چراغ سے چراغ جلاؤ (اداریہ)۔ محمد حفیظ اللہ خان المدنی

حال ہی میں فلپین سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ داعی اور معروف عالم دین شیخ محمد ڈلابینا طویل علالت کے بعد سعودی عرب کے شہر ریاض میں وفات پا گئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون

ان کی وفات سے سعودی عرب کے دینی اور دعوتی حلقوں میں رنج وغم کی لہر دوڑ گئی۔ شیخ محمد نے آج سے تیس سال قبل ریاض شہر کی دعوت آفس واقع البطحاء میں اسلام قبول کیا تھا اور اسی آفس کے تحت انہوں نے اپنی بھرپور دعوتی زندگی کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا واحد مقصد دعوت الیٰ اللہ کو بنائے رکھا اور شب وروز سعودی عرب میں روزگار کے مقصد سے مقیم غیر ملکیوں میں اسلام کی دعوت کو پہنچانے میں مشغول ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان میں اس قدر تاثیر رکھی تھی کہ ان کا بیان سننے والا اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والا ہر کوئی ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ ان کے خلوص، للہیت، مدلل انداز بیان اور حکمت وموعظت سے بھرپور گفتگو کی بدولت بلا مبالغہ ہر ماہ 50 تا 70 افراد ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا کرتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی توفیق اور ہدایت کی بدولت گزشتہ تیس سالوں میں ان کے ہاتھ پر 30 ہزار سے زائد افراد مشرف باسلام ہوئے۔

بلاشبہ شیخ محمد غیر مسلم حلقوں میں دعوتی میدان کے شہ سوار تھے۔ اسلام کی حقانیت پر گفتگو کرتے تو عقلی اور نقلی دلائل کے انبار رلگا دیتے، اللہ تعالیٰ کے انسانوں پر فضل و احسان بیان کرنے لگتے تو سننے والوں کی سسکیاں نکل جاتیں اور چند لمحوں ان کے دل کی دنیا تبدیل ہو جاتی، تقدیر الٰہی کہ وہ ایک موذی مرض کا شکار ہو گئے۔ مگر اپنی طویل علالت میں بھی جسمانی تکالیف پر حرف شکایت کبھی زبان پر نہیں آیا۔ صبر واستقامت کی نہ صرف ایک زندہ مثال بنے رہے بلکہ ان صبر آزما حالات میں بھی اپنے دعوتی فرائض کو فراموش نہیں کیا اور محض اپنے انتقال سے دو دن قبل ایک غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کر کے جہنم کی آگ سے بچا لیا۔ اللهم اغفرله وارحمه

ہمارا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا شیخ محمد کی شخصیت سعودی عرب کی دینی اور دعوتی خدمات کا ایک واضح اور عملی ثبوت تھے۔

سعودی عرب کی دینی اور دعوتی خدمات تو اظہر من الشمس ہیں، جن کا کوئی انکار نہیں کر سکتا، ان خدمات کا واضح ثبوت دنیا کے بے شمار ممالک میں قائم وہ سینکڑوں اسلامی مراکز ، مساجد اور دینی مدارس ہیں جو سعودی حکومت اور اس کے مخیر حضرات کے مخلصانہ مالی تعاون کے رہین منت ہیں، جن کی بدولت سالہا سال سے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں دین کی دعوت عام ہو رہی ہے۔ سعودی عرب کی ان دینی خدمات کی بدولت آج برصغیر پاک وہند، افریقی اور یورپی ممالک اور جنوبی وشمالی امریکی ممالک میں قائم کفروشرک اور بدعات کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہے۔ کفروشرک کی ظلمتیں چھٹ رہی ہیں، توحید اور سنت کی شعائیں ہر چہار جانب دنیا کو منور کر رہی ہیں۔ قرآن وسنت، عقیدۂ توحید اور منہج سلف صالحین کے پیروکاروں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ خصوصاً نوجوان طبقہ میں دین کی چاہت میلان، قرآن وسنت کی اتباع کا جذبہ اسی دعوت کا شاخسانہ ہے۔ کیونکہ سعودی حکومت کی جانب سے دنیا بھر میں نہ صرف اسلامی مراکز مساجد کا قیام عمل میں لایا گیا، بلکہ ان مراکز کو قرآن وسنت کی دعوت وتبلیغ کے مراکز میں تبدیل کرنے کی غرض سے اسلامی دینی مدارس کے قیام کو بھی اہمیت دی گئی۔ خصوصاً سعودی عرب میں قائم مختلف اسلامی یونیورسٹیز اس کی واضح مثال ہیں، جن میں الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض اور جامعۃ ام القری ، مکۃ المکرمہ سرفہرست ہیں۔

مذکورہ جامعات سالہا سال سے ان مراکز اور مساجد کے لیے ایندھن فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ان جامعات سے فارغ ہونے والے مختلف ممالک کے طلباء اپنے اپنے ملکوں میں سعودی تعاون سے قائم مرکز کے ساتھ منسلک ہو کر قرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرنے میں مشغول ہیں۔ سعودی عرب کی یہ جامعات درحقیقت سورۃ التوبہ کی آیت نمبر 122 ﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ ﴾ کی عملی تفسیر ہیں۔ یہ وہ جامعات ہیں، جہاں 65 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم طلبہ کو داعی اسلام کی شکل میں ڈھالا جاتا ہے جو فراغت کے بعد اپنے اپنے ملکوں میں دین کی دعوت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اکثریت سعودی حکومت کی زیرنگرانی کام کر رہی ہے۔

بلامبالغہ خیر القرون اور قرون اولیٰ کے بعد شاید ہی ایسی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ جس میں کسی حکومت کی جانب سے قرآن وسنت کی تعلیمات کو عام کرنے کا اس قدر عظیم اہتمام کیا جاتا رہا ہو۔

سعودی عرب کی ان دینی اور دعوتی خدمات کا دائرہ کار صرف بیرونی دنیا تک محدود نہیں بلکہ اندرون ملک بھی سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی افراد تک ان کی اپنی زبان میں اسلام کے پیغام کو پہنچانے کی غرض سے حکومت کی جانب سے منظم انداز میں دعوتی سلسلہ جاری ہے۔ اس غرض سے ملک کے بڑے شہروں میں متعدد دعوتی مرکز قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں سعودی جامعات سے فارغ دعاۃ اور علماء سعودی حکومت کے زیر اہتمام غیر مسلم افراد میں دین کی دعوت کو ان کی اپنی زبان میں پہنچانے کی سعی فرما رہے ہیں۔

شیخ محمد ﷫ جیسے کامیاب داعی ان دعوتی مراکز کی جانب سے کی جانے والی دعوتی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک واضح مثال ہیں۔ ان کی شخصیت سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں اسلام قبول کرنے والوں کو ان کے رحم وکرم پر چھوڑا نہیں جاتا۔ بلکہ ان کے لیے دینی دعوتی اور علمی تربیت کے مختلف مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مختلف لیکچرز، دروس اور دعوتی ورکشاپس کے ذریعہ ان کے اندر دین سے محبت اور تعلق کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ ان کے ذہنوں میں پیدا کرنے والے شکوک وشبہات کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان نَو مسلموں کی اکثریت نہ صرف علمی حیثیت سے لائق وفائق ہو جاتی ہے۔ بلکہ وہ خود ایک داعی الی اللہ کی شکل میں ابھر کر اپنی ہم قوم کے افراد تک اس دین کی دعوت کو پہنچانے کا فریضہ سر انجام دے کر چراغ سے چراغ جلا رہے ہیں۔

ان میں کئی ایسے داعی ہیں جو اندرون اور بیرون ملک اپنی شخصیت میں ایک ادارہ ایک کاررواں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ان کی کوششوں سے خصوصاً افریقی ممالک میں قبائل کے قبائل بستیوں کی بستیاں جوق درجوق اسلام میں داخل ہو رہی ہیں۔ ان کے اخلاص اور للہیت کی وجہ سے ہر بستی اور ہر شہر میں قرآن وسنت پر مبنی منہج سلف کے مطابق مساجد اور مدارس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جن سے ہزاروں طلباء اور طالبات مستفید ہو رہے ہیں۔

بہر کیف یہ ہیں سعودی عرب کی وہ حسنات جاریہ کہ جن کی جانب عموماً ہماری نگاہ نہیں جاتی کہ جن کی مساعی جمیلہ سے آج بھی یہ دین اپنی حقیقی شکل میں نہ صرف باقی ہے اور روز بروز تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔

مذکورہ چند سطور ہمارے ان بھائیوں کے لیے ہیں جن کا وطیرہ ہمیشہ سے سعودی حکومت اور اس کی عوام میں نقائص تلاش کرنا، ان کا نمایاں کر کے پیش کرنا، اپنی تقریر وتحریر کا موضوع بنا کرسعودی عرب کے محاسن پر پردہ ڈالنا رہا ہے۔ ہم نے یہاں کچھ پیش کیا ہے، اولاً وہ مشتے نمونہ از خروارے ہے وگرنہ سعودی حکومت کی دینی ودعوتی خدمات کے لیے کئی مجلات بھی کافی نہیں۔

نیز وہ محض ہوائیاں نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں۔ شرط یہ ہے کہ ہمیں دیکھنے والی نگاہیں میسر جائیں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں