بیماریوں اور وباؤں سے بچاؤ کے لیے چند مسنون دعائیں۔الشیخ محمد صالح المنجد

صحیح احادیث  میں بہت سے ایسے مسنون اذکار اور دعائیں  ہیں، جو انسان کو تکالیف، نقصان اور ہر قسم کی منفی سرگرمی سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ یہ دعائیں بالعموم مختلف قسم کی تمام بیماریوں اور وبائی امراض کے لیے مؤثر ہیں۔  آئندہ سطور میں چند روایات ملاحظہ فرمائیں:

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ  جو شخص بھی کہے:

« بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ »

’’اللہ کے نام سے جس کے نام سے کوئی بھی چیز آسمان یا زمین میں تکلیف نہیں پہنچاتی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

 جس نے یہ دعا صبح کے وقت تین بار پڑھی تو شام تک اسے کوئی بھی ناگہانی آفت نہیں پہنچے گی ۔‘‘

(سنن ابو داؤد: 5088)

اور جامع ترمذی کی حدیث نمبر 3388  کے الفاظ یوں ہیں کہ

’’ جو شخص بھی یہ کلمات روزانہ صبح و شام کے وقت کہتا ہے تو کوئی بھی چیز اسے نقصان نہیں پہنچاتی۔‘‘

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے رات کو بچھو کے کاٹنے کی وجہ سے بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم شام کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے:

«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ »

’’میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔‘‘  تو تمہیں وہ نقصان نہ پہنچاتا۔  (صحیح مسلم: 2709)

سیدنا عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک شدید اندھیری اور بارش والی رات میں رسول اللہ ﷺ کو تلاش کرنے کے لیے نکلے کہ آپ ہمیں نماز پڑھا دیں تو ہم نے آپ کو تلاش کر لیا ، آپ ﷺ نے فوراً دریافت فرمایا: ’’کیا تم نے نماز پڑھ لی ہے؟‘‘ میں نے کچھ نہ کہا: ۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’ کہو۔‘‘ میں کچھ نہ کہہ سکا۔ آپ ﷺ نے پھر  ارشاد فرمایا: ’’کہو۔‘‘   میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہا۔ نبی کریمﷺ نے تیسری بار فرمایا:  ’’کہو۔‘‘  میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسولﷺ! میں کیا کہوں؟ تو آپ ﷺنے فرمایا:

’’تم صبح اور شام کے وقت کہا کرو:   ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾  اور اس کے ساتھ سورة الفلق اور سورة الناس تین تین بار پڑھا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی۔‘‘  ( سنن ابو داؤد: 5082؛ جامع ترمذی: 3575)

علامہ ابن باز  رحمہ اللہ کہتے ہیں:

’’ تمام مخلوقات کے ہر قسم کے شر سے تحفظ اور عافیت پانے کے ساتھ ساتھ پُر امن رہنے کے لیے انسان اللہ تعالی کے کامل کلمات کی پناہ صبح اور شام تین تین بار اللہ تعالی سے مانگےاور کہے:  «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ»

’’ میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام تر مخلوقات کے شر سے۔‘‘

 اس لیے کہ ایسی روایات ثابت ہیں جن میں ان الفاظ کو عافیت کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

 اسی طرح صبح اور شام یہ الفاظ بھی پڑھے:

«بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ»

اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے بتلایا ہے کہ جو شخص بھی صبح کے وقت تین بار  یہ الفاظ پڑھے تو شام تک اسے کوئی بھی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور جو شخص شام کے وقت پڑھ لے تو صبح تک اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔

قرآن و سنت سے ثابت یہ تمام اذکار ہر قسم کی برائی، شر اور تکلیف سے تحفظ کا باعث ہیں۔ اس لیے ہر مومن مرد اور عورت کو ان اذکار  کی مقررہ اوقات میں پابندی کرنی چاہیے، نیز انہیں پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر مکمل اعتماد ہو اور قلبی طور پر مطمئن ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو قائم رکھے ہوئے ہے، وہی ہر چیز کے بارے میں علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر بھی ہے۔  اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی پروردگار ہے۔  اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان کا کامل اختیار ہے اور وہی ہر چیز کا مالک ہے۔‘‘

( فتاوى الشیخ ابن باز : 3؍454۔455)

اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح و شام ان کلمات کی پابندی فرمایا کرتے تھے:

«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اَللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اَللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي»

’’ یا اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں ہر طرح کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ یا اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین، دنیا اور اہل خانہ سمیت اپنی املاک کے متعلق بھی معافی اور عافیت کا درخواست گار ہوں ۔ یا اللہ ! میرے عیب چھپا دے  اور مجھے میرے خدشات و خطرات سے امن عطا فرما ۔ یااللہ! میرے آگےسے ، میرے پیچھے سے، میرے دائیں جانب سے، میری بائیں جانب سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما اور میں تیری عظمت کے ذریعے سے اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے نیچے کی طرف سے ہلاک کر دیا جاؤں ۔‘‘

(سنن ابو داؤد: 5074؛ سنن ابن ماجہ: 3871)

علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

الشیخ ابو الحسن  عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ اس دعا کی شرح میں رقمطراز  ہیں:

’’ رسول اللہ ﷺ کے فرمان«اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ» کا مطلب یہ ہے کہ دینی امور میں آزمائشوں اور دنیاوی سختیوں سے سلامتی اور تحفظ کا طلب گار ہوں۔ اس کے یہ معنیٰ بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ہر قسم کی بیماری اور وبا سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

تیسرے معنیٰ یہ بھی بتلائے گئے ہیں کہ  اللہ تعالیٰ ان بیماریوں میں مبتلا نہ کرے  اور اگر کر بھی دے تو اس پر صبر کرنے اور اللہ کے فیصلوں پر سرِ تسلیم خم کرنے کی توفیق دے۔ لفظ ” الْعَافِيَةَ ” عربی زبان میں ” عَافَى” کا مصدر ہےیا اسم ہے۔ اس کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے صاحب قاموس کہتے ہیں:

’’عافیت: اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے تحفظ کو کہتے ہیں، چنانچہ عربی جملہ”عَافَاهُ اللهُ تَعَالَى مِنَ الْمَكْرُوْهِ عَفَاءً وَمُعَافَاةً وَعَافِيَةً”اس وقت کہا جاتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو بیماریوں، آزمائشوں اور تکالیف سے بچا لے۔  اس کا معنیٰ “أَعْفَاهُ” جیسے ہے۔‘‘

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ  کا مطلب ہے: یا اللہ میں تجھ سے گناہوں کی معافی اور ان سے در گزر کا مطالبہ کرتا ہوں۔

  وَالْعَافِيَةَ  یعنی عیوب سے پاکی۔

“فِي دِينِي وَدُنْيَايَ” یعنی دینی اور دنیاوی تمام امور میں ۔‘‘

( مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : 8؍ 139)

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا میں عموماً یہ الفاظ شامل ہوتے تھے کہ

« اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ  »

’’یا اللہ ! میں تجھ سے تیری نعمتوں کے زوال، تیری جانب سے عافیت کے خاتمے، تیری اچانک پکڑ اور تیری ہر طرح کی ناراضی سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں۔‘‘  (صحیح مسلم: 2739)

علامہ مناوی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

’’حدیث میں مذکور« وَتَحَوُّلِ»  کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز کسی دوسری چیز سے جدا ہو جائے ، گویا کہ یہاں پر ہمیشہ کی عافیت اللہ تعالیٰ سے مانگی گئی ہے اور ہمیشہ کی عافیت کا مطلب یہ ہے کہ کبھی بیماری اور تکلیفیں نہ پہنچیں۔‘‘ ( فيض القدير : 2؍ 140)

سنن ابو داؤد کے شارح علامہ عظیم آبادی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’حدیث میں  وَتَحَوُّلِ العَافِيَة  کا مطلب یہ ہے کہ  صحت بیماری میں بدل جائے اور دولت غربت سے بدل جائے۔‘‘   ( عون المعبود شرح سنن أبي داود : 4؍ 283)

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے:

«اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْبَرَصِ وَالْجُنُونِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَيِّئْ الْأَسْقَامِ »

’’اے اللہ ! میں برص، پاگل پن ، کوڑھ اور بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘

(سنن ابو داؤد: 1554؛ سنن نسائی: 5493)

شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اس حدیث کی شرح میں علامہ طیبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ نے مطلق طور پر بیماریوں سے پناہ نہیں مانگی؛ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کچھ بیماریوں کی تکلیف کم ہوتی ہے لیکن اس بیماری پر صبر کی بدولت ملنے والا اجر بہت زیادہ ہوتا ہے اور وہ بیماریاں دائمی بھی نہیں ہوتیں، بلکہ عارضی ہوتی ہیں، جیسے کہ بخار، سر درد، اور آنکھ درد وغیرہ۔ اس لیے آپ ﷺ نے دائمی بیماریوں سے پناہ مانگی ہے  کیونکہ انسان دائمی بیماری سے خود بھی تنگ آ جاتا ہے اور دوست احباب بھی متنفر سے ہو جاتے ہیں۔  لوگ بات چیت اور علاج معالجے کے لیے بھی نہیں آتےاور انسان خود اپنے آپ سے بیزار ہو جاتا ہے۔‘‘

(علامہ طیبی کی گفتگو عظیم آبادی رحمہ اللہ نے سنن ابو داؤد کی شرح ’عون المعبود‘  میں ذکر کی ہے)

(الاسلام؛ سوال وجواب، سوال: 139554)

٭٭٭

تبصرہ کریں