کووڈ ویکسین افواہیں اور اسلامی نقطۂ نظر ۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

اس وقت بلاشبہ روئے زمین پر کورونا وائرس وہ واحد نام ہے جو لاکھ بدنام سہی مگر بلاتردد نہ صرف ہر فرد اس کے نام سے واقف ہے بلکہ اس کی زہرناکیوں سے بھری کار روائیوں کا بھی علم رکھتا ہے ۔ اکتوبر 2019ء میں چین کے شہر وریان سے برآمد ہونے والا یہ مہلک وائرس، اب تک ڈھائی ملین سے زائد انسانوں کو لقمہ اجل بنا چکا ہے ۔ دنیا کے 121 ممالک کے 110 ملین سے زائد افراد فی الوقت اس کا شکار بنے ۔ موت و زیست کی تکلیف دہ آزمائش میں مبتلا ہیں ۔ اس مہلک وائرس کاشکار ہو کر بچ جانا گویا موت کے منہ سےنکلنے کے مترادف ہو چکا ہے ۔ جدید طبی تجربات کے مطابق اس وائرس سے شفایاب افراد کو مکمل صحت مندی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ کیونکہ یہ مرض نہ صرف اپنے پیچھے انتہائی بھیانک بلکہ خوفناک یادیں چھوڑ جاتا ہے بلکہ کئی ایک جسمانی اعضاء کو مختلف بیماریوں کے حوالے کر جاتا ہے ۔

اس وائرس نے جہاں لاکھوں انسانی جانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا وہیں اس کی وجہ سے عالمی تجارتیں، چھوٹے بڑے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ اسکولز اور کالجز کو تالے لگادیئے گئے، مسجدیں مرثیہ خوانی کرنے لگیں کہ نمازی نہ رہے، بیروزگاری آسمان کو چھونے لگی۔ کووڈ کا جان لیوا خوف وہراس ہمیشہ ذہنوں پر مسلط، اس پر مستزاد لاک ڈاؤن نے ہستے بستے آباد شہروں، محلے اور گلی کوچوں کو ویرانے میں تبدیل کر دیا۔ گھروں میں بند افراد میں ذہنی ساز کو ڈپریشن کی شکایات عام ہونے لگیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ خوشگوار زندگیوں میں زہر گھلنے لگا۔

الغرض زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں کہ اس وائرس نے جس کو شکار نہ بنایا ہو۔ مگر اللہ رب العزت کی ذات رحیم کریم ہے وہ اپنےبندوں کو آزمائش سے دوچار کرتا ہے تواس آزمائش سے نبردآزما کرنے کی صلاحیت کی صلاحیت بھی عطا فرماتاہے ۔

الحمد للہ،اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی مدد اور اسکے کرم سے ایک سال کے طویل صبر آزما مرحلے کےبعد دنیا کے مختلف سائنسدانوں اور طبی ماہرین کی شب و روز محنت اور عرق ریزی کے بعد اس مہلک وبا سے محفوظ رہنے کا علاج ویکسین کی شکل میں دریافت کر لیا گیا۔ جو کہ اب نہ صرف برطانیہ کے ہر شہر و دیہات میں دستیاب ہے بلکہ دنیا کے کم وبیش تمام ملکوں میں اس کی فراہمی کو ممکن بنایا جا چکا ہے ۔ یہ وہ ویکسین ہے کہ جس کو لگانے والا تقریباً اس وبا سے محفوظ ہو جاتا ہے بلکہ اپنے آس پاس کے ماحول میں اس وبا کو پھیلنے سےروکتا بھی ہے ۔

الحمد للہ اب تک برطانیہ میں کئی ملین افراد کو یہ ویکسین لگائی جا چکی ہے ۔ مگر حیران کن امر یہ ہے کہ اس ترقی یافتہ دور میں اس تباہ کن مہلک وائرس کی تمام تر حشر سامانیوں کا علم رکھنے کے باوجود کچھ لوگ برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں ایسے ہی ہیں کہ جواس ویکسین کےحوالے سے مختلف بےبنیاد افواہوں کا شکار ہو کر غلط فہمیوں میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

حکومت کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹس کےمطابق برطانیہ کی ایشیائی کمیونٹی خصوصاً مسلمانوں میں ایسے افراد بکثرت موجود ہیں جو ویکسین کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ افواہیں تو بہت ساری ہیں بطور مثال عامۃ الناس میں یہ غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں کہ کورونا وائرس فلوسے زیادہ خطرناک نہیں۔ یہ ویکسین ناقابل تلافی تقصان کا موجب ہو سکتی ہے ۔ ویکسین میں حرام اجزاء خنزیر یا دیگر حیوانی اجزاء شامل ہیں۔ ویکسین میں  ایسی میکرو چپ ڈال دی گئی ہے جس کے ذریعے حکومتیں عوام کی خفیہ نگرانی کر سکتی ہیں۔  ویکسین آپ کے ڈی این اے کو تبدیل کر سکتی ہے ۔ویکسین آپ کے اندر بانجھ پن پیدا کر دیتی ہے ۔ ویکسین صرف عمر رسیدہ افراد کے لیے  بنائی گئی ہے نوجوانوں کواس کی ضرورت نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ

بہر حال ان حالات میں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ عوام الناس کی طرف سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں کوہی اپنا مبلغ علم بنانے کے بجائے﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ (النحل :43)کے اصول کی پیروی کرتے ہوئے ویکسین کا علم رکھنے والے سائنسی ماہرین اور طبی شعبہ میں تجربہ رکھنے والوں سے اس کی حقیقت دریافت کرنے کی کوشش کی جائے مگر معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ ویکسین کے معاملے میں ہرکس وناکس کی بات پر فی الفور یقین کرنے کے لیے  تو ہم تیار ہیں مگر سائنٹسٹ یا ڈاکٹر کی رائے کو مشکوک اور غیر یقینی گردانتےہیں ۔

ہر کہی جانے والی بات ضروری نہیں کہ صحیح ہو۔ یا تو وہ مکمل غلط بیانی پر مبنی ہو گی یا اس بات کے آپ تک بہونچانے میں کثر و بہونت سے کام لیا ہو گا۔ لہٰذا قرآن مجید کے زبان ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾(الحجرات: 6) کےمطابق ہر ایرے غیرے کی بات پر یقین کرنے کی بجائے اس کی تحقیق کر لینا شرعا فرض ہے ،بلا تحقیق سنی سنائی افواہوں پر یقین کر لینا ہرگز ایک مسلمان کا رویہ نہیں ہو سکتا۔نیز معاملہ اس وقت مزید گھمبیر ہوجاتا ہے جب ان افواہوں پر یقین کرنےوالے بلا تاخیر ان افواہوں کو بڑھا چڑھا کر دوسروں تک پہنچانا اپنا شرعی فریضہ سمجھنے لگتے ہیں ۔ چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ فیس بک سے لے کر واٹس ایپ  تک اس حوالے سے گمراہ کن افواہوں کی بھر مار ہے اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان افواہوں پر یقین کرنے والے کوئی ان پڑھ لوگ نہیں بلکہ طلباء  اور تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک بڑا طبقہ اس میں شامل ہے ۔ بہر حال مسلمان کی حیثیت سے جو لوگ ان بے بنیاد افواہوں کو دوسروں تک پہنچانے کی سعی مذموم کر رہے ہیں بلاشبہ حدیث رسول ﷺ کےمطابق اپنے آپ کو اسلام کی نظرمیں جھوٹوں اور گنہگاروں کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں ۔ جیسا کہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : «كَفَى بالمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»  (صحیح مسلم:7 )آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلاتحقیق دوسروں کو منتقل کر دے۔

ویکسین کے حوالے سے پائی جانے والی تمام غلط فہمیوں کی تردید یہاں مقصود نہیں ۔ تمام کی تمام محض بےبنیاد افواہوں پر مشتمل ہیں۔ ہاں صرف اس غلط فہمی کی وضاحت ضروری ہے کہ جس کا تعلق حرام وحلال سے ہے ۔ چنانچہ برطانیہ کے ماہر مسلم اور غیر مسلم ڈاکٹرز کے بیان کے مطابق یہ ویکسین ہر قسم کے حرام اجزاء سے پاک ہے۔ اس بیان کے بعد بھی بالفرض اگر کسی کو شک ہے کہ اس میں حرام اجزاء شامل ہیں تو یاد رہے کہ وہ چاہے الکوحل ہو یا حیوانی اجزاء انہیں مختلف کیمیاوی مراحل سے اس طرح گزارا جائے کہ جس کی وجہ سےاس حرام جزاء کی ماہیت اور حقیقت تبدیل ہو جاتی ہے ۔ جس کو فقہی اصطلاح میں استحالا سےتعبیر کیا جاتا ہے چنانچہ استحالا کے ذریعے بنائے جانے والی دوائیوں کو علماء امت نے جائز قرار دیا ہے۔

نیز حرام جزء کی ماہیت کی تبدیلی کے بعد بھی اگر کوئی اس کو حرام ہی سمجھتا ہے تو پھر موجودہ حالات میں جان کی حفاظت کی غرض سے ایسی ویکسین کا لینا ضروری قرار پاتا ہے کیونکہ جان کی حفاظت کو شریعت کے پانچ اہم مقاصد میں سے ایک اہم مقصد  قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ وہ شخص جس کو بھوک اور پیاس کی  شدت کی وجہ سے موت کا خطرہ لاحق ہو ، اس کےلیے حرام چیز بھی حلال قرار دی گئی ہے ۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ﴾ (البقرہ : 173)  ’’ایسا شخص جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو اس پر ان کے کھانے میں کوئی گناہ نہیں ۔‘‘

اس حوالے سے امام ابن کثیر رحمہ اللہ نےاپنی تفسیر  میں نقل کیا ہے کہ اس آیت کی روشنی میں معروف تابعی اور محدث امام مسروق رحمہ اللہ  نے کہا ہے کہ سخت اضطرار کی حالت میں حرام غذا سے اجتناب کرنے کی وجہ سے اگر کسی کو موت واقع ہو جاتی ہے تو اس کو خودکشی کی موت قرار دیا جائے گا۔

بہرکیف ویکسین کے حوالے سے پھیلائی جانے والی بے بنیاد افواہوں پر کان دھرکر نہ صرف ہم اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں بلکہ اس قاتل وائرس کو مزید پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔

مولانا ثناء اللہ سیالکوٹی پُر ملال انتقال

یہ خبر تمام جماعتی اور غیر جماعتی حلقوں میں بے انتہا غم او ر افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ برطانیہ کے معروف عالم دین مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے سابق امیر مولانا ثناء اللہ سیالکوٹی 12 فروری 2021ءجمعہ کےروز 73 سال کی عمر میں مختصر علالت کے بعد اس دارفانی سے رحلت فرما گئے ۔إنا للہ وإنا إليه راجعون

مولانا کا تعلق پاکستان کے مردم خیز علاقے سیالکوٹ سے تھا۔ جمعیت کے سابق ناظم اعلیٰ مولانا محمود احمد میرپوری کی خواہش پر آپ نے برطانیہ کا رخ کیا، ایک طویل عرصہ جمعیت کی برانچ اسکیٹن میں خطابت و امامت کے علاوہ درس و تدرس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود جماعت کے جملہ دعوتی، تبلیغی اور عملی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ۔ خصوصاً  مولانا محمود احمد میر پوری کی رحلت کے بعد آپ نے جماعت کی تمام سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر پوری اخلاص، محنت او ر جدوجہد کا ثبوت دیا ۔ اور پھر جماعت کے امیر کی حیثیت سے جماعت کی نشاتات کو مؤثر بنانے اور جماعت کو مزید متحرک کرنے میں ہر ممکنہ کوشش کی۔ مولانا کو تقریر سے کہیں زیادہ تحریر سے لگاؤ رہا۔ چنانچہ اپنے پیچھے کئی مفید اور اصلاحی کتابیں چھوڑ گئے۔ علاوہ ازیں بڑی عرق ریزی ،محنت ولگن کے ساتھ مجلہ صراط مستقیم میں شائع کیے جانے والے مولانا محمود احمد میر پوری کے فتاوی اور مقالات کو کتابی شکل دے کر شائع کروایا۔

اللہ تعالیٰ نے مولانا کو بہت ساری خوبیوں سے نوازا تھا۔مہمان نوازی تو ان کا شعار تھی۔ سادگی، تواضع اور خاکساری کو کوئی ان سے سیکھے ۔ ملنساری اس قدر کہ اجنبی کو اپنا دوست بنا لیتے۔ جماعتی ساتھیوں کے ساتھ ہمیشہ محبت ،شفقت اورہمدردی کا رویہ اپنائے رکھا۔ قول وعمل میں اخلاص لہجے میں انسانیت ، گفتگو میں ادب و احترام مولانا کی خصوصیت تھی۔ تحریر ہو کہ تقریر یا عام گفتگو ہر جگہ سادگی کو اپنائےرکھا۔ بھاری بھر کم الفاظ اور نستعنیی زبان استعمال کر کے مقابل کو مرعوب کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔

جس بات کوحق سمجھتے اس کا اظہار کرنے میں تامل نہ کرتے۔ سخت سے سخت اور نہایت کٹھن حالات میں بھی حق پرستی اور سفید پوشی کو اپنائے رکھا، اللہ تعالیٰ نے ان کو سعادت مند، دینی ودنیوی علوم سےآراستہ اولاد سے نوازا ۔ جس پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار رہے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ  ان کے اہل خانہ وپسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ، مولانا کی نیکیوں کو درجہ قبولیت سے نوازے۔  ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور جنت کے اعلیٰ درجات سے نوازے ۔ اَللهم اغفر وارحمه وادخله فسيح جنات

تبصرہ کریں