی دعوت دیتا ہے، اس کی ایک مثال برصغیر کے عالم کی ہے جس کا نام ’غلام جیلانی برق‘ تھا، اس نے ’دو اسلام‘ کے نام سے انکار حدیث پر ایک کتاب لکھی اور اس کے مقدمے میں لکھتا ہے: ’’میں بدعتی رسم و رواج کے سبب اسلام سے منحرف ہوا ہوں۔‘‘

اسی طرح ’غازی محمود دھرم پال‘ ( یہ مسلمان تھا پھر ہندو ہوا پھر بعد میں مسلمان ہو گیا) اپنی کتاب ’داستان غم‘ میں لکھتا ہے: ’’میں اسلام سے اس لئے منحرف ہوا تھا کہ جب مجھے بدعتی رسم ورواج کی دعوت دی گئی تو اسلام سے میرا اعتبار ہی جاتا رہا۔‘‘

یہ چار فتنے ہیں جو الحاد کو اپنے کندھے مہیا کر رہے ہیں اور لوگوں کو قرآن و سنت سے دور کر رہے ہیں،ان کی پہچان کیلئے مندرجہ بالا مصادر کو لازمی پڑھنا چاہیے تاکہ ان فتنوں کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد ان کا رد کیا جا سکے اور معاشرے میں اسلامی عقائد و افکار کی ترویج کی جا سکے۔

فتنوں کے تدارک میں علماء و طلباء کا کردار

یہ ہمارے موضوع کا دوسرا حصہ ہے، اس کی مختلف اقسام بنا کر اس کو بھی بڑی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔

1۔علمی رسوخ: ان فتنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سب سے پہلے علمی طور پر اپنے آپ کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ اور اپنے اندر علمی رسوخ پیدا کرنے کیلئے ہمیں یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ ’’صرف قرآن و حدیث کا ترجمہ پڑھ لینا کافی ہے۔‘‘ کیونکہ اس سوچ کی وجہ سے طالب علم اصول فقہ کے علم سے متنفر ہو جاتا ہے، اصول حدیث کو بھی غیر ضروری سمجھتا ہے اور بقیہ معاون علوم و فنون سے بھی غفلت برتتا ہے۔

اگر صرف قرآن اور حدیث کا ترجمہ پڑھنا ہی علمی رسوخ کا ذریعہ مان لیا جائے تو پھر ہم میں اور اس جاہل انسان میں کوئی فرق نہیں جو ساری زندگی علماء کے دروس اور خطبات سنتا رہتا ہے لیکن اس میں کبھی علمی رسوخ پیدا نہیں ہوتا، حتی کہ عامی شخص اسلام کے بنیادی عقائد و نظریات کے متعلق بھی مکمل جانکاری حاصل نہیں کر پاتا، لہذا فتنوں کا مقابلہ کرنے کیلئے علمی رسوخ اولین شرط ہے۔

2۔عملی اقدامات: علمی رسوخ پیدا کرنے کے بعد ہمیں اپنے مقام کا تعین کرنا چاہیے کہ جب ہم یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم انبیاء کے وارث ہیں، تو پھر ہم پر یہ حق بنتا ہے کہ اب اس پیغام کو آگے پہنچانے کیلئے لوگوں تک رسائی حاصل کریں اور اسلامی عقائد وافکار کی نشر واشاعت میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔

3۔ ضروریات دین کی تبلیغ: جب عوام سے ربط پیدا ہو جائے تو سب سے قبل انھیں ضروریات دین کی تبلیغ کریں، اسلام کے عقائد اور بنیادی مسائل کی تعلیم دیں،اور ان کے شبہات کا ازالہ کریں، کیونکہ اگر انسان کا عقیدہ مضبوط ہو جائے تو پھر وہ بڑی آسانی سے ان فتنوں کا مقابلہ کر سکتا ہے۔اسی ضمن میں ’سید سلیمان ندوی ﷫‘کا ایک واقعہ سنیے کہوہ کہتے ہیں:

’’ میں نے اپنی زندگی میں علمی و کلامی فتنوں کو پڑھا ہے، جدید اور قدیم فتنوں کو ان کے اصل مصادر سے مطالعہ کیا، لیکن کبھی بھی کوئی فتنہ میرے دل میں اپنی جگہ نہ بنا سکا اور نہ کوئی شبہہ مجھے متاثر کر سکا۔‘‘

پھر اس کی وجہ بیان کرتے ہیں:

’’ جب میں چھوٹا تھا تو میرے بڑے بھائی ’حکیم سید ابو صہیب صاحب‘ محلے میں عورتوں کو ’تقویۃ الإيمان، شاہ اسماعیل شہید ﷫‘ کی کتاب پڑھایا کرتے تھے۔ میں اس وقت چونکہ چھوٹا تھا تو مجھے حکم دیتے تو میں پردے کے پاس کھڑے ہو کر اس کی قرات کیا کرتا تھا،اور بڑے بھائی پردے کے پیچھے سے ایک ایک بات کی تشریح و تفسیر کرتے رہتے تھے، اور میں نے کئی دفعہ اسی طرح اس کی قراءت کی تھی۔ اس دوران اسلامی عقائد اور اس کے جو دلائل میرے دل و دماغ میں راسخ ہو چکے تھے،اس کے بعد ساری زندگی کوئی بھی فتنہ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔ (مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں:8)

اس دنیا میں جتنے بھی ذرائع ابلاغ ہیں ان کے ذریعے اسلام کی دعوت کو اور ان فتنوں کی حقیقت کو سر عام نشر کرنا چاہیے اور یہ جو بیمار سوچ آج لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہو چکی ہے کہ کسی پہ تنقید نہ کرو، اصل میں یہ اسلامی دعوت کے منہج سے ناواقف سوچ ہے۔آپ دیکھیں کہ قرآن مجید کے اندر حق کی تائید بھی ہے اور باطل پر جگہ بھی تنقید ملتی ہے۔ اسلام توحید سکھاتا ہے تو شرک کی مذمّت کرتا ہے، سنت سکھاتا ہے تو بدعت کا رد بھی کرتا ہے، لہٰذا اس بیمار سوچ کے سبب اپنے فرائض کو نہین چھوڑنا چاہیے، خواہ جو مرضی کوئی پروپیگنڈا کرتا رہے۔

آج دیکھ لیں کہ دنیا انہی علماء کا ذکر کرتی ہے کہ جنہوں نے اسلام کی مثبت دعوت بھی دی اور اپنے وقت کے فتنوں کا پوری طرح سے مقابلہ کیا، لہٰذا فتنوں کی تردید کرنے،ان پر تنقید کرنے میں اسلامی اسلوب کو اختیار کر کے ہم اپنی ذمے داریاں ادا کر سکتے ہیں۔

آخری نصیحت

صحابہ کرام کے دور میں جب فتنہ پھیل گیا تو سیدنا عبدالرحمٰن بن ابزی نے سیدنا ابی بن کعب سے سوال کیا: “ما المخرج؟” کہ ان فتنوں سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے؟ تو سیدنا اُبی بن کعب نے جواب دیا:

“كتابُ الله ما استبان لك فاعمل به،وما اشتبه عليك فكله إلى عالمه”

’’اللہ کی کتاب سے جتنا بھی تم کو علم اور فہم حاصل ہے اس پر مضبوطی سے ڈٹے رہو، اور جس چیز کا علم نہیں اسے کسی عالم دین سے سیکھو۔‘‘ ( مختصر قيام الليل لمحمد بن نصر المروزي ص 174)

آج اگر ہم بھی فتنوں کے دور میں عوام کو علماء اور دینی مراکز سے جوڑ دیں تو آدھے فتنے ویسے ہی ختم ہو جائیں گے، مثلا ہم اپنے علاقے کے سلفی منہج اور اہل حدیث علماء کے قول و فعل کو مدنظر رکھیں تو اس سے بھی ہم سیکھ سکتے ہیں کہ موجودہ دور میں ایک عالم اور طالب علم کا کردار کیا ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب کا فہم نصیب کرے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین

٭٭٭

تبصرہ کریں