کرسمس، اسلامو فوبیا اور الحاد۔محمد حفیظ اللہ خان المدنی

’’یہ ملک جس میں تم رہ رہے ہو ہمارا ہے، تمہارا نہیں۔‘‘

’’بریٹن فسٹ تنظیم کے ارکان اب بیدار ہو چکے ہیں، بہت جلد ہم اپنا ورثہ تم سے اپنا ورثہ چھین لیں گے۔‘‘

’’تم برٹش نہیں بلکہ غاصب اور حملہ آور ہو، اپنے آپ کو برٹش سمجھنا چھوڑ دو۔‘‘

یہ وہ پوسٹس ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعہ کووینٹری شہر سے لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے والی مسلمان نوجوان خاتون زارا سلطانہ کو انتخابات میں کامیابی کے بعد موصول ہوتی رہی ہیں اور ابھی تک موصول ہو رہی ہیں۔ اس کا اظہار انہوں نے پچھلے دنوں اسلاموفوبیا کی تعریف کے تعین کے حوالے سے منعقدہ پارلیمانی اجلاس میں اپنی تقریر میں کیا۔

اس قسم کے اسلاموفوبیائی حملوں نے انہیں اس قدر ذہنی طور پر پریشان کر رکھا تھا کہ وہ بھرے اجلاس میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور زاروقطار رونے لگیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی نے انہیں اور مسلمانوں کو برطانیہ کے حق میں ناسور قرار دے دیا، تو کسی نے لکھا کہ تم اور تمہارے سارے مسلمان ساری دنیائے انسانیت کے لیے عظیم خطرہ ہیں۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی کہ اس وقت اسلاموفوبیا کے زیر اثر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت نے سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جس کی ہلکی سی ایک جھلک زارا سلطانہ کی حالت زار ہے۔

واضح ہو کہ اس قسم کے تحقیر آمیز اور نفرت انگیز بیانات کے پس پردہ چند سر پھرے، غیر مہذب اور جوشیلے نوجوان نہیں بلکہ اس میں ملک کی قانون ساز پارلیمنٹ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اپنے آپ کو متمدن اور بااخلاق سمجھنے والے ممبران بھی شامل ہیں، ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے 57 فیصد ارکان کا سلوک مسلمانوں کے خلاف منفی رہا ہے، جبکہ 47 فیصد پارلیمنٹ کے نزدیک برطانیہ میں مسلمانوں کا وجود برطانوی طرزِ زندگی کے لیے خطرناک ہے۔

اسی طرح اسلاموفوبیا کی بنیاد پر معاشرے میں نفرت کو ہَوا دینے والا مغربی بھی ہے۔ میڈیا جس میں اعلیٰ سطح کے روزنامے، جرائد اور رسائل شامل ہیں۔

سنٹر فارمیڈیا مانیٹرنگ کی ایک تحقیق کے مطابق ان رسالوں اور جرائد میں اکتوبر 2008ء تا دسمبر اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے شائع ہونے والے مضامین اور تبصروں میں 60 فیصد مضامین کھلم کھلا جانبداری، نسلی امتیاز اور تعصب پر مبنی ہیں۔ اسی طرح اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے نشر کیے جانے والے تقریباً 43 فیصد کلپس میں مسلمانوں کے خلاف منفی انداز غالب رہا ہے۔ مجموعی طور پر اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے لکھے جانے والے مضامین اور تبصروں میں کسی نہ کسی شکل میں اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ صرف ممبران پارلیمنٹ یا میڈیا تک محدود نہیں، اسلاموفوبیا کے اثرات اب کھیلوں کی دنیا میں، ملازمت کے شعبہ میں، تعلیمی درسگاہوں میں اور عامۃ الناس میں بھی واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ خصوصاً عامۃ الناس کی سوچ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی رجحانات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے، ایک تجزیہ کے مطابق برطانوی نوجوانوں کا 31 فیصد طبقہ مسلمانوں کے حوالے سے یہ گمان رکھتا ہے کہ وہ برطانیہ پر قابض ہوتے جا رہے ہیں۔ 18 فیصد نوجوانوں کو یہ یقین ہے کہ آئے دن مختلف ممالک سے مسلمان مہاجروں کی برطانیہ آمد ان کے ایک طویل منصوبے کا ایک حصہ ہے، جس کے ذریعہ وہ برطانیہ کو مسلم اکثریتی ملک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ 43 فیصد افراد اپنے علاقہ میں مسجد کے قیام کو تشویشناک قرار دیتے ہیں جب کہ 22 فیصد افراد کو ان کے پڑوس میں مسلمان فیملی کا آ کر بسنا پسند نہیں۔

دین کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی یہ نفرت انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے، خصوصاً جب یہ معاشرے کے ہر طبقہ میں سرایت کر جائے۔ ہٹلر نے جرمنی میں یہودیوں کے خلاف اسی نفرت کی فضا کو پھیلا کر ان کا جرمنی سے صفایا کرنے کی کوشش کی۔ دور کیوں جائیے ربع صدی قبل سربیا کے عیسائیوں نے اسی نفرت کی بنیاد پر ہزاروں بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا، ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ برطانیہ یا یورپ کے کسی اور ملک میں حالات اس قدر ابتر ہو سکتے ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں میں نفرت کی آگ ہمیشہ بربادی کا پیغام لے کر آتی ہے۔

اسلاموفوبیا میں حیرت انگیز اضافے کے اسباب کا ہم سبھی کو علم ہے۔ مگر تمام اسباب کا تعلق غیروں سے جوڑا جاتا ہے جبکہ غیروں کو اس کا قصور وار قرار دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینا کوئی عقل مندی نہیں کیونکہ اسلاموفوبیا کو ہوا دینے میں جہاں غیروں کا اہم رول ہے وہیں بحیثیت مسلم کمیونٹی اس معاملہ میں ہم بھی پیچھے نہیں ہیں۔ بشرطیکہ ہمیں اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں کا ادراک ہو اور پھر ہم ان کو تسلیم کر کے اپنی اصلاح کی فکر کریں۔ ان کوتاہیوں میں ایک اہم رول خصوصاً اولاً ہماری نوجوان نسل کا ہے جن کی اکثریت دین واخلاق سے کوسوں دور ہے، جو اپنی بدسلوکی، بداخلاقی، جرائم اور قانون شکنی کے ذریعہ ہمیشہ اسلام کی منفی تصویر پیش کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس وقت برطانیہ کے ہر بڑے شہر کے مسلم اکثریتی علاقے اس کا کھلا ثبوت ہیں۔ جہاں ہر قسم کے جرائم، منشیات کا کاروبار ، چوری چکاری،

غیر اسلامی اور غیر قانونی حرکات وسکنات عروج پر دکھائیں دیں گے، آئے دن منشیات کے کاروبار میں ملوث اور سزا یافتہ مسلمان نوجوانوں کی میڈیا میں شائع ہونے والی تصاویر عوام الناس کے سامنے اسلام کی ایک قبیح شکل پیش کر رہی ہیں۔

ثانیاً کرسمس یا نئے سال کی آمد کے موقع پر جب علماء، خطبا ء حضرات اور دیگر دین پسند نوجوان طبقہ مسلمانوں کو کرسمس کی تقریبات کا بائیکاٹ کرنے اور ان میں شامل نہ ہونے کی تلقین کرتا ہے تو انجانے میں ہم اپنے لب ولہجہ الفاظ اور اسلوب بیان کے ذریعہ مقامی لوگوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم بحیثیت امت مسلمہ عیسائیوں کے خلاف ہیں۔ ہماری زندگی کا مقصد تمہاری مخالفت ہے اور اس مخالفت پر ہم اپنے بچوں کی ذہن سازی بھی کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ غیر مسلموں کے مذہبی تہوار میں کسی قسم کی شرکت شرعاً ممنوع اور حرام ہے جو ہمارے دین اور عقیدے کو تباہ کر سکتی ہے، لہٰذا نئی نسل کو متنبہ کرنا ضروری ہے مگر اس فرض کی ادائیگی کے ساتھ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس موقع پر محض کرسمس میں شرکت کی مخالفت میں اندھا دھند بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے مقامی لوگوں تک سیدنا عیسیٰ کے حقیقی پیغام کو بھی واضح کرنا ہمارا فرض ہے، اسلام میں سیدنا عیسیٰ ، سیدہ مریم علیہا السلام کے مقام ومرتبہ کا ذکر کرنا، ان کو اسلامی کی حقیقی تصویر سے روشناس کرواتے ہوئے یہ بتلانا کہ ہم آپ کے مخالف نہیں، نہ ہی آپ سے نفرت کرتے ہیں، ہمارا دین تو انسانیت کی بنیاد پر اخوت، بھائی چارگی، رواداری، ہمدردی اور حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ اسی طرح مساجد اور دیگر مقامات پر ان موضوعات پر مختلف لیکچر ز رکھنا ، ان موضوعات پر مشتمل مطبوعات کی تقسیم کو ہماری دعوتی سرگرمیوں کا حصہ بننا چاہیے۔

کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی ممانعت یقیناً اہم ہے، جس سے ہمیں اپنی نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری ہے مگر اسی کے ساتھ بلکہ اس وقت مسلمان نوجوانوں میں نہایت تیزی سے الحاد، لادینیت کی شکل میں پھیلنے والی بیماریاں اس وقت زیادہ اہم ہیں کہ ان کو ہمارے خطبات، دروس اور لیکچرز کا موضوع بنایا جائے۔

حقائق سامنے ہیں کہ اس وقت اسلام سے برگشتہ ہونے والے مسلمانوں کی اکثریت عیسائیت کی جانب راغب نہیں بلکہ الحاد کی جانب رواں دواں ہے۔

لہٰذا الحاد جیسے خطرناک موضوع کو اپنی ترجیحات میں شامل کر کے اس فتنہ کا تدارک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وما علینا الا البلاغ

٭٭٭

امام مجاہد ﷫ فرماتے ہیں:

’’طاغو ت صاحب اثر انسانوں کی شکل میں شیطان ہوتے ہیں جن کی طرف لوگ فیصلے لے کرجاتے ہیں۔‘‘ (ابن ابی حاتم:3؍994)

تبصرہ کریں