بے مثال فضیلت والے 10 دن (عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل واحکام)-شیخ عبدالہادی عبدالخالق

ذوالحجہ کا پہلا عشرہ یعنی اس کے ابتدائی 10 دن سال کے سارے دنوںمیں سب سے زیادہ برکت والے دن ہیں، ان کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے، ان میں نیکیاں کمانے کے متعدد مواقع ہیں، ان کی فضیلت کے بہت سے دلائل ہیں:

1۔ ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دنوں کی پہلی فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ان دنوں کی قسم کھائی ہے۔ ارشاد ہے:

﴿وَالْفَجْرِ 0 وَلَيَالٍ عَشْرٍ 0 وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ 0 وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ 0 هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِذِي حِجْرٍ﴾ (سورۃ لفجر:1۔5)

’’قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے، کیا ان میں عقلمند کے واسطے کافی قسم ہے؟‘‘

10 راتوں سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں مراد ہیں۔(تفسیر طبری، ابن کثیر)

2۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی دوسری فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی قسم کھاتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ کئی دیگر اہم چیزوں کی بھی قسم کھائی ہے۔ ان اہم چیزوں کی عظیم الشان اہمیت کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ عشرہ کی بھی اہمیت وعظمت واضح ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ فجر کی قسم کھائی گئی جو ایسا قیمتی وقت ہے جس وقت اندھیرے کے بعد اجالا بکھرتا ہے، سکون کے بعد حرکت واپس آتی ہے، نیند جو چھوٹی موت ہے ختم ہوکر بیداری اور زندگی شروع ہوتی ہے، اس وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھا ہوتے ہیں، یہ رات کی آخری تہائی سے بہت قریبی وقت ہے جب کہ رب ذوالجلال آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فجر کے وقت کی صلاۃ ہی وہ صلاۃ ہے جس سے مومن ومنافق کی پہچان ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ جفت اور طاق کی قسم کھائی، جفت اور طاق میں ساری مخلوق آجاتی ہے، مخلوق یا تو جفت ہے یا طاق، اس سے ہٹ کر نہیں، ذوالحجہ کے دس دنوں میں بھی ایک اہم طاق موجود ہے جو عرفہ کادن ہے، نو تاریخ کو ہے ، اور ایک اہم جفت موجود ہے، اور وہ قربانی کا دن ہے، جو دس تاریخ کو ہے۔

اس کے ساتھ میں رات کی قسم کھائی گئی جو دن سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے، قرآن پاک میں رات کا ذکر دن سے زیادہ ہے، رات ہی نفلی صلاۃ اور تہجد کا وقت ہے، رات ہی رب کے ساتھ تنہائی کا وقت ہے جس میں اخلاص کی اور ریاء ونمودسے سلامتی کی زیادہ امید ہے، رات ہی کی ایک گھڑی میں وہ مبارک لمحہ بھی آتا ہے جب رب کریم اپنے بندوں سے قریب ہوکر دنیا کے آسمان پر اتر کر ان کو مخاطب کرتا ہے اور کہتا ہے : ’’کیا ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کروں ؟ کیا ہے کوئی سوال کرنے والا جسے میں دوں؟ کیا ہے کوئی مغفرت کا طلبگارجس کو مغفرت عطا کروں؟‘‘

رات کو بستروں سے پہلو الگ رکھنا، شب بیداری کرنا اہل جنت کا امتیاز ہے، ارشاد ہے:

﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ﴾ (سورۃ السجدة: 16)

نیز ارشاد ہے: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾ (سورۃ الذاريات: 17)

’’قرآن مجید میں ایک اور مقام پر رات کو سجود وقیام میں گذارنے کو رحمٰن کے حقیقی بندوں کی علامت بتائی گئی ہے۔‘‘

ارشاد ہے:﴿وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا 0 وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا﴾ (سورۃ الفرقان: 63۔64)

’’رحمٰن کے سچے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔ اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گذار دیتے ہیں۔‘‘

یاد رہے کہ پوری صلاۃ کے اندر قیام اور سجدے کی دو حالت ایسی ہے جو اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پسند ہے اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«أَفْضَلُ الصَّلَاةِ طُولُ الْقُنُوتِ»(صحیح مسلم: 164( 756)

’’سب سے افضل صلاۃ وہ ہے جس میں لمبا قیام کیا جائے۔‘‘

امام نووی﷫ نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ

’’اس حدیث میں قنوت سے بہ اتفاق اہل علم قیام مراد ہے۔‘‘ (صحیح مسلم معہ شرح نووی: 3؍94 (1257)

قیام ہی وہ حالت ہے جس میں اللہ کے مبارک کلام کی تلاوت کی جاتی ہے۔

سجدے کی حالت کا پسندیدہ ہونا کئی احادیث سے ظاہر ہوتا ہےجس میں سے ایک حدیث وہ ہے جس کے اندر رسول ﷺ نے فرمایا ہے:

«أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ» (صحیح مسلم: 226 (489)

’’سب سے زیادہ اپنے رب سے قریب بندہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہےلہٰذا (اس حالت میں) زیادہ سے زیادہ دعائیں کرو۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ﴾ (سورۃ العلق:19)’’سجدہ کر اور قریب ہوجا۔‘‘

نیز وہ حدیث بھی سجدہ کے محبوب ہونے کی دلیل ہے جس میں ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے جنت کے اندر رفاقت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

«فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ»

’’زیادہ سے زیادہ سجدے کرکے اپنے آپ پر میری مدد کرو۔‘‘(صحیح مسلم: 226 (489)

اس تعلق سے اور بھی کئی احادیث ہیں۔

٭ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی تیسری فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنے دین کی تکمیل کی ہے یعنی ان دنوں میں ہر نوع کی عبادت کو اکٹھا کردیا ہے، تکمیل دین وہ گراں قدر عطیہ ہے جس سے اہل دین کی تکمیل ہوتی ہے، ان کے اعمال وکردار اور اجروثواب کی تکمیل ہوتی ہے، حیات کاملہ نصیب ہوتی ہے، اطاعت وفرماں برداری میں لذت ملتی ہے، گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے، مخلوقات کی محبت ملتی ہے، سنتوں کو فتح سے ہمکنار اور بدعتوں کو شکست سے دوچار ہونا ہوتا ہے، ایمان اور اہل ایمان کو طاقت وقوت ملتی ہے ، نفاق اور اہل نفاق ذلت وپستی میں گرجاتے ہیں، تکمیل دین سے نفس امارہ پر ، شیطان لعین پر اور ناروا خواہشات پر غلبہ نصیب ہوتا ہے، اللہ کی عبادت میں نفس پُرسکون ہوتا ہے، قرآن مجید کے اندر تکمیل دین کا اعلان بھی اسی عشرہ میں ہوا ہے، جس کی بنا پر یہودی ہم سے حسد کا شکار ہوگئے، ایک بار ایک یہودی عالم نے عمرفاروق سے کہا: آپ کی کتاب قرآن مجید میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم یوم نزول کو عید بنالیتے، وہ آیت ہے:

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ (سورة المائدة:3 )

’’آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا، اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا،اور تمھارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا۔‘‘

سیدنا عمر نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کب اور کہاں نازل ہوئی ہے؟ جمعہ کے دن میدان عرفات میں نازل ہوئی ہے۔ (صحیح بخاری: 4330)

یہاں قابل غور یہ ہے کہ دین کامل میں اضافہ کی گنجائش نہیں ، وہ خود فطری تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے، اس واقعہ میں بھی اس آیت کا نزول جس اعتبار سے ہوا ہے وہ خود یوم عید بھی ہے اور مقام عید بھی، جمعہ کے دن ہفتہ کی عید ہے اور میدان عرفات کا اجتماع عظیم الشان سالانہ عید ہے۔

٭ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دنوں کی چوتھی فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنی نعمتوں کا اتمام کیا ہے یعنی ان دنوں میں ہر قسم کی عبادت کو جمع کرکے روح کی غذا اور اس کی لذت کا سامان کردیا ہے، اتمام نعمت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ اللہ نے اسلام کے لئے اپنے بندوں کے سینے کھول دیئے، وہی سرزمین عرب جہاں یہودیت ونصرانیت اور مجوسیت ووثنیت کا غلغلہ تھا اسلام کا پرچم سربلند ہوا،ارشاد ہے:

﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا﴾ (سورۃ الفتح: 28)

’’وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے ہردین پر غالب کردے اور اللہ تعالی کافی ہے گواہی دینے والا۔‘‘

اسی اتمام نعمت کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ حرم کا داخلہ مسلمانوں کے لئے مخصوص کردیا گیااور کفار ومشرکین کو حرم میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

٭ ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دنوں کی پانچویں فضیلت یہ ہے کہ یہی وہ ایام ہیں جن میں ہر قسم کی عبادات جمع ہیں، ان دنوں میں کلمۂ شہادت کے اقرار، تجدید ایمان اور کلمہ کے تقاضوں کی تکمیل کا بھرپور موقع ہے، ان دنوں میں صلاۃ پنجگانہ اور دیگر نفلی صلوات بھی ہیں، ان دنوں میں صدقہ وزکاۃ کی ادائیگی کا موقع بھی ہے، ان دنوں میں صوم کی عبادت بھی ادا کی جاسکتی ہے، یہ دن حج وقربانی کے دن تو ہیں ہی، البتہ حج وقربانی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ صرف انہیں دنوں میں ادا کئے جاسکتے ہیں دیگر ایام میں نہیں، ذکرودعا اور تلبیہ پکارنے کے بھی یہ ایام ہیں۔

ہرقسم کی عبادت کا ان دنوں میں اکٹھا ہوجانا یہ وہ شرف واعزاز ہے جو ان دس دنوں کے ساتھ مخصوص ہے، اس اعزاز میں اس کا کوئی اور شریک نہیں۔

٭ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی چھٹی فضیلت یہ ہے کہ یہ وہ ایام ہیں جن کا ایک ایک لمحہ ، ایک ایک منٹ اور سکنڈ انتہائی قیمتی ہے، ان دنوں میں اللہ رب العزت کی طرف سے اعمال صالحہ کی شدید محبوبیت کا اعلان عام ہے، یہ وہ خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر) ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں حاصل نہیں ہے، یہ نفع کمالینے کا موسم ہے، یہ نیکیوں میں مقابلہ کرنے کا وسیع میدان اور سنہرا وقت ہے، حدیث میں ہے:

سیدنا عبداللہ بن عباس کی روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ»(صحیح بخاری: 926؛ مسند احمد: 1968)

’’عشرۂ ذوالحجہ میں کئے گئے عمل صالح اﷲ کو جس قدر زیادہ محبوب ہیں اتنا کسی اور دن میں نہیں، صحابہ نے دریافت کیا: حتی کہ جہاد فی سبیل اﷲ بھی اتنا پسندیدہ نہیں، آپﷺ نے فرمایا: ’’جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں سوائے اس شخص کے جو اپنا جان ومال لے کر نکلا لیکن کچھ بھی لے کر واپس نہیں ہوا۔‘‘

حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں کے نیک اعمال سے بقیہ دنوں کے کسی عمل کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ جہاد سے بھی نہیں جس کے فضائل معروف ومشہور ہیں، نہ جانی جہاد سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور نہ مالی جہاد سے، اور نہ بیک وقت دونوں جہاد سے اگر آدمی کی جان یا مال کچھ بھی سلامت رہ گئے، البتہ جو شخص جان ومال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلےاور پھر کچھ بھی لے کر واپس نہ ہو ، سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے اور اپنی قیمتی جان اللہ کی راہ میں قربان کرکے شہید ہوجائے۔ یہی تنہا وہ شخص ہے جو ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں نیک اعمال سے اپنا خزانہ معمور کرنے والے کا مقابلہ کرسکتا ہے۔

ذرا غور کریں کہ ایسی ہمت اور ایسا موقع کس میں ہےکہ سارا جان ومال اللہ کی راہ میں قربان کردے؟ اس کے مقابلہ میں یہ کس قدر آسان ہے کہ اللہ کی طرف سے دیئے گئے اس خصوصی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عشرۂ ذوالحجہ میں اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنا دامن مراد بھرلیا جائے!!

سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:«أفضل أيام الدنيا أيام العشر» (صحیح الجامع الصغیر: 1133)

’’دنیا کے ایام میں افضل ترین ایام ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دن ہیں۔‘‘

٭ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی ساتویں فضیلت یہ ہے کہ انھیں میں سے ایک دن عرفہ کا بھی دن ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:

«مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنْ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ, وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِم الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ؟» (صحیح مسلم: 436 (1348)

’’ عرفہ کے دن سے زیادہ اﷲ تعالیٰ کسی اور دن جہنم سے آزادی نہیں عطا فرماتا، اﷲ تعالیٰ قریب ہوتا ہے پھر ان(عرفہ میں ٹھہرے ہوئے لوگوں) کے ذریعہ اپنے فرشتوں سے فخر کرتا ہے اور کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟‘‘

نیز ارشاد ہے :«صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ أَحْتَسِبُ عَلَی اﷲِ أَن يُّکَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَہُ» (صحیح مسلم: 196 ( 1162)

’’صوم عرفہ سے متعلق مجھے اﷲ تعالی سے امید ہے کہ سال گذشتہ اور آئندہ کا کفارہ ہوجائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ حدیث میں مذکور فضیلت حاجیوں کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے ہے۔ جو حاجی میدان عرفات میں موجود ہوں انھیں افطار سے (یعنی بلا صوم) رہنا چاہئے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے (متفق علیہ) تاکہ ان میں ذکر و دعا کے لئے قوت رہے۔

حاجیوں کے لئے عرفہ میں ٹھہرنا ہی حج کا رکن اعظم ہے کیونکہ نبیﷺ کا ارشاد ہے:

«الْحَجُّ عَرَفَةُ » (سنن ابو داؤد: 814؛ سنن نسائی: 203)

’’حج عرفہ ہی ہے۔‘‘

نیز نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

«خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ, وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ»(مؤطا امام الک: 500؛ جامع ترمذی: 3509)

’’عرفہ کے دن کی دعا تمام دعاؤں سے بہتر ہے، اور سب سے افضل کلمہ جو میں نے اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء نے کہا ہے وہ یہ ہے:

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ, وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ

’’اﷲ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، ملک اسی کا ہے، تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

٭ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی آٹھویں فضیلت یہ ہے کہ ان کا دسواں اور آخری دن یوم النحر ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول مکرم ﷺ کا ارشاد ہے: «إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ» (سنن ابو داؤد: 1765؛ صحیح ابن حبان: 2811)

’’بے شک اللہ تعالی کے یہاں تمام دنوں سے عظیم ترین دن یوم النحر (قربانی کادن) ہے، پھر اس کے بعد والادن۔‘‘

یوم النحر وہ دن ہے جس میں حج کے بیشتر اعمال انجام دیئے جاتے ہیں، اس دن جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنا ہے، قربانی کرناہے، سرکے بال کٹوانا یا منڈواناہے، طواف زیارت اور سعی کرنی ہے، ایسے ہی اس دن سارے مسلمان بقرعید مناتے ہیں، عید کی دورکعتیں پڑھتے، قربانی کرتے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔

بہرکیف عشرۂ ذوالحجہ کے فضائل بہت ہیں ، ایک مسلمان کو چاہئے کہ ان مبارک دنوں کو غنیمت سمجھے، انھیں یوں ہی ضائع ہونے سے بچائے، ان میں ہر نیکی میں سبقت لے جانے کی تگ ودو کرے۔

ذوالحجہ سے متعلق ضعیف احادیث:

واضح رہے کہ ذوالحجہ سے متعلق بعض ضعیف وموضوع احادیث بھی بیان کی جاتی ہیں جن کا علم رکھنا مناسب ہے تاکہ ہم نادانی میں غیرمستند وغیرمعتبر باتوں میں نہ پھنس جائیں۔

پہلی حدیث: سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ, يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ, وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ»

’’عشرۂ ذوالحجہ میں اللہ تعالی کو اپنی عبادت کیا جانا بہت پسند ہے، ان دنوں کا ہرصوم ایک سال کے صوم کے برابر ہے، اور ان دنوں میں ہر رات کی شب بیداری شب قدر میں قیام کے برابر ہے۔‘‘

تخریج: اسے امام ترمذی﷫ نے (كتاب الصوم، باب ما جاء في العمل في أيام العشر، حدیث:758) روایت کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے،سنن ابن ماجہ نے بھی اسے (كتاب الصيام، باب صيام الع، حدیث:1728) روایت کیا ہے، علامہ البانی نے بھی اس روایت کو (سلسلہ ضعیفہ، حدیث:5142) ضعیف قرار دیا ہے۔

دوسری حدیث: «من صام آخر يوم من ذي الحجة وأول يوم من المحرم فقد ختم السنة الماضية وافتتح السنة المستقبلة بصوم جعل الله له كفارة خمسين سنة»

’’جو شخص ذوالحجہ کے آخری دن اور محرم کے پہلے دن صوم رکھے اس نے گذشتہ سال کا اختتام اور آئندہ سال کا افتتاح صوم سے کیا، ایسے شخص کے لئے اللہ تعالی پچاس سالوں کے گناہوں کو مٹادیتا ہے۔‘‘

تخریج:یہ حدیث ضعیف نہیں بلکہ موضوع ومن گھڑت ہے۔ ملاحظہ ہو: الموضوعات لابن الجوزی: 2؍199؛ ، تنزیہ الشریعہ: 1؍176؛ اللآلی المصنوعہ: 1؍146 اور تذکرۃ الموضوعات: 1؍118)

تیسری حدیث: «من أَحْيَا ليلة الفطر وليلة الأضحى لم يمت قلبه يَوْم تَمُوت الْقُلُوب»

’’جو شخص عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی رات جاگ کر گذارے اس کا دل اس دن موت سے محفوظ رہے گا جب سارے دل موت کا شکار ہوجائیں گے۔‘‘

تخریج:یہ حدیث بھی ضعیف نہیں بلکہ موضوع ومن گھڑت ہے۔ ملاحظہ ہو سلسلہ ضعیفہ، حدیث:520

عشرۂ ذوالحجہ کے اعمال صالحہ:

عشرۂ ذوالحجہ میں اعمال صالحہ کی محبوبیت وفضیلت کا ادراک ہم کرچکے، اب آیئے دیکھا جائے کہ وہ کون سے اعمال ہیں جنھیں ہم ان دنوں میں انجام دے سکتے ہیں:

٭تجدید ایمان :

ایمان دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے اور فتنوں کے اس دور میں ہمیں تجدید ایمان کی بار بار ضرورت ہے۔

سیدنا ابوعمرو سفیان بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں:

قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! قُلْ لِيْ فِي الإِسْلامِ قَوْلاً لاَ أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدَاً غَيْرَكَ؟ قَالَ: «قُلْ آمَنْتُ باللهِ ثُمَّ استَقِمْ»(صحیح مسلم: 62 (38).

’’میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے کہا:

’’ اسلام کے بارے میں مجھے کوئی ایسی بات بتادیجئے جس کے بارے میں آپ کے سوا کسی اورسے نہ پوچھوں، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ٹھیک ٹھیک قائم رہو۔‘‘

نبی کریم ﷺ کو جامع کلمات سے نوازا گیا تھا، آپ ﷺ نے ان دوکلمات میں ایمان واسلام کے تمام معانی ومفاہیم کو سمیٹ دیا ہے، آپﷺ نے صحابی کو حکم دیا کہ اپنی زبان ودل سے اپنے ایمان کی تجدید کریں، اور اطاعت وفرماں برداری کے کاموں پر ڈٹ جائیں اور اللہ ورسول کی نافرمانی اور خلاف ورزی سے دور رہیں۔

تجدید ایمان کا ایک اہم حصہ شرک سے توبہ ہے۔ آیئے مختصر طور پر یہ جائزہ لیتے چلیں کہ ہمارے معاشرے میں کون سے شرکیہ اعمال پائے جاتے ہیں جن سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

غیر اﷲسے دعا کرنا، ان سے مدد مانگنا، ان سے فریاد کرنا، ان کی پناہ ڈھونڈنا، ان کے لئے قیام،رکوع اور سجدہ کرنا، ان کے لئے نذر ونیاز دینا یا جانور ذبح کرنا،کعبہ کے سوا کسی اور جگہ کا طواف اور حج کرنا وغیرہ، یارسول اﷲمدد، یاعلی مدد، یا غوث مددپکارنا، تعویذ گنڈا پہننا، کڑا چھلہ دھاگا پہننا، ماں باپ یا بیٹے یا کسی غیراللہ کی قسم کھانا، میاں بیوی کے درمیان محبت یا نفرت پیدا کرنے والی عملیات کرنا یا کروانا، کسی قبر یا درخت یا پتھر سے تبرک لینا، کسی کی ذات یا جاہ ومرتبہ کا وسیلہ لینا، وغیرہ وغیرہ اعمال سے توبہ کرنا سخت ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو شرک اور شرک تک پہنچانے والے تمام اعمال سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

٭صلاۃ :

ایمان کے بعد سب سے بڑی نیکی صلاۃ ہے، لہذا عمل صالح کی محبوبیت کے ان دنوں میں فرائض وواجبات وسنن ونوافل کا خاص اہتمام کریں، سنن مؤکدہ وغیرمؤکدہ، تہجد اور دیگر نفلی صلاتوں کی حسب استطاعت ادائیگی کریں۔

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’فرض کے بعد سب سے افضل صلاة رات کی صلاة (تہجد)ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم: 202 (1163)

زکاۃ وصدقات:

زکاۃ وصدقات کی اہمیت کسی ذی شعور مسلمان سے مخفی نہیں، قرآن پاک میں جگہ جگہ صلاۃ کی ادائیگی کے حکم کے ساتھ زکاۃ دینے کا بھی حکم دیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ صلاۃ خالص اللہ کا حق ہے، اور زکاۃ کا فائدہ اللہ کے بندوں کو پہنچتا ہے۔ اور اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے حقوق کو اپنے دین میں بڑی اہمیت دی ہے۔ صدقہ وخیرات کی فضیلت میں بہ کثرت احادیث آئی ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ

’’جس دن بھی بندے صبح کرتے ہیں دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ایک کہتا ہے: اے اﷲ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطا فرما، دوسرا کہتا ہے: اے اﷲ! سمیٹ کر رکھنے والے کو بربادی عطا فرما۔‘‘ (صحیح بخاری: 1374؛ صحیح مسلم: 1010)

نیز نبی ﷺ کا ارشاد ہے:’’ہرآدمی (بروز قیامت) اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے۔‘‘ ( سلسلہ صحیحہ: 3484)

٭صوم:

اللہ کے نبی ﷺ نے ان دس دنوں میں ہر نیکی کی ترغیب دی ہے، ظاہر ہے کہ صوم نیکیوں میں سے ایک عظیم نیکی ہے، یہ وہ نیکی ہے جس کا اجر وثواب اللہ نے بے شمار رکھا ہے اور ازخود اس کا اجر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ حدیث قدسی ہے:

«قال الله تعالى: كل عمل ابن آدم له إلا الصيام فإنه لي وأنا أجزي به» (صحیح بخاری: 1805؛ صحیح مسلم: 161( 1151)

’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آدم کے بیٹے کا ہرعمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے، وہ بے شک میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔‘‘

نبی ﷺ نے ان دنوں میں صوم رکھا ہے۔

عن هنيدة بن خالد عن امرأته عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه وسلم قالت : «كان النبي صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة ويوم عاشوراء وثلاثة أيام من كل شهر. أول اثنين من الشهر وخميسين» (سنن ابو داؤد: 2439؛ سنن نسائی:2372)

’’ ہنیدہ بن خالد اپنی بیوی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی ایک زوجۂ مطہرہ نے بیان کیا کہ آپ ﷺ ذوالحجہ کے نو دن، محرم کی دسویں تاریخ اور ہر مہینہ میں تین دن ۔۔۔ مہینہ کا پہلا دوشنبہ اور دو جمعرات ۔۔۔صوم رکھا کرتے تھے۔‘‘

٭حج وعمرہ:

حج ان دنوں کی خاص نیکی ہے جسے سال کے بقیہ دنوں میں نہیں کیا جاسکتا، حج کے فضائل معروف ومشہور ہیں، پھر بھی ہم چند باتیں ذکر کرتے ہیں:

1۔سیدنا ابوہریرہ سے مروی ہے :

«سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ, قِيلَ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ, قِيلَ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ حَجٌّ مَبْرُورٌ» (صحیح بخاری: 26؛ صحیح مسلم: 135)

’’رسول ﷺسے پوچھا گیا : کون سا عمل سب سے زیادہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان، پوچھا گیا: پھر کون سا؟ آپﷺ نے فرمایا: اﷲ کی راہ میں جہاد، پوچھا گیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: حج مقبول۔‘‘

حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔

2۔ سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اﷲ کے رسول ﷺ کو ارشاد فرماتے سنا :

«مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» (صحیح بخاری: 1449؛ صحیح مسلم: 438)

’’جس نے اس گھر کا حج کیا ،نہ کوئی بیہودہ گوئی کی اور نہ کوئی فسق کا کام کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوکر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا ہے۔‘‘

3۔ سیدنا ابو ہریرہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا:

«الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ» (صحیح بخاری: 1683)

’’ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مقبول کا بدلہ جنت ہی ہے۔‘‘

4۔ سیدنا عبد اﷲ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا:

«تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ وَالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ الْمَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الْجَنَّةُ» (جامع ترمذی: 738؛ سنن نسائی: 2631)

’’حج وعمرہ پے در پے کیا کروکیونکہ یہ دونوں فقر ومحتاجی اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے،سونے اور چاندی کی گندگی کو دور کرتا ہے اور حج مقبول کا ثواب جنت ہی ہے۔‘‘

٭صلاۃ عید اور قربانی:

صلاۃ عید اسلام کا ایک ظاہری شعار ہے، صلاۃ عید کی ادائیگی کے لئے خود بھی جانا چاہئے اور اپنے بال بچوں اور گھر کی عورتوں کو بھی لے جانا چاہئے۔

سیدہ ام عطیہ فرماتی ہیں کہ

«أُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ، وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ عَنْ مُصَلَّاهُنَّ, قَالَتْ امْرَأَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ, إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا»

’’نبی مکرم ﷺ نے ہم کو حکم دیا کہ ہم عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں شادی شدہ ، حیض والیوں اور غیرشادی شدہ پردہ دارخواتین کو لے کر نکلیں۔ حیض والیاں عیدگاہ سے الگ رہیں گی البتہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں گی۔میں نے پوچھا: اے اﷲ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟آپ نے فرمایا: اس کی (کوئی مسلمان) بہن اسے اپنی چادر اڑھالے۔‘‘ (صحیح بخاری: 344؛ صحیح مسلم: 12)

قربانی سے متعلق ارشاد باری ہے:

﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ﴾ (سورۃ الكوثر: 2)

’’اپنے رب کے لئے صلاۃ پڑھئے اور قربانی کیجئے۔‘‘

نیز نبی کریم ﷺ 10 سال مدینہ رہے اور ہر سال قربانی کرتے رہے۔ آپﷺ سے قربانی کی تاکید بھی ہے آپ ﷺ کا فرمان ہے:

«مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا» (سنن ابن ماجہ: 3123)

’’جس شخص کے پاس وسعت ہو اس کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔‘‘

قربانی کرنے والا اپنے ناخن اور بال نہ کاٹے:

سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا :«إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ» (صحیح مسلم: 41، (1977)

’’جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہتا ہے تو اپنے ناخن اور بال کاٹنے سے رک جائے۔‘‘

سنن ابن ماجہ کی صحیح روایت میں اس قدر مزید اضافہ ہےکہ اپنے چمڑے کاٹنے سے بھی باز رہے۔ روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

سیدہ ام سلمہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ

«إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلَا بَشَرِهِ شَيْئًا» (سنن ابن ماجہ: 3149)

’’جب ذوالحجہ کا پہلا عشرہ آجائے اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہتا ہے تو اپنے بال اور چمڑے میں کچھ بھی نہ کاٹے۔‘‘

چمڑے کاٹنے کی تشریح یہ ہے کہ ہونٹ کے چمڑے یا ناخن کے آس پاس کے چمڑے یا پاؤں کی ایڑیوں کے چمڑے وغیرہ نہ ہی نوچے جائیں اور نہ ہی کاٹے جائیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس قربانی کی طاقت نہیں تو وہ قربانی والے دن اپنے ناخن اور بال وغیرہ کاٹ لے تو اسے قربانی کا ثواب مل جائے گاتو یہ بات درست نہیں کیونکہ اس کی دلیل سنن ابی داود کی ایک ضعیف روایت ہے جسے ہم آگے ذکر کررہے ہیں، اس لئے قابل حجت نہیں ہے۔ لہذا ناخن اور بال وغیرہ کے نہ کاٹنے کا حکم صرف اس شخص کے لئے ہے جو قربانی کرنا چاہتا ہے۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ یہ دراصل اس وجہ سے ہے کیونکہ قربانی والا چونکہ حاجی کے بعض اعمال میں شریک ہے اس لئے اسے احرام کے بعض ممنوعات میں بھی شریک کردیا گیا۔ واللہ اعلم۔

سنن ابوداؤد کی وہ روایت جس کی طرف پیچھے اشارہ کیا گیا تھا، مندرجہ ذیل ہے:

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

«أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ, قَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ, وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ, فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» (سنن ابو داؤد: 2789؛ سنن نسائی: 4365)

’’مجھے اضحیٰ کے دن (ذوالحجہ کی دسویں تاریخ) کو عید منانے کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالی نے یہ دن اس امت کے لئے بنایا ہے، ایک آدمی نے پوچھا کہ آپ مجھے بتایئے کہ اگر میرے پاس عطیہ یا عاریت میں دی ہوئی بکری یا اونٹنی ہو تو بھی کیا میں اس کی قربانی کروں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اپنے بال اور ناخن کاٹ لو، اپنی مونچھیں کترلو، اپنے ناف کے نیچے کے بال مونڈلو، یہ اللہ کے نزدیک تمھاری مکمل قربانی ہوجائے گی۔‘‘

٭ذکر الٰہی:

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾(سورۃ الحج: 27۔28)

’’اپنے فائدے حاصل کرنے کو آجائیں، اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں، پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔‘‘

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:«مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ، فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ» (مسند احمد:6154)

’’عشرۂ ذوالحجہ اللہ کے یہاں جتنا عظیم ہے اور اس میں کئے گئے عمل صالح اﷲ کو جس قدر زیادہ محبوب ہیں اتنا کسی اور دن میں نہیں، لہٰذا ان دنوں میں تہلیل وتکبیر اور تحمید زیادہ سے زیادہ کیا کرو۔‘‘

تہلیل کا معنی ہے لا الہ الا اللہ کہنا، تکبیر کا معنی ہے اللہ اکبر کہنا اور تحمید کا معنی ہے الحمدللہ کہنا۔

عید الاضحیٰ میں چاند دیکھنے یا اس کی اطلاع پانے سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی شام تک کثرت سے بہ آواز بلند تکبیر پکارتے رہنا سنت ہے البتہ عورتوں کو آہستہ اور پست آواز میں تکبیر کہنی چاہئے۔ تکبیر کا صیغہ یہ ہے :

اَللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ

جناب نافع کی روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن عید گاہ پہنچنے تک تکبیر پکارا کرتے تھے۔عید گاہ پہنچ کر امام کے آنے تک تکبیر کہا کرتے تھے ۔ پھر جب امام آجاتاتو اس کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتے۔ (سنن دارقطنی، کتاب العیدین، حديث:4)

نوٹ: بیک آواز اجتماعی تکبیر بدعت ہے ۔پیارے نبیﷺ اور آپ کے صحابہ سے ثابت نہیں۔ درست بات یہ ہے کہ ہرشخص تنہا تنہا الگ آواز میں تکبیر کہے ۔

٭تمام اعمال صالحہ:

ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں ہرعمل صالح اللہ کو بہت محبوب ہے جیسا کہ حدیث گذرچکی ہے، چنانچہ سابقہ تمام اعمال کے علاوہ ہروہ عمل جو باعث اجر وثواب ہے ان دنوں میں اس کا اہتمام کرنا چاہئے۔ دعا، توبہ واستغفار، تلاوت قرآن، نبی کریم ﷺ پر صلاۃ وسلام، تحصیل علم، دعوت الی اللہ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، انفاق فی سبیل اللہ، صدقہ وخیرات، والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی وغیرہ وغیرہ ۔

٭برائیوں سے دوری:

ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں جس طرح ہرنیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے ایسے ہی گناہوں کا ارتکاب بھی سنگین اور شدید رخ اختیار کرلیتا ہے۔ اس لئے کہ یہ شریعت کا ایک عام قاعدہ ہے کہ فضیلت والے اوقات یا مقامات میں جس طرح نیکیوں کو عظمت حاصل ہوجاتی ہے ایسے ہی گناہوں کا ارتکاب خطرناک ہوجاتا ہے۔

لہٰذا ایک مسلمان کو ایسے تمام گناہوں اور نافرمانیوں سے بچنا چاہئے جو اﷲ تعالی کے غضب یا لعنت کا باعث ہوں، مثلاً سودخوری، رشوت خوری، زناکاری، چوری، ناحق کسی کا قتل ، یتیموں کا مال کھانا، کسی کی جان اور مال یا عزت وآبرو پر کسی قسم کا ظلم کرنا، معاملات میں فریب اور دھوکادہی کا ارتکاب ، امانتوں میں خیانت، والدین کی نافرمانی ، رشتے توڑنا، بغض وکینہ رکھنا، اﷲ کے حق کے بغیر تعلقات توڑنا اور بات چیت بند رکھنا، سگریٹ نوشی یا تمباکو نوشی ، شراب پینا یا کسی اور نشہ آور چیز کا استعمال کرنا، غیبت و چغلی، جھوٹ بولنااور جھوٹی گواہی دینا، ناحق دعوے کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا، داڑھی مونڈانا یا کتروانا، مونچھوں کو پست کے بجائے لمبی رکھنا، کبروغرور میں مبتلا ہونا، کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، گانے سننا اور آلات موسیقی اپنے پاس رکھنا، گندی اور عریاں فلمیں اور مجرمانہ سیریل دیکھنا، تاش اور پتے کھیلنا، عورتوں کا بے پردگی اور کافر عورتوں سے مشابہت اختیار کرنا۔ اور ان کے علاوہ وہ تمام کام جن سے اﷲ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔

٭٭٭

پروردگار ! ملت بیضاء کی لاج رکھ
دنیا سے حق پرست جو بیزار ہو گئے
اللہ کی رضا کے طلب گار ہو گئے
مشتاق جلوۂ رسن و دار ہو گئے
جو اپنا سر کٹانے کو تیار ہو گئے
غیروں کے جور وظلم کا کیا کیجئے گلہ
اپنے ہی جب کہ درپئے آزاد ہو گئے
بے قدری ہنر ہے تو محسن کشی بھی ہے
کیسے یہ اپنی قوم کے ہنجار ہو گئے
ڈوبے ہوئے جو رہتے ہیں فسق وفجور میں
وہ اقتدار پا کے جفاکار ہو گئے
باہم ستیزہ کار ونبرد آزما ابھی
ظلمات جہل وکفر سے انوار ہو گئے
جو سوچتے رہے تو وہ ساحل پہ رہ گئے
منجدھار میں جو کود پڑے پار ہو گئے
میدان جنگ سے وہ کبھی ہٹ نہیں سکے
سر پر کفن جو باندھ کے تیار ہو گئے
اللہ کے باغیوں کا یہ ہوتا رہا ہے حشر
خوار و ذلیل برسرِ بازار  ہو گئے
یارب یہ کیا غضب ہے کہ مجرم ہیں بے گناہ
اور بے گناہ جو تھے گناہگار ہو گئے
پرودگار! ملت بیضا کی لاج رکھ
اغیار پھر سے برسرِپیکار ہو گئے
اصحاب حق جو دار پہ چڑھ کر بتا گئے
حماد پھر سے فاش وہ اسرار ہو گئے
حضرت ابو البیان حماد

تبصرہ کریں