برادرم عبد الوہاب خلجی۔ ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

ان سطور کے قلمبند کرتے وقت میرے سامنے تین کتابیں ہیں:

ثلاث رسائل فی اصول الحدیث

امام ابو سلیمان حمد بن محمد الخطابی کی ’ اصلاح خطأ المحدثین‘ اور لیل ونہار ڈائری سال 2002ء

پہلے دونوں رسائل ’ عبد الوہاب عبد الواحد خلجی‘ کے دستخط سے بطور ہدیہ موصول ہوئے ہیں۔ 8؍7؍1988م بطور تاریخ ثبت ہے۔ ڈائری  ہدیۃً دی گئی ہے۔

میرے علم میں ہے کہ برادرم عبد الوہاب نے الدار العلمیہ کے نام سے کئی ایسی نایاب کتابیں شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، جو عرصے سے نایاب تھیں جن میں اصول حدیث سے متعلق یہ  دونوں رسائل بھی شامل ہیں۔ یہ ان کی علم دوستی اور فن حدیث سے ان کے شغف اور محبت کی دعوت دین کی آبیاری اور اردو داں حلقے میں اس کی وسیع پیمانے پر اشاعت کی غماز ہے۔

میرے اور مرحوم خلجی کے درمیان دو باتوں کا تو واضح طور پر اشتراک ہے، ہم دونوں کا تعلق مولد کے اعتبار سے مشرقی پنجاب کی ایک مسلم ریاست مالیرکوٹلہ سے ہے اور پھر دینی تعلیم کے آخری مرحلہ کی تکمیل کے لیے مدینہ منورہ کی جامعہ اسلامیہ میں حصول تعلیم کی  سعادت حاصل کرنا اس پر مستزاد ہے۔ لیکن دونوں  جگہ معاصرت زمانی کا فقدان رہا۔ میں پانچ سال کا تھا جب 1948ء کےو سط میں ہمارے  خاندان نے بعد از قیام پاکستان مایر سے لاہور ہجرت کی اور یہ مرحوم خلجی کے اس دنیا میں وارد ہوئے کسی سال قبل کی بات ہے۔ میں خود جامعہ میں  1962ء میں داخل ہوا اور چار سالہ تعلیم عالی کے بعد 1966ء میں فارغ ہوا اور پھر آٹھ ماہ بعد 1967ء کے آغاز میں دعوت وتبلیغ کے ایک ہراول دستے کی طور پر عازم  افریقہ ہو چکا تھا۔ برادر خلجی کے مدینہ منورہ آنے میں کئی سال باقی تھے۔

خیر کوئی بات نہیں، میرا اور ان کا ساتھ نہ ہو سکا لیکن جب وہ مدینہ وارد ہوئے تو مالیر کوٹلہ کی نسبت سے میرے والد شیخ عبد الغفار حسن نے   اپنے بیٹوں جیسی اپنائیت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔
دار الحدیث مدینہ اور پھر جامعہ اسلامیہ مدینہ میں مداخل  کے لیے، جامعہ کے ایک مدرس کی حیثیت سے اور شیخ ابن باز﷫ کے ساتھ خصوصی تعلق کی بنا پر جو کچھ ہو سکا، اسے بروئے کار لائے۔

میرے برادر خورد سہیل حسن اس قت مرحلہ ثانوی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اس لیے ان کی برادرم خلجی کے ساتھ اچھی رفاقت رہی۔

سہیل کہتے ہیں کہ ہندوستانی طلبہ عموماً اردو کی نسبت سے پہچانے جاتے تھے لیکن خلجی  جب پنجابی زبان میں فرفر بات کرتے تو پاکستانی طلبہ انہیں حیرت کی نگاہ سے دیکھتے، والد محترم مدینہ منورہ میں اپنے 16 سالہ  قیام  کے بعد 1980ء میں واپس پاکستان روانہ ہو گئے۔ گویا خلجی مرحوم کا مدینہ کا 12 سالہ قیام اسی دور کی یادگار ہے۔

اس دوران میرا تقریباً ہر سال والدین سے ملاقات کے لیے مدینہ  آنا جانا رہا۔ پہلے خلجی سے تعارف اور اور پھر تجدید ملاقات کا موقع میسر آتا رہا اور اس کے بعد کئی دفعہ حج کےموقعہ پر یا رابطۂ عالم اسلامی کی کانفرنسوں کی بدولت ارضِ حجاز کی زیارت مزید ملاقاتوں کا موقع  انہیں پہنچاتی رہی۔

1976ء میں مشرقی افریقہ سے لندن منتقل ہو چکا تھا اور اس کے بعد دو اور ملاقاتیں نہاں خانۂ دل  میں گردش کرتی نظر آ رہی ہیں۔

1988ء میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی نے جب لندن میں تحفظ حرمین شریفین کانفرنس کا انعقاد کیا تودنیا بھر  سے کئی مقتدر  علماء اورمفکرین  کو بھی مدعو کیا۔ ہندوستانی  وفد میں برادرم خلجی بھی شامل تھے اور پھر وہاں ماہ ڈیڑھ ماہ کی اقامت کا شرف حاصل کیا کرتا تھا۔

خلجی مرحوم کے دیر ینیہ رفیق عبد المتین سلفی (جو کہ اب وہ بھی مرحوم ہو چکے ہیں) نے مجھ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں مالیر کوٹلہ سے آمدہ ایک سرکاری وفد جس کی سیادت ایک صوبائی  وزیر کر رہے تھے، کی ملاقات امام کعبہ شیخ محمد بن السبیل سے کروانے کی سبیل پیدا کروں۔ شیخ چونکہ اسّی کی دھائی میں کئی دفعہ لندن تشریف لاتے رہے تھے، جہاں کئی  مساجد کا انہوں نے افتتاح کیا تھا اور مجھے بحیثیت ترجمان ان کی رفاقت کا شرف حاصل رہا تھا، اس لیے غالباً خلجی مرحوم نے ہی شیخ عبد المتین سلفی کو مجھ سے رابطہ کرنے کے لیے کہا ہوگا۔ چنانچہ شیخ محترم سے ملاقات ہوئی اور ان سے وفد کی ملاقات کا وقت طے ہو گیا۔ میں عبد المتین سلفی کی معیّت میں وفد کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ مصلحت  کا تقاضا تھا کہ پاکستانی کی حیثیت سے میرا تعارف نہ کرایا جائے، صرف اتنا بتایا جائے کہ یہ صاحب بھی مالیر کوٹلہ سے  تعلق رکھتے ہیں لیکن عرصہ دراز سے لندن میں مقیم ہیں۔

شیخ نے وفد کی خوشدلی کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ عربی قہوہ اور کھجور سے ان کی تواضع کی گئی۔ وزیر موصوف نے شیخ کو ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے بارے میں بتایا کہ وہ امن وامان سے ہیں، موجودہ صدر مسلمانوں کے خیر خواہ ہیں اور ان کی بہبود کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، یہ بھی کہا کہ مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کی دوسری بڑی امیر ترین شخصیت ایک مسلمان کی ہے اور یہ کہ ارضِ ہندوستان  کے مایۂ ناز  سپوت انجینئر ابو الکلام نے ایٹمی دھماکہ کر کے ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی کا بھی تذکرہ کیا  جو چند ماہ قبل انتقال کر چکے تھے۔ یہ بھی بتایا کہ کرکٹ  کے بین الاقوامی کھیل میں بھی مسلمان بلے باز  آگے آگے ہیں۔ شیخ نے پوچھا کہ بابری مسجد کو ڈھائے جانے کا کیا مسئلہ ہے تو انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، وہ تو عوام الناس کا ایک ہجوم تھا جو اس واقعے کا سبب بنا ، انہوں نے اپنی بات یہ کہہ کر ختم کی کہ انڈونیشیا کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ شیخ نے انہیں اسلامی شعائر  کی پابندی، قرآن وحدیث سے وابستگی اور خلق خدا کی خدمت کے تناظر میں نصیحتوں سے نوازا۔

براردم خلجی نے میرے حق میں ایک احسان مندانہ سلوک بھی کیا ہے جس کاتذکرہ مناسب  سمجھتا ہوں۔ میرے دل میں عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ زندگی میں ایک مرتبہ اپنی جنم بھومی یعنی مالیر کوٹلہ کی زیارت کر پاؤں کہ جس کے دھندلے نقوش میرے لوح دماغ پر ثبت ہیں لیکن پاک وہند کے کشیدہ  تعلقات اس خواہش کی تکمیل میں آڑے آتے رہے۔ پھر خیال آیا کہ کیوں نہ ایک برطانوی شہری کی حیثیت سے  ویزا کےحصول کے لیے طبع آزمائی کی جائے اور یوں  ہم دونوں  میاں بیوی نے لندن کے بھارتی ہائی کمیشن میں ویزا کی درخواست دائر کر دی لیکن کارپروازان   سفارت نے میرے اصلاً پاکستانی ہونے کی حیثیت  کو مدّنظر رکھتے ہوئے  کئی عدد سوالناموں پر مشتمل پانچ فارم ہاتھ میں تھما دیے اور یہ بھی کہا کہ جب دہلی سے مکمل ’ صفانامہ‘ نہیں آئے گا، پاسپورٹ پر ویزے کی مہر اُجاگر نہ ہو سکے گی۔ چند ماہ بعد بیگم کے لیے تو یہ نایاب دستاویز دیئے جانےکی خوشخبری موصول ہو گئی لیکن مجھے انتظار کرنے کے لیے کہا گیا۔ اب یہ انتظار عمر عیّار کی زنبیل میں تبدیل ہو چکا ہے لیکن  مجھے برادرم خلجی سے اتنا ضرور  معلوم ہوا کہ دلّی کی تحقیقاتی ٹیم کو مالیر کوٹلہ سے مثبت رپورٹ دی گئی تھی جس میں یقیناً برادرم خلجی کا ہاتھ رہا ہو گا۔

اس تحریر کو قلمبند کرنے سے قبل میں نے ’ نور توحید‘ (نیپال) کے اس  خصوصی شمارے کو حرفاً حرفاً پڑھا جو مرحوم خلجی کے تعلق سے شائع کیا گیا تھا اور  جو مجھے برادرم جمیل احمد شیر خاں (حال متوطن برمنگھم) کے توسط سے حاصل ہوا۔

اس شمارے کے مضامین، تاثرت، مشمولات مرحوم خلجی کا ایک حسین سراپا اجاگر کرنے پر ادارہ مجلہ ’نور توحید‘ تبریک وتحسین کا مستحق ہے۔

بلاشبہ انہوں نے  مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد واپس ہندوستان جا کر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی نشو ونما کےلیے زندگی کھپا دی۔ جمعیت کے نظامت کے عہدے کا بھرپور حق ادا کیا ۔ جریدہ ترجمان کو جلا بخشی۔ ہندوستان کے طول وعرض کو دعوت وتبلیغ کی خاطر اپنے قدموں کی گرد خاک بنایا۔ ملک کی چند سرکردہ بین الملی تنظیموں میں مسلک اہل حدیث کی کما حقہ نمائندگی کی۔ نیپال، پاکستان، سعودیہ اور برطانیہ اور کئی دیگر ممالک میں قرآن وسنت کی تعلیمات پر مشتمل اپنی تقاریر، تجاویز اور تحریرات کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ زندگی بھر قناعت کی تصویر رہے، جس عہدے پر وہ فائز رہے اس میں امتحانات اور آزمائشوں کا آنا دعوتی زندگی کا ایک حتمی جزو تھا جس کی آلائش ان کی زندگی آخری چند سالوں کے لیے سوحان روح بن گئی لیکن قاری کو یہ پڑھ کر تسکین حاصل ہوئی ہے کہ  وفات سے قبل ’ اصلاح بین الناس‘ کی کوششیں کامیاب ہو چکی تھیں اور خلجی مرحوم اس حال میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے جب کہ مرکزی جمعیت کے ساتھ ان کے اختلافات تحلیل ہو چکے تھے بلکہ جمعیت نے انہیں نائب امیر کے اعزاز سے بھی نواز دیا تھا۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین حق کی نشرواشاعت میں برادرم خلجی کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت فردوس کے اعلیٰ درجات سے نوازے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں