برطانوی وزیر اعظم کا انتخاب، کچھ غور طلب پہلو۔ محمد عبد الہادی عمری مدنی

اس ماہ رشی سناک نے برطانیہ کے وزیر اعظم کی ذمہ داریاں سنبھال لیں، یو کے کی طویل جمہوری تاریخ کے پہلے انڈین نژاد کم عمر 42 سالہ رشی کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے والدین طلب روزگار کے سلسلہ میں افریقی ممالک گئے تھے، وہاں انہوں نے محنت سے روزگار حاصل کرتے ہوئے مناسب ترقی کی، لیکن بتدریج ان ممالک کے حالات بدلتے گئے، سیاہ فارم مقامی لوگوں نے غیر ملکیوں کے لیے مشکلات پیدا کر دیں، چونکہ ان علاقوں کا برطانوی سامراج کے ساتھ تعلق تھا، لہٰذا ان متاثرین کو برطانیہ میں پناہ دی گئی، اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کینیا، یوگنڈا وغیرہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کر کے یہاں پناہ لی، ان نو واردوں میں رشی کی فیملی بھی تھی، ان کے والدین تعلیم یافتہ تھے، باپ ڈاکٹر اور ماں فارمسیسٹ تھیں، اپنے بیٹے رشی جن کی پیدائش جنوبی انگلینڈ میں ہوئی، ان کی تعلیم پر مناسب توجہ دی، انہوں نے مشہور یونیورسٹی آکسفورڈ سے گریجویشن مکمل کی اور اسٹانڈفورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا، قسمت نے یاوری کی، ترقی کے منازل تیزی سے طئے کرتے ہوئے وزیر خزانہ بن گئے۔ سیاست میں خصوصاً یہ کہاوت مشہور ہے کہ یہاں بروقت درست فیصلہ کی اہمیت ہوتی ہے، کورونا وائرس کے زمانہ میں جب دنیا کا پہیہ جام ہو گیا تھا، ہر طرف معاشی بحران کی شکایت عام تھی، اس دوران لوگوں کی نظریں اسی وزارت پر مرکوز تھیں، انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ عوام کی سہولت کے لیے مختلف اسکیمیں متعارف کرواتے ہوئے ان کی راحت کا انتظام کیا۔ یہاں کے تاجر، ملازم اور مزدور ان کے بروقت مستحسن اقدامات کے معترف دکھائی دیے اور جب موقع آیا تو ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ملک کی اعلیٰ ترین وزارت کی کرسی پر براجمان کر دیا۔

ان کے وزیر اعظم بننے کی خبر کے ساتھ ہی انڈیا میں جشن منایا گیا، دیوالی کی عام تقریبات میں تیزی آ گئی ، ان کے لیے مزید پٹاخے اور چراغاں روشن کیےگئے۔ اس لیے کہ ان کے والدین کا تعلق انڈیا ہی سے تھا، ان کی اہلیہ بھی انڈین ہیں، لہٰذا اس خوشی اور جشن کا اہل ہند کو حق پہنچتا ہے کہ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں پردیسی والدین کا بیٹا اس اعلیٰ عہدہ پر متمکن ہوا، لیکن ساتھ ہی یہ جشن کئی سوالات بھی کھڑاکر دیا کہ اگر برطلانیہ میں غیر ملکی والدین کی اولاد کے لیے ترقی کے یہ مواقع ہیں تو خود انڈیا میں نسل درنسل آنے والے مسلمانوں کے لیے بھی اس کا امکان ہے کہ وہ دیگر مقامی لوگوں کی طرح باعزت زندگی گذاریں، یا اب بھی اقلیتوں کو خصوصاً مسلمانوں کو جن کی کئی نسلیں وہیں پیدا ہوئیں لیکن اب بھی انہیں ملک کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دینا ہوتا ہے، حتیٰ کہ وہ لوگ جن کے باپ دادا نے جنگ آزادی میں ہر اول دستہ کا کام کیا، ان کی اولاد ابھی تک مشق وستم کا نشانہ بن رہی ہے، کیا رشی کے وزیر اعظم بننے کا جشن انہیں زیب دیتا ہے جنہوں نے سونیا گاندھی کے خلاف جب امکان ہو چلا تھا کہ وہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالیں گی تو ان کی سابقہ اطالوی شہریت پر اتنے اعتراضات اٹھا دیے کہ کوئی اپنا سرمنڈوانا چاہتا تھا جیسے سشما سوراج نے کہا تھا جو بعد میں اسی ملک کی وزیر خارجہ بنیں اور کسی نے کوئی اور دھمکی دی۔ بالآخر سونیا کو از خود پیچھے ہو کر اپنی پارٹی کے دوسرے رہنما منموہن سنگھ کو اس عہدہ کے لیے نامزد کرنا پڑا، ویسے عویٰ تو وہاں بھی جمہویت اور مساوات کا ہی ہے۔

میں یہاں مشہور صحافی کرن تھاپر (Karan Thapar) کے مضمون کا اقتباس نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں جو ہندوستان ٹائمز کی 29 اکتوبر 2022ء کی اشاعت میں شائع ہوا، انہوں نے رشی کے برطانیہ میں وزیر اعظم بننے کا انڈیا میں جشن منانے والوں سے کچھ سوالات کیے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انڈیا برطانوی واقعہ سے سبق سیکھے۔

برطانیہ کی مجموعی آبادی میں انڈین صرف دو اعشاریہ تین فی صدہیں یہ کسی بھی آبادی میں بہت ہی معمولی سی اقلیت ہے، لیکن اس کے باوجود یو کے کی حکمران پارٹی کنزر ویٹو نے اسی اقلیت کے ایک فرزند کو اتنے بڑے اعزاز سے نوازا، حالانکہ اس ملک سے ان کا تعلق زیادہ قدیم بھی نہیں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے والدین ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ آ کر آباد ہوئے۔ اس اعلیٰ منصب پر کسی انڈین نژاد کا جلوہ افروز ہونا جہاں اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ بات برطانیہ میں تو ممکن ہے لیکن وہیں یہ اعلان بھی ہے کہ ایسا ہمارے ملک انڈیا میں ناممکن ہے، برطانیہ میں بہت سی اقلیتوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ مناصب پر دکھائی دیتے ہیں، برسراقتدار پارٹی کے 300 پارلیمانی ممبران میں سے تقریباً 200 نے رشی کی تائید کر کے اپنی وسعت ظرفی کا مظاہرہ کیا، اس مناسبت سے ہم اپنے ملک انڈیا کی صورتحال کا جائزہ بھی لے لیتے ہیں۔ جہاں تقریباً 15 فیصد مسلم آبادی ہے، اس لحاظ سے پارلیمنٹ میں مسلم ممبران کی تعداد 74 ہونی چاہیے لیکن اس وقت صرف 27 مسلم ایم پی ہیں ملک کی 28 ریاستوں میں ایک بھی چیف منسٹر مسلمان نہیں بلکہ 15 ریاستوں میں ایک مسلم وزیر تک نہیں اور 10 ریاستوں میں صرف ایک ، ایک مسلم وزیر ہے۔ بھارت کی سب سے بڑی حکمران پارٹی بی جے پی کی طرف سے اترپردیش جہاں مسلم آبادی 20 فیصد ہے وہاں کی مقننہ میں اس پارٹی کی طرف سے ایک بھی مسلم ممبر نہیں اور گجرات کی 9 فیصد مسلم آبادی میں گزشتہ 24 سال میں ایک بھی ریاستی اسمبلی یا پارلیمنٹ میں مسلم ممبر نہیں۔ یہ اعداد وشمار میں نے آکر پٹیل کی کتاب ہماری ہندو حکومت Our Hindu Rashtra سے نقل کیے ہیں۔ اس کتاب میں مزید دلخراش حقائق کا ذکر کیا گیا۔ مزید کہتے ہیں:

اگرچہ کہ انڈیا میں مسلم آبادی کا تناسب 15 فیصد ہے، لیکن ریاستی اور مرکزی سرکاری اداروں میں اس طبقہ کے ملازمین 4 اعشاریہ 9 فیصد ہیں، پیرا ملٹری شعبوں میں 3 اعشاریہ 2 فیصد، فوج میں 1 فیصد، یہ اعداد وشمار ہم سب کے لیے باعث شرمندگی ہیں۔ پھر مقالہ نگار کرن نے برطانوی میڈیا میں موجود غیر ملکی چہروں کے ناموں کا ذکر کیا ہے کہ بی بی سی وغیرہ میں ان کی تعداد اور مناصب نہایت قابل قدر ہیں، اور انہوں نے سوال دہرایا کہ میں نے کیوں انڈین کو مشورہ دیا کہ برطانیہ سے سبق سیکھیں۔ انڈیا میں تقریباً 20 کروڑ مسلمان ہیں لیکن کئی مقامات پر ان کی نمائندگی دکھائی تک نہیں دیتی، ہم انہیں ابھی تک بابر کی اولاد ہی کہتے ہیں اور طرح طرح کے خطابات سے نوازتے ہیں، بعض تو یہ مشورہ دینے سے تک گریز نہیں کرتے کہ یا پاکستان یا قبرستان، لہٰذا جب ہم ایک ہندو مذہب کے پیروکار رشی کے برطانیہ میں وزیر اعظم بننے پر خوشی محسوس کر رہے ہیں وہیں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کبھی انڈیا کا وزیر اعظم کوئی مسلمان بن سکے گا؟! از مضمون کرن تھاپر ہندوستان ٹائمز 29 اکتوبر 2022ء

یاد رہے کہ اس وقت شہر لندن کے مرکزی لارڈ میئر ایک مسلمان محمد صدیق خاں ہیں جو ایک بس ڈرائیو کے بیٹے ہیں، ان کے والد تلاش معاش میں پاکستان سے یہاں آئے، لندن میں بس چلایا کرتے تھے، بیٹے کو تعلیم سے ہمکنار کر کے اس قابل بنایا کہ وہ وسطی لندن کے سفید فارم باشندوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے نامی گرامی صاحب ثروت امیدواروں کو شکست دے کر منتخب ہوئے، ان کے علاوہ مختلف شہروں میں مسلم چہرے نمایاں ہیں، ان ممتاز چہروں میں ایک باریش نوجوان اس اعتبار سے قابل ذکر ہے کہ ملکہ برطانیہ کی جنازہ کی تقریب میں جسے دنیا کے 2 ارب سے زیادہ لوگ دیکھ رہے تھے یہ بات بھی دلچسپی اور بعض لوگوں کے لیے حیرانگی کا سبب بنی کہ مرکزی چرچ میں ایک باریش نوجوان کو مکمل احترام کے ساتھ پہلی صف میں کنگ چارلس کے قریب بٹھایا گیا ، یہ کون تھا جسے کم عمری، دین پسندی کے باوجود اس رتبہ بلند سے نوازا گیا۔ یہ دراصل لندن کے اس مخصوص علاقہ ویسٹ منسٹر کا منتخب لارڈ میئر حمزہ ہے جو 23 برس کی عمر میں اس اہم ترین علاقہ کا میئر منتخب ہوا۔ یہ ایک عرب مراکشی باپ کا بیٹا ہے، برطانوی پارلیمنٹ اور قصر شاہی اسی علاقہ میں واقع ہیں، پروٹوکول کے مطابق وہاں کے لارڈ میئر کے لیے یہ اعزاز ہے، اس دین پسند نوجوان کو حاصل ہونے والے رتبہ اور اعزاز کے ہی پیش نظر بی بی سی نے ان کا خصوصی انٹرویو نشر کیا تھا، گویا غیر ملکی افراد کی اولاد کے لیے برطانیہ میں کچھ مشکلات کے باوجود ترقی کے مواقع موجود ہیں جبکہ ہمارے ملکوں ہندوپاک میں علاقہ کی چھوٹی سی سیاسی پارٹی کی قیادت کے لیے رنگ ونسل اور مذہب وملت کی جکڑ بندیاں ہیں، بیشتر سیاسی پارٹیوں میں خود جمہوریت کی ہوا تک نہیں، کوئی کارکن اگر صلاحیت کی بنیاد پر کچھ آگے بڑھتا دکھائی دے تو خود پارٹی کی قیادت اس کی ٹانگیں کھینچ دیتی ہے وہ نہیں چاہتی کہ ان کی پارٹی میں کوئی دوسرا چہرہ بھی نمایاں ہو اور بعض سیاسی پارٹیوں کی قیادت بھی وصیت کی بنیاد پر تفویض کی جاتی ہے کہ ماں کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے کو قیادت سونپ دی جائے، پھر اس نو عمر نوجوان کے پیچھے پارٹی میں موجود عمر رسیدہ، تجربہ کار ممبران بھی دست بستہ چلتے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ یہاں پارٹی میں مقام ومرتبہ صلاحیت اور تجربہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان خاندانی افراد کے ساتھ وفاداری اور جی حضوری کے صلہ میں تقسیم ہوتا ہے یا کبھی پارٹی قیادت کے لیے ایسی خواتین کو مسلط کیا گیا جن کی زندگیاں ناز ونعم میں گذریں کہ وہ سیاست کی خاردار راہداریوں میں آبلہ پائی کے متحمل ہو ہی نہیں سکتیں مگر ان نازک اندام مخملیں خواتین کے پیچھے پیچھے دینی، سیاسی اور سماجی بزرگوں کو بھی صف بستہ چلتے دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم وہ جانتے ہیں کہ یہاں دین، اصول نظریات سب شخصیات کے تابع ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے نامی گرامی اور دینی رہنما بھی اس میدان سیاست میں نظریہ ضرورت کا فلسفہ گھڑ کر لڑکھڑاتے دکھائی دینے لگے۔

جو لوگ برطانیہ میں جمہوری اقدار کی مثالیں دیتے ہیں اور کچھ لیڈر تو یہیں سے بڑھ کر اپنے ملکوں کی سیاست میں سرگرم ہوئے، لیکن ان میں بیشتر خود اپنے ملک یا علاقہ یا پارٹی میں جمہوریت کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے، بلکہ خالص دینی جماعتوں اور تنظیموں میں بھی لسانی اور علاقائی تعصب کی بدترین مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

عرب ممالک کا حال اس سے کہیں زیادہ ناگفتہ بہ ہے، برطانیہ میں پردیسی والدین کا بیٹا 42 سال کی عمر میں وزارت عظمیٰ کے منصب جلیلہ تک پہنچ سکتا ہے لیکن وہاں 50 سال سے ملازمت کرنے والوں کو مستقل اقامہ یعنی رہائش کا اجازت نامہ بھی نہیں مل سکتا، یہاں ان کی اولاد کے لیے پارلیمنٹ کے دروازے بھی کھلے ہوئے ہیں اور وہاں ان اجنبیوں کے بچوں کے لیے سرکاری مدارس کے دروازے تک بند ہیں، الا ماشاء اللہ

یہاں صلاحیت کے بغیر ترقی کے راستے مسدود وہاں سفارش اور واسطہ کے بغیر آگے بڑھنا محال، کتنا ہے فرق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان۔

تبصرہ کریں